قبل از وقت انتخابات کے محرکات

نواز شریف سوچ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو عوام کی عدالت سے مسترد کروایا جا سکتا ہے

msuherwardy@gmail.com

ISLAMABAD:
ملک میں قبل از وقت انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک تازہ گواہی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی دے دی ہے جب انھوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ موجودہ اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل ہو سکتی ہے۔ یقینا قبل از وقت انتخابات کے لیے اسمبلیاں وقت سے پہلے ہی تحلیل کرنا ہو نگی۔ دوسری طرف جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی عوام کی جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔ جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بعد ان کی گفتگو سے ایک ہی بات سمجھ آرہی ہے کہ وہ یہ سمجھا رہے ہیں کہ عوام کی جے آئی ٹی اس جے آئی ٹی سے بڑی ہے اور عوام کی عدالت اس سپریم کورٹ سے بڑی عدالت ہے۔ اس لیے بڑی عدالت میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو رہے تھے۔ ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے انتخابات کا اعلان کیا ہوا تھا۔ بھٹو مقدمہ میں تاریخ مانگ رہے تھے۔ بھٹو کا موقف تھا کہ ان کا مقدمہ عام انتخابات کے بعد سنا جائے۔ لیکن عدالت نے تاریخ دینے سے انکار کر دیا۔ بھٹو نے باہر نکل کر صحافیوں سے کہا کہ پتہ نہیں اس عدالت کو کیا جلدی ہے جب اس سے بڑی عدالت عوام کی عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہوں تو وہاں کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیے۔ پھر سب نے دیکھا کہ انتخابات ملتوی کر دیے گئے کیونکہ یہ ڈر تھا کہ کہیں بھٹو عوام کی عدالت سے سرخرو نہ ہو جائیں۔ مجھے ڈر یہی ہے کہ کہیں انتخابات کا اس بار بھی راستہ نہ روکا جائے۔

میں ڈاکٹر طاہر القادری کی بات سے بھی ا س حد تک متفق ہوں کہ جے آئی ٹی کے اسکرپٹ رائٹرز، پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز نے یہ ڈرامہ بہت خوبصورتی سے چلایا ہے۔ گو ڈ اکٹر طاہر القادری تو یہی پیش گوئی دے رہے ہیں کہ یہ سب کچھ میاں نواز شریف کو کلین چٹ دینے کے لیے کیا جا رہا ہے اس لیے اس سے امیدیں لگانا فضول ہے۔ یہ وہ پہلی بات ہو گی جس پر ن لیگ والے ڈاکٹر طاہر القادری سے خوش ہوئے ہونگے۔ اگر یہ سب ڈرامہ ہو تو انھیں اور کیا چاہیے۔ ان کو ایسے ہی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اب اگر میاں نواز شریف سر خرو ہو گئے تو کیا ہو گا۔


یقینا تحریک انصاف اور نواز شریف کے دیگر سیاسی مخالفین کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال ہو گی۔ لیکن وہ عوام کی عدالت میں اسی موقف سے جائیں گے کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہو گئی ہے۔لیکن زیادہ دلچسپ منظر نامہ وہی ہے جب جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ ہم فرض کر لیں کہ میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کو انتخابی سیاست کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسے میں کیا میاں نواز شریف قبل از وقت انتخابات کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ کیا میاں نواز شریف یہ نہیں چاہیں گے کہ فوری طور پر ایک نیا وزیر اعظم لے آیا جائے۔ فیصلے کی گرد کو بیٹھنے اور طوفان کو تھمنے دیا جائے پھر انتخابات کا بگل بجایا جائے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ میاں نواز شریف کا موقف ہے کہ انتخابات میں تاخیر ان کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہو گی۔ درمیانی مدت کے لیے نیا وزیراعظم لانے کا بھی فائدہ نہیں نقصان ہو گا۔

ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی ہو گی کہ اگر میاں نواز شریف کو نا اہل قرار بھی دیدیا جاتا ہے تو وہ صرف انتخابی سیاست سے نااہل ہوں گے باقی تمام سیاست کے دروازے ان پر کھلے ہوں گے۔ وہ اپنی پارٹی کے تمام معا ملات چلائیں گے۔ ٹکٹیں خود ہی بانٹیں گے۔ انتخابی جلسوں سے ویسے ہی خطاب کریں گے۔ عوام کے سامنے اپنی بے گناہی کا مقدمہ رکھیں گے۔ انھوں نے جو اشارہ دیا ہے کہ وہ اصل کہانی بعد میں بتائیں گے۔ وہ کہانی انتخابی جلسوں میں بتائی جائے گی۔ عوام میں یہ مقدمہ رکھا جائے گا یہ سب ایک سازش تھی۔ اور ان کو ایک سازش کا شکار کیا گیا ہے۔ وزارت عظمیٰ ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ کل بھی عوام کے خادم تھے، آج بھی عوام کے خادم ہیں۔ وہ عوام کو بتائیں گے اس ملک میں وہ پہلے وزیر اعظم نہیں جن کے ساتھ یہ کیا گیا ہے۔ لیاقت علی خان اور بھٹو کا قتل ہوا۔ خواجہ ناظم الدین برطرف ہوئے۔ چوہدری محمد علی اور حسین شہید سہروردی سے استعفیٰ لیا گیا۔ فیروز خان نون کا تختہ الٹ دیا گیا۔ جونیجو کوبرطرف کیا گیا۔جمالی سے استعفیٰ لیا گیا۔ بینظیر کو دو دفعہ برطرف کیا گیا۔ میری دو حکومتوں کو ختم کیا گیا۔

اس لیے اس ملک میں جو میرے ساتھ ہوا ہے وہ ہر وزیر اعظم کے ساتھ ہوا ہے۔ جمہوری وزرا ء اعظم کی کہانی تو ایک طرف مطلق العنان آمر اپنے لائے ہوئے کٹھ پتلی وزراء اعظم کے ساتھ بھی نہیں چل سکے۔ انھیں بھی رسوا کر کے نکالا گیا۔ جمالی جونیجو اور شوکت عزیز کی بھی مثالیں سامنے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں عوام کی عدالت کا فیصلہ کیا ہو گا۔ کیا میاں نواز شریف اور ان کے دوستوں کا یہ تجزیہ درست ہے کہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے خلاف فیصلے کے باوجود وہ عام انتخابات جیت سکتے ہیں۔ وہ عوام کی عدالت سے سرخرو نکل سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے تجزیہ نگاروں میں اختلاف ہے۔ اور جو کہیں گے میاں نواز شریف ہار جائیں گے انھیں بنی گالہ کا ایجنٹ کا کہا جائے گا چاہے وہ بھی ایماندرانہ رائے ہی دے رہے ہوں۔ بہر حال یہ تجزیہ اور قیاس آرائی کا کھیل ہے۔

میاں نواز شریف سوچ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو عوام کی عدالت سے مسترد کروایا جا سکتا ہے۔ عوام کی تائید آنے کے بعد یہ تمام نا اہلیاں ختم ہو جائیں گی۔ جیسے پہلے جب ان کی جماعت نے پنجاب میں حکومت بنا لی تھی اور نا اہلی ختم ہو گئی تھی۔ حالانکہ مشرف نے تو ان کو تمام عمر کے لیے نا اہل کر دیا ہوا تھا۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ انتخاب جیتنے سے نااہلی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے قبل از وقت انتخابات کا بگل بج رہاہے۔ نئی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی بھی قبل از وقت انتخابات کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ اسی لیے مراد علی شاہ نے اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
Load Next Story