پیرس کلب نے میانمار پر واجب الادا 6 ارب ڈالر کا قرض معاف کردیا
50 فیصد لونز ری شیڈول، ورلڈ بینک واے ڈی بی نے بھی بقایاجات ری اسٹرکچر کردیے۔
مزید قرضے معاف کیے جانے کا امکان، وسائل ترقی وتخفیف غربت کیلیے استعمال کرینگے، میانمار فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
صنعتی ممالک پر مشتمل پیرس کلب نے میانمار پر واجب الادا کم وبیش 6 ارب ڈالر کا قرضہ معاف کردیا۔
جبکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاپانی مدد کے نتیجے میں ماضی میں برما کے نام سے پہچانی جانے والی ریاست کے 90کروڑڈالر کے بقایا جات ری اسٹرکچر کردیے جس سے میانمار کو عالمی امداد ملنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔ پیرس کلب نے پیر کو اپنی ویب سائٹ پر ایک چھوٹی سی خبر کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان میانمار پر عائد 5ارب 92 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرض معاف کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ، یہ اتفاق رائے جمعہ کواجلاس میں ہوا تھا جس میں میانمارکا نصف قرضہ معاف اور باقی 15سال کے لیے ری شیڈول کردیا گیا ۔
جبکہ میانمار کا کہنا ہے کہ جاپان نے 3 ارب ڈالر سے زائد کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ میانمار 53 کروڑ40 لاکھ ڈالر کے واجبات ختم کررہاہے جبکہ دیگر دوطرفہ قرضے بھی قرض دینے والے ممالک کی جانب سے معاف کیے جانے کاامکان ہے۔ میانمار کے وزیر خزانہ وین شین نے ڈیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے نئے دور کا آغاز قرار دیا جس میں میانمار پیرس کلب کے تمام ممبران سے تعاون کرے گا اور معاف کردہ قرضوں کے نتیجے میں دستیاب وسائل ترقی اور تخفیف غربت کے پروگراموں کے لیے استعمال کرے گا۔
یاد رہے کہ جاپان نے اپریل 2012 میں میانمار کے ذمے 300 ارب ین (3.3ارب ڈالر) کا قرض معاف کرنے کااعلان کیاتھا جبکہ مجموعی قرض 500 ارب ین ہے۔ میانمار کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے بعد ورلڈ بینک نے میانمار کو 44 کروڑ ڈالر اور اے ڈی بی نے 51 کروڑ20 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیاہے۔ ایشیائی بینک نے میانمار میں توانائی، سڑکوں، آبپاشی اور تعلیمی منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کابھی اعلان کیا ہے۔
صنعتی ممالک پر مشتمل پیرس کلب نے میانمار پر واجب الادا کم وبیش 6 ارب ڈالر کا قرضہ معاف کردیا۔
جبکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے جاپانی مدد کے نتیجے میں ماضی میں برما کے نام سے پہچانی جانے والی ریاست کے 90کروڑڈالر کے بقایا جات ری اسٹرکچر کردیے جس سے میانمار کو عالمی امداد ملنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔ پیرس کلب نے پیر کو اپنی ویب سائٹ پر ایک چھوٹی سی خبر کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ فریقین کے درمیان میانمار پر عائد 5ارب 92 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرض معاف کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ، یہ اتفاق رائے جمعہ کواجلاس میں ہوا تھا جس میں میانمارکا نصف قرضہ معاف اور باقی 15سال کے لیے ری شیڈول کردیا گیا ۔
جبکہ میانمار کا کہنا ہے کہ جاپان نے 3 ارب ڈالر سے زائد کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ میانمار 53 کروڑ40 لاکھ ڈالر کے واجبات ختم کررہاہے جبکہ دیگر دوطرفہ قرضے بھی قرض دینے والے ممالک کی جانب سے معاف کیے جانے کاامکان ہے۔ میانمار کے وزیر خزانہ وین شین نے ڈیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے نئے دور کا آغاز قرار دیا جس میں میانمار پیرس کلب کے تمام ممبران سے تعاون کرے گا اور معاف کردہ قرضوں کے نتیجے میں دستیاب وسائل ترقی اور تخفیف غربت کے پروگراموں کے لیے استعمال کرے گا۔
یاد رہے کہ جاپان نے اپریل 2012 میں میانمار کے ذمے 300 ارب ین (3.3ارب ڈالر) کا قرض معاف کرنے کااعلان کیاتھا جبکہ مجموعی قرض 500 ارب ین ہے۔ میانمار کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے بعد ورلڈ بینک نے میانمار کو 44 کروڑ ڈالر اور اے ڈی بی نے 51 کروڑ20 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیاہے۔ ایشیائی بینک نے میانمار میں توانائی، سڑکوں، آبپاشی اور تعلیمی منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کابھی اعلان کیا ہے۔