پاناماکیس تفتیش حصص مارکیٹ پھر ہل گئی293 ارب کا نقصان
حکمران خاندان کے سیاسی مستقبل اورحکومت سے متعلق منفی افواہوں پر بڑے پیمانے پر فروخت
386 میں سے 343 کمپنیوں کی قیمتیں گرگئیں، صرف 25فرمز کے بھاؤ بڑھ سکے، کاروباری حجم 73فیصد زائد، 29 کروڑ49 لاکھ حصص کے سودے فوٹو: فائل
پاناما کیس کے سلسلے میں جے آئی ٹی کی تفتیش آخری مرحلے میں داخل ہوتے ہی حکمران خاندان کے سیاسی مستقبل اورحکومت سے متعلق پھیلنے والی منفی افواہوں کے باعث بڑے پیمانے پر فروخت سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو ایک بار پھر بدترین مندی رونما ہوئی ۔
جس سے انڈیکس کی 46000 اور45000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدیں بھی گرگئیں، 88.86 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 93 ارب30 کروڑ96 لاکھ 49 ہزار90 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ کاروبارکے ابتدا میں محدود پیمانے پر خریداری سرگرمیوں کے سبب ایک موقع پر182.83 پوائنٹس تک کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں حکمران خاندان اورحکومت کے بارے میں بے یقینی ومنفی خدشات میں کئی گنا اضافے نے اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر شدید منفی اثرات مرتب کیے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثرہوا جس سے مذکورہ تیزی بدترین مندی میں تبدیل ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پرتبدیل ہوتی صورتحال سے سرمایہ کاری میں نمایاں کمی کا رحجان غالب ہو گیا ہے اور حصص کی فروخت پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں ادارہ جاتی سپورٹ ختم جبکہ میوچل فنڈز وانسٹی ٹیوشنزکی جانب سے بھی سرمایہ کاری رک گئی ہے، مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس1678.89 پوائنٹس کی کمی سے44914.45 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 926.85 پوائنٹس گھٹ کر23319.43 ، کے ایم آئی 30 انڈیکس2925.81 پوائنٹس کی کمی سے 76339.69 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 729.66 پوائنٹس گھٹ کر 22012.90 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 73.24 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر29 کروڑ49 لاکھ73 ہزار340 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار386 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں25 کے بھاؤ میں اضافہ، 343 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں سازگارانجینئرنگ کے بھاؤ10.76 روپے بڑھ کر 226.11 روپے اور بیفو انڈسٹری کے بھاؤ8.89 روپے بڑھ کر261.94 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیورفوڈز کے بھاؤ 315 روپے کم ہوکر5985 روپے اور سینوفی ایونٹیز کے بھاؤ97.25 روپے کم ہو کر 1847.75 روپے ہوگئے۔
جس سے انڈیکس کی 46000 اور45000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدیں بھی گرگئیں، 88.86 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 2 کھرب 93 ارب30 کروڑ96 لاکھ 49 ہزار90 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ کاروبارکے ابتدا میں محدود پیمانے پر خریداری سرگرمیوں کے سبب ایک موقع پر182.83 پوائنٹس تک کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں حکمران خاندان اورحکومت کے بارے میں بے یقینی ومنفی خدشات میں کئی گنا اضافے نے اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر شدید منفی اثرات مرتب کیے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثرہوا جس سے مذکورہ تیزی بدترین مندی میں تبدیل ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پرتبدیل ہوتی صورتحال سے سرمایہ کاری میں نمایاں کمی کا رحجان غالب ہو گیا ہے اور حصص کی فروخت پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں ادارہ جاتی سپورٹ ختم جبکہ میوچل فنڈز وانسٹی ٹیوشنزکی جانب سے بھی سرمایہ کاری رک گئی ہے، مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس1678.89 پوائنٹس کی کمی سے44914.45 ہو گیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 926.85 پوائنٹس گھٹ کر23319.43 ، کے ایم آئی 30 انڈیکس2925.81 پوائنٹس کی کمی سے 76339.69 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 729.66 پوائنٹس گھٹ کر 22012.90 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 73.24 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر29 کروڑ49 لاکھ73 ہزار340 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار386 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں25 کے بھاؤ میں اضافہ، 343 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں سازگارانجینئرنگ کے بھاؤ10.76 روپے بڑھ کر 226.11 روپے اور بیفو انڈسٹری کے بھاؤ8.89 روپے بڑھ کر261.94 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیورفوڈز کے بھاؤ 315 روپے کم ہوکر5985 روپے اور سینوفی ایونٹیز کے بھاؤ97.25 روپے کم ہو کر 1847.75 روپے ہوگئے۔