چہروں کو تبدیل کرنے والی ایپ
فیس سویپ نامی یہ ایپ چہروں کی تبدیلی کے عمل کو حقیقت سے قریب تر انداز میں انجام دیتا ہے
فیس سویپ نامی یہ ایپ چہروں کی تبدیلی کے عمل کو حقیقت سے قریب تر انداز میں انجام دیتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
مائیکروسافٹ کارپوریشن نے ایک ایسی ایپ تیار کرلی ہے جو کسی تصویر میں دکھائی دینے والے دو چہروں کو اتنی صفائی سے آپس میں بدل سکتی ہے کہ دیکھنے والے بھی حیران رہ جائیں۔
اگرچہ یہ فیچر اسنیپ چیٹ میں پہلے سے موجود ہے لیکن مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اس کی ایپ زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کا کمپیوٹر الگورتھم اسنیپ چیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور مؤثر ہے جو ایک فریم میں موجود دو تصویروں کو نہ صرف ایک ساتھ شناخت کرسکتا ہے بلکہ ایک چہرے کو کاٹ کر دوسرے چہرے پر اس انداز سے چسپاں کرتا ہے کہ اس تبدیلی کی شناخت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
فی الحال یہ ایپ صرف اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کے لیے گوگل پلے اسٹور سے دستیاب ہے جبکہ آئندہ ماہ اس کا ایپل آئی فون ورژن بھی پیش کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تصاویر کھینچتے یا ویڈیوز بناتے وقت ان میں فوری طور پر بصری اثرات (وژوئل ایفیکٹس) شامل کرنا اب کوئی نئی بات نہیں رہی لیکن کمپیوٹر ماہرین اس عمل کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے بھرپور طور پر کوشاں ہیں۔ مائیکروسافٹ کی نئی ایپ جسے ''فیس سویپ'' (Face Swap) کا نام دیا گیا ہے، اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
بتاتے چلیں کہ اس وقت گوگل پلے اسٹور پر ''فیس سویپ'' نام سے درجنوں ایپس موجود ہیں جبکہ مائیکروسافٹ کی جانب سے پیش کی گئی ایپ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ اس کا تازہ ترین ورژن 7 جون 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے لیکن صارفین کو شکایت ہے کہ یہ بڑی تیزی سے اسمارٹ فون میموری استعمال کرتی ہے تاہم چہرے تبدیل کرنے والے فیچر کو بیشتر صارفین نے ''پیشہ ورانہ'' قرار دیا ہے۔
اس کا کمپیوٹر پروگرام سب سے پہلے تصویر میں نظر آنے والے دو چہروں کو شناخت کرتا ہے جس کے بعد ہر چہرے کے ان حصوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں کاٹ کر دوسرے چہرے پر چپکانا مقصود ہے۔ البتہ جب ان چہروں کی آپس میں ایک دوسرے سے تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ کمپیوٹر پروگرام اس انداز چہروں کی رنگت اور چپکائے گئے کناروں میں ہلکی سی دھندلاہٹ پیدا کرتا ہے کہ جس سے یہ تقریباً حقیقی جیسے بن جاتے ہیں۔
اگرچہ یہ فیچر اسنیپ چیٹ میں پہلے سے موجود ہے لیکن مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اس کی ایپ زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کا کمپیوٹر الگورتھم اسنیپ چیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور مؤثر ہے جو ایک فریم میں موجود دو تصویروں کو نہ صرف ایک ساتھ شناخت کرسکتا ہے بلکہ ایک چہرے کو کاٹ کر دوسرے چہرے پر اس انداز سے چسپاں کرتا ہے کہ اس تبدیلی کی شناخت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
فی الحال یہ ایپ صرف اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کے لیے گوگل پلے اسٹور سے دستیاب ہے جبکہ آئندہ ماہ اس کا ایپل آئی فون ورژن بھی پیش کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تصاویر کھینچتے یا ویڈیوز بناتے وقت ان میں فوری طور پر بصری اثرات (وژوئل ایفیکٹس) شامل کرنا اب کوئی نئی بات نہیں رہی لیکن کمپیوٹر ماہرین اس عمل کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے بھرپور طور پر کوشاں ہیں۔ مائیکروسافٹ کی نئی ایپ جسے ''فیس سویپ'' (Face Swap) کا نام دیا گیا ہے، اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
بتاتے چلیں کہ اس وقت گوگل پلے اسٹور پر ''فیس سویپ'' نام سے درجنوں ایپس موجود ہیں جبکہ مائیکروسافٹ کی جانب سے پیش کی گئی ایپ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ اس کا تازہ ترین ورژن 7 جون 2017 کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے لیکن صارفین کو شکایت ہے کہ یہ بڑی تیزی سے اسمارٹ فون میموری استعمال کرتی ہے تاہم چہرے تبدیل کرنے والے فیچر کو بیشتر صارفین نے ''پیشہ ورانہ'' قرار دیا ہے۔
اس کا کمپیوٹر پروگرام سب سے پہلے تصویر میں نظر آنے والے دو چہروں کو شناخت کرتا ہے جس کے بعد ہر چہرے کے ان حصوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں کاٹ کر دوسرے چہرے پر چپکانا مقصود ہے۔ البتہ جب ان چہروں کی آپس میں ایک دوسرے سے تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ کمپیوٹر پروگرام اس انداز چہروں کی رنگت اور چپکائے گئے کناروں میں ہلکی سی دھندلاہٹ پیدا کرتا ہے کہ جس سے یہ تقریباً حقیقی جیسے بن جاتے ہیں۔