کھاد پر مزید150روپے فی بوری سبسڈی دیے جانے کا امکان
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی منگل کو درآمدی کھاد کی قیمت 1600 روپے سے کم کرکے 1450روپے فی بوری کرنے کی سمری کاجائزہ
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی منگل کو درآمدی کھاد کی قیمت 1600 روپے سے کم کرکے 1450روپے فی بوری کرنے کی سمری کاجائزہ لے گی ۔ فائل فوٹو
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی منگل کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر مقرر کرنے اورکاشت کاروں کی سہولت کے لیے درآمدی کھاد کی قیمت 150روپے فی 50کلو گرام بوری کمی کے ساتھ 1600روپے سے کم کرکے 1450 روپے فی بوری کرنے کی منظوری دینے سمیت 8 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لے گی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)کا اجلاس منگل کی صبح11 بجے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں خریف 2012 کیلیے دستیاب کھاد کی طلب و رسد کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وزارت صنعت کی طرف سے ای سی سی کو بھجوائی جانے والی سمری میں تجویز دی گئی ہے کہ خریف کے سیزن کیلیے درآمد کی جانے والی 6لاکھ ٹن کھاد اگر خریف میں پوری استعمال نہیں ہوتی تو اسے ربیع 2012-13 کے سیزن کیلیے استعمال میں لایا جاسکے گا، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ درآمدی کھاد قیمت 150روپے فی 50کلو گرام بوری کمی کے ساتھ 1600روپے سے کم کرکے 1450 روپے فی 50کلو گرام بوری کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے،
اس کے علاوہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو قومی مفاد میں سب سے کم بولی دینے والے بولی دہندگان کے ساتھ پرائس میچنگ کی اجازت دی جائے۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلیے ضروری ہے کہ کاشت کاروں کو مناسب قیمتوں پر زرعی خام مال (ان پٹ)کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ ملک میں گیس کے شدید بحران کی وجہ سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی فراہم کردہ گیس پر چلنے والے یوریا پلانٹس بند پڑے ہیں کیونکہ ان پلانٹس کی گیس کی سپلائی معطل کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کھاد کی پیداوار نہیں ہورہی ہے اور ضرورت پوری کرنے کے لیے کھاد درآمد کرنا پڑ رہی ہے،
اس کے علاوہ ای سی سی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر مقرر کرنے اورپاکستان اسٹیٹ آئل کو ٹرم کنٹریکٹ کی بنیاد پر فرنس آئل درآمد کرنے کے حوالے سے وزارت پٹرولیم کی بھجوائی جانے والی سمریوں کی بھی منظوری دینے کا جائزہ لیا جائیگا، ساتھ ہی ایل این جی کی درآمد کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دینے پرغورکیاجائے گا۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں خریف 2012 کیلیے دستیاب کھاد کی طلب و رسد کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وزارت صنعت کی طرف سے ای سی سی کو بھجوائی جانے والی سمری میں تجویز دی گئی ہے کہ خریف کے سیزن کیلیے درآمد کی جانے والی 6لاکھ ٹن کھاد اگر خریف میں پوری استعمال نہیں ہوتی تو اسے ربیع 2012-13 کے سیزن کیلیے استعمال میں لایا جاسکے گا، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ درآمدی کھاد قیمت 150روپے فی 50کلو گرام بوری کمی کے ساتھ 1600روپے سے کم کرکے 1450 روپے فی 50کلو گرام بوری کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے،
اس کے علاوہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو قومی مفاد میں سب سے کم بولی دینے والے بولی دہندگان کے ساتھ پرائس میچنگ کی اجازت دی جائے۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلیے ضروری ہے کہ کاشت کاروں کو مناسب قیمتوں پر زرعی خام مال (ان پٹ)کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ ملک میں گیس کے شدید بحران کی وجہ سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی فراہم کردہ گیس پر چلنے والے یوریا پلانٹس بند پڑے ہیں کیونکہ ان پلانٹس کی گیس کی سپلائی معطل کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کھاد کی پیداوار نہیں ہورہی ہے اور ضرورت پوری کرنے کے لیے کھاد درآمد کرنا پڑ رہی ہے،
اس کے علاوہ ای سی سی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر مقرر کرنے اورپاکستان اسٹیٹ آئل کو ٹرم کنٹریکٹ کی بنیاد پر فرنس آئل درآمد کرنے کے حوالے سے وزارت پٹرولیم کی بھجوائی جانے والی سمریوں کی بھی منظوری دینے کا جائزہ لیا جائیگا، ساتھ ہی ایل این جی کی درآمد کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دینے پرغورکیاجائے گا۔