نیوزی لینڈ میں زلزلے سے بننے والی 15 فٹ اونچی دیوار نے سب کو حیران کردیا

ویب ڈیسک  منگل 29 نومبر 2016
یونیورسٹی آف کینٹبری کی ایک ٹیم نے زلزلے کے بعد زمین کے اپنی جگہ سے کھسکنے پر تحقیق شروع کردی۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل

یونیورسٹی آف کینٹبری کی ایک ٹیم نے زلزلے کے بعد زمین کے اپنی جگہ سے کھسکنے پر تحقیق شروع کردی۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ میں حال ہی میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد نواحی علاقے میں قدرتی طور پر بننے والی 15 فٹ اونچی دیوار نے سب کو حیران کردیا۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے شمال میں 14 نومبر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد ماہرین کی ٹیم وہاں پہنچی جہاں انہوں نے زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی کے مناظر کا جائزہ لیا جب کہ ماہرین کو نقصان کا تخمینہ لگانے کے دوران ایک ایسی قدرتی دیوار بھی ملی جس کی اونچائی 15 فٹ تھی جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے جب کہ اس دیوار کو “دیوار چین” کا نام بھی دیا جارہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت کے باعث گھڑے پڑنا اور زمین کی سطح میں ابھار آنا تشویشناک ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین کا ایک حصہ اپنے مقام سے منتقل ہورہا ہے۔ یونیورسٹی آف کینٹبری کی ایک ٹیم نے زلزلے کے بعد زمین کی اپنی جگہ سے کھسکنے پر تحقیق شروع کردی جب کہ ٹیم میں شامل ڈاکٹر کیٹی پیڈلے کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد زمین پر پڑنے والے گھڑوں کی تصاویر لے لی گئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی اپنے آپ میں خود لپٹ رہی ہے اور شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے زمین اپنا مقام تبدیل کر رہی ہے۔

ڈاکٹر کیٹی پیڈلے کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم زلزلے کی فالٹ لائن تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن 3 کلو میٹر کے علاقے میں مختلف مقامات پر ایک جیسی ہی زمین متاثر ہوئی ہے جب کہ زلزلے نے سڑکوں، زرعی زمینوں اور پہاڑیوں سے ملحقہ زمینوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کی شدت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لینڈ سلائڈ کے باعث دریائے لیڈر پرقدرتی طور پر ڈیم بن چکا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔