Made in Pakistan ہی واحد آپشن ہے
یہ درست ہے کہ پاکستان کے تمام نامور سیاستدانوں کی دولت اور بچے بیرون ملک ہیں
msuherwardy@gmail.com
پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے صرف آئین و قانون کی بالادستی کافی نہیں بلکہ ہمیں جمہوریت کی اخلاقی قدروں کو بھی مستحکم کرنا ہو گا۔ اخلاقی طور پر پست جمہوریت کو آئین و قانون کے ذریعے مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ سول بالا دستی کا نعرہ بلند کرنے والے جمہوریت کے علمبرداروں کو اخلاقی بالادستی کا بھی نعرہ لگانا ہو گا۔
ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھنے والے سیاستدانوں کوملک سے محبت کا عملی ثبوت بھی دینا ہو گا۔ انھیں ہمیں یہ بتانا ہو گا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان ہے۔ تخت اور تختہ کے اس کھیل میں وہ پاکستان سے باہر اپنا کوئی مستقبل نہیں رکھتے۔ اگر اقتدار کے سہانے دن پاکستان میں گزارے جاتے ہیں تو کٹھن اور مشکل دن بھی پاکستان میں ہی گزارے جائیں گے۔ وہ بھی پاکستانی ہیں ان کے بچے بھی پاکستانی ہیں۔ ان کا مال و دولت بھی پاکستانی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے یہ اصول صرف سیاستدانوں پر ہی لاگو نہیں بلکہ اقتدار کے کھیل کے تمام کھلاڑیوں پر عائد ہوتے ہیں ۔یہ درست ہے کہ پاکستان کے تمام نامور سیاستدانوں کی دولت اور بچے بیرون ملک ہیں۔ لیکن ایسا صرف سیاستدانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ آمریت کے علمبردار بھی اس میں شامل ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف جب ملک کے مطلق العنان حکمران تھے ، ملک میں ان کے نام کو طوطی بولتا تھا، وہ بلا شرکت غیرے ملک کے اقتدار پر قابض تھے لیکن ان کا بیٹا پاکستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں تھا بلکہ وہ اپنے باپ کے دور صدارت میں بھی بیرون ملک مقیم تھا۔
ان کے بھائی بھی بیرون ملک تھے اور آج بھی وہ بیرون ملک ہیں۔ وہ پاکستان کو پوری طور پر انجوائے کرنے کے بعد ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی اچھی روائت نہیں۔ حالات کچھ بھی تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے جینے مرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ انھیں پاکستان میں رہنا چاہیے تھا اور مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح اور بھی کئی اعلیٰ سابق اعلیٰ افسران اور ان کے بچے بیرون ملک مقیم ہیں۔ جس طرح بیرون ملک مال و دولت اثاثے رکھنے والے سیاستدان قابل مذمت ہیں۔ اسی طرح وہ اعلیٰ افسران بھی قابل مذمت ہیں جن کا مال و دولت اثاثے اور بچے بیرون ملک ہیں۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سے ثمرات لپیٹنے والے ثمرات بیرون ملک منتقل کر کے یہ دعویٰ بھی کریں انھیں پاکستان کی خدمت کرنے کا حق ہے۔ جب بھی دوبارہ داؤ لگے وہ دوبارہ پاکستان آجائیں۔ جب جمہوری و غیر جمہوری حکمران بلا تفریق پاکستان میں نہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں نہ اپنی مال و دولت کو محفوظ سمجھتے ہیں نہ اپنے بچوں کو محفوظ سمجھتے ہیں تو پھر ان کا پاکستان پر حق حاکمیت کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیمار ہو جائیں تو علاج بھی بیرون ملک کرواتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں جمہوری حکمرانوں کو صرف ہدف تنقید نہیں بنا سکتے کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔اس روائت و رواج کو ختم کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ یک طرفہ ختم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کے مسائل کا حل صرف Made in Pakistan قیادت کے پاس ہی ہے چاہے وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوری۔ جو پاکستان میں مسند اقتدار سے محبت کرتے ہیں انھیں پاکستان کی جیلوں اور اسپتالوں سے بھی محبت کرنا ہو گی۔ اقتدار کے اس کھیل کے تمام لوازمات قبول کرنا ہو نگے۔ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح علم حاصل کرنے لندن جا سکتے تھے تو پھر علاج کروانے لندن کیوں نہیں جا سکتے تھے۔ کیوں انھوں نے پاکستان میں ہی علاج کو ترجیح دی۔ کیوں وہ ایک ٹوٹی ایمبولینس میں سوار رہے۔ ہمیں قائد سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ جینا مرنا پاکستان ہے۔
میں کسی ایک سیاستدان پر تنقید نہیں کر رہا۔ عمران خان کے بچے بھی بیرون ملک ہیں۔ بھٹو زرداری خاندان بھی بیرون ملک رہنا پسند کرتا ہے۔ باقی سب کی داستان بھی یکساں ہے۔ ویسے تو ایک قانون بننا چاہیے کہ بیرون ملک علاج پر پابندی ہے۔ بیرون ملک اثاثوں پر پابندی ہے۔ بیرون ملک بچے رکھنے پر پابندی ہے۔ اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک ہجرت پر پابندی ہے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ یہ قانون بنائے گا کون۔ جمہوری اور غیرجمہوری سب ہی یکساں ہیں۔
پاکستان سے محبت کرنے کے لیے پاکستان میں رہنا ہو گا۔ ایک طرف ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم ایک محفوظ ملک ہیں۔آپ ہمارے ملک میں آئیں کھیلیں ۔ ہم ایک پر امن ملک ہیں۔ ویران کھیل کے میدان آباد کرنے کی ایک جستجو جاری ہے۔
سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی ہے۔ لیکن سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تھی تو ہمارے حکمران ملک سے باہر تھے۔ مجھے دکھ ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ پنجاب پولیس کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ شہباز شریف کا غصہ بھی پنجاب پولیس پر ہی نکال دیتے ہیں۔ لیکن کیا اتنا زبردست میچ منعقد کروانے پر لاہور پولیس کو خراج تحسین پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔کیا کوئی عمران خان سے سوال کر سکتا ہے کہ ایک طرف فوج نے وزیر ستان میں کرکٹ میچ منعقد کروایا ہے۔ لاہور پولیس نے لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ممکن بنائی ہے۔
عمران خان جن کی پہچان ہی کرکٹ ہے۔ وہ آج تک کرکٹ کی کمائی ہی کھا رہے ہیں۔ ان کی سیاسی کمائی بھی کرکٹ کی مرہون منت ہے۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے کے پی کے میں نیشنل اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔ کیا ان کی کے پی کے پولیس پشاور میں ایک میچ کروانے کی متحمل ہے۔ ہمیں اداروں کو سیاسی لڑائی میں فریق نہیں بنانا چاہیے۔ اگر یہ اصول ن لیگ پر عائد ہوتا ہے تو تحریک انصاف پر بھی عائد ہوتا ہے۔ بے شک لاہور پولیس اس کے افسران سی سی پی او امین وینس، حیدر اشرف اور ایاز سلیم شاباش کے مستحق ہیں کہ انھوں نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ بھی آنے ہیں اور سیکیورٹی بھی کرنی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ لاہور پولیس نے اس کام کو کیا ہے۔ کون بھول سکتا ہے کہ جب زمبابوے کی ٹیم لاہور آئی تھی تو دشمن نے لاہور پولیس پر حملہ کیا تھا۔ لاہور پولیس کے ایک انسپکٹر نے میچ اور ٹیم کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اور آج جب سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تو اسی انسپکٹر کا بھائی سری لنکا ٹیم کی حفاظت پر مامور تھا۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ یہ وہی کر سکتے ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان ہے۔ جن کی پاکستان سے محبت لازوال ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میںانٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سفر آسان نہیں ہے۔ جب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروایا گیا تھا تب بھی عمران خان نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہہ کر پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی تھی۔ آج بھی پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم پولیس کے غلط کام پر اس پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تو ان کی اچھی کارکردگی پر ان کی تعریف پر بھی بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ لاہور پولیس نے پورے ملک کی پولیس کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن امین وینس حیدر اشرف اور ان کی ٹیم نے بلا شبہ جان کی بازی لگائی ہے جس پر ان کو داد ملنی چاہیے۔
بات ہو رہی تھی Made in Pakistan کی ۔ جب تک ہم اپنے حکمرانوں کا چاہے وہ کسی بھی سطح پر حق حکمرانی استعمال کر رہے ہو ں کے لیے پاکستان میں جینے کے ساتھ مرنا بھی لازم نہیں کریں گے، ملک کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ جب انھیں پتہ ہو گا کہ یہ علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جا سکتے تو یہ ہمارے اسپتال ٹھیک کریں گے۔ جب ان کو پتہ ہو گا کہ باہر گھر نہیں بنا سکتے تو یہ پاکستان کو ٹھیک کریں گے۔ یہ چاہے پاکستان کی محبت میں نہ کریں لیکن اپنے رہنے کے لیے تو کریں گے۔
جب ان کے بچے ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے پر مجبور ہو نگے تو یہ ہمارے تعلیمی ادارے ٹھیک کریں گے۔ جب یہ پاکستان کی جیلوں سے فرار نہیں حاصل کریں گے تو ہماری جیلیں ٹھیک کریں گے۔جب انھیں پاکستان کے نظام عدل سے فرار حاصل نہیں ہو گا تو یہ ہمارا نظام عدل ٹھیک کریں گے۔ جب تک انھیں پتہ رہے گا کہ ان کے پاس بیرون ملک کا آپشن ہے یہ ہمارا ملک ٹھیک نہیں کریں گے۔ چاہے جمہوری حکمران ہوں یا غیر جمہوری حکمران ۔ سب ہی برابر کے مجرم ہیں۔ صرف جمہوریت کو گالی دینے سے غیر جمہوری اسٹیک ہولڈرز بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔سیاست پاکستان کی۔ حکمرانی پاکستان کی۔ دولت پاکستان کی، سکونت باہر یہ کیسے ممکن ہے۔
ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھنے والے سیاستدانوں کوملک سے محبت کا عملی ثبوت بھی دینا ہو گا۔ انھیں ہمیں یہ بتانا ہو گا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان ہے۔ تخت اور تختہ کے اس کھیل میں وہ پاکستان سے باہر اپنا کوئی مستقبل نہیں رکھتے۔ اگر اقتدار کے سہانے دن پاکستان میں گزارے جاتے ہیں تو کٹھن اور مشکل دن بھی پاکستان میں ہی گزارے جائیں گے۔ وہ بھی پاکستانی ہیں ان کے بچے بھی پاکستانی ہیں۔ ان کا مال و دولت بھی پاکستانی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے یہ اصول صرف سیاستدانوں پر ہی لاگو نہیں بلکہ اقتدار کے کھیل کے تمام کھلاڑیوں پر عائد ہوتے ہیں ۔یہ درست ہے کہ پاکستان کے تمام نامور سیاستدانوں کی دولت اور بچے بیرون ملک ہیں۔ لیکن ایسا صرف سیاستدانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ آمریت کے علمبردار بھی اس میں شامل ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف جب ملک کے مطلق العنان حکمران تھے ، ملک میں ان کے نام کو طوطی بولتا تھا، وہ بلا شرکت غیرے ملک کے اقتدار پر قابض تھے لیکن ان کا بیٹا پاکستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں تھا بلکہ وہ اپنے باپ کے دور صدارت میں بھی بیرون ملک مقیم تھا۔
ان کے بھائی بھی بیرون ملک تھے اور آج بھی وہ بیرون ملک ہیں۔ وہ پاکستان کو پوری طور پر انجوائے کرنے کے بعد ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی اچھی روائت نہیں۔ حالات کچھ بھی تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے جینے مرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ انھیں پاکستان میں رہنا چاہیے تھا اور مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح اور بھی کئی اعلیٰ سابق اعلیٰ افسران اور ان کے بچے بیرون ملک مقیم ہیں۔ جس طرح بیرون ملک مال و دولت اثاثے رکھنے والے سیاستدان قابل مذمت ہیں۔ اسی طرح وہ اعلیٰ افسران بھی قابل مذمت ہیں جن کا مال و دولت اثاثے اور بچے بیرون ملک ہیں۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سے ثمرات لپیٹنے والے ثمرات بیرون ملک منتقل کر کے یہ دعویٰ بھی کریں انھیں پاکستان کی خدمت کرنے کا حق ہے۔ جب بھی دوبارہ داؤ لگے وہ دوبارہ پاکستان آجائیں۔ جب جمہوری و غیر جمہوری حکمران بلا تفریق پاکستان میں نہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں نہ اپنی مال و دولت کو محفوظ سمجھتے ہیں نہ اپنے بچوں کو محفوظ سمجھتے ہیں تو پھر ان کا پاکستان پر حق حاکمیت کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیمار ہو جائیں تو علاج بھی بیرون ملک کرواتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں جمہوری حکمرانوں کو صرف ہدف تنقید نہیں بنا سکتے کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔اس روائت و رواج کو ختم کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ یک طرفہ ختم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کے مسائل کا حل صرف Made in Pakistan قیادت کے پاس ہی ہے چاہے وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوری۔ جو پاکستان میں مسند اقتدار سے محبت کرتے ہیں انھیں پاکستان کی جیلوں اور اسپتالوں سے بھی محبت کرنا ہو گی۔ اقتدار کے اس کھیل کے تمام لوازمات قبول کرنا ہو نگے۔ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح علم حاصل کرنے لندن جا سکتے تھے تو پھر علاج کروانے لندن کیوں نہیں جا سکتے تھے۔ کیوں انھوں نے پاکستان میں ہی علاج کو ترجیح دی۔ کیوں وہ ایک ٹوٹی ایمبولینس میں سوار رہے۔ ہمیں قائد سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ جینا مرنا پاکستان ہے۔
میں کسی ایک سیاستدان پر تنقید نہیں کر رہا۔ عمران خان کے بچے بھی بیرون ملک ہیں۔ بھٹو زرداری خاندان بھی بیرون ملک رہنا پسند کرتا ہے۔ باقی سب کی داستان بھی یکساں ہے۔ ویسے تو ایک قانون بننا چاہیے کہ بیرون ملک علاج پر پابندی ہے۔ بیرون ملک اثاثوں پر پابندی ہے۔ بیرون ملک بچے رکھنے پر پابندی ہے۔ اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک ہجرت پر پابندی ہے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ یہ قانون بنائے گا کون۔ جمہوری اور غیرجمہوری سب ہی یکساں ہیں۔
پاکستان سے محبت کرنے کے لیے پاکستان میں رہنا ہو گا۔ ایک طرف ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم ایک محفوظ ملک ہیں۔آپ ہمارے ملک میں آئیں کھیلیں ۔ ہم ایک پر امن ملک ہیں۔ ویران کھیل کے میدان آباد کرنے کی ایک جستجو جاری ہے۔
سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی ہے۔ لیکن سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تھی تو ہمارے حکمران ملک سے باہر تھے۔ مجھے دکھ ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ پنجاب پولیس کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ شہباز شریف کا غصہ بھی پنجاب پولیس پر ہی نکال دیتے ہیں۔ لیکن کیا اتنا زبردست میچ منعقد کروانے پر لاہور پولیس کو خراج تحسین پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔کیا کوئی عمران خان سے سوال کر سکتا ہے کہ ایک طرف فوج نے وزیر ستان میں کرکٹ میچ منعقد کروایا ہے۔ لاہور پولیس نے لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ممکن بنائی ہے۔
عمران خان جن کی پہچان ہی کرکٹ ہے۔ وہ آج تک کرکٹ کی کمائی ہی کھا رہے ہیں۔ ان کی سیاسی کمائی بھی کرکٹ کی مرہون منت ہے۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے کے پی کے میں نیشنل اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔ کیا ان کی کے پی کے پولیس پشاور میں ایک میچ کروانے کی متحمل ہے۔ ہمیں اداروں کو سیاسی لڑائی میں فریق نہیں بنانا چاہیے۔ اگر یہ اصول ن لیگ پر عائد ہوتا ہے تو تحریک انصاف پر بھی عائد ہوتا ہے۔ بے شک لاہور پولیس اس کے افسران سی سی پی او امین وینس، حیدر اشرف اور ایاز سلیم شاباش کے مستحق ہیں کہ انھوں نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ بھی آنے ہیں اور سیکیورٹی بھی کرنی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ لاہور پولیس نے اس کام کو کیا ہے۔ کون بھول سکتا ہے کہ جب زمبابوے کی ٹیم لاہور آئی تھی تو دشمن نے لاہور پولیس پر حملہ کیا تھا۔ لاہور پولیس کے ایک انسپکٹر نے میچ اور ٹیم کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اور آج جب سری لنکا کی ٹیم پاکستان آئی تو اسی انسپکٹر کا بھائی سری لنکا ٹیم کی حفاظت پر مامور تھا۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ یہ وہی کر سکتے ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان ہے۔ جن کی پاکستان سے محبت لازوال ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میںانٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا سفر آسان نہیں ہے۔ جب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروایا گیا تھا تب بھی عمران خان نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہہ کر پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی تھی۔ آج بھی پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب ہم پولیس کے غلط کام پر اس پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تو ان کی اچھی کارکردگی پر ان کی تعریف پر بھی بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ لاہور پولیس نے پورے ملک کی پولیس کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن امین وینس حیدر اشرف اور ان کی ٹیم نے بلا شبہ جان کی بازی لگائی ہے جس پر ان کو داد ملنی چاہیے۔
بات ہو رہی تھی Made in Pakistan کی ۔ جب تک ہم اپنے حکمرانوں کا چاہے وہ کسی بھی سطح پر حق حکمرانی استعمال کر رہے ہو ں کے لیے پاکستان میں جینے کے ساتھ مرنا بھی لازم نہیں کریں گے، ملک کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ جب انھیں پتہ ہو گا کہ یہ علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جا سکتے تو یہ ہمارے اسپتال ٹھیک کریں گے۔ جب ان کو پتہ ہو گا کہ باہر گھر نہیں بنا سکتے تو یہ پاکستان کو ٹھیک کریں گے۔ یہ چاہے پاکستان کی محبت میں نہ کریں لیکن اپنے رہنے کے لیے تو کریں گے۔
جب ان کے بچے ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے پر مجبور ہو نگے تو یہ ہمارے تعلیمی ادارے ٹھیک کریں گے۔ جب یہ پاکستان کی جیلوں سے فرار نہیں حاصل کریں گے تو ہماری جیلیں ٹھیک کریں گے۔جب انھیں پاکستان کے نظام عدل سے فرار حاصل نہیں ہو گا تو یہ ہمارا نظام عدل ٹھیک کریں گے۔ جب تک انھیں پتہ رہے گا کہ ان کے پاس بیرون ملک کا آپشن ہے یہ ہمارا ملک ٹھیک نہیں کریں گے۔ چاہے جمہوری حکمران ہوں یا غیر جمہوری حکمران ۔ سب ہی برابر کے مجرم ہیں۔ صرف جمہوریت کو گالی دینے سے غیر جمہوری اسٹیک ہولڈرز بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔سیاست پاکستان کی۔ حکمرانی پاکستان کی۔ دولت پاکستان کی، سکونت باہر یہ کیسے ممکن ہے۔