نیٹو کا افغانستان سے انخلا کے بعد 12 ہزار افواج کی تعیناتی پرغور
افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر امریکی صدر باراک اوباما مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، ترجمان پینٹاگان
نیٹو افغانستان میں 8 سے 12 ہزار افواج کی تعیناتی کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
لاہور:
نیٹو سال 2014 میں افغانستان سے انخلا کے بعد 12 ہزار افواج تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔
پینٹاگان کےترجمان جارج لٹل نے کہا کہ نیٹو افغانستان میں 8 سے 12 ہزار افواج کی تعیناتی کے بارے میں غور کر رہا ہے، یہ افواج افغان سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ تربیت کریں گی۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں فوجیں چھوڑنے کے معاملے پر امریکی صدر باراک اوباما مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ افغانستان اور نیٹو ممالک سے مشاورت کے بعد ہی لیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی دفاعی سیکرٹری لیون پنیٹا نے برسلز میں نیٹو ممالک کے دفاعی وزرا کے دو روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2014 کے بعد نیٹو افواج افغانستان کے تمام علاقوں میں تعینات رہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتی رہیں گی تاہم انہوں نے افغانستان میں نیٹو افواج کی تعداد کے حوالے سے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ اجلاس میں افغان آرمی کی تعداد سال 2018 تک 3 لاکھ 50 ہزار رکھنے پر بھی غور کیا گیا۔
نیٹو سال 2014 میں افغانستان سے انخلا کے بعد 12 ہزار افواج تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔
پینٹاگان کےترجمان جارج لٹل نے کہا کہ نیٹو افغانستان میں 8 سے 12 ہزار افواج کی تعیناتی کے بارے میں غور کر رہا ہے، یہ افواج افغان سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ تربیت کریں گی۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں فوجیں چھوڑنے کے معاملے پر امریکی صدر باراک اوباما مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ افغانستان اور نیٹو ممالک سے مشاورت کے بعد ہی لیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی دفاعی سیکرٹری لیون پنیٹا نے برسلز میں نیٹو ممالک کے دفاعی وزرا کے دو روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2014 کے بعد نیٹو افواج افغانستان کے تمام علاقوں میں تعینات رہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتی رہیں گی تاہم انہوں نے افغانستان میں نیٹو افواج کی تعداد کے حوالے سے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ اجلاس میں افغان آرمی کی تعداد سال 2018 تک 3 لاکھ 50 ہزار رکھنے پر بھی غور کیا گیا۔