پاک تاجکستان دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت
تاجکستان اور پاکستان کے درمیان تاریخ، مذہب، ثقافت کے مضبوط رشتے اور بندھن موجود ہیں۔
دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور تاجکستان نے زراعت، تعلیم اورثقافت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اورکاروباری وعوامی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک 500 ملین ڈالرکی تجارت کے ہدف کا حصول چاہتے ہیں۔
جدید دنیا میں آپ دوسرے ممالک سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ جتنی دوستی بڑھائیں گے اتنا ہی فائدہ ملک کو اقتصادی ، معاشی اور تجارتی سطح پرحاصل ہوگا ۔ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان تاریخ ، مذہب ، ثقافت کے مضبوط رشتے اور بندھن موجود ہیں ۔ سپرپاور روس کے ٹوٹنے کے بعد وسط ایشیائی اسلامی ریاستیں آزاد ہوئیں اور پاکستان نے بڑھ چڑھ کر ان سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری پیدا کی ۔ اس وقت دونوں ممالک اپنی تعلقات کی سلورجوبلی منا رہے ہیں۔
تاجک صدر امام علی رحمانوف کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے میں رابطے بڑھیں گے، ٹریفک ٹرانزٹ معاہدہ خطے میں مواصلاتی اورمعاشی رابطے بڑھائے گا، وزیراعظم نے تاجک مسلح افواج کو پاکستان میں تربیت کی پیشکش بھی کی۔
یقیناً سی پیک کا منصوبہ پاکستان کو وسط ایشیائی سے جوڑ دے گا ، اور یہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہوگا کہ ہم اپنی تجارتی اشیاء کو وہاں کی مارکیٹ میں متعارف کراسکیں ، اس کے علاوہ دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس موقعے پر تاجک صدرامام علی رحمانوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن آنا چاہیے جس سے خطے میں انتہاپسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کا خاتمہ ہوگا۔
جس بات کی طرف انھوں نے نشاندہی کی وہ خطے کے امن سے نہ صرف جڑی ہے بلکہ اس میں پاکستان اور تاجکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا، دونوں ممالک نے بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان تاجکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
باہمی معاہدوں کے سارے مندرجات حوصلہ افزاء ضرور ہیں، لیکن صرف معاہدوں پر دستخط سے ترقی کی راہیں نہیں کھلتیں جب تک خلوص نیت سے سارے مراحل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا جائے ، دوطرفہ تجارت جب ہی پروان چڑھ سکتی جب پاکستانی اور تاجک تاجروں کو حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنے پڑے اور وہ باسانی ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرسکیں تو پھر ہی بات بنے گی اور بات آگے بڑھے گی، یہ ہماری قومی ترقی اور اقتصادی ومعاشی کا استحکام کا معاملہ اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کے لیے ایک منظم ، مربوط اورفعال نظام تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔
جدید دنیا میں آپ دوسرے ممالک سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ جتنی دوستی بڑھائیں گے اتنا ہی فائدہ ملک کو اقتصادی ، معاشی اور تجارتی سطح پرحاصل ہوگا ۔ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان تاریخ ، مذہب ، ثقافت کے مضبوط رشتے اور بندھن موجود ہیں ۔ سپرپاور روس کے ٹوٹنے کے بعد وسط ایشیائی اسلامی ریاستیں آزاد ہوئیں اور پاکستان نے بڑھ چڑھ کر ان سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری پیدا کی ۔ اس وقت دونوں ممالک اپنی تعلقات کی سلورجوبلی منا رہے ہیں۔
تاجک صدر امام علی رحمانوف کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ اقتصادی راہداری منصوبے سے خطے میں رابطے بڑھیں گے، ٹریفک ٹرانزٹ معاہدہ خطے میں مواصلاتی اورمعاشی رابطے بڑھائے گا، وزیراعظم نے تاجک مسلح افواج کو پاکستان میں تربیت کی پیشکش بھی کی۔
یقیناً سی پیک کا منصوبہ پاکستان کو وسط ایشیائی سے جوڑ دے گا ، اور یہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہوگا کہ ہم اپنی تجارتی اشیاء کو وہاں کی مارکیٹ میں متعارف کراسکیں ، اس کے علاوہ دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جب کہ اس موقعے پر تاجک صدرامام علی رحمانوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن آنا چاہیے جس سے خطے میں انتہاپسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کا خاتمہ ہوگا۔
جس بات کی طرف انھوں نے نشاندہی کی وہ خطے کے امن سے نہ صرف جڑی ہے بلکہ اس میں پاکستان اور تاجکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا، دونوں ممالک نے بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان تاجکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
باہمی معاہدوں کے سارے مندرجات حوصلہ افزاء ضرور ہیں، لیکن صرف معاہدوں پر دستخط سے ترقی کی راہیں نہیں کھلتیں جب تک خلوص نیت سے سارے مراحل کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا جائے ، دوطرفہ تجارت جب ہی پروان چڑھ سکتی جب پاکستانی اور تاجک تاجروں کو حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنے پڑے اور وہ باسانی ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرسکیں تو پھر ہی بات بنے گی اور بات آگے بڑھے گی، یہ ہماری قومی ترقی اور اقتصادی ومعاشی کا استحکام کا معاملہ اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کے لیے ایک منظم ، مربوط اورفعال نظام تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔