کپاس کا ہدف 575 فیصد بڑھاکر 141 کروڑ بیلز مقرر کردیا گیا
آئندہ سیزن میں 5 فیصد اضافے سے 76.48 لاکھ ایکڑ پر کاشت ہوگی، کپاس کمیٹی کا فیصلہ
آئندہ سیزن میں 5 فیصد اضافے سے 76.48 لاکھ ایکڑ پر کاشت ہوگی، کپاس کمیٹی کا فیصلہ فوٹو: فائل
وفاقی کمیٹی برائے کپاس نے آئندہ سیزن کے لیے کپاس کی پیداوار کا ہدف 1 کروڑ 41 لاکھ گانٹھیں مقرر کر دیا ہے جو رواں سزن سے 5.75 فیصد زائد ہے، 76 لاکھ 48 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی جائے گی جو سال بہ سال5 فیصد زیادہ ہے۔
کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈاکٹر وقار مسعود خان کی زیر صدارت ہوا جس میں پنجاب اور سندھ کی حکومتوں، محکمہ موسمیات، زرعی ترقیاتی بینک، ارسا اور دوسرے متعلقہ محکموں کے افسران کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے شرکت کی، اجلاس میں مختلف امور کا تفصیلی سے جائزہ لیا گیا۔
ارسا کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ کپاس کی بوائی کے لیے آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی اطمینان بخش ہو گی۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے اجلاس کو موسم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں کپاس کا تصدیق شدہ بیج مجموعی ضرورت سے 10 فیصد کم دستیاب ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ فریقین کا اجلاس بلا کر کسانوں کو تصدیق شدہ بیج کی دستیابی کی صورتحال بہتر بنانے کے معاملے پر غور کیا جائے گا اور صوبے نومبر کے بجائے اکتوبر میں کپاس کی پیداوار کا جائزہ پیش کریں گے۔ زرعی ترقیاتی بینک کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ کپاس کے آئندہ سیزن کے دوران قرضوں کی فراہمی 12 فیصد بڑھائی جائے گی جبکہ دیگر بینک بھی قرضے فراہم کرینگے۔
کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈاکٹر وقار مسعود خان کی زیر صدارت ہوا جس میں پنجاب اور سندھ کی حکومتوں، محکمہ موسمیات، زرعی ترقیاتی بینک، ارسا اور دوسرے متعلقہ محکموں کے افسران کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے شرکت کی، اجلاس میں مختلف امور کا تفصیلی سے جائزہ لیا گیا۔
ارسا کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ کپاس کی بوائی کے لیے آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی اطمینان بخش ہو گی۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے اجلاس کو موسم کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں کپاس کا تصدیق شدہ بیج مجموعی ضرورت سے 10 فیصد کم دستیاب ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ فریقین کا اجلاس بلا کر کسانوں کو تصدیق شدہ بیج کی دستیابی کی صورتحال بہتر بنانے کے معاملے پر غور کیا جائے گا اور صوبے نومبر کے بجائے اکتوبر میں کپاس کی پیداوار کا جائزہ پیش کریں گے۔ زرعی ترقیاتی بینک کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ کپاس کے آئندہ سیزن کے دوران قرضوں کی فراہمی 12 فیصد بڑھائی جائے گی جبکہ دیگر بینک بھی قرضے فراہم کرینگے۔