مودی ٹرمپ ملاقات کتنی کامیاب
مودی ٹرمپ ملاقات سے واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کی چین کے حوالہ سے پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے۔
msuherwardy@gmail.com
مودی کا دورہ امریکا کامیاب رہا یا ناکام۔ لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ بھارتی وزیر اعظم کی دورہ امریکا کے حوالہ سے ترجیحات کیا تھیں۔ کیا مودی نے دہلی سے واشنگٹن کا سفر صرف حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد کروانے کے لیے کیا تھا۔میں سمجھتا ہوں ایسا نہیں تھا۔ شاید سید صلاح الدین تو ایجنڈہ پر بھی نہیں تھے۔
کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ مودی جو کچھ لینے گئے تھے وہ نہیں ملا تو یہ لالی پاپ دے دیا گیا۔ بھارت تو مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد دلوانے کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن چین نے دو دفعہ اس کی یہ کوشش یہ کہہ کر ناکام بنا دی ہے کہ بھارت مسعود اظہر کے حوالہ سے ثبوت سامنے نہیں لا سکا ہے۔ ایسے میں امریکا کی جانب سے سید صلاح الدین کو دہشت گرد دلوانے کی کوئی اہمیت ہے۔ کیا بھارت کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ چین کی ویٹو پاور کی موجودگی میں وہ مسعود اظہر اور سید صلاح الدین کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد نہیں دلوا سکتا۔ اس ضمن میں حافظ سعید کے معاملہ پر ایک غلطی ہو چکی ہے اور شاید مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا مودی نے یہ دورہ امریکا پاکستان کے خلاف کیا تھا۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ مودی کا دورہ امریکا چین اور افغانستان کے تناظر میں تھا۔ لیکن اس ضمن میں اس کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بھارت نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ بھارت ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک کو بھارت کی خود مختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ منصوبے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے گزرتے ہیں جو بھارت کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہ منصوبے بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں۔ لیکن اس محاذ پر مودی کو اپنے دورہ امریکا کے دوران نہایت محدود کامیابی ملی ہے۔
یہ درست ہے کہ امریکا نے بھی ون بیلٹ ون روڈ کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ لیکن اس دورہ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اس منصوبے کے خلاف وہ مخالفت نظر نہیں آئی جس کی توقع تھی ۔ عالمی سیاست کے تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ مودی ٹرمپ ملاقات سے واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کی چین کے حوالہ سے پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے۔ وہ اب چین کے حوالے سے اتنے جارحانہ نہیں ہیں جیسے پہلے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مودی ٹرمپ ملاقات سے پہلے چینی صدر اور ٹرمپ ملاقات ہو چکی تھی۔ اس لیے مودی کو اس حوالہ سے زیادہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن امریکا بھارت اور جاپان کی جانب سے ساؤتھ چائنہ سمندر میں بحری مشقوں کا اعلان یقینا ایک پیش رفت ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ کے خلاف بھارت امریکا اور جاپان کا ایک اتحاد بننے جا رہا ہے جو یقینا ایک مضبوط اتحاد ہو گا۔
بھارت نیٹو کے بعد افغانستان میں ایک بڑے کردار کا خواہاں ہیں۔ بھارت کی خواہش ہے کہ نیٹو فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد بھارتی فوجوں کو افغانستان میں بلا لیا جائے۔ بھارت ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ بھارت ایسا کیوں چاہتا ہے۔ بھارت کو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی فوجیں پاکستان کی دو طرف آجائیں گی۔ مشرق اور مغرب دونوں طرف سے وہ پاکستان کو گھیر لے گا۔ دوسرا وہ ون بیلٹ ون روڈ کو روکنے کے لیے بھی عملی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ تاہم مودی ٹرمپ ملاقات اس حوالہ سے کامیاب نہیں رہی ہے۔
مودی کے امریکا پہنچنے کے ساتھ ہی چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اور افغانستان امریکا کے لیے واضح پیغام تھا کہ چین افغانستان کے حوالہ سے اپنے مفادات کا تحفظ جانتا ہے۔ اس ضمن میں چین نے ایک چار ملکی اتحاد الگ سے بھی بنا لیا ہے جس میں روس شامل ہے۔ ایسے میں کیا بھارتی فوجوں کو افغانستان میں لینڈ کروایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔یہ درست ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی افغان پالیسی واضح نہیں کی ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ جولائی کے وسط میں امریکا کے سیکریٹری دفاع امریکا کی نئی افغان پالیسی کا اعلان کریں گے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ امریکا اپنی جگہ اسے افغانستان کا چوکیدار بنا دے۔ پاکستان پر پابندیوں کا بل بھی اسی تناظر میں امریکی کانگریس میں پیش کر دیا گیا ہے ۔ سب اسی پالیسی کی تیاری ہے۔ لیکن مودی ٹرمپ ملاقات اور اس موقع پر ہونے والے اعلامیہ سے ابھی ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ امریکا بھارت کو افغانستان میں چوکیداری کا کوئی کردار دینا چاہتا ہے۔ لیکن جیسے چین افغانستان میں اپنا کردار بڑھاتا جائے گا بھارت کے عزائم ناکام ہوتے جائیں گے۔
بھارت اور امریکا کے درمیان اس وقت سب سے اہم مسئلہ بھارتیوں کے لیے ایچ ون ویزوں کا بھی ہے۔ ٹرمپ نے ایسے ویزوں کے اجرا پر پابندی لگائی ہے۔ اور بھارتی شہریوں کی تعداد ان ویزوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ پابندی اس لیے لگائی ہے کہ انھوں نے اپنی الیکشن مہم میں امریکیوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی کمپنیوں کو پابند کریں گے کہ وہ امریکیوں کو نوکریاں دیں اسی لیے یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ بھارتی اس پابندی سے پریشان ہیں۔ اس لیے جب مودی دہلی سے واشنگٹن روانہ ہوئے تو ان پر سید صلاح الدین کو دہشت گرد دلوانے کا دباؤ نہیںتھا بلکہ بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے ان ویزوں کی پابندی ختم کروانے کا دباؤ تھا ۔
اسی لیے بھارتی وزیر خارجہ نے اس دورہ سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں بھی یہ کہا کہ مودی اس اہم مسئلہ پر ٹرمپ سے بات کریں گے۔ لیکن نہ تو مودی ٹرمپ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کوئی ذکر نظر آیا ار نہ ہی مشترکہ اعلامیہ میں اس کا کوئی ذکر تھا۔اس لیے اس محاذ پر بھی مودی کو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
یہ درست ہے کہ مودی ٹرمپ ملاقات پاکستان اور چین کے خلاف تھی۔ لیکن چین پر نرم رویہ رکھنے کی وجہ سے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کے خلاف باتیں آئی ہیں۔ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی بند کرنے کا کہا گیا ہے۔ ممبئی اور پٹھانکوٹ کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا کہا گیا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں امریکا پہلے بھی کرتا رہا ہے بلکہ مسلسل کر رہا ہے۔ نیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو اس ملاقات میں مودی امریکا سے پاکستان کے خلاف کچھ نیا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ پرانی باتوں پر ہی اکتفا رہا ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بھارت امریکا سے اپنی ائیر لائن کے لیے ایک سو نئے جہاز خرید رہا ہے۔ امریکا بھارت کو ڈرون بیچنے پر بھی تیار ہے تو یہ ٹرمپ کی پالیسی ہے۔ وہ دنیا بھر میں امریکا کے لیے نئے نئے سودوں کی تلاش میں ہے۔ ان سودوں کے حوالے سے ٹرمپ نے یہی کہا ہے کہ اس سے امریکا کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ سیکڑوں نئی نوکریاں پیدا ہونگی، یہ بھارت کا نہیں امریکا کا فائدہ ہے۔
ٹرمپ امریکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پوری دنیا سے امریکی مال کے خریداروں کی تلاش میں ہیں۔ عربوں سے بھی اسی قسم کے معاہدہ کیے گئے ہیں۔ بھارت بھی نقد خریدار ہے۔ وہ ایڈ یا ادھار نہیں مانگتا۔ اس لیے اس میں بھارت کا کم اور امریکا کا زیادہ فائدہ ہے۔ ویسے تو مودی جب سے بھارتی وزیر اعظم بنے ہیں وہ ہر سال امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اب ہر سال بڑا بریک تھرو ملنا تو ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سوچنا کہ مودی ہر سال امریکا میں بڑا بریک تھرو کریں گے درست نہیں۔ اس لیے اس کو ایک عام نوعیت کا دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں اس دورہ سے پہلے جو امیدیں بنا دی گئی تھیں وہ شاید غلط تھیں۔
کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ مودی جو کچھ لینے گئے تھے وہ نہیں ملا تو یہ لالی پاپ دے دیا گیا۔ بھارت تو مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد دلوانے کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن چین نے دو دفعہ اس کی یہ کوشش یہ کہہ کر ناکام بنا دی ہے کہ بھارت مسعود اظہر کے حوالہ سے ثبوت سامنے نہیں لا سکا ہے۔ ایسے میں امریکا کی جانب سے سید صلاح الدین کو دہشت گرد دلوانے کی کوئی اہمیت ہے۔ کیا بھارت کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ چین کی ویٹو پاور کی موجودگی میں وہ مسعود اظہر اور سید صلاح الدین کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد نہیں دلوا سکتا۔ اس ضمن میں حافظ سعید کے معاملہ پر ایک غلطی ہو چکی ہے اور شاید مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا مودی نے یہ دورہ امریکا پاکستان کے خلاف کیا تھا۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ مودی کا دورہ امریکا چین اور افغانستان کے تناظر میں تھا۔ لیکن اس ضمن میں اس کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بھارت نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ بھارت ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک کو بھارت کی خود مختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ منصوبے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے گزرتے ہیں جو بھارت کا حصہ ہیں۔ اس لیے یہ منصوبے بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں۔ لیکن اس محاذ پر مودی کو اپنے دورہ امریکا کے دوران نہایت محدود کامیابی ملی ہے۔
یہ درست ہے کہ امریکا نے بھی ون بیلٹ ون روڈ کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ لیکن اس دورہ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اس منصوبے کے خلاف وہ مخالفت نظر نہیں آئی جس کی توقع تھی ۔ عالمی سیاست کے تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ مودی ٹرمپ ملاقات سے واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کی چین کے حوالہ سے پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے۔ وہ اب چین کے حوالے سے اتنے جارحانہ نہیں ہیں جیسے پہلے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مودی ٹرمپ ملاقات سے پہلے چینی صدر اور ٹرمپ ملاقات ہو چکی تھی۔ اس لیے مودی کو اس حوالہ سے زیادہ کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن امریکا بھارت اور جاپان کی جانب سے ساؤتھ چائنہ سمندر میں بحری مشقوں کا اعلان یقینا ایک پیش رفت ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ کے خلاف بھارت امریکا اور جاپان کا ایک اتحاد بننے جا رہا ہے جو یقینا ایک مضبوط اتحاد ہو گا۔
بھارت نیٹو کے بعد افغانستان میں ایک بڑے کردار کا خواہاں ہیں۔ بھارت کی خواہش ہے کہ نیٹو فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد بھارتی فوجوں کو افغانستان میں بلا لیا جائے۔ بھارت ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ بھارت ایسا کیوں چاہتا ہے۔ بھارت کو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی فوجیں پاکستان کی دو طرف آجائیں گی۔ مشرق اور مغرب دونوں طرف سے وہ پاکستان کو گھیر لے گا۔ دوسرا وہ ون بیلٹ ون روڈ کو روکنے کے لیے بھی عملی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا۔ تاہم مودی ٹرمپ ملاقات اس حوالہ سے کامیاب نہیں رہی ہے۔
مودی کے امریکا پہنچنے کے ساتھ ہی چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اور افغانستان امریکا کے لیے واضح پیغام تھا کہ چین افغانستان کے حوالہ سے اپنے مفادات کا تحفظ جانتا ہے۔ اس ضمن میں چین نے ایک چار ملکی اتحاد الگ سے بھی بنا لیا ہے جس میں روس شامل ہے۔ ایسے میں کیا بھارتی فوجوں کو افغانستان میں لینڈ کروایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔یہ درست ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک اپنی افغان پالیسی واضح نہیں کی ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ جولائی کے وسط میں امریکا کے سیکریٹری دفاع امریکا کی نئی افغان پالیسی کا اعلان کریں گے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ امریکا اپنی جگہ اسے افغانستان کا چوکیدار بنا دے۔ پاکستان پر پابندیوں کا بل بھی اسی تناظر میں امریکی کانگریس میں پیش کر دیا گیا ہے ۔ سب اسی پالیسی کی تیاری ہے۔ لیکن مودی ٹرمپ ملاقات اور اس موقع پر ہونے والے اعلامیہ سے ابھی ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ امریکا بھارت کو افغانستان میں چوکیداری کا کوئی کردار دینا چاہتا ہے۔ لیکن جیسے چین افغانستان میں اپنا کردار بڑھاتا جائے گا بھارت کے عزائم ناکام ہوتے جائیں گے۔
بھارت اور امریکا کے درمیان اس وقت سب سے اہم مسئلہ بھارتیوں کے لیے ایچ ون ویزوں کا بھی ہے۔ ٹرمپ نے ایسے ویزوں کے اجرا پر پابندی لگائی ہے۔ اور بھارتی شہریوں کی تعداد ان ویزوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ پابندی اس لیے لگائی ہے کہ انھوں نے اپنی الیکشن مہم میں امریکیوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی کمپنیوں کو پابند کریں گے کہ وہ امریکیوں کو نوکریاں دیں اسی لیے یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ بھارتی اس پابندی سے پریشان ہیں۔ اس لیے جب مودی دہلی سے واشنگٹن روانہ ہوئے تو ان پر سید صلاح الدین کو دہشت گرد دلوانے کا دباؤ نہیںتھا بلکہ بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے ان ویزوں کی پابندی ختم کروانے کا دباؤ تھا ۔
اسی لیے بھارتی وزیر خارجہ نے اس دورہ سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں بھی یہ کہا کہ مودی اس اہم مسئلہ پر ٹرمپ سے بات کریں گے۔ لیکن نہ تو مودی ٹرمپ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کوئی ذکر نظر آیا ار نہ ہی مشترکہ اعلامیہ میں اس کا کوئی ذکر تھا۔اس لیے اس محاذ پر بھی مودی کو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
یہ درست ہے کہ مودی ٹرمپ ملاقات پاکستان اور چین کے خلاف تھی۔ لیکن چین پر نرم رویہ رکھنے کی وجہ سے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کے خلاف باتیں آئی ہیں۔ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی بند کرنے کا کہا گیا ہے۔ ممبئی اور پٹھانکوٹ کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا کہا گیا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں امریکا پہلے بھی کرتا رہا ہے بلکہ مسلسل کر رہا ہے۔ نیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو اس ملاقات میں مودی امریکا سے پاکستان کے خلاف کچھ نیا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ پرانی باتوں پر ہی اکتفا رہا ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بھارت امریکا سے اپنی ائیر لائن کے لیے ایک سو نئے جہاز خرید رہا ہے۔ امریکا بھارت کو ڈرون بیچنے پر بھی تیار ہے تو یہ ٹرمپ کی پالیسی ہے۔ وہ دنیا بھر میں امریکا کے لیے نئے نئے سودوں کی تلاش میں ہے۔ ان سودوں کے حوالے سے ٹرمپ نے یہی کہا ہے کہ اس سے امریکا کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ سیکڑوں نئی نوکریاں پیدا ہونگی، یہ بھارت کا نہیں امریکا کا فائدہ ہے۔
ٹرمپ امریکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پوری دنیا سے امریکی مال کے خریداروں کی تلاش میں ہیں۔ عربوں سے بھی اسی قسم کے معاہدہ کیے گئے ہیں۔ بھارت بھی نقد خریدار ہے۔ وہ ایڈ یا ادھار نہیں مانگتا۔ اس لیے اس میں بھارت کا کم اور امریکا کا زیادہ فائدہ ہے۔ ویسے تو مودی جب سے بھارتی وزیر اعظم بنے ہیں وہ ہر سال امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اب ہر سال بڑا بریک تھرو ملنا تو ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سوچنا کہ مودی ہر سال امریکا میں بڑا بریک تھرو کریں گے درست نہیں۔ اس لیے اس کو ایک عام نوعیت کا دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں اس دورہ سے پہلے جو امیدیں بنا دی گئی تھیں وہ شاید غلط تھیں۔