صحافت کا گمنام لیکن روشن ترین چہرہ
دل سے ’’ہوائے کشت وفا ‘‘ نکل گئی کہ حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا
barq@email.com
KARACHI:
جب ہم پہلے پہل صحافت کے اس کوچہ ملامت میں تازہ آئے تو سب سے پہلے جس چہرے سے ہمارا سامنا ہوا بلکہ بات تھوڑی سی غلط ہو گئی چہرے تو بہت تھے لیکن ان چہروں میں جو چہرہ ہمیں سب سب زیادہ خوبصورت اور پر کشش لگا وہ عبدالواحد یوسفی کا تھا،اس کوئے ملامت میں ہمیں کھینچ کر لانے والے مرحوم قلندر مومند اور ایوب صابر تھے لیکن ان کے علاوہ جو سب سے زیادہ پذیرائی ملی وہ یہی عبدالواحد یوسفی تھے جو ان دنوں روزنامہ انجام پشاور کے چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے،اس کے بعد پلوں کے نیچے بہت سارا پانی گزرا اور ہم بھی پلوں کے بلکہ ''پل ہائے صراط'' سے گزرتے رہے۔ روزنامہ انجام پریس ٹرسٹ کے دست ایوب پر بعیت ہو کر مشرق بنا ۔ ایڈیٹر بدلے حکومتیں بدلیں حالات بدلے حتیٰ کہ بہت سارے لوگ داغ مفارقت دے گئے،ابتدائی دنوں میں انجام اور پھر مشرق کے دفتر کے نیچے سیڑھیوں کے پاس مرزا محمود سرحدی کا ''زاویہ '' ایک دکان کے تختے پر ہو تا تھا۔
کیونکہ دکانیں تو سرشام بند ہو جاتی تھیں، قہوے کے دور چلتے اور ہم مرزا محمود سرحدی سے نہ صرف قطعے اور لطیفے سنتے بلکہ قلندر مومند ان کی طفل پسندی کی چٹکیاں بھی لیتے تھے، ان ہی نشستوں میں کبھی کبھی یوسفی بھی شامل ہو جاتے تھے لیکن بیٹھتے کبھی نہیں تھے کیونکہ خصوصی اور چیف رپورٹر کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ہوا بلکہ '' خبر '' کے گھوڑے پر سوار ہو کر متحرک رہتے تھے،انجام کے مشرق بن جانے کے بعد انتظامیہ میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ قلندر مومند جو ویسے بھی پارہ صفت مزاج رکھتے تھے، ناراض ہو کرتیاگ گئے تو ہمارا بھی چوک یادگار اور مشرق سے وہ تعلق نہیں رہا لیکن یوسفی سے ناطہ نہیں ٹوٹا اور اس میں ہماری کوئی خوبی نہیں بلکہ یوسفی تھے ہی ایسے مزاج کے کہ پرانے بزرگوں کی طرح جس کے ساتھ ایک دفعہ خدا یاد کیا پھر مرتے دم تک یاد رہا۔
انقلابات زمانہ سے ہم فٹ بال بن کر اور یہ اپنے رہبر ورہنماقلندر کی صحبت کا اثر تھا کہ وہ خود بھی ایک بہت بڑے فٹ بال تھے اور ہمیں بھی اپنے جیسا کردیا ۔ روزنامہ بانگ حرم بند ہوا تو شہباز، وہاں نہیں بنی تو ریڈیو اور پھر ریڈیو سے ٹیلی وژن ۔ جگہ جگہ ٹیک کھاتے رہے، لڑھکتے رہے ، ہم دوست بناتے رہے اور وہ دشمن بنتے رہے۔آخر کار سب سے جی اچاٹ ہو گیا اور ہم اپنے گاؤں میں بیٹھ کر زمین سے جڑ گئے، قلم کو ہاتھ سے رکھا تو نہیں لیکن قلم کے بل سے کاغذ کے کھیت میں بوائی کٹائی کرنے کی جگہ اصل کھیتوں میں یہ کام کرنے لگے ۔ لیکن قسمت تو وہی تھی کہ اپنے خیال میں پھول بوئے اور وہ کانٹے ہو کر اُگ آتے لیکن اتنا تھا کہ دو وقت کی روکھی سوکھی مل جاتی تھی، انسانوں کی جگہ پودوں ، درختوں ، جانوروں اور پرندوں کی صحبت راس آئی اور وہی صورت پیدا ہو گئی جو حسرت موہانی نے بیان کی ہے زمین کے ساتھ ساتھ کاغذ پر ہل چلانے کا کام بھی برابر جاری رہا۔
دل سے ''ہوائے کشت وفا '' نکل گئی کہ حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا۔ لیکن کشت حقیقت سے اب مفر کا کوئی راستہ نہیں تھا کہ اچانک ایک روز یونس قیاسی بالکل ہی خلاف توقع وارد ہوا اور یہ سندیسہ لایا کہ یوسفی صاحب نے یاد فرمایا ہے یہ تو ہمیں معلوم تھا کہ یوسفی صاحب اب مشرق کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں لیکن ہم اس کوچے سے ہی نکل آئے تھے تو تعلق کیا ۔ لیکن اس شخص کی طرف سے وہی اور ویسا ہی تعلق تھا۔
ہم گئے، انھوں نے کالم کی پیش کش کی اور ہم پھر جت گئے،کاغذ کے کھیت میں لیکن یہ عرصہ بہت مختصر رہا، یوسفی بچارہ سادہ لوح اللہ لوک آدمی کو '' ترقی '' کے ڈنڈے سے مارکر لاہور پہنچا دیا گیا اور ہم بھی ایک مرتبہ پھر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی ۔پھر اچانک ایک روز پھر یوسفی صاحب کا بلاوا آگیا، اب کے وہ ریٹائر ہو چکے تھے اور کارکن صحافیوں کو لے کر روزنامہ آج کا اجرا کر چکے تھے۔
ہم نے اپنی صحافتی اور ادبی زندگی میں بہت سارے لوگ دیکھے لیکن یوسفی جیسا درویش کوئی اور نہیں دیکھا، اتنا طویل صحافتی ریکارڈ اور وہ بھی تسلسل کے ساتھ رکھنے کے باوجود انھیں کھبی ستائش کی پروا ہوئی ہے نہ صلے کی پروا ،کبھی اپنے نام کو اچھالنے یا آگے لانے کی کوشش نہیں کی ہے، کل کے لوگ آگئے جو صحافت کی الف ب سے بھی واقف نہ تھے، بہت اونچے اونچے ناموں اور مقاموں پر پہنچ گئے ، بہت ایوارڈز اپنے نام کر گئے لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا نہ سنا کہ یوسفی نے ایسی کوئی کوشش یا خواہش کی ہو، زیادہ سے زیادہ پیچھے اور پس منظر میں رہنے کی کوشش کرتے اور دوسروں کو ممکن حد تک آگے لانے کی کوشش کرتے ہیں، ڈھونڈھ ڈھونڈ پرانے ضعیف اور تنگ دست گمنامی میں چلے جانے والے صحافی اور اہل قلم کھینچتے ہیں اور صرف ان کی مالی مدد کی خاطر ان کی تحریریں چھپواتے ہیں جن کا لکھا کسی بھی کام کا نہیں ہو تا لیکن یوسفی کو تو کسی نہ کسی طرح اس کی مدد کرنا ہوتی ہے۔
اب بھی بقید حیات ہیں لیکن مجال ہے جو کہیں اپنے آپ کو لانے کی سعی کریں، ہمارے خیال میں ان کو اب تک کم از کم دس بیس اعلیٰ قسم کے ایوارڈز ملنا چاہیے تھے لیکن وہ خود ہاتھ بڑھانے کے عادی نہیں اور دینے والے صرف نیچے ہوئے ہاتھوں کو دیتے ہیں ، کبھی کبھی تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسا شخص ہے جو اس زمانے میں کسی بھی چیز کی خواہش نہیں کر تا بلکہ ''لینے'' کا تو شاید ان میں ''پرزہ'' ہی نہیں ہے صرف دینا اور دینا ہی اس کی عادت بھی ہے، سرشت بھی اور نصب العین بھی، کسی شجر سایہ دار اور ثمر دار کی طرح جو سایے اور پھل کے عوض پتھر پاتے ہیں لیکن یوسفی اتنا محترم ہے کہ کوئی اسے پتھر مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
جب ہم پہلے پہل صحافت کے اس کوچہ ملامت میں تازہ آئے تو سب سے پہلے جس چہرے سے ہمارا سامنا ہوا بلکہ بات تھوڑی سی غلط ہو گئی چہرے تو بہت تھے لیکن ان چہروں میں جو چہرہ ہمیں سب سب زیادہ خوبصورت اور پر کشش لگا وہ عبدالواحد یوسفی کا تھا،اس کوئے ملامت میں ہمیں کھینچ کر لانے والے مرحوم قلندر مومند اور ایوب صابر تھے لیکن ان کے علاوہ جو سب سے زیادہ پذیرائی ملی وہ یہی عبدالواحد یوسفی تھے جو ان دنوں روزنامہ انجام پشاور کے چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے،اس کے بعد پلوں کے نیچے بہت سارا پانی گزرا اور ہم بھی پلوں کے بلکہ ''پل ہائے صراط'' سے گزرتے رہے۔ روزنامہ انجام پریس ٹرسٹ کے دست ایوب پر بعیت ہو کر مشرق بنا ۔ ایڈیٹر بدلے حکومتیں بدلیں حالات بدلے حتیٰ کہ بہت سارے لوگ داغ مفارقت دے گئے،ابتدائی دنوں میں انجام اور پھر مشرق کے دفتر کے نیچے سیڑھیوں کے پاس مرزا محمود سرحدی کا ''زاویہ '' ایک دکان کے تختے پر ہو تا تھا۔
کیونکہ دکانیں تو سرشام بند ہو جاتی تھیں، قہوے کے دور چلتے اور ہم مرزا محمود سرحدی سے نہ صرف قطعے اور لطیفے سنتے بلکہ قلندر مومند ان کی طفل پسندی کی چٹکیاں بھی لیتے تھے، ان ہی نشستوں میں کبھی کبھی یوسفی بھی شامل ہو جاتے تھے لیکن بیٹھتے کبھی نہیں تھے کیونکہ خصوصی اور چیف رپورٹر کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ہوا بلکہ '' خبر '' کے گھوڑے پر سوار ہو کر متحرک رہتے تھے،انجام کے مشرق بن جانے کے بعد انتظامیہ میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ قلندر مومند جو ویسے بھی پارہ صفت مزاج رکھتے تھے، ناراض ہو کرتیاگ گئے تو ہمارا بھی چوک یادگار اور مشرق سے وہ تعلق نہیں رہا لیکن یوسفی سے ناطہ نہیں ٹوٹا اور اس میں ہماری کوئی خوبی نہیں بلکہ یوسفی تھے ہی ایسے مزاج کے کہ پرانے بزرگوں کی طرح جس کے ساتھ ایک دفعہ خدا یاد کیا پھر مرتے دم تک یاد رہا۔
انقلابات زمانہ سے ہم فٹ بال بن کر اور یہ اپنے رہبر ورہنماقلندر کی صحبت کا اثر تھا کہ وہ خود بھی ایک بہت بڑے فٹ بال تھے اور ہمیں بھی اپنے جیسا کردیا ۔ روزنامہ بانگ حرم بند ہوا تو شہباز، وہاں نہیں بنی تو ریڈیو اور پھر ریڈیو سے ٹیلی وژن ۔ جگہ جگہ ٹیک کھاتے رہے، لڑھکتے رہے ، ہم دوست بناتے رہے اور وہ دشمن بنتے رہے۔آخر کار سب سے جی اچاٹ ہو گیا اور ہم اپنے گاؤں میں بیٹھ کر زمین سے جڑ گئے، قلم کو ہاتھ سے رکھا تو نہیں لیکن قلم کے بل سے کاغذ کے کھیت میں بوائی کٹائی کرنے کی جگہ اصل کھیتوں میں یہ کام کرنے لگے ۔ لیکن قسمت تو وہی تھی کہ اپنے خیال میں پھول بوئے اور وہ کانٹے ہو کر اُگ آتے لیکن اتنا تھا کہ دو وقت کی روکھی سوکھی مل جاتی تھی، انسانوں کی جگہ پودوں ، درختوں ، جانوروں اور پرندوں کی صحبت راس آئی اور وہی صورت پیدا ہو گئی جو حسرت موہانی نے بیان کی ہے زمین کے ساتھ ساتھ کاغذ پر ہل چلانے کا کام بھی برابر جاری رہا۔
دل سے ''ہوائے کشت وفا '' نکل گئی کہ حاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا۔ لیکن کشت حقیقت سے اب مفر کا کوئی راستہ نہیں تھا کہ اچانک ایک روز یونس قیاسی بالکل ہی خلاف توقع وارد ہوا اور یہ سندیسہ لایا کہ یوسفی صاحب نے یاد فرمایا ہے یہ تو ہمیں معلوم تھا کہ یوسفی صاحب اب مشرق کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں لیکن ہم اس کوچے سے ہی نکل آئے تھے تو تعلق کیا ۔ لیکن اس شخص کی طرف سے وہی اور ویسا ہی تعلق تھا۔
ہم گئے، انھوں نے کالم کی پیش کش کی اور ہم پھر جت گئے،کاغذ کے کھیت میں لیکن یہ عرصہ بہت مختصر رہا، یوسفی بچارہ سادہ لوح اللہ لوک آدمی کو '' ترقی '' کے ڈنڈے سے مارکر لاہور پہنچا دیا گیا اور ہم بھی ایک مرتبہ پھر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی ۔پھر اچانک ایک روز پھر یوسفی صاحب کا بلاوا آگیا، اب کے وہ ریٹائر ہو چکے تھے اور کارکن صحافیوں کو لے کر روزنامہ آج کا اجرا کر چکے تھے۔
ہم نے اپنی صحافتی اور ادبی زندگی میں بہت سارے لوگ دیکھے لیکن یوسفی جیسا درویش کوئی اور نہیں دیکھا، اتنا طویل صحافتی ریکارڈ اور وہ بھی تسلسل کے ساتھ رکھنے کے باوجود انھیں کھبی ستائش کی پروا ہوئی ہے نہ صلے کی پروا ،کبھی اپنے نام کو اچھالنے یا آگے لانے کی کوشش نہیں کی ہے، کل کے لوگ آگئے جو صحافت کی الف ب سے بھی واقف نہ تھے، بہت اونچے اونچے ناموں اور مقاموں پر پہنچ گئے ، بہت ایوارڈز اپنے نام کر گئے لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا نہ سنا کہ یوسفی نے ایسی کوئی کوشش یا خواہش کی ہو، زیادہ سے زیادہ پیچھے اور پس منظر میں رہنے کی کوشش کرتے اور دوسروں کو ممکن حد تک آگے لانے کی کوشش کرتے ہیں، ڈھونڈھ ڈھونڈ پرانے ضعیف اور تنگ دست گمنامی میں چلے جانے والے صحافی اور اہل قلم کھینچتے ہیں اور صرف ان کی مالی مدد کی خاطر ان کی تحریریں چھپواتے ہیں جن کا لکھا کسی بھی کام کا نہیں ہو تا لیکن یوسفی کو تو کسی نہ کسی طرح اس کی مدد کرنا ہوتی ہے۔
اب بھی بقید حیات ہیں لیکن مجال ہے جو کہیں اپنے آپ کو لانے کی سعی کریں، ہمارے خیال میں ان کو اب تک کم از کم دس بیس اعلیٰ قسم کے ایوارڈز ملنا چاہیے تھے لیکن وہ خود ہاتھ بڑھانے کے عادی نہیں اور دینے والے صرف نیچے ہوئے ہاتھوں کو دیتے ہیں ، کبھی کبھی تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسا شخص ہے جو اس زمانے میں کسی بھی چیز کی خواہش نہیں کر تا بلکہ ''لینے'' کا تو شاید ان میں ''پرزہ'' ہی نہیں ہے صرف دینا اور دینا ہی اس کی عادت بھی ہے، سرشت بھی اور نصب العین بھی، کسی شجر سایہ دار اور ثمر دار کی طرح جو سایے اور پھل کے عوض پتھر پاتے ہیں لیکن یوسفی اتنا محترم ہے کہ کوئی اسے پتھر مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔