مری میں چیئر لفٹ کا افسوسناک حادثہ

مری میں اب نجی طور پر چلائی جانے والی لفٹس کو بند کرنے سے کیا تمام معاملات درست ہو جائیں گے

مری میں اب نجی طور پر چلائی جانے والی لفٹس کو بند کرنے سے کیا تمام معاملات درست ہو جائیں گے . فوٹو/ ٹوئٹر/فائل

مری کے علاقہ چھرہ پانی اور ایبٹ آباد کے گاؤں بنواڑی کے درمیان لگائی جانے والی نجی چیئرلفٹ ٹوٹنے سے ایک خاتون اور بچے سمیت 12 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا، مرنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جو کرکٹ کھیلنے کے لیے بنواڑی جارہے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر میں نجی طور پر چلائی جانے والی ڈولی لفٹس کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔


ہمارے ہاں حکومتی سطح پر یہ رویہ فروغ پا چکا ہے کہ جب تک کوئی حادثہ رونما نہ ہوجائے معاملات کی درستی پر توجہ نہیں دی جاتی، میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی لفٹ ایک عرصے سے وہاں نصب تھی اور اس کی خراب حالت سے مالک کو آگاہ بھی کیا گیا تھا مگر نہ انتظامیہ نے اور نہ مالک ہی نے اس کو درخور اعتنا سمجھا۔ انتظامیہ کی غفلت تو نظر آتی لیکن شہریوں کا لاپروائی کا رویہ بھی حادثات کا محرک بنتا ہے' حادثہ کا شکار ہونے والی لفٹ میں جب 8افراد کی گنجائش تھی تو اس میں 13افراد کو سامان سمیت کیوں بٹھایا گیا۔ ملک میں کشتی اور اسٹیمرز کے حادثات کا سبب بھی گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا سامنے آتا رہا ہے۔

مری میں اب نجی طور پر چلائی جانے والی لفٹس کو بند کرنے سے کیا تمام معاملات درست ہو جائیں گے، اگر یہ لفٹس غیر معیاری اور مروجہ اصولوں کے برخلاف تھیں تو انھیں نصب ہی کرنے کیوں دیا گیا تھا' ان انتظامی افسران کے خلاف بھی انضباطی کارروائی روبہ عمل لائی جانی چاہیے جن کا معاملات سے صرف نظر کرنے کا رویہ بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ اسی طرح آئے دن ہونے والے ٹریفک حادثات بھی خراب گاڑیوں اور ڈرائیورز کی لاپروائی کا نتیجہ ہوتے ہیں مگر انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کمپنی مالکان نے انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والے معاملات کو درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ حد تو یہ ہے کہ ملک میں طیاروں کے حادثات بھی ہوئے ہیں لیکن ان کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جن کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے بجائے اگر معاملات مستقل بنیادوں پر درست کرنے کی جانب توجہ دے تو مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔
Load Next Story