کراچی میں رینجرز کو خراج تحسین دینے کا وقت

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کراچی میں امن کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیں

msuherwardy@gmail.com

کراچی میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کے حوالہ سے ایک عجیب بحث شروع ہے۔ کوئی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے کوئی اور راگ الاپ رہا ہے۔ اتنے سارے شور میں مجھے ایسا لگا جیسے کراچی میں پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد کوئی ملک دشمنی تھی۔ یہ کوئی پاکستان مخالف حکمت عملی تھی۔ اس سے پاکستان کی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اتنی حیران ہیں کہ جیسے کوئی کام پہلی دفعہ ہوا ہو۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان کشمکش کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ کھیل ستر سال سے جاری ہے۔ ان کی لڑائی بھی جعلی اور صلح بھی جعلی ہے۔ اپنے اپنے مفاد کے لیے جس کا جب دل چاہتا ہے دوسرے سے ہاتھ ملا لیتا ہے۔ اس کھیل میں سیاسی جماعتیں اور اسٹبلشمنٹ دونوں برابر کی شریک ہیں۔ جو آج اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر سوال اٹھا رہے وہ کل اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر چڑھ کر ہی یہاں پہنچے تھے۔ جو آج اصول کی بات کر رہے ہیں ان کا اپنا ماضی کتنا داغدار ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ جو آج کمیشن کی بات کر رہے ہیں وہ آج بھی اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

لیکن میں کراچی کی بات کر رہا ہوں۔ کراچی کے کیا حالات تھے۔ بھتہ عروج پر تھا۔ ٹارگٹ کلنگ کا راج تھا۔ شہر مافیا کے قبضہ میں تھا۔ نہ کسی کی عزت محفوظ تھی اور نہ ہی کسی کی دولت محفوظ تھی۔ شہر سے انخلا شروع تھا۔ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی پر دشمن کا قبضہ ہو چکا تھا۔ کاروبار بند تھا، کاروباری بھاگ رہے تھے۔ سیاست بند تھی، سیاسی لوگ بھاگ رہے تھے۔ دشمن نے کراچی میں ایک ایسا نیٹ ورک کھڑا کر لیا تھا جس کے آگے پورا پاکستان سرنگوں تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ الطاف حسین کے خلاف یہ کوئی پہلا آپریشن تھا۔ پہلے بھی آپریشن کیے گئے اور بعد میں ملک کے وسیع تر مفاد میں معافی بھی دی گئی۔ لیکن اس بار تو بات حد سے گزر گئی تھی۔ فرد واحد لندن میں بیٹھا ملک کی قسمت سے کھیل رہا تھا۔

آج جو سوال کر رہے ہیں وہ تب کہاں تھے جب بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ ہوا۔ جب بھتہ کے لیے لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ وہ تب کہاں تھے جب نائن زیرو کے ایک اعلان پر شہر بند ہو جاتا تھا۔جب لسانی بنیادوں پر بوری بند لاشوں کی تجارت شروع ہوئی۔ جب شہر میں دن دہاڑے ڈاکے ڈالے گئے اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ جب پولیس والوں کو مارا جا رہا تھا۔ جب سچ لکھنے والے صحافیوں کو مارا جا رہا تھا۔جب ایک کال پر شہر میں چینل بند ہو جاتے تھے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایک نہیں کراچی میں بقا کے لیے سب سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ افراد کا سہارا لینے پر مجبور تھیں۔ خود پیپلزپارٹی عزیر بلوچ اور دیگر کے ہاتھ میں یرغمال ہو گئی تھی۔ پاکستان کی قسمت لندن میں بیٹھے ایک شخص کے ہاتھ میں یرغمال تھی اور وہ دشمن کا ایجنٹ بن چکا تھا۔

جو سیاسی جماعتیں آج کراچی میں اسٹبلشمنٹ کے کردار پر سوال کر رہے ہیں۔ کیا یہ سیاسی جماعتیں کراچی کے مسائل حل کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف بھی کریں گی۔ جنھیں آج پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں وہ اپنی ناکامی کا کیا جواب دیں گی۔ کیا وہ بتانا پسند کریں گے کہ ان کے پاس کراچی کے مسائل کا سیاسی حل کیوں نہیں تھا۔ کیوں نہیں وہ دشمن کے ایجنٹ کو سیاسی میدان میں شکست دے سکے۔ آج اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر سوال اٹھانے والے کراچی میں اپنی سیاسی ناکامی کا اعتراف کریں گے۔ آج کراچی میں اپنا سیاسی کردار دیکھنے والے کل کراچی سے کیوں بھاگ گئے تھے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ دشمن کراچی میں مشرقی پاکستان کا کھیل کھیل رہا تھا۔ ایک نیا مجیب بنایا جا رہا تھا۔ مکتی باہنی کی طرز پر کراچی میں ایک مافیا بنا دیا گیا۔ مکتی باہنی کی طرز پر ہی لوگوں کو بھارت میں ٹریننگ دی گئی۔ مشرقی پاکستان کی طرز پر ہی کراچی کا امن وامان خراب کیا گیا۔ وہی پلان تھا۔لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو عقل نہیں آئی۔ وہ بھی ویسے ہی behave کر رہی ہیں جیسے سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت کر رہی تھیں۔


آج کراچی میں امن لوٹ رہا ہے۔ بھتہ خوری بہت کم ہوئی ہے۔ نائن زیرو بند ہو گیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کم ہو گئی ہے۔ امن لوٹ رہا ہے۔ لندن میں بیٹھے ایک شخص کی دہشت ختم ہو گئی ہے۔ ہم آج جن پر سوال اٹھا رہے ہیں یہی ان کا کام تھا کہ الطاف حسین کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے آگیا۔ اس کو اتنا زچ کر دیا گیا ہے کہ اس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ کیا یہ کراچی میں رینجرز کی کامیابی نہیں کہ الطاف حسین کا راج ختم ہو گیا ہے۔

آج ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کراچی میں امن کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن افسوس پاکستان کی سیاسی قیادت رینجرز کو کریڈٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کراچی میں امن کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ دونوں سیایس جماعتوں نے اپنی ناکامی کو مانتے ہوئے رینجرز کو یہ ٹاسک دیا۔ لیکن بعدمیں سب پیچھے ہٹ گئے۔ کوئی پیپلز پارٹی سے سوال کر سکتا ہے کہ رینجرز کے اختیارات کے مسئلہ پر انھوں نے کتنی بار رکاوٹ پیدا کی ہے۔ اپنے سیاسی مفاد کے لیے کراچی آپریشن میں کتنی بار رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ن لیگ کا کردار بھی کوئی مثالی نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے سیاسی مفاد کے لیے الطاف حسین سے بات کی جاتی رہی۔ کیا پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے کبھی متفقہ طور پر الطاف حسین کی مذمت کی ہے۔

کیوں کراچی میں امن کی بحالی پر رینجرز اور اسٹبلشمنٹ کو خراج تحسین پیش نہیں کیا جاتا۔ پتہ نہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی میں رینجرز کی کامیابیوں پر خوش نہیں ہیں۔ گلہ کرنے والوں کے لب پر کبھی تعریف نہیں سنی۔ ایسا کیوں ہے۔

آج جب کراچی میں امن کا پھول کھل رہا ہے۔ پی ایس ایل کا فائنل بھی کراچی میں ہونے کی بات ہو رہی ہے۔کراچی کی رونقیں لوٹ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ پیپلزپارٹی بھی کراچی میں سیٹ جیت گئی ہے۔ کیوں پاکستان کی سیاسی جماعتیں کراچی کے سیاسی حل میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔ کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیںاپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفاد کی خاطر کراچی کی جیت کو ہار میں بدلنا چاہتی ہیں۔ جیسے سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت ہماری سیاسی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے ہم سانحہ مشرقی پاکستان کا سیاسی حل تلاش نہیں کر سکے تھے۔

اس لیے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جتنا اہم کراچی میں امن کا لوٹنا تھا اتنا ہی اہم کراچی کا سیاسی حل ہے۔ اگر ہم کراچی کے سیاسی مسائل کا حل تلاش نہیں کریں گے تو آج تک کی کامیابیاں بھی ناکامی بن جائیں گی۔ ہم جیتی ہوئی جنگ ہار جائیں گے اور دشمن ہاری ہوئی جنگ جیت جائے گا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کم از کراچی کی حد تک ہماری سیاسی جماعتیں اسٹبلشمنٹ اور بالخصوص رینجرز کے قدم سے قدم ملا کر چلیں ۔ کراچی کا سیاسی حل پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ ہمیں اس کا ادراک کرنا ہو گا۔

آپ پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے اتحاد پر سوال اٹھا رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ کراچی ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی سوچ تو سادی سمجھ آرہی ہے کہ وہ دشمن سے لڑنے کے لیے کراچی میں محب وطن قوتوں کا ایسا اتحاد چاہتی ہیں جو دشمن سے لڑ سکے۔ دشمن کے ایجنٹوں کو سیاسی صفوں سے نکالنا چاہتی ہے۔ کالی بھیڑوں کا صفایا چاہتی ہے۔ یہ کوئی بری سوچ نہیں ہے۔ اس میں اسٹبلشمنٹ کی مدد کرنی چاہیے اگر ایک الیکشن کی قربانی بھی دینی پڑے تو یہ کوئی بڑی قربانی نہیں ہو گی۔ یہ وقت اسٹبلشمنٹ سے لڑنے کا نہیں بلکہ کراچی کی حد تک ان کی مدد کرنے کا ہے۔ باقی سب بعد میں دیکھا جائے گا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کہیں ہماری بات سے دشمن کو تقویت تو نہیں مل رہی۔ کہیں دشمن مضبوط تو نہیں ہو رہا۔
Load Next Story