ن لیگ میں عہدے کیلئے عدالتی نااہل شخص پرعائد پابندی ختم
مجلس عاملہ نے نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا صدر بنانے کے لیے پارٹی کے آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی
نوازشریف پر اعتماد کی قرارداد سینیٹرمشاہداللہ خان نے پیش کی،فوٹو:فائل
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے نوازشریف پر اعتماد کی قرار داد منظور کرلی ہے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹرمشاہداللہ خان نے نوازشریف پر اعتماد اور ان کی 4 سالہ کارکردگی کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں توانائی منصوبوں، میٹروبس، موٹروے اور سی پیک منصوبے کی تفصیلات کو حصہ بنایا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر نوازشریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد منظور کرلی ہے جب کہ نوازشریف کی بطور وزیراعظم کارکردگی اور 4 سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مجلس عاملہ نے جماعت کے آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے جس میں پارٹی عہدے کے لئے عدالتی نااہل شخص پر عائد پابندی کو ختم کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارٹی الیکشن کمیشن کا اجلاس چیئرمین الیکشن کمیشن سینیٹر چوہدری محمد جعفر اقبال کی صدات میں ہوا جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب 3 اکتوبر کو (کل) کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صبح 9 سے 10 بجے تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی جبکہ الیکشن کا عمل صبح ساڑھے دس بجے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں شروع ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے کاغذات نامزدگی 3 اکتوبر صبح 7 تا 9 بجے تک جمع کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں امیر افضل مندو خیل کو ریٹرننگ آفیسر اور راجہ محمد نیاز کو سیکریٹری الیکشن کمیشن مقرر کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی مسلم لیگ (ن) کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ نواز شریف کی جگہ نئے پارٹی صدر کا انتخاب کریں۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹرمشاہداللہ خان نے نوازشریف پر اعتماد اور ان کی 4 سالہ کارکردگی کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں توانائی منصوبوں، میٹروبس، موٹروے اور سی پیک منصوبے کی تفصیلات کو حصہ بنایا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر نوازشریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد منظور کرلی ہے جب کہ نوازشریف کی بطور وزیراعظم کارکردگی اور 4 سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مجلس عاملہ نے جماعت کے آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے جس میں پارٹی عہدے کے لئے عدالتی نااہل شخص پر عائد پابندی کو ختم کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارٹی الیکشن کمیشن کا اجلاس چیئرمین الیکشن کمیشن سینیٹر چوہدری محمد جعفر اقبال کی صدات میں ہوا جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب 3 اکتوبر کو (کل) کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق صبح 9 سے 10 بجے تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہو گی جبکہ الیکشن کا عمل صبح ساڑھے دس بجے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں شروع ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے کاغذات نامزدگی 3 اکتوبر صبح 7 تا 9 بجے تک جمع کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں امیر افضل مندو خیل کو ریٹرننگ آفیسر اور راجہ محمد نیاز کو سیکریٹری الیکشن کمیشن مقرر کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی مسلم لیگ (ن) کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ نواز شریف کی جگہ نئے پارٹی صدر کا انتخاب کریں۔