انتخابی عمل اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد شروع ہوگااحسن اقبال

اگر ہم مستعفی ہوجاتے تو زرداری اپنی مرضی کا الیکشن کمشنر منتخب کرلیتے، رہنما ن لیگ

حکومت سرکاری اشتہارات سے انتخابی مہم چلارہی ہے،جہانگیر ترین ’لائیو ود طلعت‘میں گفتگو فوٹو : فائل

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے باہر ہمارے دھرنے میں صرف پارلیمنٹیرینز شامل تھے۔


جس کا مقصد الیکشن کمشن کی مضبوطی اوران لوگوں کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت ''میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ہر بات میں منفی سوچ کو سامنے رکھا جاتا ہے اگر ہم مستعفی ہوجاتے تو آج صدر زرداری اپنی مرضی کا الیکشن کمشنر منتخب کرلیتے۔ بس سروس عوامی منصوبہ ہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا اس کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ۔ انتخابی عمل اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے بعد شروع ہوگا۔

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت عوام کے پیسے سے اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخابی مہم چلارہی ہے ۔ ہم نے الیکشن کمشن کو اس بارے میں نوٹس لینے اور باقاعدہ کارروائی کے لیے کہا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ہم خوش تھے کہ فخرالدین جی ابراھیم ایک ایماندار اور اچھے شخص ہیں وہ شفاف انتخابات کے لیے بہت کچھ کریں گے لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ فخرالدین جی ابراہیم کی باتیں بہت اچھی ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ہم ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کریں۔ ہم نے دوہری شہریت کے حوالے سے ایک فہرست بھی الیکشن کمشن کو بھجوائی لیکن اس کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
Load Next Story