حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2017 منظور

بل کے تحت قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ کی آئین میں درج حیثیت برقرار رہے گی۔

ترمیمی بل میں ختم نبوت سے حوالےسے سیون سی اور سیون بی کا اصل مسودہ اب بھی قائم ہے، وفاقی وزیرقانون ۔ فوٹو : فائل

قومی اسمبلی نے نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم اور الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم بل 2017 منظورکرلیا گیا ، ترمیم کی حمایت میں 242 اور مخالفت میں ایک ووٹ آیا، نئی آئینی ترمیم میں تمام جماعتوں کے تحفظات کو شامل کر لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے وائس چیرمین محمود قریشی نے کہا کہ آ ئین میں درج ہے کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں لازمی ہیں، آئین کہتا ہے کہ مردم شماری نئی حلقہ بندیوں پر ہوگی اگر حتمی نتائج پر جائیں تو شماریات کاکہنا ہے کہ اس میں تاخیر ہوگی لیکن ہم بروقت انتخابات چاہتے ہیں اور اس لئے آئینی ترمیم کو زیر غور لایا جائے، ہم نے اس پر مکمل تعاون کیا ہے اورکرنا چاہتے ہٰیں کیوں کہ ہم آئین کی پاسداری اور جمہوریت کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔



پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ مردم شماری میں تاخیر کیوں کی گئی مردم شماری میں تاخیر ہمیں آئینی بحران میں پھنسا رہی ہے، ان اسباب کو دیکھا جائے جن کی وجہ سے مردم شماری میں تاخیر ہوئی اور ان کا سدباب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا عمل نہیں رکے گا اور ہم عارضی حل کے طور پر ترمیم کی حمایت کرنے جا رہے ہیں مگر یہ طریقہ کار رائج نہیں ہونا چاہئے 2018 کے انتخابات کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں ہونی چاہئے۔



ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ اس بات کی خوشی ہے کہ کراچی اور سندھ کے شہری حلقوں کو بڑا مسئلہ مانا گیا ہے، بالاخر کراچی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اجاگر ہوا، کراچی کی آبادی کے معاملے کو حل کر لیا گیا تو گزشتہ 70 سالوں کا رونا کہ دیوار سے لگایا جا رہا ہے ختم ہو جائے گا اور کراچی قومی دھارے میں آجائے گا۔




آئینی ترمیم کے مخالف جمشید دستی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تارٰیخ مین سیاہ دن ہے جب کہ وہ اس ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، پارلیمنٹ سے غیر آئینی ترمیم پاس کی جارہی ہے میں قوم کا مقدمہ لے کر کھڑا ہوں اگر پارلیمنٹ درست فیصلے کرتی تو یہ فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج نہ ہوتے۔



دوسری جانب قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل 2017 پیش کیا۔ بل کے تحت قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ کی آئین میں درج حیثیت برقرار رہے گی، انتخابی ایکٹ میں ختم نبوت کے حلف نامے انگریزی اور اردو میں شامل کیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ختم نبوت کا حلف نامہ اصل حالت میں بحال



ختم نبوت حلف نامے سے متعلق وزیرقانون زاہد حامد نے وضاحت بھی پیش کی، ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں اب اس بات پر متفق ہیں کہ اس شق کو اصل صورت میں بحال کردیا جائے جب کہ سیون سی اور سیون بی کے الفاظ وہی ہیں جو پہلے تھے، دونوں حلف نامے انتخابی ایکٹ میں شامل کردیئے گئے ہیں جب کہ میں عاشق رسول ہوں اور 2 حج اور کئی عمرے کرچکا ہوں ختم نبوت کے حوالے سے شقوں میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ زاہد حامد نے کہا کہ 2002 کے انتخابات سے قبل حکومت نے الیکشن آرڈر نافذ کیا۔

زاہد حامد کے بیان پر احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی شخص کا ایمان اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہوتا ہے، کیا ہم گلی گلی جا کر بتائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ جس پر شیخ رشید احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ احسن اقبال کو کچھ بھی معلوم نہیں اور وہ اٹھ کر باتیں کرنا شروع ہوگئے، زاہد حامد نے یہ بیان اپنی صوابدید پر دیا، انہیں کسی نے نہیں کہا کہ وہ بیان دیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسپیکر صاحب میں آپ کی رولنگ چاہوں گا، ایک وزیر کچھ کہہ رہا ہے جب کہ دوسرا کچھ، اگر کوئی احمدی یا مرزائی ہے تو اسے بتانا ہوگا کہ وہ کون ہے جب کہ الیکشن ایکٹ کی شق سیون بی اور سیون سی بحال ہونے کے بعد قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ غیرمسلم مانے جائیں گے۔

Load Next Story