شاہ زیب قتل کیس کو خصوصی عدالت سے منتقل کرنیکی درخواست مسترد

مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 97کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے یہ عدالت سماعت کی مجاز نہیں، سیشن کورٹ منتقل کیا جائے

مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 97کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے یہ عدالت سماعت کی مجاز نہیں، سیشن کورٹ منتقل کیا جائے، وکیل صفائی فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شاہ زیب قتل کیس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے سیشن کورٹ منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی اور مقدمے کی سماعت کے لیے 7مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے منتقل کرنے کے لیے سینیئر وکیل سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ شوکت زبیدی نے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 97کے زمرے میں نہیں آتا، اسی لیے یہ عدالت اس مقدمے کی سماعت کی مجاز نہیں اور مقدمہ سماعت کے لیے سیشن عدالت منتقل کیا جائے۔ شوکت زبیدی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ ملزمان کے اقدام سے معاشرے میں دہشت گردی نہیں پھیلی بلکہ معاشرے میں دہشت گردی میڈیا نے پھیلائی۔




تفتیشی افسرنے بدنیتی کی بنیاد پرایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کا اضافہ کیا۔ استغاثہ کے مطابق درخشاں پولیس اسٹیشن کی حدود میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، مرتضیٰ لاشاری ، سجاد تالپور اور دیگر نے 24دسمبر 2012کی رات ڈی ایس پی اورنگزیب کے 20سالہ بیٹے شاہ زیب کی کارکاتعاقب کرتے ہوئے اس پر فائرنگ کی اور اسکی گاڑی کوٹکر ماری ، جسکے نتیجے میں شاہ زیب ہلاک ہوگیا۔ مقدمہ منتقل کرنیکی درخواست پر فریقین کے وکلاکے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محٖفوظ کرلیا تھاجو منگل کو سنایاگیا۔
Load Next Story