پہلے تنازعہ کشمیر کا حل پھر تجارتی رعایت
بھارتی رویہ دیکھتے ہوئے مجبوراً پاکستان کو بھی اس پر تجارتی پابندیاں عائد کرنا پڑیں
بھارتی رویہ دیکھتے ہوئے مجبوراً پاکستان کو بھی اس پر تجارتی پابندیاں عائد کرنا پڑیں ۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو خطے کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس پر جلد عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انھوں نے اس بات کا اظہار تاجکستان میں کاسا 1000بجلی منصوبے کے حوالے سے چار ملکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں تاجک صدر امام علی رحمانوف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم سوران بے جین بیکوف نے شرکت کی۔
علاوہ ازیں دوشنبے میں تاجک صدر کی میزبانی میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں افغان صدر اشرف غنی اورمیاں نوازشریف شریک ہوئے۔افغانستان نے بھارت کو سہ فریقی تجارتی راہداری میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تاہم میاں نواز شریف نے بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکار کر دیا، میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز چلائے اور ہم تجارتی رعایت دیں، یہ ممکن نہیں،افغانستان کا سامان جانا چاہیے، اسے راستہ دے رکھا ہے، مگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں زیادتی کر رہا ہے، اسے مسئلہ کشمیر کے حل تک تجارتی رعایت نہیں دے سکتے۔
پاکستان بھارت سے اپنے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے لیکن اس راہ میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان نے متعدد بار بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی مگر نہ صرف اس نے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کی بلکہ سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا' کشمیریوں کی تحریک آزادی اور جدوجہد کو دبانے کے لیے اس نے پیلٹ گنوں کا استعمال کیا، پاکستان نے اس مظالم کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی مگر وہاں خاموشی کے سوا کچھ نہ ملا جس سے شہ پا کر بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا۔ بھارت اور افغانستان کے آپسی تعلقات بہتر ہیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ دونوں نے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے مگر وہ اس طرف نہیں آ رہے اور پاکستان مخالفت میں دونوں ایک ہی پیج پر ہیں۔
پاکستان نے افغانستان کو بھارت تک اپنا مال پہنچانے کے لیے راہداری دے رکھی لیکن بھارت کا مال پاکستان کے راستے افغانستان جانے پر پابندی ہے اس کی وجہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واضح کی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم کر رکھا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک اسے تجارتی رعایت نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا اس سلسلے میں موقف بالکل صائب ہے کہ ایک ایسا ملک جو خطے میں امن کے بجائے صورت حال کو بگاڑ رہا ہے اس کے ساتھ کیسے رعایت کی جا سکتی ہے ۔ جب تک بھارت اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا اسے پاکستان تجارتی رعایت نہیں دے سکتا لہٰذا خطے میں امن کا انحصار بھارتی رویے پر منحصر ہے۔ دنیا میں مختلف ممالک نے حالات کا ادراک کرتے ہوئے باہمی اختلافات کے باوجود باقاعدہ تنظیم بنا کر آپسی تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جس سے ان علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا' جس کی واضح مثال یورپی یونین کی ہے۔
افریقہ کے پسماندہ ممالک نے بھی افریقن کونسل بنا کر ترقی کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ جنوبی ایشیاء میں بھی باہمی اختلافات کے خاتمے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سارک تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت کے جارحانہ' متعصبانہ اور معاندانہ رویے کے باعث یہ تنظیم کارکردگی کے لحاظ سے صفر کی سطح پر آ گئی۔ پاکستان میں ہونے والے مجوزہ سارک سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے کر بھارت نے اس تنظیم کو غیرموثر کر دیا۔
بھارتی رویہ دیکھتے ہوئے مجبوراً پاکستان کو بھی اس پر تجارتی پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔ اگر بھارت اپنا رویہ درست کر لے اور سارک تنظیم کو متحرک بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تو اس خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی اختلافات اس میں سدراہ ہے جس سے اس خطے میں بڑھتا ہوا جنگی جنون غربت اور جہالت میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ دوستانہ تعلقات ترقی' خوشحالی اور امن کی ضمانت ہیں اس سے ہٹ کر جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا اس سے بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو خطے کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس پر جلد عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انھوں نے اس بات کا اظہار تاجکستان میں کاسا 1000بجلی منصوبے کے حوالے سے چار ملکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں تاجک صدر امام علی رحمانوف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم سوران بے جین بیکوف نے شرکت کی۔
علاوہ ازیں دوشنبے میں تاجک صدر کی میزبانی میں سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں افغان صدر اشرف غنی اورمیاں نوازشریف شریک ہوئے۔افغانستان نے بھارت کو سہ فریقی تجارتی راہداری میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تاہم میاں نواز شریف نے بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکار کر دیا، میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز چلائے اور ہم تجارتی رعایت دیں، یہ ممکن نہیں،افغانستان کا سامان جانا چاہیے، اسے راستہ دے رکھا ہے، مگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں زیادتی کر رہا ہے، اسے مسئلہ کشمیر کے حل تک تجارتی رعایت نہیں دے سکتے۔
پاکستان بھارت سے اپنے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے لیکن اس راہ میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان نے متعدد بار بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی مگر نہ صرف اس نے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کی بلکہ سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا' کشمیریوں کی تحریک آزادی اور جدوجہد کو دبانے کے لیے اس نے پیلٹ گنوں کا استعمال کیا، پاکستان نے اس مظالم کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی مگر وہاں خاموشی کے سوا کچھ نہ ملا جس سے شہ پا کر بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا۔ بھارت اور افغانستان کے آپسی تعلقات بہتر ہیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ دونوں نے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے مگر وہ اس طرف نہیں آ رہے اور پاکستان مخالفت میں دونوں ایک ہی پیج پر ہیں۔
پاکستان نے افغانستان کو بھارت تک اپنا مال پہنچانے کے لیے راہداری دے رکھی لیکن بھارت کا مال پاکستان کے راستے افغانستان جانے پر پابندی ہے اس کی وجہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واضح کی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم کر رکھا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک اسے تجارتی رعایت نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا اس سلسلے میں موقف بالکل صائب ہے کہ ایک ایسا ملک جو خطے میں امن کے بجائے صورت حال کو بگاڑ رہا ہے اس کے ساتھ کیسے رعایت کی جا سکتی ہے ۔ جب تک بھارت اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا اسے پاکستان تجارتی رعایت نہیں دے سکتا لہٰذا خطے میں امن کا انحصار بھارتی رویے پر منحصر ہے۔ دنیا میں مختلف ممالک نے حالات کا ادراک کرتے ہوئے باہمی اختلافات کے باوجود باقاعدہ تنظیم بنا کر آپسی تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جس سے ان علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا' جس کی واضح مثال یورپی یونین کی ہے۔
افریقہ کے پسماندہ ممالک نے بھی افریقن کونسل بنا کر ترقی کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ جنوبی ایشیاء میں بھی باہمی اختلافات کے خاتمے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سارک تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت کے جارحانہ' متعصبانہ اور معاندانہ رویے کے باعث یہ تنظیم کارکردگی کے لحاظ سے صفر کی سطح پر آ گئی۔ پاکستان میں ہونے والے مجوزہ سارک سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے کر بھارت نے اس تنظیم کو غیرموثر کر دیا۔
بھارتی رویہ دیکھتے ہوئے مجبوراً پاکستان کو بھی اس پر تجارتی پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔ اگر بھارت اپنا رویہ درست کر لے اور سارک تنظیم کو متحرک بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تو اس خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی اختلافات اس میں سدراہ ہے جس سے اس خطے میں بڑھتا ہوا جنگی جنون غربت اور جہالت میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ دوستانہ تعلقات ترقی' خوشحالی اور امن کی ضمانت ہیں اس سے ہٹ کر جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا اس سے بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔