افروزکیمیکلزکو دوائی ناقص ہونیکا علم تھا پنجاب حکومت

ملیریا کی دوا مکس ہونے کے باوجود دوائی پی آئی سی کو سپلائی کردی گئی، ثنااللہ، سلمان رفیق

انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والے اشتہاریو ں کی گرفتاری کیلیے ٹیم کراچی میں موجود۔ فوٹو: فائل

وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی آئی سی دوائیں کیس میں سندھ حکومت اور وفاق نے تعاون نہیں کیا لیکن ملزموں کی گرفتاری کیلیے کارروائی کرتے رہیں گے۔

گزشتہ روز معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق کے ساتھ یہاں پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ پی آئی سی کیس میں جوڈیشل کمیشن اور پولیس کی تحقیقات کی روشنی میں افروز فارما کے دو مالکان مکمل تحقیقات کے بعد گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ دیگر11 ملزموں کو اشتہاری قراردیا جاچکا ہے جن کی گرفتاری کیلیے کوششیں جاری ہیں۔ پنجاب حکومت کی مسلسل کوششوں اور پی آئی سی دوائیں سکینڈل کی عدالتوں میں تندہی کے ساتھ پیروی کے نتیجے میں اس کیس میں ملوث ملزم قانون کے شکنجے میں آئے ہیں۔

200 سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بننے والے اشتہاریوں کی گرفتاری کیلیے پنجاب پولیس کی ٹیم کراچی میں موجود ہے۔ سلمان رفیق نے کہا کہ بیرون ملک سے فوری تجزیہ کرانے سے افروزکیمیکلز کی دوائی کے ناقص اور ملیریا کی دوائی مکس ہونے کا پتہ چل گیا جس سے سنیئر پروفیسر کی ٹیم نے دوائی کا انٹی ڈوز دے کر مزید سیکڑوںفراد کو موت کے منہ میں جانے سے بچالیا ہے۔




یہ بات غلط ہے کہ افروز کمپنی کے مالکان کو عدالت کے باہر سے اٹھایا گیا۔ فیکٹری مینجرز کے ذریعے مالکان کو اس بات کا پتہ چل گیا تھا کہ دل کے مرض کے علاج کی دوائی میں ملیریا کی دوائی مکس ہوگئی ہے لیکن انھوں نے اس کے باوجود یہ دوائی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو سپلائی کر دی جس سے ان کے اس انسانیت دشمن کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ٹائنو سیرپ کیس میں بھی پیشرفت ہوئی ہے اور جو بھی اس کیس میں بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف انصاف کے تقاضے ضرور پورے کئے جائیں گے۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت نے بتایا کہ تینوں فارما سوٹیکل کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کیلیے صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے رجوع کرلیا ہے۔ٹائنو سیرپ کا خام مال بھارت سے درآمد کیا گیا تھا جو ناقص تھا۔ پی آئی سی دوائیں کیس میں انسٹی ٹیوٹ کے جو ڈاکٹر غفلت کے مرتکب پائے گئے ہیں ان کے خلاف بھی ''پیڈا'' قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہیں۔
Load Next Story