خوراک مہنگی ہونے سے غذائی سیکیورٹی صورتحال گمبھیر

گلوبل فوڈ سیکیورٹی انڈیکس اور نیوٹریشن سروے سے مہنگائی کے سخت اثرات کی نشاندہی۔


Ehtisham Mufti February 17, 2013
سستی خوراک کیلیے زرعی لاگت میں کمی ناگزیر، مربوط پالیسیاں بنائی جائیں، ماہرین۔ فوٹو : فائل

زرعی ماہرین نے بنیادی اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے شعبہ زراعت کی ترقی اور زرعی پیداوار کی لاگت میں کمی کے لیے فوری طور پر مربوط پالیسیاں مرتب کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پاکستان میں شعبہ زراعت کے بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات عام آدمی کے استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مستقل اضافے کا سبب بن گئے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت گلوبل فوڈ سیکیورٹی انڈیکس (جی ایف ایس آئی) کے105 ممالک کی فہرست میں پاکستان 75 واں ملک ہے جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان کے حالات بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی خراب ہیں خاص طور پرچاول اور گندم میں پاکستان کیجی ایف ایس آئی میں انتہائی کم درجہ بندی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت انتہائی ضروری غذائی اشیا کی قیمتوں پر قابو پانے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے۔

نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پنجاب کے تقریباً60 فیصد اور بلوچستان کے 63.5 فیصد گھرانے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ سندھ میں مجموعی آبادی کے72 فیصد گھرانے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سال 2003 کے دوران 38 فیصد لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے جس میں حکومت کے نامناسب اقدامات اور قدرتی آفات کی وجہ سے سال 2010 میں نمایاں اضافہ ہوا، ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 19.6 فیصد کے اضافے سے فی کلوگرام اوسط قیمت30 روپے سے بڑھ کرتقریباً 37 روپے تک پہنچ گئی۔



حال میں کیے گئے ایک سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سال2012-13 کے دوران شعبہ زراعت کے اہم خام مال ''کھاد'' کے فی ایکڑ اخراجات میں 83 فیصد کا اضافہ ہوا اور فی ایکڑاخراجات 8125 روپے جاپہنچے جو سال2008-09 میں صرف 4450 روپے فی ایکڑ تھے، ڈیزل، پانی، فرٹیلائزر، بیج، بجلی اور کیڑے مار ادویہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے کسانوں کی کمر تور ڈی ہے، فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی عدم سپلائی کے باعث کھاد کی مقامی پیداوارمیں نمایاں کمی ہوئی جس سے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے کھاد کی درآمدات پر انحصار بڑھ گیا۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو ہرسال غذائی تحفظ کے مسائل میں اضافے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور حکومت چینی،گندم، پام آئل اور دیگربہت سی بنیادی غذائی اشیا کی درآمد پر کافی زرِمبادلہ خرچ کررہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کسانوں کوضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ جدید زرعی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے زائد خوراک کی پیداوار کو یقینی بنا سکیں۔

مقبول خبریں