ناکام فوجی بغاوت اور موجودہ ترکی

اصل مسئلہ ملکوں اور قوموں کے داخلی تضادات کا ہوتا ہے‘تیسری دنیا کے ممالک میں داخلی تضادات بہت گہرے ہوتے ہیں

اصل مسئلہ ملکوں اور قوموں کے داخلی تضادات کا ہوتا ہے‘تیسری دنیا کے ممالک میں داخلی تضادات بہت گہرے ہوتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

ترکی میں گزشتہ برس ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پرگزشتہ روز مختلف تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے مغربی ممالک پر منافقت کا الزام عائد کیا۔ برطانوی اخبار گارجین میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے کہاکہ مغربی ممالک نے ترکی کی دوستی کو دھوکا دیا اور یہ انتظار کرتے رہے کہ بغاوت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ انھوں نے بغاوت کی ناکامی کے بعد گرفتاریوں پر کی گئی تنقید کو مسترد کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی جمہوریت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

ادھر ترکی کی حکومت نے 15جولائی کو سالانہ عام تعطیل کا اعلان کیا ' حکومت نے 15جولائی کو 'جمہوریت اور اتحاد کا قومی دن قرار دیا گیا ہے۔ بغاوت کی سالگرہ کے موقع پر استنبول میں 2روز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی ہے جب کہ ترک موبائل آپریٹر کی جانب سے صارفین کو بذریعہ میسجز آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس موقع پر مفت انٹرنیٹ سروسز کا استعمال کر سکیں گے۔

ترکی میں صدر اردوان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے تو ان کے مخالفین کی بھی کمی نہیں ہے' پچھلے دنوں اپوزیشن جماعتوں نے ان کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تھا' صدر اردوان کے بعض اقدامات کی اندرون ملک مخالفت بھی کی جا رہی ہے' اس طرح ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں' بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے'بہر حال صدر اردوان نے مغربی ممالک پر دوغلی پالیسی اختیار کرنے کا جو الزام عائد کیا ہے' وہ ایسا الزام عائد کرنے والے تنہا حکمران نہیں ہیں بلکہ تیسری دنیا کے کئی ملکوں کے سربراہان ایسے ہی الزامات عائد کر چکے ہیں۔


اصل مسئلہ ملکوں اور قوموں کے داخلی تضادات کا ہوتا ہے'تیسری دنیا کے ممالک میں داخلی تضادات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں موجود تضادات زیادہ گہرے ہو جائیں اور فریقین اپنے معاملات میں ہم آہنگی پیدا نہ کر سکیں اور نوبت تصادم تک پہنچ جائے تو پھر ظاہر سی بات ہے کہ امریکا اور یورپ کے وہ ممالک ضرور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

عراق' شام ' یمن اور لیبیا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ان چاروں ممالک کی رولنگ اشرافیہ اگر اپنے مذہبی عقائد اور سیاسی نظریات کے حوالے سے داخلی تضادات میں ہم آہنگی پیدا کر لیتی تو امریکا اور یورپی ممالک کو ان ممالک میں مداخلت کرنے کا جواز مہیا نہ ہوتا۔ترکی کے صدر اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سب سے پہلے داخلی سطح پر سیاسی و نظریاتی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ فوجی بغاوت کی ناکامی جمہوریت کی فتح ہے اور اس سے ترک عوام کے شعور کی بلندی ظاہر ہوتی ہے لیکن ترکی کو پرامن بنانے کے لیے نظام کو اتنا وسیع قلب ضرور ہونا چاہیے کہ سیاسی مخالفین بھی سانس لے سکیں۔

 
Load Next Story