نقش برآب فیصلے نہ کریں

متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اضطراری طور پر اس بل کی منظوری دی گئی


Editorial February 22, 2013
متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اضطراری طور پر اس بل کی منظوری دی گئی۔ فوٹو: فائل

HONG KONG / REYKJAVIK: سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اچانک ایک بل کثرت رائے سے منظورکرلیاجس کے تحت سندھ پیپلزگورنمنٹ ایکٹ2012 ء منسوخ کر دیا گیا اور سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 ء کو بحال کر دیا گیا۔ اس طرح سندھ میں نیا بلدیاتی نظام ختم کر دیا گیاہے اور 1979ء والا پرانابلدیاتی نظام دوبارہ صوبے میں نافذ کر دیا گیا ہے، متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان کا بل کی منظوری پرشدیداحتجاج جاری ہے ، انھوں نے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کر دیا تھا جب کہ ایوان کے اندر اور باہر پیپلز پارٹی کے کارکن اور حامی نعرے بازی کرتے رہے، اندرون سندھ ریلیاں نکالی گئیں اور مٹھائیاں بانٹی گئیں۔

یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ بل اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اضطراری طور پر اس بل کی منظوری دی گئی جس سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے ۔بعض اسے انتقامی،کچھ اسے پیپلز پارٹی اور متحدہ کے درمیان سیاسی محبت و رقابت ) Love & Hate (کے اعصاب شکن نشیب و فراز کی دلگداز کہانی سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ میڈیا کے بعض تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ الیکشن سٹنٹ ہے جس سے ملتے جلتے نظارے عوام پہلے کئی بار ملاحظہ کر چکے ہیں۔ تاہم ان تجزیوں میں مشترک پہلو یہ ہے کہ پیدا شدہ منظر نامے میں لگتا یہی ہے کہ دونوں اکثریتی ووٹ بینک کی حامل جماعتیں اصل میں آیندہ الیکشن کے ثمرات سمیٹنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں ۔

ایک سینئر تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ کراچی میں بد امنی میں ملوث عناصر یا گینگ وار کلرز کے خلاف آپریشن کی صورتحال بنی تو پہلے سے غیر مستحکم شہر میں حالات بدتر ہوسکتے ہیں ۔ چنانچہ مین اسٹریم جماعتوں سمیت کراچی اور اندرون سندھ کے عوام اور شہر کی شراکت دار سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ تدبر سے کام لیں۔ جذباتی طرز عمل جمہوری عمل میں عوامی خواہشات اور انھیں درپیش مسائل سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا۔بل دو تھے ، ایک بطور ہتھیار رکھا گیا جب کہ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 ء پر اسمبلی اور کور کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی تھی ، اس پر متحدہ اور پی پی کا اتفاق ہوا تھا ۔

اپوزیشن نے اندرون سندھ اس کی شدید مخالفت کی جب کہ حکومت کے لیے آپشن یہی تھا کہ وہ درست فیصلہ کرتی، مگر جہاں بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود نہیں ہوئے وہاںدورآمریت کے نظام کی عجلت میں بحالی عجب ہے جس سے سندھ کے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ادھرگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی الطاف حسین سے ملاقات کے لیے لندن روانگی اور ان کے استعفے کی گونج بھی سنائی دینے لگی ہے، بلدیاتی بل پر ان کے توثیقی دستخط ضروری ہیں، اس امر کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا تھا کہ یہی کام نثار کھوڑو سے لیا جائے گا۔ اصولاً سندھ اسمبلی کو قانون سازی کا استحقاق حاصل ہے ، اور منتخب اراکین کو اختلاف رائے یا کسی جماعت کو اس بل یا قانون کی موافقت یا اس کے خلاف موقف اختیار کرنے کا بھی پورا حق حاصل ہے تاہم پی پی اور متحدہ دونوں جماعتوں کے مابین مفاہمت کا عمل چونکہ رواں دواں رہا تھا اس لیے اسے ایشو نہیں بننا چاہیے تھا ،اب جو کچھ ہوا وہ کراچی سمیت پورے ملک کے مفاد میں نہیں ۔

کراچی میں جتنی مافیاز ہیں ان سب کا مطمع نظر شہری معمولات ، معیشت اور جمہوری نظام کو دہشت گردی کی نذر کردینا تھا جسے اتحادی جماعتوں اور سندھ کی جمہوری قوتوں نے مل کر ناکام بنایا اور شدید قتل و غارت ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے باوجود سندھ میں سیاسی عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا گیا جب کہ بلوچستان کی ابتر صورتحال کے پیش نظر کراچی میں بھی شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ تاجر برادری کی طرف سے آنے لگا ہے لیکن متحدہ ، اے این پی اور پی پی کے درمیان سیاسی معاملات اور امن وامان کے حوالے سے بعض امور اور اقدامات پر تحفظات اور کشمکش کا ڈراپ سین کسی ناخوشگوار واقعہ پر منتج نہیں ہوا کیونکہ سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صوبہ سندھ اور بالخصوص کراچی کسی قسم کے سیاسی و نظریاتی تصادم ، رسہ کشی یا بلدیاتی نظام کے نام پر شو ڈائون کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اول تو بلدیاتی نظام کی منسوخی اور پرانے نظام کی بحالی راتوں رات ناگزیر نہ تھی ۔ مفاہمت کی پالیسی کے تحت اس کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت سے ممکن تھا۔

اس لیے سندھ کے عظیم تر مفاد میں جو بھی نظام لاگو ہونا تھا وہ اب تک ہو چکا ہوتا، مگر موجودہ سیاسی اتھل پتھل سے تو عوام کویہی پیغام دیا گیا کہ سیاسی قیادتوں کا مطمع نظر عوام سے زیادہ ان کی اپنی سیاسی،انتخابی مجبوریاں اور ترجیحات ہیں جب کہ قانون سازی کلی طور پر صوبہ کے عوام کے مفاد میں ہونی چاہیے اسے پارٹی مفاد کے تحت کرکے عوام کی خدمت کا کوئی بھی دعوی درست نہیں ہوسکتا۔اس سے رنجشیں بڑھتی رہیں گی اور سندھ کے عوام کو ریلیف تو درکنار مزید مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اب بھی وقت ہے کہ پی پی اورمتحدہ بلدیاتی نظام سے متعلق کراچی اور اندرون سندھ کے عوام کی امنگوں کا خیال رکھیں۔ اپوزیشن بھی صورتحال کا ادراک کرے ۔ یہ سنجیدہ فیصلوں کا وقت ہے۔ تنگ نظرانہ اور مخاصمانہ رویوں کا نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑیگا۔ کراچی کی تہلکہ خیز اور مخدوش صورتحال سنجیدہ غور وفکر کی متقاضی ہے۔ کوئی غلط اور جذباتی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسمبلی کے اندر اور باہر جمہوری طریقہ کار اور روادارانہ انداز نظر سے مسائل کا حل ڈھونڈا جائے، معاملہ چاہے ممکنہ انتخابی بازیگری یا کسی طے شدہ پارلیمانی ملی بھگت کا نتیجہ ہو یا حالات کا جبر ، بہرحال صوبہ سندھ میں امن ملکی سلامتی سے مشروط ہے۔اگر امن نہ رہا توشفاف ترین بلدیاتی نظام بھی نقش برآب ثابت ہوگا۔