خواجہ سعد کی ریلوے کی کارکردگی عوام کی عدالت میں
ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے ہمت کرتے ہوئے ریلوے کی چار سالہ کارکردگی جاری کر دی ہے۔
msuherwardy@gmail.com
جمہوریت عوام کی منتخب حکومت عوام کی خدمت کے لیے کا ہی نام ہے۔ اگر حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں ہے تو جمہوری نہیں ہے۔ اور اگر عوام کی خدمت نہیں کر رہی ہے تب بھی جمہوری نہیں ہے۔ بہر حال عوام کی خدمت ہی بنیادی نکتہ ہے۔ لیکن پاکستان میں حکومتوں کی کارکردگی عوام کی خدمت پر نہیں جانچی جاتی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت کا نکتہ گول کر کے دوسرے ایسے معاملات میں عوام کو الجھا دیتی ہیں جن کا عوام سے بہر حال براہ راست کوئی تعلق نہیںہے۔
پاکستانی سیاست کے فلاسفر جناب آصف زرداری بھی اسی نکتہ سے مار کھا گئے۔ 2013ء کے انتخابات میں جناب آصف زرداری کا خیال تھا کہ عوام 1973ء کے آئین کی بحالی اور صوبائی خود مختاری کے نام پر ووٹ دے دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لوڈ شیڈنگ سے تنگ عوام نے آئین کی بحالی اور صوبائی خود مختاری کو اہمیت نہیں دی۔ یہ سیاستدانوں کے اہم ایشوز تھے عوام کے نہیں۔ اسی طرح اب بھی کیا اگلے انتخابات پاناما کے ایشو پر ہوںگے یا عوام سیاسی جماعتوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔
یہ درست ہے کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی حکومتوں والے صوبوں میں ضمنی انتخاب جیت رہی ہیں۔ جو لوگ آج پشاور میں تحریک انصاف کی جیت کو بہت بڑا معرکہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں چند ماہ پہلے پیپلزپارٹی نے کراچی میں سیٹ جیت کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ اور لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے انتخابی نتائج بھی ایسی ہی کہانی بیان کر رہے تھے۔ تا ہم اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ضمنی انتخاب اور عام انتخاب کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہو تا ہے۔ اس لیے کسی بھی ضمنی انتخاب سے عام انتخاب کے لیے پیشں گوئی نہیں کی جا سکتی۔ یہی جمہوریت ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت اب آہستہ آہستہ اپنی مدت پوری کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے باوجود حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ یہی جمہوریت کا تسلسل ہے کہ یہ کسی فرد واحد کی محتاج نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کو نواز شریف کی اہلیت اور نا اہلیت کے دائرے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ پانچ سالہ کارکردگی کا موازنہ عوامی خدمت کے دائرہ میں ہونا چاہیے۔ لوڈ شیڈنگ اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح باقی وزارتوں کی کارکردگی کا بھی ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ جہاں لوڈ شیڈنگ پر مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کی کارکردگی اچھی ہے وہاں پی آئی اے کی بحالی پر صفر ہے۔ پاکستان اسٹیل مل پر بھی صفر ہے۔ حالانکہ یہ دونوں بھی ن لیگ کے انتخابی منشور میں شامل تھے۔ لیکن ساڑھے چار سال کی کارکردگی صفر ہے۔ اسی طرح باقی شعبوں میں بھی کارکردگی کا جائزہ وقت کی ضرورت ہے۔
ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے ہمت کرتے ہوئے ریلوے کی چار سالہ کارکردگی جاری کر دی ہے۔ یہ تو ایک کھلی حقیقت ہے گزشتہ دور حکومت میں جب ریلوے کی وزارت اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کے پاس تھی تب پاکستان ریلوے کا حال ابتر تھا۔ ٹرینیں صرف ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے راستہ میں کھڑی ہو جاتی تھیں۔ اور یہ خبر چلتی تھی کہ ریلوے کے پاس ڈیزل کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ لاہور سے کراچی جانے والی ٹرینوں میں ملتان تک ڈیزل ڈالا جاتا اور ملتان میں دوبارہ ڈیزل کے لیے پیسے نہیں ہو تے تھے۔
ایک ایسا ماحول بن گیا تھا کہ سب کو یقین ہو گیا تھا اب ریلوے کو بیچ دینا چاہیے۔ کوئی ٹرین ٹائم پر نہیں پہنچتی تھی۔ ریلوے کی نجکاری کے لیے ماحول بن گیا ہوا تھا۔ خسارہ عروج پر تھا۔ ٹرینیں بند ہو رہی تھیں۔ ہڑتالیں بھی شروع تھیں۔ ایسے ماحول میں خواجہ سعد رفیق نے ریلوے وزیر کا چارج سنبھالا تھا۔ ان کی وزارت سنبھالتے ہی انھوں نے پہلی وضاحت یہی دی تھی کہ وہ ریلوے کی نجکاری نہیں کی جا رہی کیونکہ شور یہی تھا کہ ن لیگ کی حکومت نجکاری کی بادشاہ ہے اور اب ریلوے کی نجکاری کر دی جائے گے۔
تا ہم آج چا ر سال بعد منظر نامہ بدل گیا ہے۔ کم از کم اب ریلوے کے پاس ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے۔ اوقات کی پابندی کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔ ٹرینوں کی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔ یہ سب تبدیلی نظر آرہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس کو اعداد شمار کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب خواجہ سعد رفیق نے 2013ء کے انتخابات کے بعد ریلوے کے وزیر کے طور پر چارج سنبھالا تو ریلوے کی آمدنی کل اٹھارہ ارب روپے تھی۔ اور آج 2017 ء میں یہ آمدنی چالیس ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے۔ خسارہ بھی کم ہوا ہے۔ اگر ٹرینوں کے اوقات کو ہی سامنے رکھا جائے تو 2013ء میں ٹرینوں کے اوقات کی پابندی صرف 37 فیصد تھی۔ اور آج یہ پابندی 77 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی کم ہے لیکن کہاں سے کہاں آئے یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔ریلوے کی بہتری کے یہ اعداد و شمار کا براہ راست تعلق اس بات پر بھی ہے کہ کیا پاکستان کے عوام ریل کو ایک محفوظ سفر سمجھتے ہیں۔ ریلوے کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ چار سال میں مسافروں کی تعداد میں دو کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح پاکستان کی صنعتی ترقی میں بھی ریلوے کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ سڑکوں پر چلنے والے کنٹینر ملکی معیشت کے لیے اچھے نہیں ہیں۔
اسی لیے چار سال قبل پاکستان ریلوے روزانہ صرف ایک مال گاڑی چلا رہا تھا۔ اور اب آج چار سال بعد ریلوے روزانہ بارہ مال گاڑیاں چلا رہا ہے۔ یہ تعداد اب بھی کم ہے۔ لیکن کام بہتری کی طرف شروع ہوا ہے۔ اسی طرح ساہیوال کول پاور پلانٹ میں روزانہ کوئلہ کی بر وقت فراہمی بھی ریلوے کی بہتری کی گیت سنا رہی ہے۔ ریلوے کی اسی بہتری کی یہ کہانی ہے کہ اب شالیمار ٹرین کی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں ریلوے کو پہلے سے ایک ارب 14کروڑ روپے زیاد ہ حاصل ہو رہے ہیں۔
ریلوے کے حادثات یقیناً ایک ایسا پہلو ہیں جس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ریلوے کو محفوظ بنانا ہے۔ جب تک ریلوے محفوظ نہیں ہو گا عوام کا ریلوے پر اعتماد کم ہوگا۔ سی پیک بھی ریلوے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ نئے ریل ٹریک ہماری ضرورت ہیں۔ ریلوے پھاٹک کی بہتری ہماری ضرورت ہے۔ ریلوے کی اسپیڈ کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو صرف بنیادی نوعیت کے کام ہوئے ہیں۔ اصل کام تو ابھی باقی ہے۔ اس سے پہلے تو ریلوے میں بندر بانٹ جاری تھی۔
کوئی ریلوے کی زمین ایک کلب کو دے رہا تھا، کوئی نا کارہ انجن خرید رہا تھا۔ کوئی ڈیزل میں پیسے بنا رہا تھا۔ کوئی ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کر وا رہا تھا۔ لوٹ کا ایک بازار گرم تھا۔ جس کو بہر حال بند کیا گیا ہے۔ یقیناً خواجہ سعد رفیق نے کام کیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ انھیں اس کام کریڈٹ بھی ملے۔
جہاں تک خواجہ سعد رفیق کی سیاست کا تعلق ہے تو اس کی کہانی بھی ریلوے جیسی ہی ہے۔ وہ ن لیگ سے نکالے بھی گئے تھے اور آج وہ اگلی صفوں میں بھی ہیں۔ وہ بیک وقت خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان کے دوست ہیں۔ وہ مزاحمت کی سیاست شروع کر کے اب مفاہمت کی بات بھی کر رہے ہیں۔ وہ جی ٹی روڈ کے مارچ میں بھی نواز شریف کے ساتھ تھے۔ لیکن ٹکراؤ کے بھی خلاف ہیں۔ وہ شہباز شریف کی اداروں کی ٹکراؤ سے بچنے کی پالیسی کے بھی حامی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے نااہل نواز شریف زیادہ خطرناک ہو گا۔ لیکن وہ اپنی کاکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی سیاست کے فلاسفر جناب آصف زرداری بھی اسی نکتہ سے مار کھا گئے۔ 2013ء کے انتخابات میں جناب آصف زرداری کا خیال تھا کہ عوام 1973ء کے آئین کی بحالی اور صوبائی خود مختاری کے نام پر ووٹ دے دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لوڈ شیڈنگ سے تنگ عوام نے آئین کی بحالی اور صوبائی خود مختاری کو اہمیت نہیں دی۔ یہ سیاستدانوں کے اہم ایشوز تھے عوام کے نہیں۔ اسی طرح اب بھی کیا اگلے انتخابات پاناما کے ایشو پر ہوںگے یا عوام سیاسی جماعتوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔
یہ درست ہے کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی حکومتوں والے صوبوں میں ضمنی انتخاب جیت رہی ہیں۔ جو لوگ آج پشاور میں تحریک انصاف کی جیت کو بہت بڑا معرکہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں چند ماہ پہلے پیپلزپارٹی نے کراچی میں سیٹ جیت کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ اور لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے انتخابی نتائج بھی ایسی ہی کہانی بیان کر رہے تھے۔ تا ہم اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ضمنی انتخاب اور عام انتخاب کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہو تا ہے۔ اس لیے کسی بھی ضمنی انتخاب سے عام انتخاب کے لیے پیشں گوئی نہیں کی جا سکتی۔ یہی جمہوریت ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت اب آہستہ آہستہ اپنی مدت پوری کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے باوجود حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ یہی جمہوریت کا تسلسل ہے کہ یہ کسی فرد واحد کی محتاج نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کو نواز شریف کی اہلیت اور نا اہلیت کے دائرے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ پانچ سالہ کارکردگی کا موازنہ عوامی خدمت کے دائرہ میں ہونا چاہیے۔ لوڈ شیڈنگ اس حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح باقی وزارتوں کی کارکردگی کا بھی ایک پیمانہ ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ جہاں لوڈ شیڈنگ پر مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کی کارکردگی اچھی ہے وہاں پی آئی اے کی بحالی پر صفر ہے۔ پاکستان اسٹیل مل پر بھی صفر ہے۔ حالانکہ یہ دونوں بھی ن لیگ کے انتخابی منشور میں شامل تھے۔ لیکن ساڑھے چار سال کی کارکردگی صفر ہے۔ اسی طرح باقی شعبوں میں بھی کارکردگی کا جائزہ وقت کی ضرورت ہے۔
ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے ہمت کرتے ہوئے ریلوے کی چار سالہ کارکردگی جاری کر دی ہے۔ یہ تو ایک کھلی حقیقت ہے گزشتہ دور حکومت میں جب ریلوے کی وزارت اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کے پاس تھی تب پاکستان ریلوے کا حال ابتر تھا۔ ٹرینیں صرف ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے راستہ میں کھڑی ہو جاتی تھیں۔ اور یہ خبر چلتی تھی کہ ریلوے کے پاس ڈیزل کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ لاہور سے کراچی جانے والی ٹرینوں میں ملتان تک ڈیزل ڈالا جاتا اور ملتان میں دوبارہ ڈیزل کے لیے پیسے نہیں ہو تے تھے۔
ایک ایسا ماحول بن گیا تھا کہ سب کو یقین ہو گیا تھا اب ریلوے کو بیچ دینا چاہیے۔ کوئی ٹرین ٹائم پر نہیں پہنچتی تھی۔ ریلوے کی نجکاری کے لیے ماحول بن گیا ہوا تھا۔ خسارہ عروج پر تھا۔ ٹرینیں بند ہو رہی تھیں۔ ہڑتالیں بھی شروع تھیں۔ ایسے ماحول میں خواجہ سعد رفیق نے ریلوے وزیر کا چارج سنبھالا تھا۔ ان کی وزارت سنبھالتے ہی انھوں نے پہلی وضاحت یہی دی تھی کہ وہ ریلوے کی نجکاری نہیں کی جا رہی کیونکہ شور یہی تھا کہ ن لیگ کی حکومت نجکاری کی بادشاہ ہے اور اب ریلوے کی نجکاری کر دی جائے گے۔
تا ہم آج چا ر سال بعد منظر نامہ بدل گیا ہے۔ کم از کم اب ریلوے کے پاس ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے۔ اوقات کی پابندی کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔ ٹرینوں کی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔ یہ سب تبدیلی نظر آرہی ہے۔ لیکن پھر بھی اس کو اعداد شمار کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب خواجہ سعد رفیق نے 2013ء کے انتخابات کے بعد ریلوے کے وزیر کے طور پر چارج سنبھالا تو ریلوے کی آمدنی کل اٹھارہ ارب روپے تھی۔ اور آج 2017 ء میں یہ آمدنی چالیس ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے۔ خسارہ بھی کم ہوا ہے۔ اگر ٹرینوں کے اوقات کو ہی سامنے رکھا جائے تو 2013ء میں ٹرینوں کے اوقات کی پابندی صرف 37 فیصد تھی۔ اور آج یہ پابندی 77 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی کم ہے لیکن کہاں سے کہاں آئے یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔ریلوے کی بہتری کے یہ اعداد و شمار کا براہ راست تعلق اس بات پر بھی ہے کہ کیا پاکستان کے عوام ریل کو ایک محفوظ سفر سمجھتے ہیں۔ ریلوے کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ چار سال میں مسافروں کی تعداد میں دو کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح پاکستان کی صنعتی ترقی میں بھی ریلوے کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ سڑکوں پر چلنے والے کنٹینر ملکی معیشت کے لیے اچھے نہیں ہیں۔
اسی لیے چار سال قبل پاکستان ریلوے روزانہ صرف ایک مال گاڑی چلا رہا تھا۔ اور اب آج چار سال بعد ریلوے روزانہ بارہ مال گاڑیاں چلا رہا ہے۔ یہ تعداد اب بھی کم ہے۔ لیکن کام بہتری کی طرف شروع ہوا ہے۔ اسی طرح ساہیوال کول پاور پلانٹ میں روزانہ کوئلہ کی بر وقت فراہمی بھی ریلوے کی بہتری کی گیت سنا رہی ہے۔ ریلوے کی اسی بہتری کی یہ کہانی ہے کہ اب شالیمار ٹرین کی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں ریلوے کو پہلے سے ایک ارب 14کروڑ روپے زیاد ہ حاصل ہو رہے ہیں۔
ریلوے کے حادثات یقیناً ایک ایسا پہلو ہیں جس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ریلوے کو محفوظ بنانا ہے۔ جب تک ریلوے محفوظ نہیں ہو گا عوام کا ریلوے پر اعتماد کم ہوگا۔ سی پیک بھی ریلوے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ نئے ریل ٹریک ہماری ضرورت ہیں۔ ریلوے پھاٹک کی بہتری ہماری ضرورت ہے۔ ریلوے کی اسپیڈ کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو صرف بنیادی نوعیت کے کام ہوئے ہیں۔ اصل کام تو ابھی باقی ہے۔ اس سے پہلے تو ریلوے میں بندر بانٹ جاری تھی۔
کوئی ریلوے کی زمین ایک کلب کو دے رہا تھا، کوئی نا کارہ انجن خرید رہا تھا۔ کوئی ڈیزل میں پیسے بنا رہا تھا۔ کوئی ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کر وا رہا تھا۔ لوٹ کا ایک بازار گرم تھا۔ جس کو بہر حال بند کیا گیا ہے۔ یقیناً خواجہ سعد رفیق نے کام کیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ انھیں اس کام کریڈٹ بھی ملے۔
جہاں تک خواجہ سعد رفیق کی سیاست کا تعلق ہے تو اس کی کہانی بھی ریلوے جیسی ہی ہے۔ وہ ن لیگ سے نکالے بھی گئے تھے اور آج وہ اگلی صفوں میں بھی ہیں۔ وہ بیک وقت خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان کے دوست ہیں۔ وہ مزاحمت کی سیاست شروع کر کے اب مفاہمت کی بات بھی کر رہے ہیں۔ وہ جی ٹی روڈ کے مارچ میں بھی نواز شریف کے ساتھ تھے۔ لیکن ٹکراؤ کے بھی خلاف ہیں۔ وہ شہباز شریف کی اداروں کی ٹکراؤ سے بچنے کی پالیسی کے بھی حامی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے نااہل نواز شریف زیادہ خطرناک ہو گا۔ لیکن وہ اپنی کاکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔