پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت
پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت سے ملک کے سیاسی منظرنامے پر افواہوں اور ابہام کے چھائے ہوئے بادل چھٹ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کے التوا سے فوج کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ فوٹو: آئی ایس پی آر
سانحہ کوئٹہ کے بعد اور اس سے پہلے مختلف حلقوں میں فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے جو چہ مگوئیاں' قیاس آرائیاں اور بعض سیاستدانوں اور وزراء کے مبہم بیانات آرہے تھے ، اس نے صورتحال خاصی پیچیدہ بنا رکھی تھی، اب پاک فوج نے صورتحال مکمل طور پر کلیئر کر دی ہے۔ جمعرات کو راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کے التوا سے فوج کو کچھ حاصل نہیں ہو گا' فوج ملک میں آزادانہ' غیر جانبدارانہ اور بروقت انتخابات چاہتی ہے۔
فوج نے پانچ سال تک جمہوریت کی حمایت کی آیندہ بھی کرے گی' فوج دہشت گرد تنظیموں سے جنگ کر رہی ہے' تمام اداروں کو مل کر مقابلہ کرنا ہو گا' فوج کا طاہر القادری یا بنگلہ دیش ماڈل سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان میں فوج بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ بلوچستان میں سول حکومت کی بحالی کا فیصلہ سیاسی ہو گا' اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ حکومت بلوچستان میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بلا سکتی تھی' فوج کو آنے سے کوئی انکار نہیں تھا۔
پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت سے ملک کے سیاسی منظرنامے پر افواہوں اور ابہام کے چھائے ہوئے بادل چھٹ گئے ہیں۔ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے حکومت کی بعض شخصیات نے ایجنسیوں کے حوالے سے جو بیانات دیے' ان کی بھی وضاحت ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ ، دھرنے اور ملک میں بنگلہ دیش ماڈل کی باتیں بھی ایک مخصوص حلقے کی خواہشات تو ہو سکتی ہیں لیکن ان کا پاک فوج سے تعلق جوڑنا درست نہیں ہے۔گزشتہ پانچ سال سے ملک پر سیاستدانوں کی حکومت ہے۔ انھوں نے جو چاہا وہ کیا ہے'انھیں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ آئین میں ہونے والی ترامیم اس کا ثبوت ہے۔
مرکز میں پیپلز پارٹی' اے این پی اور متحدہ مل کر حکومت کرتی رہی ہیں۔ گو متحدہ اب حکومت سے الگ ہو چکی ہے لیکن یہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ مرکز اور سندھ میں حکومتی پالیسیوں کا حصہ رہی ہے۔ اسی طرح اے این پی بھی حکومت کی اتحادی ہے' مسلم لیگ ق بھی حکومت کی اتحادی ہے جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن پانچ برس سے برسراقتدار ہے' جے یو آئی بھی حکومت کے ساتھ رہی ہے۔ وہ بلوچستان میں اب بھی حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سیاسی قیادت جہاں اپنی کامیابیوں کا ڈھونڈورا پیٹتی ہے' وہاں اسے اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔
حکومت کی عدلیہ کے ساتھ جو محاذ آرائی رہی' اس میں کون قصور وار ہے؟ اس کا سیاسی قیادت کو جائزہ لینا چاہیے' اسی طرح پنجاب میں نئے صوبے بنانے کے لیے جو پالیسی اختیار کی گئی'اور اسے جس طرح سیاسی نعرہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ سراسر سیاسی قیادت کے فیصلے ہیں۔ کیا سیاسی قیادت نے اپنی ان پالیسیوں کے نتائج و عواقب پر غور کیا ہے؟ کیا اپنے ان فیصلوں کے اس حوالے سے بھی وہ خفیہ ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟ ملک میں اس وقت جو نان اسٹیٹ ایکٹرز سرگرم عمل ہیں' کیا ملک کی سیاسی شخصیات کا ان سے کوئی ڈھکا چھپا رابطہ نہیں ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کا مطلب صرف طالبان یا فرقہ پرست تنظیمیں نہیں ہیں' ان میں لسانیت اور قوم پرستی کے نام پر لاقانونیت پھیلانے والے گروہ بھی شامل ہیں' کیا سیاسی جماعتوں کو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ،لہٰذا سیاسی قیادت کو ملک کے اداروں کے حوالے سے بیان بازی کر کے ابہام پیدا کرنے کے رویے سے گریز کرنا چاہیے۔ پانچ برسوں کے دوران ملک کی اقتصادیات کو درست کرنا'کس کی ذمے داری تھی؟ کیا ملک پر برسراقتدار مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بھی کوئی ذمے داری ہے یا نہیں۔کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کی باتیں کون کر رہا ہے؟ کیا سیاسی قیادت یہ سب کچھ فوج کے کہنے پر کر رہی ہے' اگر وہ ایسا کر رہی ہے تو پھر سیاستدانوں کو کسی پر الزام دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پاک فوج نے واضح کر دیا ہے کہ وہ لشکر جھنگوی اور دیگر تنظیموں سے جنگ کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پاک فوج کا کردار بھی واضح ہے' سوات میں آپریشن اور پھر جنوبی وزیرستان میں امن و امان کا قیام اس کا بین ثبوت ہے' دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی میں پاک فوج نے جو قربانیاں پیش کی ہیں ، وہ سب کے سامنے ہے۔
بلوچستان اور کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں سیاسی مصلحتوں کا عمل دخل بھی موجود ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بھی صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے جو کچھ کرنا ہے' وہ سیاسی قیادت نے ہی کرنا ہے اور اب تک جو کیا ہے' وہ سیاسی قیادت نے ہی کیا ہے' اسی طرح کراچی میں کبھی کسی پر مقدمات قائم کرنا اور کبھی انھیں واپس لینا، یہ سب کچھ سیاسی عوامل اور فیصلے ہیں' دہشت گردی کے الزام میں گرفتار افراد کا رہا ہونے سے بھی پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کی جیلوں سے دہشت گردوں کا فرار ہونا بھی صوبائی معاملہ ہے' لہٰذا ملک کے خزانے سے بھاری مراعات لینے والی سیاسی قیادت کو اپنے حصے کی ناکامیاں دوسروں پر ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
فوج نے پانچ سال تک جمہوریت کی حمایت کی آیندہ بھی کرے گی' فوج دہشت گرد تنظیموں سے جنگ کر رہی ہے' تمام اداروں کو مل کر مقابلہ کرنا ہو گا' فوج کا طاہر القادری یا بنگلہ دیش ماڈل سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان میں فوج بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ بلوچستان میں سول حکومت کی بحالی کا فیصلہ سیاسی ہو گا' اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ حکومت بلوچستان میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بلا سکتی تھی' فوج کو آنے سے کوئی انکار نہیں تھا۔
پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت سے ملک کے سیاسی منظرنامے پر افواہوں اور ابہام کے چھائے ہوئے بادل چھٹ گئے ہیں۔ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے حکومت کی بعض شخصیات نے ایجنسیوں کے حوالے سے جو بیانات دیے' ان کی بھی وضاحت ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ ، دھرنے اور ملک میں بنگلہ دیش ماڈل کی باتیں بھی ایک مخصوص حلقے کی خواہشات تو ہو سکتی ہیں لیکن ان کا پاک فوج سے تعلق جوڑنا درست نہیں ہے۔گزشتہ پانچ سال سے ملک پر سیاستدانوں کی حکومت ہے۔ انھوں نے جو چاہا وہ کیا ہے'انھیں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ آئین میں ہونے والی ترامیم اس کا ثبوت ہے۔
مرکز میں پیپلز پارٹی' اے این پی اور متحدہ مل کر حکومت کرتی رہی ہیں۔ گو متحدہ اب حکومت سے الگ ہو چکی ہے لیکن یہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ مرکز اور سندھ میں حکومتی پالیسیوں کا حصہ رہی ہے۔ اسی طرح اے این پی بھی حکومت کی اتحادی ہے' مسلم لیگ ق بھی حکومت کی اتحادی ہے جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن پانچ برس سے برسراقتدار ہے' جے یو آئی بھی حکومت کے ساتھ رہی ہے۔ وہ بلوچستان میں اب بھی حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سیاسی قیادت جہاں اپنی کامیابیوں کا ڈھونڈورا پیٹتی ہے' وہاں اسے اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔
حکومت کی عدلیہ کے ساتھ جو محاذ آرائی رہی' اس میں کون قصور وار ہے؟ اس کا سیاسی قیادت کو جائزہ لینا چاہیے' اسی طرح پنجاب میں نئے صوبے بنانے کے لیے جو پالیسی اختیار کی گئی'اور اسے جس طرح سیاسی نعرہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ سراسر سیاسی قیادت کے فیصلے ہیں۔ کیا سیاسی قیادت نے اپنی ان پالیسیوں کے نتائج و عواقب پر غور کیا ہے؟ کیا اپنے ان فیصلوں کے اس حوالے سے بھی وہ خفیہ ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟ ملک میں اس وقت جو نان اسٹیٹ ایکٹرز سرگرم عمل ہیں' کیا ملک کی سیاسی شخصیات کا ان سے کوئی ڈھکا چھپا رابطہ نہیں ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کا مطلب صرف طالبان یا فرقہ پرست تنظیمیں نہیں ہیں' ان میں لسانیت اور قوم پرستی کے نام پر لاقانونیت پھیلانے والے گروہ بھی شامل ہیں' کیا سیاسی جماعتوں کو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ،لہٰذا سیاسی قیادت کو ملک کے اداروں کے حوالے سے بیان بازی کر کے ابہام پیدا کرنے کے رویے سے گریز کرنا چاہیے۔ پانچ برسوں کے دوران ملک کی اقتصادیات کو درست کرنا'کس کی ذمے داری تھی؟ کیا ملک پر برسراقتدار مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بھی کوئی ذمے داری ہے یا نہیں۔کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کی باتیں کون کر رہا ہے؟ کیا سیاسی قیادت یہ سب کچھ فوج کے کہنے پر کر رہی ہے' اگر وہ ایسا کر رہی ہے تو پھر سیاستدانوں کو کسی پر الزام دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پاک فوج نے واضح کر دیا ہے کہ وہ لشکر جھنگوی اور دیگر تنظیموں سے جنگ کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پاک فوج کا کردار بھی واضح ہے' سوات میں آپریشن اور پھر جنوبی وزیرستان میں امن و امان کا قیام اس کا بین ثبوت ہے' دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی میں پاک فوج نے جو قربانیاں پیش کی ہیں ، وہ سب کے سامنے ہے۔
بلوچستان اور کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں سیاسی مصلحتوں کا عمل دخل بھی موجود ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بھی صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے جو کچھ کرنا ہے' وہ سیاسی قیادت نے ہی کرنا ہے اور اب تک جو کیا ہے' وہ سیاسی قیادت نے ہی کیا ہے' اسی طرح کراچی میں کبھی کسی پر مقدمات قائم کرنا اور کبھی انھیں واپس لینا، یہ سب کچھ سیاسی عوامل اور فیصلے ہیں' دہشت گردی کے الزام میں گرفتار افراد کا رہا ہونے سے بھی پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کی جیلوں سے دہشت گردوں کا فرار ہونا بھی صوبائی معاملہ ہے' لہٰذا ملک کے خزانے سے بھاری مراعات لینے والی سیاسی قیادت کو اپنے حصے کی ناکامیاں دوسروں پر ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔