کوئی تاجر کاروبار بند کرکے بیرون ملک نہیں گیا سلیم مانڈوی والا

معاشی حالات اتنے خراب نہیں جیسے پیش کیے جارہے ہیں، پی ایس او کو مطلوبہ رقم دیدی۔

ای ڈی ایف پھر سے وزارت تجارت کے حوالے کردیا، اداروں کے معاملات درست کر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل

وزیر مملکت برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈز استعمال کرنے کا اختیارایک بارپھر وزارت تجارت کو دیدیا گیا ہے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کو بیل آئوٹ کرنے کیلیے مطلوبہ رقم جاری کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، ریلوے کے معاملات کو درست کرنے کیلیے بھی موثر اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کوو فاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان میں صحافیوں سے بات چیت اور تاجروںوصنعتکاروں سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر طارق سعید، نائب صدور ایف پی سی سی آئی ہارون رشید، ڈاکٹر مرزا اختیاربیگ نے بھی خطاب کیا۔




وزیر مملکت برائے خزانہ نے حکومت سندھ کی جانب سے پاور پلانٹس کے قیام کیلیے الاٹ کی جانیوالی اراضیوں پر 100 فیصد چارجز بڑھانے کو بیرونی سرمایہ کاری کیلیے خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ درحقیقت صوبائی معاملہ ہے لیکن اس معاملے پرصوبائی حکومت سے بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے حالات اتنے خراب نہیں جیسے پیش کیے جارہے ہیں، کوئی بھی بڑا یا چھوٹا تاجر پاکستان سے کاروبار بندکرکے بیرون ملک نہیں گیا اور یہ تاثرغلط ہے کہ پاکستان سے لوگ کاروبار بند کرکے جارہے ہیں، ملکی صورتحال اتنی خراب ہوتی تو کراچی اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس تاریخ کی بلندترین سطح تک نہ پہنچتا۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں بند نہیں ہوئی بلکہ کوریا کی ایک کمپنی نے طویرقی اسٹیل مل میں 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے خریدلیا ہے اورکوریاکی لوٹے کمپنی نے 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ کا منصوبہ شروع کر دیا ہے، کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں بند ہونے والے ادارہ صنعتی نہیں بلکہ ٹریڈنگ یونٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ملک کادرجہ دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور مناسب وقت پر اس بات کا اعلان کیا جائیگا۔
Load Next Story