سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نیا قانون کالعدم قرار دیدیا 2003 کا قانون بحال رکھنے کا حکم

ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرچلنا عدالتوں کا کام نہیں،عدالتیں مک مکا نہیں کرتیں،چیف جسٹس

عدلیہ مقننہ اورانتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرے تاکہ جمہوری ادارے تقویت پائیں ، اٹارنی جنرل،ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرچلنا عدالتوں کا کام نہیں،عدالتیں مک مکا نہیں کرتیں،چیف جسٹس۔ فوٹو ایکسپریس

سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے نئے توہین عدالت قانون 2012کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے 2003کے توہین عدالت کے قانون کو بحال رکھنے کا حکم دیا ہے اورکہا ہے کہ کسی قانون کے ذریعے عدلیہ کے آئینی اختیارات کو کم نہیں کیا جاسکتا۔

صدر وزیر اعظم اور دیگر کو استثنیٰ دینا آئین سے متصادم ہے، نئے قانون کا سیکشن 6عدلیہ کی آزادی کے اصول کے منافی اور غیر آئینی ہے، سیکشن 8 عدالتی اتھارٹی کو کم کرنے کی کوشش ہے،سیکشن 11آئین کے آرٹیکل 37بی سے متصادم ہے، مقدمہ ایک جج سے دوسرے کو منتقل کرنا عدالتی اختیار ہے،توہین عدالت قانون کا سیکشن 11سزا پر اپیل سے متعلق ہے یہ عدالتی وقار پر سمجھوتہ ہوگا، نیا قانون اپنے وجود میں آنے کے دن 12 جولائی2012سے ہی کالعدم ہو گا جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنا عدالتوں کا کام نہیں،اٹارنی جنرل صاحب عدالتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں،کسی سے مک مکا نہیں کرتیں ۔

جمعہ کو نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پرمختصر فیصلے میںچیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے قراردیا کہ توہین عدالت کا قانون آئین کی متعدد دفعات سے متصادم ہے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،کچھ لوگوں کو استثنیٰ دینا آئین پاکستان کے منافی ہے اس لیے عوامی عہدہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو توہین عدالت سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا،نئے قانون کے تحت عدلیہ کے دائرہ اختیارکو محدود کرنے کی کوشش کی گئی، اس کا مقصد مخصوص افراد کو رعایت دینا تھا جو ایک امتیازی قانون کے طور پر نافذ کیا گیا،اس قانون سازی کے تحت سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے جس میں ایک وزیر اعظم کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا، بعد والے کے لیے اس کا راستہ روکنا تھا جس کا اعتراف وفاق کے وکیل عدالت کے سامنے کر چکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کے فیصلے کے مصنف جج جسٹس ناصرا لملک نے تفصیلات میں آئین کے آرٹیکل 204 کی وضاحت کی تھی، اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا اور دوسرے فیصلے میں ان کو آرٹیکل 63ون جی کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے بھی نااہل قراردیا گیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیاکہ فیڈریشن کے وکیل کی تشویش سمجھ سے بالاتر تھی،پاکستان کا آئین تحریری آئین ہے جس میں اداروں، عدلیہ، انتظامیہ اورمقننہ کی نشاندہی کی گئی عدلیہ نے کبھی ریاست کے دوسرے اداروں پر اپنی بالادستی کا کوئی تاثر نہیں دیا تاہم عدلیہ کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ آئین و قانون کی تشریح کرے۔

عدلیہ کی ذمے داری ہے کہ ملک میں کسی اسے قانون کے نفاذ کو روکے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،انصاف کے نظام کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ مخصوص افراد کے مفاد کے لیے قانون نہ بنائے جائیں اگر کوئی ایسی شق قانون میں شامل کی جائے تو یہ معاشرے میں شہریوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھنے کی بنیادرکھنے کی کوشش متصور ہوگی جو آئین کے منافی اقدام ہے لہذا توہین عدالت کے 2012 کے قانون کو اس کے اجرا سے ہی خلاف آئین قرار دیا جاتا ہے، نئے قانون کی متعددشقیں آئین سے متصادم ہیں جس کے ذریعے عدلیہ کاوقاراوراختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی، نئے قانون کے خلاف دائر تمام درخواستیں بنیادی حقوق کے تناظرمیں آرٹیکل 184(3) کہ تحت قابل سماعت ہیں۔

آرٹیکل 204کے تحت سپریم کورٹ اورہائیکورٹ ہی توہین عدالت کے مرتکب کسی فرد کوسزادینے کی مجازہیںجبکہ نئے قانون میں لفظ جج کااستعمال کرکے تمام عدالتی افسران کو توہین عدالت کا قانون استعمال کرنے کا اختیاردیا گیانئے قانون کا سیکشن 3 مکمل طورپر آئین کے آرٹیکل4,9,25اور 204کے خلاف ہے،توہین عدالت کی سزا آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی تعریف سے نکال لی گئی ہے، نئے قانون کے آرٹیکل 204 کی ذیلی شق تین کے تحت مقننہ کوعدالت کے امور کوریگولیٹ کرنے کااختیاردیاگیاہے عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ نئے قانون میںکسی جج کواپنے دفتری امورکے حوالے سے اسکینڈلائزکرنے کاتاثردینے کے ذریعے عدالتوں کے اختیارات کم کردیے گئے ہیں۔

حالانکہ آرٹیکل 204میںلفظ عدالت استعمال کیاگیاہے اسی طرح سیکشن 3کے ذریعے توہین عدالت کی تصریح شدہ تعریف آرٹیکل 63 ون جی کے منافی ہے، آئین کاآرٹیکل 248 استثنٰی فراہم کرتاہے مذکورہ آرٹیکل کی ذیلی شق ون کوساتھ ملاناآئین کی منشاکوتبدیل کرنے کے مترادف ہے، آئین کا آرٹیکل 248 ون کسی کو فوجداری استثنیٰ نہیں دیتا،اس کے تحت نئے قانون میں جو طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے وہ آئین کے آرٹیکل 25کے منافی ہے اور امتیازی قانون نافذ کیا گیا، نئے قانون کے سیکشن 3 کی دفعہ 1تا 11 کی وضاحت مبہم ہے ان دفعات کے ذریعے توہین عدالت کا ارتکاب کرنے والے کو رعایت دینے کی کوشش کی گئی ہے اوریہ اقدام مساوات کے اصول کے منافی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نئے قانون کے سیکشن 4 کے ذیلی شق(4) میں مقننہ کے فیصلہ کے تحت عدالتی فیصلے کے اثرات کو فیصلے کی وجہ بننے والی وجوہات کو ختم کیے بغیر مکمل طورپر ختم کیا گیا ہے جو بنیادی حقوق کے تحت انصاف تک رسائی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ شق آئین کے آرٹیکل 189 کے بھی خلاف ہے نئے قانون کی سیکشن 6(3) سے توہین عدالت کی کارروائی کو موخر کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے حالانکہ عدالتی وقار اور احترام کو برقرار رکھنے کے لیے مرتکب شخص کو فوری طور پرسزا دینا لازمی ہوتاہے اس طرح توہین عدالت کرنے والے شخص کو سزا میں تاخیر سے ناصرف عدالتی وقارمتاثرہوتا ہے بلکہ عدالت کا احترام نہ کرنے کے رجحان کو بھی فروغ ملتا ہے۔


اس لیے اس سیکشن کو بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے، نئے قانون کا سیکشن 8(جو کارروائی کو ٹرانسفر کرنے سے متعلق ہے)عدالتی اختیارات کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جس میںعدلیہ کے بجائے ججوں کو اسکینڈلائز کرنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی کو کسی جج یا بینچ کو منتقل کرنا چیف جسٹس کا اختیار ہے جس کو مقننہ کے کنٹرول میں نہیں دیاجاسکتا اس لیے اس سیکشن کو بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے۔ نئے قانون کے سیکشن 8کے ذیلی شق (5) کے تحت مقننہ چیف جسٹس کی فائل سے کسی کیس کو دوسرے سینئر جج کو منتقل کرنے کا مجاز نہیں یہ اقدام عدلیہ کی آزادی کے خلاف اور اسی حوالے سے چیف جسٹس کی اتھارٹی کو کم کرنے کی کوشش ہے اس لیے یہ سیکشن بھی ختم کیا جاتا ہے۔

توہین عدالت ایکٹ 2012کا سیکشن 10(B)اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے کیونکہ آرٹیکل 68کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کے کنڈکٹ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا جبکہ سیکشن 11(3) جو انٹراکورٹ اپیل سے متعلق ہے، مقدمات کو جلد نمٹانے کے اصول کے منافی ہے۔ نئے قانون کا سیکشن 11(3) جو ابتدائی مرحلے میں شوکاز نوٹس(جو نصف ججوں نے جاری کیا ہو) کے اجراء کے بعد فل کورٹ میںمرتکب شخص کی شکایت کا جائزہ لیتے وقت پوری کارروائی کو غیر موثر کر سکتا ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے رولز 1980ء کے تحت دو رکنی بینچ انتہائی ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ کرنے کا بھی مجاز ہوتاہے۔

سیکشن 11(3) کی دوسری کلاس جو خودبخود عدالتی حکم کو معطل کرنے کی راہ فراہم کرتا ہے، اختیارات کی تقسیم اورعدلیہ کی آزادی کے اصول کے منافی ہے۔ نئے قانون کے سیکشن11کی ذیلی شق 4,5جس کے مطابق عدالتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ بینچ میں 30دن سپریم کورٹ میں 60دن اور انٹرا کورٹ اپیل کے لیے شوکاز کے نوٹس کے بعد 30دن کی مدت فراہم کرتا ہے،کا مقصد توہین عدالت کے مقدمات کے فیصلوں کو تاخیر کا شکار کرنا ہے۔

نئے قانون کاسیکشن 12، آرٹیکل 204سے متصادم ہے لہٰذا متعدد کلاز کے خلاف آئین ہونے کے بعد نئے قانون کے دیگر کلاز کو بھی برقرار نہیں رکھا جاسکتااور توہین عدالت ایکٹ 2012ء کو غیر آئینی اور غیرقانونی قراردیا جاتا ہے اور توہین عدالت آرڈیننس 2003ء 12جولائی 2012ء سے نافذ العمل ہو گا۔ قبل ازیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت 2012ایکٹ کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو کوئی استثنیٰ نہیں، اب وقت آگیا ہے کہ عدالت مقننہ اور انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے ان کے ساتھ چلے تاکہ ملک میں جمہوری ادارے تقویت پکڑ سکیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرچلناعدالتوں کاکام نہیں،عدالتیں غیرجانبدار ہوتی ہیں اور کسی سے مک مکا نہیں کرتیں، اٹارنی جنرل صاحب آپ ایسی بات ذہن سے ہی نکال دیں،آئین کے آرٹیکل 248 میں ایساکچھ نہیں کہ کسی کو توہین عدالت سے استثنیٰ ہے جبکہ نئے قانون میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کی نافرمانی پر توہین عدالت نہیں ہوگی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ انھوں نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے کی بات ایک مثبت انداز میں کی ہے اور اسے منفی نہ لیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نئے قانون میں توہین عدالت کے جرم کی تعریف کو ہی تبدیل کردیا گیا ہے۔بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ نئے قانون میں وہ الفاظ بھی شامل نہیں ہیں جو کہ آئین میں درج ہیں،نئے قانون میں توہین اور اسکینڈلائز کرنے جیسے الفاظ بھی نہیں ہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھاکہ وہ علمی گفتگو میں نہ پڑیں،اگر نئے قانون کو ریاضی کی طرز پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو مشکل ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ نئے قانون کے تحت جوڈیشل پاور رکھنے والا ہر شخص یہ قانون استعمال کر سکتا ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون کو صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ہی استعمال کر سکتی ہے،نئے قانون میں آئین کی کسی شق کو تبدیل نہیں کیا گیا جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں توہین عدالت کے نئے قانون کے تحت ہر وہ شخص جو جوڈیشل پاور رکھتا ہو اس قانون کو استعمال کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 248میں ایسا کہیں نہیں لکھا کہ توہین عدالت کرنے پر استثنیٰ حاصل ہے جبکہ نئے قانون میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات نہ ماننے پر توہین عدالت نہیں ہوگی۔عرفان قادر کا کہنا ہے کہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل میں توہین عدالت کا ذکر نہیں اور آئین کو اس طرح پڑھنا چاہیے کہ وہ نئے قانون سے مطابقت رکھتا ہو ۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں شاید ہو اس کے نتائج سے لاعلم ہیں،آئین کی تشریح کرنا عدالت کا کام ہے۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے دلائل مکمل کیے جانے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ساڑھے تین بجے سہ پہر سنانے کااعلان کیا تھا۔ توہین عدالت کیس کے خلاف فیصلہ 21 صفحات پر مشتمل ہے جسے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیا ہے۔جس وقت سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کیا اس وقت اٹارنی جنرل عرفان قادر کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے جبکہ ان کے نائب عبدالشکور موجود تھے۔

Recommended Stories

Load Next Story