سندھ ہائیرایجوکیشن کمیشن ایکٹحکومت نے جواب داخل نہیں کیا

حکومت تاخیری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے،درخواست گزاروں کے وکلا کاموقف


Staff Reporter March 06, 2013
حکومت تاخیری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے،درخواست گزاروں کے وکلا کاموقف فوٹو: فائل

سندھ ہائیرایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2013 کے خلاف درخواستوں پر وفاقی صوبائی حکومت کی جانب سے جواب داخل نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے منگل کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وکلا کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کرنے پر سماعت 20مارچ تک ملتوی کردی، ہائیرایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2013 کے خلاف سابق چیئرمین ہائیرایجوکیشن اور سابق وفاقی وزیر عطاء الرحمٰن اور مسلم لیگی رہنماماروی میمن نے انورمنصورخان ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی ہے جبکہ اس سے قبل پاک چائنا فاؤنڈیشن کی جانب سے ندیم احمد پہلے اس سلسلے میں درخواست دائر کرچکے ہیں۔

6

 

منگل کوسماعت کے موقع پر سرکاری وکلا کی جانب سے مہلت طلب کرنے پر درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اختیار کیاکہ حکومت دانستہ درخواستوں کی سماعت ملتوی کرانے کیلیے تاخیری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے کیونکہ انتخابات سر پر ہیں اور جعلی ڈگریوں والے ارکان اسمبلی ہائیرایجوکیشن کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ کمیشن کو اس دباؤ سے محفوظ رکھنے کیلیے حکم امتناع جاری کردیا جائے۔

تاہم بینچ نے ان کی درخواست نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت کمیشن کی اہمیت سمجھتی ہے اور یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے لیکن صوبائی ہائیرایجوکیشن کمیشن کا فوری فعال ہونا ممکن نہیں۔ عدالت ان درخواستوں پر بروقت فیصلہ سنادیگی۔ اس سے قبل پاک چائنا فاؤنڈیشن کے ندیم شیخ اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اختیارکیاگیا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کیلیے اربوں روپے کے فنڈز حاصل کیے ہیں اور سرکاری ادارے انھیں ہڑپ کرنے کیلیے کمیشن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔