نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کیلیے ایمنسٹی اسکیم نوٹیفکیشن جاری

اسکیم31 مارچ تک نافذالعمل، ٹیمپر ڈواسمگل شدہ گاڑیوں کو بھی قانونی حیثیت دی جا سکے گی۔


Numainda Express March 07, 2013
سپریم کورٹ نے کارروائی کے احکام دیے، ایف بی آر اسکیم لے آیا، چیلنج کردی جائیگی، ماہرین۔ فوٹو: فائل

ایف بی آر نے غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے ایمنسٹی اسکیم کا باضابطہ اعلان کردیا اور اس اسکیم کے اطلاق کیلیے ایس آر او نمبر172(I)2013 جاری کردیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے ایمنسٹی اسکیم 31 مارچ 2013 تک نافذ العمل ہوگی اور اس اسکیم کا اطلاق ان گاڑیوں پر بھی ہوگا جو کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ضبط کی گئی ہونگی انکے مالکان اس اسکیم کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹی جمع کراکر اپنی ضبط شدہ گاڑیاں واپس لے سکیں گے تاہم ایف بی آر حکام اور ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایمنسٹی اسکیم عدالت میں چیلنج ہونے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی پہلے سے ہی غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ، ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوں کے مالکان کیخلاف کارروائی کے احکام جاری کررکھے ہیں جس پر ایف بی آر نے کارروائی شروع کی تھی لیکن ان گاڑیوں کے مالکان چونکہ انتہائی باثر ہیں اس لیے اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے اور اب ایف بی آر نے ان بااثر لوگوں کو بچانے کیلیے ایمنسٹی دیدی ہے اس لیے زیادہ امکان ہے کہ اس اسکیم کیخلاف پٹیشن دائر ہوجائیگی جبکہ ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے کہ موجودہ چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے کہہ دیا تھاکہ ان ڈاکیومنٹڈ اکانومی کو ڈاکیومنٹڈ بنانے کیلیے آؤٹ آف دی باکس کوئی حل نکالنا ہوگا اور اس کیلیے ایمنسٹی اسکیم تیار کرنیکا کہا تھا۔

2

مذکورہ افسر نے بتایا کہ دو روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے بل کی منظوری دی اور اگر یہ پارلیمنٹ سے منظور ہوجاتی ہے تو اس صورت میں اسے بھی متعارف کرایا جائیگا لیکن گاڑیوں کیلیے ایمنسٹی لانے کی چونکہ ایف بی آر کو اختیار حاصل تھا اس لیے ایف بی آر نے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اس اسکیم کا اعلان اور نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایمنسٹی اسکیم کے تحت پی ٹی سی ہیڈنگ 87.03 کے زمرے میں آنے والی 800 سی سی سے 1800 تک کی غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ،ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں پر قانونی حیثیت دینے کیلیے ڈالر میں عائد کردہ ٹیکس واجبات لیے جائیں گے، مذکورہ کاروں کو ایک فیصد ماہانہ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 60 فیصد تک فرسودگی کی اجازت ہوگی۔

البتہ 5 سال پرانی دوسری تمام غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ،ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے ایک فیصد ماہانہ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 72 فیصد تک شکست و ریخت کی اجازت ہوگی جبکہ 5 سال سے زیادہ پرانی 800 سی سی سے 1800 تک کی غیر قانونی و نان کسٹمز پیڈ،ٹیمپرڈ اور اسمگل شدہ کاروں کیلیے مزید 5 فیصد شکست و ریخت کی اجازت ہوگی تاہم اس کیلیے شرط یہ ہے کہ ان پر کم ازکم ٹیکس کی رقم پاکستانی کرنسی میں 500 ڈالر کے برابر ہونی چاہیے جبکہ دوسری تمام 6سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کیلیے مزید 5 فیصد فرسودگی کی اجازت ہوگی البتہ ان پر کم از ٹیکس ایک لاکھ روپے ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے واجبات کے 1 فیصد کے برابر ریڈمشن فائن بھی لیا جائیگا۔