بیت المقدس میں اسرائیلی بستیاں ہر صورت ختم کی جائیں اقوام متحدہ
یہودی آبادکاری فلسطینیوں کومنظم انداز میں علاقے سے بے دخل کر رہی ہے،اقوام متحدہ
صہیونی ریاست مسجداقصیٰ کے صحن میں پہاڑی کے گنبدکوشہیدکرکے مزعومہ ہیکل سلیمانی تعمیرکرناچاہتی ہے، اسرائیلی اخبار. فوٹو وکی پیڈیا
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونیوالی ایک نئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیل کی نئی آبادکاریاں فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
اس رپورٹ میں اسرائیل پر زوردیاگیا ہے کہ وہ نئے مکانات کی تعمیربندکرے اورمقبوضہ بیت المقدس میں رہائش پذیرتمام نئے آبادکاروں کووہاں سے واپس بلا لے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تین ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ یہ آبادکاری فلسطینیوں کومنظم اندازمیں علاقے سے بے دخل کر رہی ہے، اسرائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے،بی بی سی کے مطابق یہ رپورٹ اقوام متحدہ اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کومزید متاثرکریگی۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ فلسطینیوں کیخلاف تشدد،انھیں ڈرانے دھمکانے اور ان کے گھر بار چھیننے کا مقصد مقامی فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کر کے یہودی آبادکاری میں اضافہ کرنا ہے، رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اپریل 2009 میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے یہودی بستیاں تیزی سے پھیلی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپنے ہی ملک کی آبادی کومقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنا چوتھے جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی ہے۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے تین تحقیق کاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ آبادکاری کی اپنی تمام سرگرمیوں کو بندکردے کیونکہ یہ انسانی حقوق کی سخت پامالی ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ قیامِ امن کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ این این آئی کے مطابق اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ صہیونی وزارت خارجہ کی تیارکردہ ایک فلم میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں واقع پہاڑی کے گنبدکو شہید کر کے وہاں مزعومہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے خواب بہت عرصہ سے دیکھے جارہے ہیں۔
اس رپورٹ میں اسرائیل پر زوردیاگیا ہے کہ وہ نئے مکانات کی تعمیربندکرے اورمقبوضہ بیت المقدس میں رہائش پذیرتمام نئے آبادکاروں کووہاں سے واپس بلا لے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تین ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ یہ آبادکاری فلسطینیوں کومنظم اندازمیں علاقے سے بے دخل کر رہی ہے، اسرائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے،بی بی سی کے مطابق یہ رپورٹ اقوام متحدہ اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کومزید متاثرکریگی۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ فلسطینیوں کیخلاف تشدد،انھیں ڈرانے دھمکانے اور ان کے گھر بار چھیننے کا مقصد مقامی فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کر کے یہودی آبادکاری میں اضافہ کرنا ہے، رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اپریل 2009 میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے یہودی بستیاں تیزی سے پھیلی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپنے ہی ملک کی آبادی کومقبوضہ علاقوں میں منتقل کرنا چوتھے جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی ہے۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے تین تحقیق کاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ آبادکاری کی اپنی تمام سرگرمیوں کو بندکردے کیونکہ یہ انسانی حقوق کی سخت پامالی ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ قیامِ امن کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ این این آئی کے مطابق اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ صہیونی وزارت خارجہ کی تیارکردہ ایک فلم میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں واقع پہاڑی کے گنبدکو شہید کر کے وہاں مزعومہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے خواب بہت عرصہ سے دیکھے جارہے ہیں۔