قومی اسمبلی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے قیام کا بل پیش

قانون بننے پرحکومت 30دن میں اتھارٹی قائم کریگی،ڈی ایچ اے بل بھی پیش


کارگل ایشوپرکمیشن بنایاجائے،ن لیگی رکن،وزارت خارجہ کے 21افسران کے اہلخانہ دہری شہریت رکھتے ہیں،وقفہ سوالات میں جواب فوٹو: اے پی پی/ فائل

قومی اسمبلی میں جمعرات کو ملک میں دہشتگردی پر قابوپانے کیلیے قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی کے قیام کا بل پیش کردیا گیا۔

اتھارٹی کے سربراہ وزیراعظم ہونگے جبکہ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ بورڈ آف گورنرز کے ارکان میں شامل ہونگے۔ قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی بل 2013 وزیر دفاع سید نوید قمر نے پیش کیا ،بل کا مسودہ مزید جائزے کیلیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ ایک ٹی وی چینل کے مطابق اجلاس میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بل 2013 اور انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2012 پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کردی گئی۔

قبل ازیں اجلاس ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں ہوا ، پیپلزپارٹی کی رکن جسٹس (ر) فخر النسا کھوکھر نے کہا ہے کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور گڈگورننس کیلیے نئے صوبے بنانے میں کوئی نقصان نہیں۔ ن لیگ کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کیلیے ہماری قربانیوں کو مدنظر رکھا جائے۔ ن لیگ کی انوشہ رحمن نے کہا کہ جنرل شاہد عزیز کے انکشافات کے بعد کارگل ایشو پر پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔

7

آئی این پی کے مطابق کشمالہ طارق نے کہا کہ انسانی حقوق کمیٹی میں زیر سماعت یوسف بیگ مرزا کے خلاف عائشہ ثنا کا کیس سپریم کورٹ کو ریفر کردیا جائے۔ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکریٹری خارجہ امور پلوشہ خان نے بتایا کہ بھارت میں گرفتار پاکستانیوں تک کونسل رسائی میں مشکلات ہیں۔ وزیر مملکت برائے ریلوے نعمان اسلام شیخ نے بتایا کہ ریلوے میں ڈائون سائزنگ کا اس وقت کوئی پروگرام زیر غور نہیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے ایوان کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ 14 ممالک میں پاکستانی سفیروں سمیت وزارت خارجہ کے 21 افسران کے اہل خانہ دہری شہریت کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافیوں کے وفد نے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔ بعد ازاں اجلاس آج جمعہ دن 11بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔