لاپتہ افرادکے متعلقین کی کفالت کیلیے فنڈ قائم کیا جائے سندھ ہائیکورٹ

وزارت انسانی حقوق کاسندھ میں کوئی کردار سامنے نہیں آسکا،جواب پر عدم اطمینان


Staff Reporter February 01, 2013
متاثرہ خاندانوں کیلیے عزت نفس مجروح کیے بغیر مناسب گذارہ الائونس مقرر کیا جائے۔ فوٹو: فائل

لاہور: سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے صوبائی حکومت کوہدایت کی کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی کفالت کیلیے فنڈ فوری قائم کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کیلیے مناسب گذارہ الائونس مقرر کیا جائے جس سے کم ازکم وہ بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر سکیں۔

فاضل بینچ نے سرکاری اداروں کو تجویز دی کہ اگر وہ متاثرہ شہریوں کی مدد کرنا چاہیں تو بیت المال سمیت دیگر اداروں سے بھی تعاون حاصل کرسکتے ہیں ، انھوں نے ہدایت کی کہ ان خاندانوں کو رقم کی فراہمی کیلیے ایسا نظام مرتب کیا جائے سے جس سے مذکورہ افرادکی عزت نفس بھی متاثر نہ ہواپنے ریمارکس میں عدالت نے کہاکہ وزارت انسانی حقوق کا وجود نظر نہیں آتا بالخصوص صوبہ سندھ میں اس کا کوئی کردار عدالت کے سامنے نہیں آسکا، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی کفالت سے معذوری سے وزارت انسانی حقوق کی نا اہلی ظاہر ہوگئی ہے،یہ افسوس کی بات ہے کہ وزارت انسانی حقوق معاشرے کے مستحق افراد کی مدد بھی نہیں کرسکتی۔

عدالت نے آبزرو کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اوران کے حقوق کو یقینی بناناریاست کی ذمے داری ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل نے وفاقی وزارت انسانی حقوق کی جانب سے بتایا کہ لاپتہ افراد یا بدامنی کے واقعات میں جاں بحق ہونیوالوں کے اہل خانہ کی کفالت کیلیے فنڈقائم نہیں کیا جا سکتا، اگر ایسا کیاگیا تو رقم کیلیے جھوٹے دعویدار بھی سامنے آجائینگے اور انکی تصدیق کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

8

فاضل بینچ نے وزارت انسانی حقوق کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیااور کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ کو اپنے صوبے سے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے ،عدالت نے معاملے کو حساس اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے عدالت کی ناراضی متعلقہ حکام تک پہنچا دیں۔ عدالت نے چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے شفاف نظام مرتب کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

درخواست میں وفاقی وزارت قانون،وزارت انسانی حقوق، وزارت سماجی بہبوداور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیاہے کہ نائن الیون کے بعد القاعدہ سے تعلق کے شبہے اور دیگر الزامات میں درجنوں افراد کوگرفتار کرکے امریکا کے حوالے کردیا گیا، عدالت کے حکم کے باوجود لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ عدالت نے سماعت 21فروری تک ملتوی کردی۔