معدے میں تیر کر السر کی دوا پہنچانے والے ننھے روبوٹ
انسانی بال کی نصف چوڑائی والے روبوٹ پیٹ کے تیزاب سے توانائی حاصل کر کے زخم تک دوا پہنچاتے ہیں
یونیورسٹی آف کیلفورنیا سان ڈیاگو کے ماہرن نے مائیکروروبوٹس بنائے ہیں جو پیٹ کے اندر جاکر براہِ راست السر کا علاج کرسکتےہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
السر کی دوا معدے کے زخم کے تک پہنچانا قدرے مشکل ہوتا ہے کیونکہ معدے میں موجود طرح طرح کے تیزاب اس کی تاثیر ختم کر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلفورنیا سان ڈیاگو کے ماہرین نے ایسے روبوٹ تیار کئے ہیں جو انسانی بال کی موٹائی سے بھی نصف ایسے ہیں جن کے اندر دوا بھری ہے اور انہیں چوہوں کے السر پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ انتہائی چھوٹے روبوٹ معدے کی گرمی اور تیزابیت کے باوجود چوہوں کے معدے کے زخم تک پہنچے اور وہاں براہِ راست دوا کو پہنچایا۔
ماہرین نے پہلی مرتبہ مائیکرو روبوٹس کو جانوروں پر آزمایا اور مسلسل پانچ روز کی آزمائش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ طریقہ روایتی دواؤں کے مقابلے میں کئی گنا مؤثر اور بہتر ہے۔ اب اگلے مرحلے میں اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔
تحقیقی ٹیم کے ایک رکن برٹا اسٹیبن فرنانڈز ڈی ایلوا نے بتایا کہ یہ روبوٹ تیزابیت کو زائل کرنے کے ساتھ السر کا علاج کرتے ہیں۔
اس عمل کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ روبوٹس آگے بڑھنے کے لیے پیٹ کے تیزاب سے توانائی لیتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ روبوٹ کا ایک حصہ میگنیشیئم پر مشتمل ہے اور پیٹ کے تیزاب سے ملتے ہی اس میں ہائیڈروجن کے بلبلے پیدا ہوتے ہیں جس سے چھوٹی مائیکرو موٹر چلتی ہے اور دوا اپنے ہدف تک پہنچتی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=ALrA517L090
روبوٹ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی مائیکرو موٹر چلنے کے لیے تیزاب استعمال کرتی ہے اور یوں معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوتی رہتی ہے۔ روبوٹ کے اوپر اینٹی بایوٹک کی پرت چڑھائی گئی ہے جو تیزاب کی موجودگی میں خارج ہو کر زخم کو مندمل کرنے کا کام کرتی ہے۔
اس کے بعد معدے میں تیزابیت کی سطح 24 گھنٹے میں بحال ہو جاتی ہے اور مائیکرو موٹر گھل کر بدن سے خارج ہو جاتی ہے۔ معدے کے السر سے شدید متاثر افراد پیٹ کی تیزابیت کم کرنے کے لیے پروٹون پمپ استعمال کرتے ہیں تاکہ دوا اچھی طرح کام کر سکے لیکن اس کے کئی سائیڈ افیکٹس ظاہر ہوتے ہیں جن میں سر درد، ڈپریشن اور ڈائریا بھی شامل ہیں۔
لیکن مستقبل قریب میں جسم میں کئی معالجاتی روبوٹ شامل کر کے السر کا مؤثر علاج ممکن ہو جائے گا۔
السر کی دوا معدے کے زخم کے تک پہنچانا قدرے مشکل ہوتا ہے کیونکہ معدے میں موجود طرح طرح کے تیزاب اس کی تاثیر ختم کر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلفورنیا سان ڈیاگو کے ماہرین نے ایسے روبوٹ تیار کئے ہیں جو انسانی بال کی موٹائی سے بھی نصف ایسے ہیں جن کے اندر دوا بھری ہے اور انہیں چوہوں کے السر پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ انتہائی چھوٹے روبوٹ معدے کی گرمی اور تیزابیت کے باوجود چوہوں کے معدے کے زخم تک پہنچے اور وہاں براہِ راست دوا کو پہنچایا۔
ماہرین نے پہلی مرتبہ مائیکرو روبوٹس کو جانوروں پر آزمایا اور مسلسل پانچ روز کی آزمائش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ طریقہ روایتی دواؤں کے مقابلے میں کئی گنا مؤثر اور بہتر ہے۔ اب اگلے مرحلے میں اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔
تحقیقی ٹیم کے ایک رکن برٹا اسٹیبن فرنانڈز ڈی ایلوا نے بتایا کہ یہ روبوٹ تیزابیت کو زائل کرنے کے ساتھ السر کا علاج کرتے ہیں۔
اس عمل کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ روبوٹس آگے بڑھنے کے لیے پیٹ کے تیزاب سے توانائی لیتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ روبوٹ کا ایک حصہ میگنیشیئم پر مشتمل ہے اور پیٹ کے تیزاب سے ملتے ہی اس میں ہائیڈروجن کے بلبلے پیدا ہوتے ہیں جس سے چھوٹی مائیکرو موٹر چلتی ہے اور دوا اپنے ہدف تک پہنچتی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=ALrA517L090
روبوٹ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی مائیکرو موٹر چلنے کے لیے تیزاب استعمال کرتی ہے اور یوں معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوتی رہتی ہے۔ روبوٹ کے اوپر اینٹی بایوٹک کی پرت چڑھائی گئی ہے جو تیزاب کی موجودگی میں خارج ہو کر زخم کو مندمل کرنے کا کام کرتی ہے۔
اس کے بعد معدے میں تیزابیت کی سطح 24 گھنٹے میں بحال ہو جاتی ہے اور مائیکرو موٹر گھل کر بدن سے خارج ہو جاتی ہے۔ معدے کے السر سے شدید متاثر افراد پیٹ کی تیزابیت کم کرنے کے لیے پروٹون پمپ استعمال کرتے ہیں تاکہ دوا اچھی طرح کام کر سکے لیکن اس کے کئی سائیڈ افیکٹس ظاہر ہوتے ہیں جن میں سر درد، ڈپریشن اور ڈائریا بھی شامل ہیں۔
لیکن مستقبل قریب میں جسم میں کئی معالجاتی روبوٹ شامل کر کے السر کا مؤثر علاج ممکن ہو جائے گا۔