شریف برادران کا اصل گھر اڈیالہ جیل ہے عمران خان
شریف خاندان جے آئی ٹی میں میچ ہار چکا ہے، چیرمین پی ٹی آئی
کلثوم نواز کے سوا پوری شریف فیملی نے جھوٹ بولا۔ عمران خان فوٹو: ایکسپریس
MANSEHRA:
پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان جے آئی ٹی میں میچ ہار چکا ہے، نواز اور شہباز کا اصل گھر اڈیالہ جیل ہے۔
بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک طر ف چھو ٹا سا کرپٹ اسٹیٹس کو ہے اور دوسری طرف عوام ہے جو تبدیلی چاہ رہی ہے، آج میں نے ملزم اعلی کی تقریر سنی یہ کونسی سازش کی بات کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف ہر قسم کی سازش ہو تی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے سوا سال پہلے پانامہ کے عالمی انکشافات ہوئے ہیں اور یہ کوئی پاکستانی سازش نہیں ہے، سب کو معلوم تھا کہ مے فئیر کے محلات شریفوں کے ہیں، ان کے وزیر وں نے بھی کہا کہ 90کی دھائی میں ان کے محلات تھے وہ کنفرم ہوگیا جب پانامہ لیکس کے انکشافات ہوئے اس میں ساز ش کس کی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شہزادی مریم نے ایک پروگرام میں واضح طور پر کہا کہ نہ میری اور نہ میرے خاندان کی باہر تو چھوڑیں پاکستان میں بھی کچھ نہیں ہے، ان کے پاس سورس آف انکم نہیں تھی اس لیے یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں، ہم اپوزیشن میں ان سے جواب طلب کر رہے ہیں کہ اگر یہ پراپرٹی آ پ کی ہے تو یہ کون سے پیسے سے خریدی یہ پیسہ باہر کہاں سے گیا یہ اپوزیشن کا کام ہے، کوئی سازش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب برطانیہ کے وزیر اعظم کا نام آیا تو اس نے یہ نہیں کہا ساز ش ہے اس نے جواب دیا جو جمہو ریت میں ہوتا ہے جب سے ہم جواب مانگ رہے ہیں بچے کوئی جھوٹ بول رہے ہیں، نواز شریف اسمبلی میں کوئی جھوٹ بول رہا ہے اور سپریم کورٹ میں کوئی اور جھوٹ بولاجا رہا ہے جب کہ سب کے بیانات میں تضا د آرہا ہے، بیگم کلثوم نواز کا سچ ہے جنہوں نے کہا ہاں ہم نے اپنے بچوں کے لیے فلیٹ لیے تھے۔
چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جب یہ پہنچے تو قطری شہزادہ لے آئے اب قطری شہزادے پر سب کچھ ڈال دیا، اب ان کو پتہ چلا جو ساری زند گی مینج کرتے اور رشوت دیتے آئے ہیں، تب سے یہ سپریم کورٹ پر اٹیک کر رہے ہیں کسی نہ کسی طور پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں، یہی ایک طریقہ ہے ان کے بچنے کا کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ جے آئی ٹی میں میچ ہارچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ان کے پاس قطرے شہزادہ تھا وہ نہیں آیا کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ یہاں آئے گا تو پکڑا جائے گا، شریف خاندان کو پتہ ہے ان کے پاس کچھ نہیں رہ گیا، نوازشریف نے پہلے سے تیار کی ہوئی تقریر پڑھی اب شہباز شریف بھی شروع ہو گیا کہ ہمارے اوپر ظلم ہو تے آئے ہیں جب کہ شہباز شریف نے جھوٹ بولا کہ ہمارا سب سے بڑا کاروبارتھا، ساری چیزیں نیشنلائز ہوئی اس وقت صرف ان پر کیسے ظلم ہوا جنرل ضیا کی خدمت کر نے پر آپ کو اثاثے واپس ملے۔
عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان سے کون مقابلہ کرے گا وہ تو ٹیکس ہی نہیں دے رہے اور ڈرامہ شریف کہہ رہا ہے کہ اس پر ایک بھی کرپشن کا کیس نہیں ہے، ساری قوم عدلیہ اور جے آئی ٹی کے ساتھ ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا وہ بھو ل جائیں بہت کچھ ہو گا، سارا شریف خاندان جھوٹ بول رہا ہے ایک فیکٹری سے 30فیکٹریاں بنائی ہیں، 30سالوں تک مظلوم شکل بنا کر انہوں نے قوم کولوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز اور شہباز کا اصل گھر اڈیالہ جیل ہے، قوم شریف خاندان کے ڈراموں اور مظلومیت سے تنگ آچکی ہے۔
کرپٹ خاندان کوبچانا ایک میڈیا ہاؤس کا کام ہے، 34ارب روپے میں سے سب سے زیا دہ اشتہارات جنگ گروپ کو دیے گئے جب کہ جنگ گروپ میڈیا کا گاڈ فادر ہے اسے سب سے زیادہ اشتہارات دیے گئے اور یہ سیاست کے گاڈ فادر کو بچانے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے اپنے بیان میں کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کو یکطرفہ کوریج دینے پر کیا گیا جب کہ ہم جیو کے کسی فورم پر نہیں جائیں گے اور تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما جیو کے کسی پروگرام میں شرکت بھی نہیں کرے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شریف خاندان جے آئی ٹی میں میچ ہار چکا ہے، نواز اور شہباز کا اصل گھر اڈیالہ جیل ہے۔
بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک طر ف چھو ٹا سا کرپٹ اسٹیٹس کو ہے اور دوسری طرف عوام ہے جو تبدیلی چاہ رہی ہے، آج میں نے ملزم اعلی کی تقریر سنی یہ کونسی سازش کی بات کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف ہر قسم کی سازش ہو تی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے سوا سال پہلے پانامہ کے عالمی انکشافات ہوئے ہیں اور یہ کوئی پاکستانی سازش نہیں ہے، سب کو معلوم تھا کہ مے فئیر کے محلات شریفوں کے ہیں، ان کے وزیر وں نے بھی کہا کہ 90کی دھائی میں ان کے محلات تھے وہ کنفرم ہوگیا جب پانامہ لیکس کے انکشافات ہوئے اس میں ساز ش کس کی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شہزادی مریم نے ایک پروگرام میں واضح طور پر کہا کہ نہ میری اور نہ میرے خاندان کی باہر تو چھوڑیں پاکستان میں بھی کچھ نہیں ہے، ان کے پاس سورس آف انکم نہیں تھی اس لیے یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں، ہم اپوزیشن میں ان سے جواب طلب کر رہے ہیں کہ اگر یہ پراپرٹی آ پ کی ہے تو یہ کون سے پیسے سے خریدی یہ پیسہ باہر کہاں سے گیا یہ اپوزیشن کا کام ہے، کوئی سازش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب برطانیہ کے وزیر اعظم کا نام آیا تو اس نے یہ نہیں کہا ساز ش ہے اس نے جواب دیا جو جمہو ریت میں ہوتا ہے جب سے ہم جواب مانگ رہے ہیں بچے کوئی جھوٹ بول رہے ہیں، نواز شریف اسمبلی میں کوئی جھوٹ بول رہا ہے اور سپریم کورٹ میں کوئی اور جھوٹ بولاجا رہا ہے جب کہ سب کے بیانات میں تضا د آرہا ہے، بیگم کلثوم نواز کا سچ ہے جنہوں نے کہا ہاں ہم نے اپنے بچوں کے لیے فلیٹ لیے تھے۔
چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جب یہ پہنچے تو قطری شہزادہ لے آئے اب قطری شہزادے پر سب کچھ ڈال دیا، اب ان کو پتہ چلا جو ساری زند گی مینج کرتے اور رشوت دیتے آئے ہیں، تب سے یہ سپریم کورٹ پر اٹیک کر رہے ہیں کسی نہ کسی طور پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں، یہی ایک طریقہ ہے ان کے بچنے کا کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ جے آئی ٹی میں میچ ہارچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ان کے پاس قطرے شہزادہ تھا وہ نہیں آیا کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ یہاں آئے گا تو پکڑا جائے گا، شریف خاندان کو پتہ ہے ان کے پاس کچھ نہیں رہ گیا، نوازشریف نے پہلے سے تیار کی ہوئی تقریر پڑھی اب شہباز شریف بھی شروع ہو گیا کہ ہمارے اوپر ظلم ہو تے آئے ہیں جب کہ شہباز شریف نے جھوٹ بولا کہ ہمارا سب سے بڑا کاروبارتھا، ساری چیزیں نیشنلائز ہوئی اس وقت صرف ان پر کیسے ظلم ہوا جنرل ضیا کی خدمت کر نے پر آپ کو اثاثے واپس ملے۔
عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان سے کون مقابلہ کرے گا وہ تو ٹیکس ہی نہیں دے رہے اور ڈرامہ شریف کہہ رہا ہے کہ اس پر ایک بھی کرپشن کا کیس نہیں ہے، ساری قوم عدلیہ اور جے آئی ٹی کے ساتھ ہے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہو گا وہ بھو ل جائیں بہت کچھ ہو گا، سارا شریف خاندان جھوٹ بول رہا ہے ایک فیکٹری سے 30فیکٹریاں بنائی ہیں، 30سالوں تک مظلوم شکل بنا کر انہوں نے قوم کولوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز اور شہباز کا اصل گھر اڈیالہ جیل ہے، قوم شریف خاندان کے ڈراموں اور مظلومیت سے تنگ آچکی ہے۔
کرپٹ خاندان کوبچانا ایک میڈیا ہاؤس کا کام ہے، 34ارب روپے میں سے سب سے زیا دہ اشتہارات جنگ گروپ کو دیے گئے جب کہ جنگ گروپ میڈیا کا گاڈ فادر ہے اسے سب سے زیادہ اشتہارات دیے گئے اور یہ سیاست کے گاڈ فادر کو بچانے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے اپنے بیان میں کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کو یکطرفہ کوریج دینے پر کیا گیا جب کہ ہم جیو کے کسی فورم پر نہیں جائیں گے اور تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما جیو کے کسی پروگرام میں شرکت بھی نہیں کرے گا۔