نظام بچانے کی کنجی پیپلز پارٹی کے پاس ہے
ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی ملاقاتیں صرف پیپلزپارٹی کو دباؤ میں لانے کے لیے تھیں۔
msuherwardy@gmail.com
ملک ایسے نہیں چل سکتا جیسا چل رہا ہے۔ اس طرح کی محاذ آرائی کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا لیکن کیا محاذ آرائی ابتدائی اسکرپٹ کا حصہ ہے یا اسکرپٹ لکھنے والوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ محاذ آرائی اتنی بڑھ جائے گی۔کیا سارا اسکرپٹ یہ سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا کہ نواز شریف آسانی سے ملک سے باہر چلے جائیں گے؟کیا کسی کو اندازہ تھا کہ نواز شریف اس طرح مزاحمت کریں گے اور ان کی جماعت ان کے ساتھ اس طرح کھڑی ہو جائے گی۔
ایک سادہ سوال یہ ہے کہ اگر یہ محاذ آرائی اسی طرح بڑھتی جائے گی تو کیا ہو گا۔ ملک میں ایک قومی حکومت اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایسا کسی آئین و قانون کے تحت تو ممکن نہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ آئین و قانون کے ماہرین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ قومی اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی گونج انھیں سنائی دے رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تو اس مجوزہ حکومت کے نام بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نام پھیلائے جا رہے ہیں۔
لڑائی عجیب صورتحال اختیار کر رہی ہے۔ لڑائی نظام کے لیے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نظا م کی کنجی ن لیگ کے پاس نہیں ہے۔ اس وقت نظام کی بقا کا معاملہ پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ اب یہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پر منحصر ہے کہ وہ نظام کو چلتا دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جان بوجھ کر پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگا یا جا رہا ہے تا کہ پیپلزپارٹی ایسی غلطی کرے جس سے نظام کو لپیٹنے کا جواز بن سکے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا شو شا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ایک آئینی ترمیم کی خبریں بھی قومی حکومت کے ساتھ زیر گردش ہیں۔ یہی خبریں پیپلزپارٹی کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد سے آصف زرداری اور بلاول نے نواز شریف سے واضح فاصلہ رکھا ہے لیکن یہ بھی سوال ہے کہ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کا اعتماد جیتنے کے لیے کیا کرے۔ کیا بیک چینل پر ہونیوالے مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں۔ یا پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ سے ایسی ڈیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ممکن نہیں ہے۔اگر 2018 میں اقتدار کی گارنٹی مانگی جا رہی ہے تو یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ اسی لیے اسٹبلشمنٹ ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی پر بھی گامزن ہے۔
میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایم کیو ایم بغیر کسی اشارے کے تحریک انصاف کی حمایت کے لیے تیار ہو گئی ہے اور یہ بھی ماننا مشکل ہے کہ تحریک انصاف بغیر کسی اشارہ کے ایم کیو ایم سے بات کرنے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ لیکن اس سارے کھیل میں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ق لیگ کی جانب سے انکار بھی نا قابل فہم ہے۔ اگر اشارے چل ہی رہے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چوہدری برادران نے اشارہ ماننے سے انکار کر دیا۔
ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی ملاقاتیں صرف پیپلزپارٹی کو دباؤ میں لانے کے لیے تھیں۔ تا کہ پیپلزپارٹی سے بات منوائی جا سکے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ٓاصف زرداری کے پاس دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ وہ ملک میں موجود اس لولے لنگڑے جمہوری نظام کی بقا کی خاطر قربانی دیں اور ن لیگ سے دور رہیں۔
ایک مشکل یہ بھی ہے کہ نوازشریف بھی سرنڈر کرنے کو تیار نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نواز شریف اور ان کی جماعت کی طرف سے کی جانے والی محاذ آرائی نہ صرف اسکرپٹ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ گیم کو بدل رہی ہے۔لیکن کیا ن لیگ کو احساس ہے کہ اگر وہ اسی طرح روز طاقت کا مظاہرہ کرتی رہی تو نظام کو خطرات پیدا ہو جائیں گے۔ اگر نواز شریف کی ناا ہلی کے بعد بھی مطلوبہ مقاصد حا صل نہ ہوئے تو بات کہیں اور نکل جائے گی۔ یہ آگ اور خون کا کھیل ہے ۔ ماضی گواہ ہے۔
عمران خان کی حالت بھی قابل رحم ہے۔ وہ اشاروں پر ناچنے کی ایسی دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ ایم کیو ایم کے گھر بھی گئے اور ملا بھی کچھ نہیں ۔ انھوں نے نواز شریف کو نا اہل بھی کرا لیا لیکن ملا کچھ نہیں بلکہ ایک عائشہ گلا لئی نے سارے جشن کو خراب کر دیا۔ گراف بڑھتا کم اور گرتا زیادہ ہے۔ 120 کے الیکشن کو عدلیہ کا ریفرنڈم قرارد ینے کے باوجود نہیں جیت سکے۔
نا اہلی کی تلوار روز بروز گردن کے نزدیک پہنچ رہی ہے۔ دوست اس میں بھی مدد نہیں کر رہے بلکہ خاموشی سے نا اہلی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں عمران خان کے ساتھ ایسا کیوں ہے کہ بہت محنت کے بعد بھی انھیں اس کا سیاسی پھل نہیں مل رہا۔پھر بھی نظام کی کنجی تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے۔ وہ نظا م کے لیے کوئی خظرہ نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کے ہاتھ خالی ہیں۔ یہ طاقت پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ اور اسے سمجھ ہے کہ اس کے پاس کیا طاقت ہے۔
ایک سادہ سوال یہ ہے کہ اگر یہ محاذ آرائی اسی طرح بڑھتی جائے گی تو کیا ہو گا۔ ملک میں ایک قومی حکومت اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایسا کسی آئین و قانون کے تحت تو ممکن نہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ آئین و قانون کے ماہرین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ قومی اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی گونج انھیں سنائی دے رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تو اس مجوزہ حکومت کے نام بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ نام پھیلائے جا رہے ہیں۔
لڑائی عجیب صورتحال اختیار کر رہی ہے۔ لڑائی نظام کے لیے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نظا م کی کنجی ن لیگ کے پاس نہیں ہے۔ اس وقت نظام کی بقا کا معاملہ پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ اب یہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پر منحصر ہے کہ وہ نظام کو چلتا دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جان بوجھ کر پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگا یا جا رہا ہے تا کہ پیپلزپارٹی ایسی غلطی کرے جس سے نظام کو لپیٹنے کا جواز بن سکے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا شو شا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ایک آئینی ترمیم کی خبریں بھی قومی حکومت کے ساتھ زیر گردش ہیں۔ یہی خبریں پیپلزپارٹی کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد سے آصف زرداری اور بلاول نے نواز شریف سے واضح فاصلہ رکھا ہے لیکن یہ بھی سوال ہے کہ پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کا اعتماد جیتنے کے لیے کیا کرے۔ کیا بیک چینل پر ہونیوالے مذاکرات نا کام ہو گئے ہیں۔ یا پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ سے ایسی ڈیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ممکن نہیں ہے۔اگر 2018 میں اقتدار کی گارنٹی مانگی جا رہی ہے تو یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ اسی لیے اسٹبلشمنٹ ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی پر بھی گامزن ہے۔
میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایم کیو ایم بغیر کسی اشارے کے تحریک انصاف کی حمایت کے لیے تیار ہو گئی ہے اور یہ بھی ماننا مشکل ہے کہ تحریک انصاف بغیر کسی اشارہ کے ایم کیو ایم سے بات کرنے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ لیکن اس سارے کھیل میں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ق لیگ کی جانب سے انکار بھی نا قابل فہم ہے۔ اگر اشارے چل ہی رہے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چوہدری برادران نے اشارہ ماننے سے انکار کر دیا۔
ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی ملاقاتیں صرف پیپلزپارٹی کو دباؤ میں لانے کے لیے تھیں۔ تا کہ پیپلزپارٹی سے بات منوائی جا سکے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ٓاصف زرداری کے پاس دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ وہ ملک میں موجود اس لولے لنگڑے جمہوری نظام کی بقا کی خاطر قربانی دیں اور ن لیگ سے دور رہیں۔
ایک مشکل یہ بھی ہے کہ نوازشریف بھی سرنڈر کرنے کو تیار نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نواز شریف اور ان کی جماعت کی طرف سے کی جانے والی محاذ آرائی نہ صرف اسکرپٹ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ گیم کو بدل رہی ہے۔لیکن کیا ن لیگ کو احساس ہے کہ اگر وہ اسی طرح روز طاقت کا مظاہرہ کرتی رہی تو نظام کو خطرات پیدا ہو جائیں گے۔ اگر نواز شریف کی ناا ہلی کے بعد بھی مطلوبہ مقاصد حا صل نہ ہوئے تو بات کہیں اور نکل جائے گی۔ یہ آگ اور خون کا کھیل ہے ۔ ماضی گواہ ہے۔
عمران خان کی حالت بھی قابل رحم ہے۔ وہ اشاروں پر ناچنے کی ایسی دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ ایم کیو ایم کے گھر بھی گئے اور ملا بھی کچھ نہیں ۔ انھوں نے نواز شریف کو نا اہل بھی کرا لیا لیکن ملا کچھ نہیں بلکہ ایک عائشہ گلا لئی نے سارے جشن کو خراب کر دیا۔ گراف بڑھتا کم اور گرتا زیادہ ہے۔ 120 کے الیکشن کو عدلیہ کا ریفرنڈم قرارد ینے کے باوجود نہیں جیت سکے۔
نا اہلی کی تلوار روز بروز گردن کے نزدیک پہنچ رہی ہے۔ دوست اس میں بھی مدد نہیں کر رہے بلکہ خاموشی سے نا اہلی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں عمران خان کے ساتھ ایسا کیوں ہے کہ بہت محنت کے بعد بھی انھیں اس کا سیاسی پھل نہیں مل رہا۔پھر بھی نظام کی کنجی تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے۔ وہ نظا م کے لیے کوئی خظرہ نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کے ہاتھ خالی ہیں۔ یہ طاقت پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ اور اسے سمجھ ہے کہ اس کے پاس کیا طاقت ہے۔