شمالی کوریا میزائل تجربات کیا اقتصادی پابندیاں لازم ہیں

شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شدید اختلافات واضح تھے


Editorial July 08, 2017
شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شدید اختلافات واضح تھے . فوٹو : فائل

شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات کے بعد اقوام متحدہ کی مذمت اور عالمی طاقتوں کی جانب سے متضاد بیانات کے بعد ایک نئی چپقلش عالمی منظرنامہ پر ابھرتی محسوس ہورہی ہے جہاں مفادات اور سیاست کے چیستان میں اخلاقی ضوابط کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ ہتھیاروں کی دوڑ عالمی امن کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ہر ریاست اپنے دفاع کے لیے ہتھیاروں کا حصول ناگزیر سمجھتی ہے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا نے منگل کو پہلی بار بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا، یہ میزائل 8 ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے، جب کہ بڑا ایٹمی وار ہیڈ بھی لے جاسکتا ہے۔ اس تجربے کے بعد اقوام متحدہ اور امریکا نے شدید مذمت کا اظہار کیا جب کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔

شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شدید اختلافات واضح تھے جہاں ایک جانب امریکا شمالی کوریا کے خلاف مزید اقتصادی پابندیوں کا حامی ہے تو روس نے اس موقف کی مخالفت کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد امریکا شمالی کوریا کو سخت جواب دے گا، تمام ممالک مل کر شمالی کوریا پر دباؤ ڈالیں تاکہ اس کے ایٹمی پروگرام کو روکا جاسکے۔ انھوں نے شمالی کوریا کو ایک خطرہ قرار دیا۔ اجلاس میں فرانس نے شمالی کوریا پر معاشی پابندیوں کے فیصلے کی توثیق کی جب کہ امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی پابندیاں ناگزیر ہیں، شمالی کوریا کی ہٹ دھرمی پر فوجی کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔ نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنا جانتا ہے جب کہ شمالی کوریا کے ساتھ چین کی تجارت اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

روس اور چین نے شمالی کوریا پر پابندیوں اور فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا کو جنوبی کرویا میتھاڈ میزائل شکن نظام کی تنصیب روکنے کا مطالبہ کیا۔ اخلاقی تناظر میں دیکھا جائے تو صرف شمالی کوریا ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی ہتھیاروں کی تیاری میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے نظر آرہے ہیں، بھارت بھی ان ریاستوں میں سے ایک ہے جس کے سر پر فوجی طاقت بڑھانے کا بھوت سوار ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی جانب سے ہمیشہ اپنے حواریوں کی حمایت اور مخالفین کے تجربات کی مذمت کی گئی ہے جو کہ خود قابل مذمت طرز عمل ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتوں کو سمجھنا ہوگا کہ مہلک ہتھیاروں کی تیاری کا جنون پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، اس لیے ذاتی مفادات کے باعث حمایت اور مخالفت کے بجائے سب کو دنیا کے بچاؤ کے لیے ازخود ہتھیاروں کی دوڑ سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ انسانیت کی بقا ضروری ہے۔