اوورسیز پاکستانیوں کیلیے آن لائن سرمایہ کاری سہولت متعارف کرائینگے ڈائریکٹر جنرل قومی بچت

کراچی ماس ٹرانزٹ اور بھاشا ڈیم سمیت اہم منصوبوں کے لیے محکمہ قومی بچت کے ذریعے سرمایہ فراہم کیا جا سکتا ہے، انٹرویو

نیشنل سیونگز کارپوریشن کے ایم ڈی ظفر ایم شیخ ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی ماس ٹرانزٹ اور بھاشا ڈیم سمیت ملک کے دیگر اہم قومی منصوبوں کے لیے نیشنل سیونگز کارپوریشن کے ذریعے سرمایہ مہیا کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی ضمانت سے بڑے منصوبوں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری بانڈز کے ذریعے عین شرعی اصولوں پر عوام کو میگا پراجیکٹس میں شریک بنا کر بیرونی قرض اور امداد کے بغیر ہر بڑے شہر میں میگا پراجیکٹس کی تعمیر ممکن ہے، موجودہ حکومت کے دور میں سرمایہ کاروں کی تعداد دگنی ہوکر 70 لاکھ تک پہنچ گئی، 5 سال میں 1180 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔

نیشنل سیونگز کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل ظفر ایم شیخ نے ''ایکسپریس'' سے ملاقات میں بتایا کہ نیشنل سیونگز کارپوریشن میں افرادی قوت کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کے ذریعے اس ادارے کو حکومت کے لیے سرمائے کے حصول کا واحد ذریعہ بنایا جاسکتا ہے جس سے ایک جانب سرمائے کے حصول کے لیے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں پر انحصار کم ہوگا تو دوسری جانب عوام کو بھی بہتر خدمات اور منافع کی فراہمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، ملائیشیا اور جنوبی امریکی ممالک کی طرز پر نیشنل سیونگز کے ذریعے عوام کے سرمائے سے عوامی منصوبے تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان میں میگا پراجیکٹس کے لیے سرمائے کے حصول کے لیے بین الاقوامی اداروں سے قرض یا امداد لیے بغیر ہی اپنے ذرائع سے فنڈز مہیا کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل سیونگز اس وقت حکومت کے لیے سرمائے کی 28 سے 30 فیصد طلب پوری کررہا ہے، خطے کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں جی ڈی پی کے مقابلے میں قومی بچت کا تناسب کم ہے، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں قومی بچت جی ڈی پی کے 20 فیصد کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 13 فیصد تک پہنچ سکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی ضمانت سے سرمایہ کاری بانڈز جاری کرکے عوام سے سرمایہ اکھٹا کیا جاسکتا ہے۔




کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ کراچی کے ہی عوام کو شریک بناکر بغیر کسی قرض یا امداد کے مکمل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل سیونگز کارپوریشن رواں سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آن لائن سرمایہ کاری کی سہولت متعارف کرائے گی جس سے 50 کروڑ ڈالر سالانہ سرمایہ کاری پاکستان آئے گی، اس کے لیے بینکوں سے بات چیت جاری ہے، اسی طرح رواں سال اسلامی بانڈز بھی جاری کیے جائیں گے جن کا اجرا تیسری سہ ماہی کے آغاز میں متوقع ہے، اسلامی سرمایہ کاری بانڈز کے ذریعے ابتدائی طور پر 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اندازہ لگایا گیا ہے جبکہ بینکنگ چینلز سے باہر گھروں میں رکھی ہوئی رقم بھی نیشنل سیونگز کے ذریعے قومی دھارے میں لائی جاسکتی ہے جس کی مالیت محتاط اندازے کے مطابق 2 ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل سیونگز کارپوریشن نے دو سال قبل ڈالر بانڈز کی اسکیم کی سمری تیار کرکے حکومت کو ارسال کی تھی جس کی منظوری کی صورت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی محنت سے کمائی رقم کو محفوظ طریقے سے انویسٹ کرکے قومی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، نیشنل سیونگز کی 370 میں سے 190 برانچوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا جاچکا ہے۔

آٹو میشن کے لیے دوسرے فیز کا پی سی ون تیار کرلیا گیا ہے جس کے تحت 90 کروڑ روپے کی لاگت سے نیشنل سیونگز کے 8 ریجن کو کمپیوٹرائز اور آٹومیٹڈ کیا جائے گا، تمام ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ کیے جانے کے بعد ملک میں اے ٹی ایم کے ذریعے منافع کی ادائیگی ممکن ہوگی، نیشنل سیونگز کا دائرہ کار وسیع کرنے بالخصوص دیہات میں خدمات کی فراہمی کے لیے مزید 123 برانچیں کھولنے کی درخوست حکومت کو ارسال کردی ہے جس کی منظوری کے بعد ملک بھر میں نیشنل سیونگز کی برانچوں کا دائرہ کار 500 برانچوں تک وسیع کردیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 100 روپے مالیت کے اسٹوڈنٹ ویلفیئر بانڈز میں 2.5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، مارچ 2013 تک مزید5.5 ارب روپے کے اسٹوڈنٹ ویلفیئر بانڈز جاری کیے جائیں گے، اس طرح مارچ تک اسٹوڈنٹ ویلفیئر بانڈز میں سرمایہ کاری کاری مالیت 8 ارب روپے تک پہنچ جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور حکومت میں عوام کے قومی بچت اسکیموں پر اعتماد میں بہت اضافہ ہوا ہے، نیشنل سیونگز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد 100 فیصد اضافے سے 70 لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے جن میں 90 فیصد غریب اور کم آمدن والا طبقہ پنشنرز، سینئر شہری اور بیوائیں شامل ہیں، رواں مالی سال ریکارڈ سرمایہ کاری متوقع ہے، جولائی سے جنوری کے دوران 264 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔
Load Next Story