گلف اسٹیل پر حکمراں خاندان کے بیانات تضادات کا مجموعہ ہے جے آئی ٹی رپورٹ
طارق شفیع نے کہا کہ حسین نواز عبداللہ اہلی کو نہیں جانتے لیکن حسین نے کہا کہ وہ انہیں جانتے ہیں، رپورٹ
طارق شفیع کے دو بیانات حلفی جھوٹے اور گمراہ کن ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ۔ فوٹو؛ فائل
پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی رپورٹ کی تیسری جلد میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گلف اسٹیل ملز کے حوالے سے حکمراں خاندان کا بیانات تضادات کا مجموعہ ہے۔
سپریم کورٹ نے گلف اسٹیل ملز کے حوالے سے جے آئی ٹی کو 5 سوالات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی کہ گلف اسٹیل ملز کیسے قائم ہوئی، فروخت کیوں کی، واجبات کا کیا ہوا، فروخت کا عمل کہاں مکمل ہوا، اور سرمایہ جدہ ، قطر و برطانیہ کیسے پہنچا۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف، ان کے کزن طارق شفیع ، بھائی شہباز شریف، بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے بیانات ریکارڈ کئے۔
رپورٹ کے مطابق نوازشریف اور طارق شفیع کے بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں، جب کہ طارق شفیع کے دو بیانات حلفی جھوٹے اور گمراہ کن ہیں۔ طارق شفیع نے کہا کہ وہ مئی اور جون 2016 میں حسین نواز کے ہمراہ دبئی میں عبداللہ اہلی سے ملے، جب کہ دوسری جانب حسین نواز نے دبئی جانے کی تردید کی۔ طارق شفیع نے کہا کہ حسین نواز عبداللہ اہلی کو نہیں جانتے لیکن دوسری طرف حسین نواز نے کہا کہ وہ اہلی کو جانتے ہیں۔
طارق شفیع اور حسین نواز کا موقف تھا کہ وہ دستاویزات کی تصدیق کیلئے پاکستانی قونصلیٹ نہیں گئے جس کے نتیجے میں سارے عمل پر سوال اٹھ گئے ہیں۔ دبئی حکومت نے 28اپریل 1974 کو گلف اسٹیل کے شیئر ہولڈرز کا اجازت نامہ طارق شفیع اور محمد حسین کے نام جاری کیا مگر طارق شفیع کا کہنا تھا کہ میاں محمد شریف گلف اسٹیل کے تنہا مالک تھے اور جون 1974سے پہلے تو انہوں نے کسی درخواست پر دستخط کئے نہیں۔ جے آئی ٹی کے مطابق اس کامطلب یہ ہوا کہ درخواست پر یا تو کسی اور نے دستخط کیے تھے یا طارق شفیع جھوٹ بول رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دبئی میونسپلٹی کا پروفیشنل لائسنس پاکستانی قونصلیٹ سے تصدیق شدہ ہے تاہم طارق شفیع کا کہنا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے کبھی قونصلیٹ گئے ہی نہیں۔ جے آئی ٹی نے کہا کہ شہباز شریف اور طارق شفیع کے گلف اسٹیل سے متعلق بیانات میں بھی تضاد ہے۔ شہبازشریف نے سیل ایگریمنٹ پر اپنے دستخط کو پہچاننے اور تصدیق سے انکار کردیا۔ رپورٹ کے مطابق طارق شفیع نے کہا کہ بعض اوقات دستخطوں میں فرق آ جاتا ہے مگر جے آئی ٹی کے سامنے انہوں نے 50 جگہ دستخط کئے مگر تب تو ان میں کوئی فرق نہیں آیا۔ طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بیان دیا کہ گلف اسٹیل کی فروخت کی رقم نقد وصول کی اور الثانی کے نمائندے کو جمع کرائی لیکن سپریم کورٹ میں انہوں نے مختلف بیان جمع کرایا۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف گلف اسٹیل ملز سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے کتراتے رہے۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز کا گلف اسٹیل ملز کی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجنے کا بیان بھی غلط قرار دیا، جب کہ دبئی حکومت نے بھی حسین نواز کے اس بیان کو جھوٹا قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے گلف اسٹیل ملز کے حوالے سے جے آئی ٹی کو 5 سوالات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی کہ گلف اسٹیل ملز کیسے قائم ہوئی، فروخت کیوں کی، واجبات کا کیا ہوا، فروخت کا عمل کہاں مکمل ہوا، اور سرمایہ جدہ ، قطر و برطانیہ کیسے پہنچا۔ جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف، ان کے کزن طارق شفیع ، بھائی شہباز شریف، بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے بیانات ریکارڈ کئے۔
رپورٹ کے مطابق نوازشریف اور طارق شفیع کے بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں، جب کہ طارق شفیع کے دو بیانات حلفی جھوٹے اور گمراہ کن ہیں۔ طارق شفیع نے کہا کہ وہ مئی اور جون 2016 میں حسین نواز کے ہمراہ دبئی میں عبداللہ اہلی سے ملے، جب کہ دوسری جانب حسین نواز نے دبئی جانے کی تردید کی۔ طارق شفیع نے کہا کہ حسین نواز عبداللہ اہلی کو نہیں جانتے لیکن دوسری طرف حسین نواز نے کہا کہ وہ اہلی کو جانتے ہیں۔
طارق شفیع اور حسین نواز کا موقف تھا کہ وہ دستاویزات کی تصدیق کیلئے پاکستانی قونصلیٹ نہیں گئے جس کے نتیجے میں سارے عمل پر سوال اٹھ گئے ہیں۔ دبئی حکومت نے 28اپریل 1974 کو گلف اسٹیل کے شیئر ہولڈرز کا اجازت نامہ طارق شفیع اور محمد حسین کے نام جاری کیا مگر طارق شفیع کا کہنا تھا کہ میاں محمد شریف گلف اسٹیل کے تنہا مالک تھے اور جون 1974سے پہلے تو انہوں نے کسی درخواست پر دستخط کئے نہیں۔ جے آئی ٹی کے مطابق اس کامطلب یہ ہوا کہ درخواست پر یا تو کسی اور نے دستخط کیے تھے یا طارق شفیع جھوٹ بول رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دبئی میونسپلٹی کا پروفیشنل لائسنس پاکستانی قونصلیٹ سے تصدیق شدہ ہے تاہم طارق شفیع کا کہنا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے کبھی قونصلیٹ گئے ہی نہیں۔ جے آئی ٹی نے کہا کہ شہباز شریف اور طارق شفیع کے گلف اسٹیل سے متعلق بیانات میں بھی تضاد ہے۔ شہبازشریف نے سیل ایگریمنٹ پر اپنے دستخط کو پہچاننے اور تصدیق سے انکار کردیا۔ رپورٹ کے مطابق طارق شفیع نے کہا کہ بعض اوقات دستخطوں میں فرق آ جاتا ہے مگر جے آئی ٹی کے سامنے انہوں نے 50 جگہ دستخط کئے مگر تب تو ان میں کوئی فرق نہیں آیا۔ طارق شفیع نے جے آئی ٹی کو بیان دیا کہ گلف اسٹیل کی فروخت کی رقم نقد وصول کی اور الثانی کے نمائندے کو جمع کرائی لیکن سپریم کورٹ میں انہوں نے مختلف بیان جمع کرایا۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف گلف اسٹیل ملز سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے کتراتے رہے۔ جے آئی ٹی نے حسین نواز کا گلف اسٹیل ملز کی اسکریپ مشینری دبئی سے جدہ بھیجنے کا بیان بھی غلط قرار دیا، جب کہ دبئی حکومت نے بھی حسین نواز کے اس بیان کو جھوٹا قرار دیا۔