اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری کرنے پر اتفاق

اے این پی اورقومی وطن پارٹی نے وزیراعظم کے فوری استعفے کے مطالبے کی مخالفت کردی

حتمی مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرانے کا فیصلہ کیا جائے گا: فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلیوں کی آئینی پوری مدت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے چیمبرمیں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں سراج الحق، شیخ رشید، پرویزالٰہی، شاہ محمودقریشی ، شیریں مزاری ، شیری رحمان، آفتاب شیرپاؤ، فاروق ستار سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔


اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ میں شریف خاندان سے متعلق کئے گئے انکشافات اور الزامات کی روشنی میں وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کے مطالبے پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی سربراہان نے اسمبلیوں کی آئینی پوری مدت کرنے پر اتفاق کیا جب کہ قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرانے کا اختیار خورشید شاہ کو دے دیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے فوری استعفے پراے این پی اورقومی وطن پارٹی کی مخالفت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف نے قومی اسمبلی اورقوم سے خطاب میں کہا تھا الزام لگا تووہ مستعفی ہوجائیں گے۔ یقین ہےاعلیٰ عدلیہ جےآئی ٹی رپورٹ کےتحت فیصلہ کرے گی۔ اگر کوئی چاہتا ہے کہ جمہوریت کا نقصان ہو تووہ نواز شریف ہے اپوزیشن نہیں، سپریم کورٹ جو فیصلہ بھی کرے ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کا دفاع ہم کریں گے۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کے فوری استعفے کے علاوہ باقی باتوں پر اپوزیشن سے اتفاق ہے۔
Load Next Story