پاکستانیوں کو’’موقع موقع‘‘ کہنے کا موقع مل گیا

موقع سے یاد آیا کہ ہمیں سوال کرنے کا موقع تو نہیں ملا مگر ہم وطن شائقین کو بھارتیوں کو جلانے کا موقع ضرور مل گیا

موقع سے یاد آیا کہ ہمیں سوال کرنے کا موقع تو نہیں ملا مگر ہم وطن شائقین کو بھارتیوں کو جلانے کا موقع ضرور مل گیا۔ فوٹو : فائل

پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد،موقع موقع، گاڑیوں کے ہارن اور شائقین کے نعرے، اتوار کو میچ کے بعد اوول گراؤنڈ کے بعد یہی آوازیں گونج رہی تھیں،ہر ہم وطن خوشی سے سرشار تھا، پریس کانفرنس میں ویرات کوہلی پہلے آئے، میں ان کے بالکل سامنے بیٹھا تھا لہذا چہرے کے تاثرات جاننے میں آسانی ہوئی، ظاہر سی بات تھی شکست کے سبب وہ بڑے اپ سیٹ تھے لیکن ذہنی تناؤ چھپانے کی کوشش بھی کر رہے تھے.

کوہلی کو لفظوں سے بھی کھیلنا آتا ہے، بعض بھارتی صحافی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ''ان کے بعض جواب تو ہمیں اگلے روز سمجھ آتے ہیں وہ بڑی گہری بات بھی کر جاتے ہیں، جیسے چند روز قبل جب کوچ انیل کملبے سے اختلافات کے بارے میں پوچھا گیا تو کوہلی نے الٹا میڈیا کو ہی آڑے ہاتھوں لیا، بعد میں صحافیوں کو یہ بات یاد آئی کہ کپتان نے تو کوچ کی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں کیا۔

یعنی دال میں کچھ کالا ضرور ہے'' خیر کوہلی نے پاکستانی ٹیم کی دل کھول کر تعریف کی اور نئے اوپنر فخرالزماں کو بھی سراہا، بھارتی میڈیا منیجر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی پاکستانی صحافی کو کوہلی سے سوال کرنے کا موقع نہ ملے اس وقت بھی یہی ہوا.

موقع سے یاد آیا کہ ہمیں سوال کرنے کا موقع تو نہیں ملا مگر ہم وطن شائقین کو بھارتیوں کو جلانے کا موقع ضرور مل گیا جو اسٹیڈیم کے باہر مرجھائے ہوئے چہروں کے ساتھ واپس جانے والوں کو چڑاتے رہے، سرفراز احمد ہاتھ میں ٹرافی اٹھائے مسکراتے ہوئے پریس کانفرنس کیلیے آئے ،مکی آرتھر کا چہرہ بھی خوشی سے کھلا ہوا تھا، دونوں نے کیا باتیں کیں آپ نے پڑھ ہی لی ہوں گی، البتہ 2 دلچسپ باتیں شیئر کرنا چاہوں گا.

سرفراز سے پوچھا گیا کہ فتح کس کے نام کریں گے تو انھوں نے ازرائے مذاق کہا کہ ''یہ سوال نہ کریں پہلے ہی اتنا مسئلہ بن گیا تھا'' اس بات پر وہاں قہقہہ بلند ہوا،ان کا اشارہ عامر سہیل کی تنقید کی جانب تھا، پھر سرفراز نے جیت کو پوری قوم کے نام کر دیا۔ اسی طرح ان سے سوال ہوا کہ ٹاس جیتتے تو آپ کیا کرتے ، اس پر انھوں نے بتایا کہ ''ٹاس ہار کر میں بہت خوش ہوا،واپس جاتے ہوئے میڈیا منیجر رضا بھائی (رضا راشد) سے میں نے یہی کہا کہ اچھا ہوا ٹاس ہار گئے۔

فائنل میچ ہے فیصلہ آسان نہیں ہوتا'' ان کی اس بات پر بھی قہقہے لگے، اس کے بعد پوری پاکستانی ٹیم میڈیا سے گفتگو کیلیے آئی، سب سے پہلے قومی پرچم لپیٹے شعیب ملک آئے جنھیں دیگر نے بھی جوائن کیا، سب نے یادگار فتح پر اپنے تاثرات بیان کیے، جاتے ہوئے احمد شہزاد اور شعیب ملک نے مجھے دیکھا تو میرے پاس آ گئے اور ہم نے تھوڑی دیر تک بات چیت کی، میں نے لندن آنے سے پہلے ویب ڈیسک کے وقار احمد اور ٹریبیون کے طحہٰ انیس سے وعدہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا کیلیے چند ویڈیو انٹرویوز بھیجوں گا، مسئلہ یہ تھا کہ آئی سی سی ایونٹس کے دوران اسٹیڈیم کی حدود میں سوائے آفیشل براڈ کاسٹر کے کوئی ویڈیو نہیں بنا سکتا، جو ایسا کرے اس کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی جاتی ہے۔


ٹیم کی واپسی کے وقت سرفراز میرے پاس آئے اور کہا کہ ہوٹل آجائیں وہیں بات کر لیتے ہیں، اب میں نے ٹیکسی کی تلاش شروع کی تو کوئی نہ ملی، سوچنے لگا کیسے جاؤں ایسے میں پاکستانی شرٹ پہنے دو نوجوان آئے، انھوں نے میرا کارڈ دیکھا تو کہنے لگے آج آپ کو ٹیکسی نہیں ملے گی، کہاں جانا ہے آئیں ہم چھوڑ دیتے ہیں، انھوں نے مجھے ٹیم ہوٹل ڈراپ کیا جہاں سیکڑوں شائقین جمع ہو کر ٹیم کے لیے نعرے بازی کر رہے تھے، مسلح پولیس اہلکار بھی چوکس کھڑے تھے، یہ ہوٹل ٹاور برج کے قریب ہی ہے جہاں چند روز قبل دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا، اس لیے سیکیورٹی بہت سخت تھی، ہر کسی کو ہوٹل کے اندر جانے کی اجازت بھی نہ تھی.

میں نے سرفراز کو فون کیا تو وہ نیچے لابی میں آگئے جہاں ان سے انٹرویو کیا، پلیئر آف دی ٹورنامنٹ حسن علی سے بھی بات چیت ہوئی ، وہ مجھے بہت سادہ سا انسان لگا ، کسی انداز سے ایسا ظاہر نہیں ہو رہا تھا کہ اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، اگر یہ انداز برقرار رکھا تو حسن بڑی ترقی کرے گا۔

میں نے اپنی ای میلز چیک کیں اور اخبارات بھی دیکھے، ہر کسی کی مبارکباد آ گئی مگر پی سی بی کو کوئی پریس ریلیز جاری کرنے کی تاحال توفیق ہی نہیں ہوئی، تمام بڑے تو لندن میں موجود ہیں، ڈائریکٹر میڈیا کل میڈیا سینٹر میں دکھائی تو نہ دیے مگر سنا ہے کہ وی آئی پی باکس میں نجم سیٹھی اور شہریارخان کے ساتھ بیٹھے تھے۔

ویسے ایک بات ماننے کی ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں رضا راشد نے بطور میڈیا منیجر بہترین انداز سے فرائض نبھائے، اسی لیے کوئی منفی بات سامنے نہیں آئی بلکہ پاکستان کرکٹ کا روشن چہرہ ہی اجاگر ہوا، رضا نے تنازعات کی تلاش میں رہنے والے بھارتی صحافیوں کو بھی اچھے انداز میں جھیلا،پی سی بی کو میرٹ پر آ کرطریقہ کار سے گذرنے کے بعد ترقی کرنے والے ایسے ہی آفیشلزکی ضرورت ہے۔

ویسے تو بورڈ حکام نے اپنی ناقص پالیسیز سے ٹیم کو تباہ کرنے میں کوئی کسر تو نہیں چھوڑی تھی مگر اس کے باوجود ہم چیمپئن بن گئے،شہریارخان خوش قسمت ہیں کہ جاتے جاتے انھیں ایک بڑا اعزاز حاصل ہوا، ابھی میری ان سے فون پر بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ مختلف لوگ انعامات کا اعلان کر رہے مگر پی سی بی خاموش ہے، اس پر انھوں نے جواب دیا کہ '' ہم حکومت یا دیگر بڑی شخصیات کی طرح بہت بڑی رقم تو نہیں دے سکتے، البتہ اپنی استطاعت کے مطابق ضرور کچھ دیں گے جس کا اعلان آج ہی ہو جائے گا۔

اس پر میں یہ سوچنے لگا کہ تمام بورڈ آفیشلز کتنے زیادہ دنوں سے یہاں موجود اور کافی بڑی رقم خرچ کر چکے ہوں گے ، مگر ''جوائے ٹرپس'' کرتے وقت رقم ضائع ہونے کا کسی کو خیال نہیں آتا، خیر اب موقع ملا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کو مزید بلندیوں پر لے جایا جائے، اس کیلیے نئی سوچ کی ضرورت ہے، ہمیں کرکٹ بورڈ میں بھی سرفراز احمد جیسا لیڈر چاہیے سفارشی لوگ نہیں۔
Load Next Story