جنوبی پنجاب صوبہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ہائیکورٹ کادائرہ اختیار چیلنج کر دیا

اس بات کا تعین پہلے کیا جائے کہ کیا عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار رکھتی ہے؟ عبدالحئی


Numainda Express February 05, 2013
وفاقی حکومت کا موقف لینے کیلیے مز ید مہلت دی جائے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا، نوٹیفکیشن نہ آیا تو مزید کارروائی نہیں ہوگی، عدالت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے بہاولپور جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت 6 فروری تک کیلئے ملتوی کر دی۔

پیر کو دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عبدالحئی کی جانب سے ان درخواستوں کی سماعت پر عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ پہلے تعین کر لے کہ کیا عدالت پارلیمنٹ کے اندورنی معاملات میں مداخلت کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟۔ سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کیلیے قائم کمیشن کا نوٹیفکیشن اور سفارشات کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے ان کے اٹھائے گئے نکتہ پر دلائل دینے کیلیے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر فاضل عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔ اے پی پی کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل عبد الحئی گیلانی نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاقی حکومت کا موقف لینے کے لیے مز ید مہلت دی جائے تا کہ عدالت کے روبرو نئے صوبے بنانے سے متعلق کمیشن کا نو ٹیفکیشن حاصل کر کے عدالت کو پیش کیا جا سکے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ جب تک عدالت کے سامنے کمیشن کا نو ٹیفکیشن نہیں آجاتا، کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عبد الحئی گیلانی کی استدعا منظور کرلی۔ دریں اثناء چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے مسافر گاڑیوں میں گیس سلنڈرں کے پھٹنے کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قراردیا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث گیس سلنڈر پھٹنے سے معصوم انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے واقعات ہو رہے ہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے اوگرا حکام پر برہمی کا اظہار کی اور کہا کہ اگر آپ لا پرواہی نہ کریں تو ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ فاضل جج نے سماعت 13مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔