ایران کی پاکستان کو مقامی کرنسی میں تجارت کی پیشکش
اسٹیٹ بینک کے سگنل کا انتظار ہے،سنگل کرنسی سے تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوگا،پاکستان کوگیس کے ساتھ۔۔۔،ایرانی قونصل جنرل
ٹیکسٹائل، فوڈپروسیسنگ ودیگرشعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرناچاہتے ہیں، فیڈریشن ہاؤس میں خطاب، آئی پی پراجیکٹ پر امریکی تحفظات غیرمنطقی ہیں، طارق سعید۔ فوٹو: فائل
یکساں کرنسی میں تجارت کرکے پاک ایران تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جاسکتی ہیں۔
پاکستان کو گیس فراہمی کے لیے پائپ لائن سمیت ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی کے بھی تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ یہ بات کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل مہدی سبحانی نے گزشتہ روز فیڈریشن ہاؤس میں تاجروں کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران گیس پائپ لائن ایرانی بارڈرز تک پہنچ چکی ہے اور 11 مارچ کو ہونے والے معاہدے کے بعد پاکستان میں بھی اس پائپ لائن پر کام شروع کردیا جائے گا، ایران سے آنے والی پائپ لائن سے جو گیس پاکستان کو ملے گی اس سے پاکستان کی ایک تہائی انرجی ضروریات پوری ہوسکیں گی۔
اس موقع پر طارق سعید،بیگم سلمیٰ احمد،میاں ناصر حیات مگوں ،عبدالہادی خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود دنیا بھر کے ممالک سے درآمدات و برآمدات کرنے کا تجربہ رکھتا ہے، ایران بھارت سے بھاری مقدار میں دو طرفہ تجارت کر رہا ہے اوربھارت کو آئل سپلائی کرتا ہے اور بھارت سے اپنی ضرورت کے مطابق اشیا درآمدکر لیتا ہے تاہم ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایک کرنسی میں تجارت ہو تاکہ دوطرفہ تجارت بڑھ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے اور پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں لیکن ایران ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے ہرطرح کی پابندیوں سے نمٹ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر چکا ہے، پاکستان اور ایران میں تجارتی رکاوٹ کی بنیادی وجہ کرنسی ہے، اگر مشترکہ کرنسی سے کام لیا جائے تو دوطرفہ تجارت میں بے پناہ اضافے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سنگل کرنسی کے لیے تمام کام مکمل کر چکا ہے اور اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سگنل کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی تاجر گیس پائپ لائن اور توانائی کے منصوبوں کے علاوہ ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبے میں بھی مشترکہ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ایران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث کسی بڑی مشکل کا سامنا ہے، ایران پر یہ پابندی پہلی مرتبہ نہیں بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران بھی لگ چکی ہے اور ایران نے ان پابندیوں سے نمٹنے کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت و صنعت سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو بزنس ویزے کے علاوہ ملٹی پل ویزا بھی جاری کرنے کے احکام جاری کر دیے گئے ہیں اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی تاجر اور صنعت کار ایران کا زیادہ سے زیادہ دورہ کریں۔
اس موقع پر طارق سعید نے کہا کہ امریکا کو پاک ایران گیس پائپ لائن کو غیرمنطقی تحفظات ہیں، اگر اسے پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ ناپسند ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستان کی گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر ذرائع سے توانائی بحران کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس موقع پر فیڈریشن چیمبر آف کامرس انڈسٹری کی نائب صدر سلمیٰ احمد نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی موجودہ درآمدات و برآمدات نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر اس پر مثبت کوشش کی جائے تو تجارتی حجم 5 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کو گیس فراہمی کے لیے پائپ لائن سمیت ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی کے بھی تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ یہ بات کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل مہدی سبحانی نے گزشتہ روز فیڈریشن ہاؤس میں تاجروں کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران گیس پائپ لائن ایرانی بارڈرز تک پہنچ چکی ہے اور 11 مارچ کو ہونے والے معاہدے کے بعد پاکستان میں بھی اس پائپ لائن پر کام شروع کردیا جائے گا، ایران سے آنے والی پائپ لائن سے جو گیس پاکستان کو ملے گی اس سے پاکستان کی ایک تہائی انرجی ضروریات پوری ہوسکیں گی۔
اس موقع پر طارق سعید،بیگم سلمیٰ احمد،میاں ناصر حیات مگوں ،عبدالہادی خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود دنیا بھر کے ممالک سے درآمدات و برآمدات کرنے کا تجربہ رکھتا ہے، ایران بھارت سے بھاری مقدار میں دو طرفہ تجارت کر رہا ہے اوربھارت کو آئل سپلائی کرتا ہے اور بھارت سے اپنی ضرورت کے مطابق اشیا درآمدکر لیتا ہے تاہم ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایک کرنسی میں تجارت ہو تاکہ دوطرفہ تجارت بڑھ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے اور پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں لیکن ایران ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے ہرطرح کی پابندیوں سے نمٹ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر چکا ہے، پاکستان اور ایران میں تجارتی رکاوٹ کی بنیادی وجہ کرنسی ہے، اگر مشترکہ کرنسی سے کام لیا جائے تو دوطرفہ تجارت میں بے پناہ اضافے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سنگل کرنسی کے لیے تمام کام مکمل کر چکا ہے اور اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سگنل کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی تاجر گیس پائپ لائن اور توانائی کے منصوبوں کے علاوہ ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبے میں بھی مشترکہ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ایران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث کسی بڑی مشکل کا سامنا ہے، ایران پر یہ پابندی پہلی مرتبہ نہیں بلکہ ایران عراق جنگ کے دوران بھی لگ چکی ہے اور ایران نے ان پابندیوں سے نمٹنے کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت و صنعت سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو بزنس ویزے کے علاوہ ملٹی پل ویزا بھی جاری کرنے کے احکام جاری کر دیے گئے ہیں اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی تاجر اور صنعت کار ایران کا زیادہ سے زیادہ دورہ کریں۔
اس موقع پر طارق سعید نے کہا کہ امریکا کو پاک ایران گیس پائپ لائن کو غیرمنطقی تحفظات ہیں، اگر اسے پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ ناپسند ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستان کی گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر ذرائع سے توانائی بحران کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس موقع پر فیڈریشن چیمبر آف کامرس انڈسٹری کی نائب صدر سلمیٰ احمد نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی موجودہ درآمدات و برآمدات نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر اس پر مثبت کوشش کی جائے تو تجارتی حجم 5 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔