خراب غذا سے خبردار کرنے والی پلاسٹک پیکنگ

یہ پلاسٹک اپنے اندر بند کی گئی چیز کی pH ویلیو بدلنے پر اپنی رنگت تبدیل کرلیتا ہے اور خریدار کو خبردار کردیتا ہے

یہ پلاسٹک اپنے اندر بند کی گئی چیز کی pH ویلیو بدلنے پر اپنی رنگت تبدیل کرلیتا ہے اور خریدار کو خبردار کردیتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

مختلف کیمیائی مصنوعات اور پلاسٹک بنانے والی ایک مشہور امریکی کمپنی 'بریسکم' نے ایسی بوتلیں تیار کرنا شروع کردی ہیں جن کی رنگت اپنے اندر رکھے ہوئے مشروب کے خراب ہونے پر تبدیل ہو جاتی ہے جس سے خریدار بھی فوری طور پر ہوشیار ہوجاتا ہے۔

پاکستان کی طرح امریکا میں بھی زائد المیعاد غذائی اشیاء فروخت ہونے کا مسئلہ بہت سنگین ہے بلکہ وہاں تو یہ معاملہ اربوں ڈالر سالانہ کی شرح پر پہنچا ہوا ہے۔ مختلف مطالعات سے پتا چلا ہے کہ دکانوں سے سربمہر (سیلڈ) مصنوعات خریدنے والے اکثر صارفین ان کے ڈبوں پر لکھی گئی، استعمال کی آخری تاریخ (ایکسپائری ڈیٹ) پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ یوں کئی مرتبہ وہ پرانی اور خراب شدہ اشیاء خرید کر لے آتے ہیں جس سے خود انہیں نقصان ہوتا ہے یا پھر واپس جا کر بدلوانا پڑتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=JCr2VGcA3sY

لیکن اگر کھانے پینے کی چیزیں ایسی پیکنگ میں بند کی جائیں جو اپنے اندر رکھی ہوئی غذائی مصنوعات کے خراب ہونے پر خود ہی اپنا رنگ تبدیل کرلے تو پھر ان کے استعمال کی آخری تاریخ والا لیبل لگانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی بلکہ بدلتی رنگت دیکھ کر صارف خود ہی جان لے گا کہ یہ چیز خراب ہوچکی ہے یا اچھی اور قابلِ استعمال حالت میں ہے۔




بظاہر عجیب و غریب نظر آنے والی اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بہت ہی سادہ کیمیا کارفرما ہے: جب کھانے پینے کی کوئی چیز گلتی سڑتی ہے تو اس کی تیزابیت یا اساسیت (یعنی اس کی pH ویلیو) بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ چیز کسی ایسی پیکنگ میں بند ہو جو pH ویلیو کے بدلنے پر اپنی رنگت بدلنے کے قابل ہو تو یہ خریداروں کے لیے بڑی سہولت ہوگی کیونکہ پھر انہیں باریک ایکسپائری لیبل نہیں پڑھنا پڑے گا بلکہ وہ صرف پیکنگ کی معمول سے مختلف رنگت دیکھ کر ہی سمجھ جائیں گے کہ اس میں رکھا گیا سامان خراب ہو چکا ہے۔

اگرچہ غذائی مصنوعات کے خراب ہونے پر اپنی رنگت بدلنے والے پلاسٹک کا تصور کم از کم 20 سال پرانا ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب اسے بڑے پیمانے پر ذہین پلاسٹک بنانے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

فی الحال بریسکم نے تعارفی طور پر ایسی پلاسٹک بوتلیں تیار کی ہیں جن کا ڈھکنا ابتداء میں پیلے رنگ کا ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے بوتل میں بھرا گیا مشروب خراب ہوتا ہے، ویسے ویسے ڈھکنے کی رنگت بھی نیلگوں مائل ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر نیلا پڑ جاتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اب اس بوتل میں بھرا ہوا مشروب بالکل خراب ہوچکا ہے اور پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔

مشروبات کےلیے بوتلیں بنانے کے بعد اس پلاسٹک سے دوسری اقسام کی ''ذہین پیکنگ'' تیار کرنے کا منصوبہ بھی زیرِغور ہے جس پر اس سال کے اختتام تک کام شروع کردیا جائے گا۔
Load Next Story