کمر کے مہروں کا ہتھوڑے سے علاج کرنے والا ڈاکٹر

رشدی حسن ایکسرے کی بجائے صرف ہاتھوں سے متاثرہ مہرے کا اندازہ لگاتے ہیں

رشدی حسن لکڑی کا ٹکڑا رکھ کر ہتھوڑے کی ضربوں سے کمر کی ڈسک (مہروں) کو درست کرتا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

مہروں کا درد اس قدر حساس نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز اس میں بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہیں اور مہروں کی زیادہ مالش سے بھی منع کرتے ہیں لیکن ملائیشیا کا ایک ڈاکٹر ایسا بھی ہے جو مہروں کا علاج کسی حکیمی یا ڈاکٹری طریقے سے نہیں بلکہ ہتھوڑے کی مدد سے کرتا ہے۔

عام طور پر مہروں کے سرکنے کو دیکھنے کے لیے پہلے ایکس رے یا ایم آر آئی کیا جاتا ہے اور پھر اس کی شناخت کے بعد آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے، اس لحاظ سے مہروں کو ہتھوڑے سے بٹھانے کا عمل احمقانہ اور خطرناک دکھائی دیتا ہے۔

لیکن محمد رشدی حسن ایم آر آئی رپورٹ اور ایکس رے پر اعتبار کرنے کے بجائے اپنے ہاتھوں اور انگلیوں سے کمر کے جوڑ اور مہروں کا معائنہ کرکے وہاں سیاہ مارکر سے نشانات لگا دیتے ہیں۔ اس تسلی کے بعد وہ لکڑی کا ٹکڑا اور ہتھوڑا اٹھاتے ہیں اور ضربوں سے کمر کی ڈسک (مہروں) کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


https://www.youtube.com/watch?v=jNfG9rL2gi8

بظاہر اس عمل سے مریض عمر بھر کے لیے بھی اپاہج یا معذور ہوسکتا ہے لیکن رشدی حسن کے مطابق اب تک کسی کو بھی اس علاج سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔ رشدی حسن بڑے فخر سے یوٹیوب اور فیس بک پر 'اسپائنل ٹیپ' کے نام سے اپنی ویڈیو اور تصاویر بھی پوسٹ کرتے ہیں۔

ہڈیوں اور کمر کے مہروں کے ایک ممتاز ماہر ڈاکٹر محی الدین کا اس طریقہ علاج کے حوالے سے کہنا ہے کہ رشدی حسن کی ڈرائنگ بالکل غلط ہیں اور مہروں کا علاج اس طرح سے ممکن ہی نہیں ہے۔
Load Next Story