کراچی میں بھتہ خوروں کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ
پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل36 خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں
ٹیموں کو جدید اسلحہ اور دیگر سازوسامان دیا جائے گا، مانیٹرنگ سیل بھی قائم، کارروائی کا فیصلہ قائم علی شاہ اور رحمن ملک کی ملاقات میں ہوا تھا فوٹو : اے ایف پی
حکومت سندھ نے کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹیڈ کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کراچی کے18 ٹائونز میں36 خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہوںگے۔ چھاپہ مار ٹیموں کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو براہ راست کنٹرول کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہائوس میں ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کرنے کے احکام جاری کردیے۔
حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ ہائوس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے درمیان ملاقات میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا تھا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹیڈ کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے آئی جی سندھ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
ان ہدایات کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے ہر ٹائون میں2 اسپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں پولیس، رینجرز اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہونگے۔ ان ٹیموں کو پولیس اور رینجرز کے اسپیشل کمانڈوز کی بیک اپ سپورٹ بھی حاصل ہوگی۔یہ ٹیمیں خفیہ اطلاعات پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گی۔ ان ٹیموں کو کسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔
ان ٹیموں کو بکتر بند گاڑیاں، کمیونیکیشن کے جدید آلات، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر سازوسامان بھی مہیا کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی کے تمام حساس علاقوں میں فوری طور پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیاںقائم کرنے اور پٹرولنگ بڑھانے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی جانے والی تمام کارروائیوں کو براہ راست مانیٹر کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہر قسم کی معاونت اور وسائل کی فراہمی کے لیے یقین دہانی کرادی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ہدایات کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر کی لسٹوں کی تیاری شروع کردی ہے۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ کارروائیوں کے لیے قائم کی جانے والی ٹیموں کی سربراہی ٹائون کی سطح پر ایس پی لیول کاآفیسر کرے گا ۔یہ تمام ٹیمیںآئی جی سندھ کی نگرانی میں کا م کریں گی ۔
کراچی کے18 ٹائونز میں36 خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ان ٹیموں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہوںگے۔ چھاپہ مار ٹیموں کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو براہ راست کنٹرول کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہائوس میں ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کرنے کے احکام جاری کردیے۔
حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ ہائوس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے درمیان ملاقات میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا تھا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹیڈ کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے آئی جی سندھ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
ان ہدایات کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے ہر ٹائون میں2 اسپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں پولیس، رینجرز اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہونگے۔ ان ٹیموں کو پولیس اور رینجرز کے اسپیشل کمانڈوز کی بیک اپ سپورٹ بھی حاصل ہوگی۔یہ ٹیمیں خفیہ اطلاعات پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گی۔ ان ٹیموں کو کسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔
ان ٹیموں کو بکتر بند گاڑیاں، کمیونیکیشن کے جدید آلات، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر سازوسامان بھی مہیا کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی کے تمام حساس علاقوں میں فوری طور پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیاںقائم کرنے اور پٹرولنگ بڑھانے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی جانے والی تمام کارروائیوں کو براہ راست مانیٹر کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہر قسم کی معاونت اور وسائل کی فراہمی کے لیے یقین دہانی کرادی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ہدایات کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر کی لسٹوں کی تیاری شروع کردی ہے۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ کارروائیوں کے لیے قائم کی جانے والی ٹیموں کی سربراہی ٹائون کی سطح پر ایس پی لیول کاآفیسر کرے گا ۔یہ تمام ٹیمیںآئی جی سندھ کی نگرانی میں کا م کریں گی ۔