ڈولی لفٹ کا ایک اور حادثہ

ملک کے پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ ایسی لفٹس موجود ہیں جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہیں


Editorial July 17, 2017
ملک کے پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ ایسی لفٹس موجود ہیں جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہیں . فوٹو : فائل

پاکستان کے پر فضا مقام وادی سوات میں کالام کے علاقے پالیر میں ڈولی لفٹ کی رسی ٹوٹنے سے 7افراد دریائے سوات میں گر گئے' ان میں سے دو افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ اس سانحہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پالیر کا رابطہ پل سات سال قبل سیلاب میں بہہ گیا تھا جو تا حال تعمیر نہیں کیا جا سکا، رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں نے آمدورفت کے لیے چیئر لفٹ لگائی تھی۔

ان ایام میں پنجاب کے بالائی علاقوں' خیبرپختونخوا اور شمالی علاقہ جات و آزاد کشمیر میں بڑی تعداد میں لوگ سیاحت کے لیے جاتے ہیں' المیہ یہ ہے کہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں مری اور اس کے ارد گرد علاقوں تک تو انفرااسٹرکچر ذرا بہتر حالت میں موجود ہے لیکن وادی سوات اور اس سے اوپر شمالی علاقہ جات میں سیاحوں ہی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کو بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آنے جانے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ روز وادی سوات کے جس علاقے میں ڈولی لفٹ کا حادثہ ہوا ہے' وہاں اگر دریا پر پل بنا دیا جاتا تو لوگوں کو ڈولی لفٹ کا سہارا نہ لینا پڑتا' دکھ کی بات یہ ہے کہ مقامی قصبے پالیر کا رابطہ پل گزشتہ سات برس سے تعمیر نہیں ہوا' اب اس میں کس کی کوتاہی ہے' اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک کے کونے کونے میں حکومتی سطح پر ایسی کوتاہی کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں' اس کے ساتھ ساتھ ڈولی لفٹ کی فٹنس کو دیکھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

ملک کے پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ ایسی لفٹس موجود ہیں جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہیں' اصل مسئلہ حکومتوں کی گورننس کا ہے اور عوامی نمایندوں کا اپنے علاقے کی ضرورتوں سے آگاہی کا ہے۔ اگر عوامی نمایندے درست سمت میں کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ کم از کم سڑکوں اور رابطہ پلوں کا معاملہ تو حل ہو ہی سکتا ہے۔