ملازمین تنخواہ سے محروم بلدیہ عظمیٰ نے نجی اسکول کو 40 لاکھ روپے امداد دیدی
ادارے نے فراخ دلی اور سخاوت کی لازوال مثال قائم کرکے 6کروڑ سے زائد رقم مختلف مدوں میں امداد کے نام پر بانٹ دی
ادارے نے فراخ دلی اور سخاوت کی لازوال مثال قائم کرکے 6کروڑ سے زائد رقم مختلف مدوں میں امداد کے نام پر بانٹ دی. فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بلدیہ عظمیٰ جو کہ شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اپنے مالی بحران کے باعث اپنے افسران وملازمین کو کئی کئی ماہ تنخواہیں اور پنشن بھی نہیں دے سکتی ہے.
اس نے فراخ دلی اور سخاوت کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے رواں سال میں 6کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختلف اداروں کو مختلف مدوں میں امداد کے نام پر بانٹ دی،دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن اداروں کو ''مال مفت دل بے رحم '' کی بنیاد پر بانٹی گئی ہے اس میں کلفٹن کا ایک نجی اسکول بھی شامل ہے جس میں کراچی کے امیر گھرانوں کے بچے پڑھتے ہوئے ہیں جیسز اینڈ میری نامی معروف نجی اسکول جہاں پر صرف وصرف صاحب ثروت لوگوں کے بچے زیرتعلیم ہیں۔
اس اسکول کو 40 لاکھ روپے کی امداد دے کر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی انتظامیہ نے اپنی نوعیت کی منفرد مثال قائم کی ہے جس پر ادارے کے تمام افسران انگشت بدنداں ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہے، ادارے کے ایماندار افسران وملازمین کے گھروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث فاقوں کی نوبت آگئی ہے کو ایک ایسے اسکول جہاں امیر گھرانوں کے بچے پڑھتے ہیں اس کو 40لاکھ روپے کی رقم کیوں دی گئی۔
بلدیہ عظمیٰ میں تنخواہوں سے محروم افسران وملازمین نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں کہ کس طریقے سے بلدیہ عظمیٰ میں وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے اور صوبے میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود نہیں جو کہ ادارے کے معاملے پر نظر رکھے۔
بلدیہ عظمیٰ جو کہ شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اپنے مالی بحران کے باعث اپنے افسران وملازمین کو کئی کئی ماہ تنخواہیں اور پنشن بھی نہیں دے سکتی ہے.
اس نے فراخ دلی اور سخاوت کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے رواں سال میں 6کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختلف اداروں کو مختلف مدوں میں امداد کے نام پر بانٹ دی،دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن اداروں کو ''مال مفت دل بے رحم '' کی بنیاد پر بانٹی گئی ہے اس میں کلفٹن کا ایک نجی اسکول بھی شامل ہے جس میں کراچی کے امیر گھرانوں کے بچے پڑھتے ہوئے ہیں جیسز اینڈ میری نامی معروف نجی اسکول جہاں پر صرف وصرف صاحب ثروت لوگوں کے بچے زیرتعلیم ہیں۔
اس اسکول کو 40 لاکھ روپے کی امداد دے کر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی انتظامیہ نے اپنی نوعیت کی منفرد مثال قائم کی ہے جس پر ادارے کے تمام افسران انگشت بدنداں ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہے، ادارے کے ایماندار افسران وملازمین کے گھروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث فاقوں کی نوبت آگئی ہے کو ایک ایسے اسکول جہاں امیر گھرانوں کے بچے پڑھتے ہیں اس کو 40لاکھ روپے کی رقم کیوں دی گئی۔
بلدیہ عظمیٰ میں تنخواہوں سے محروم افسران وملازمین نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں کہ کس طریقے سے بلدیہ عظمیٰ میں وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے اور صوبے میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود نہیں جو کہ ادارے کے معاملے پر نظر رکھے۔