لارا کی موجودگی میں سائمنڈز نے شراب کا گلاس میرے سر پر انڈیلا، کلارک

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 20 اکتوبر 2016
کلارک نے لکھا کہ سائمنڈز کیخلاف ڈسپلنری مسائل پر ایکشن لیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

کلارک نے لکھا کہ سائمنڈز کیخلاف ڈسپلنری مسائل پر ایکشن لیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

سڈنی: سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ اینڈریو سائمنڈز سے دوستی ختم ہونے پر مجھے شدید دکھ پہنچا تھا، مجھے ایسا لگا کہ میری موت واقع ہوگئی ہے۔

سائمنڈز نے ایک موقع پر بارباڈوس کے ایک ریسٹورنٹ میں برائن لارا کی موجودگی میں شراب سے بھرا گلاس میرے سرپر الٹ دیا تھا، اپنی سوانح حیات میں کلارک نے سائمنڈز سے دوستی ٹوٹنے پر دکھ کا بھرپور اظہار کیا۔

2008 میں نائب کپتان بنائے جانے کے بعد کلارک اور سائمنڈز کے تعلقات میں تلخی آگئی تھی، سائمنڈز ان سے ناراض ہوکر چلے گئے تھے۔

کلارک نے لکھا کہ سائمنڈز کیخلاف ڈسپلنری مسائل پر ایکشن لیا گیا، اس معاملے پر میں نے کپتان رکی پونٹنگ سے اتفاق کیا تھا جبکہ کچھ سابق ٹیم ساتھی آل راؤنڈر کی حمایت کررہے تھے، انھوں نے سائمنڈزکے کان بھرے کہ اسے سزا دلانے میں میرا کردار ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔