حوثیوں کا مدینہ منورہ پر کروز میزائل حملہ، سعودی اتحادی فوج نے ناکام بنانے کا دعویٰ کردیا
دفاعی فورسز نے میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی انٹرسیپٹ کرکے ناکارہ بنا دیا، اتحاد ترجمان ترکی المالکی
ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے اور جوہری حملے کا امکان مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے اور امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکانات مسترد کردیے تاہم امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے طاقتور ترین غیر جوہری بم کے ممکنہ استعمال سمیت نئے حملوں کے منصوبوں پر غور کرچکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی وہاں امریکی فوجی دستے بھیجنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔
نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اس حوالے سے روس اور چین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے سب سے بڑے غیر جوہری بم کے استعمال کا امکان بھی زیر غور بتایا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق منصوبہ بندی سے واقف متعدد ذرائع نے بتایا کہ امریکی اسلحہ خانے میں موجود جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) کے ممکنہ استعمال پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ یہ انتہائی طاقتور غیر جوہری بم ہے، جسے عام طور پر ’مدر آف آل بمز‘ کہا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف اس بم کا استعمال تنازع میں شدت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے امریکا اور ایران کے درمیان فوجی محاذ آرائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہوگا۔
تاہم اسلحے کی غیر معمولی تباہ کن صلاحیت کے باوجود اس بات پر سوالات موجود ہیں کہ آیا ایم او اے بی کا استعمال کسی اہم فوجی یا اسٹریٹجک مقصد کے حصول میں مؤثر ثابت ہوگا یا جنگ کا رخ تبدیل کرسکے گا۔
ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور زمینی فوج کے استعمال سے انکار کے باوجود ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق امریکی منصوبہ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات خطے میں کشیدگی اور آئندہ امریکی حکمت عملی کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔
حوثیوں کی مدینہ منورہ پر حملے کی تردید، سعودی اتحاد کے دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا

یمن کے حوثی گروپ نے مدینہ منورہ کے علاقے پر میزائل حملہ کرنے کی تردید کرتے ہوئے سعودی عرب کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حوثیوں کا یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے مدینہ منورہ کے علاقے کی طرف آنے والے ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کرنے کے دعوے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے آج سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے مدینہ منورہ پر حملے کے دعوے کو ’’کھلا اور بے شرمانہ جھوٹ‘‘ قرار دیا۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے دعویٰ کیا تھا کہ اتحاد کی فورسز نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا۔
دونوں فریقوں کے متضاد بیانات کے بعد واقعے کی اصل صورت حال واضح نہیں ہو سکی۔ تاحال میزائل کے ممکنہ ہدف، اس کے داغے جانے کے مقام اور واقعے سے متعلق آزاد ذرائع کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی فوجی کارروائیوں کی خبریں لیک کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائیوں سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کرنے والوں کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دینا چاہیے۔
خبر رساں رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان ریاست ایریزونا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے وقت سے متعلق معلومات صحافیوں تک پہنچانے والے نامعلوم ذریعے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے معاملات میں لوگوں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا جاتا تھا۔
امریکی صدر نے تاہم اپنے خطاب میں مبینہ طور پر معلومات افشا کرنے والے شخص کی شناخت نہیں بتائی۔ ان کے بیان سے ایک بار پھر فوجی کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات کے افشا ہونے پر ان کی تشویش اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
حوثیوں کا مدینہ منورہ پر کروز میزائل حملہ، سعودی اتحادی فوج نے ناکام بنانے کا دعویٰ کردیا

سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق دفاعی فورسز نے میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی انٹرسیپٹ کرکے ناکارہ بنا دیا۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کہاں سے داغا گیا تھا، اس کا ممکنہ ہدف کیا تھا اور آیا اس واقعے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔
التحالف :
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 15, 2026
اعتراض وتدمير صاروخ مجنح (كروز) بمنطقة المدينة المنورة.
میزائل حملے کی ذمہ داری بھی کسی فریق کی جانب سے قبول کیے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
ایران کے خلاف ’مدر آف آل بمز‘ چلانے کی تیاری، امریکی فوج کے نئے جنگی منصوبے سامنے آگئے

واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی صورت میں نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری امریکی بموں میں شمار ہونے والے ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق متعدد امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔ تاہم، ان حملوں کے لیے حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اگر وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ان منصوبوں پر عمل درآمد کرسکتی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے بم کے استعمال کی منظوری دی ہے یا نہیں۔
جس بم کے استعمال پر غور کیا جارہا ہے، اس کا سرکاری نام ایم او اے بی ہے، یہ امریکی اسلحہ خانے کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری تنازع میں اس بم کا پہلی مرتبہ استعمال جنگ میں نمایاں شدت کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، امریکی فوجی منصوبہ بندی سے واقف ذرائع نے اس کی افادیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس بارے میں شکوک موجود ہیں کہ آیا اس بم کا استعمال امریکی صدر کے بیان کردہ تزویراتی مقاصد حاصل کرنے یا جنگ کا رخ تبدیل کرنے میں مؤثر ثابت ہوگا۔
ابھی تک ایران میں اس بم کے استعمال کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان فی الحال امریکی فوجی منصوبہ بندی سے متعلق رپورٹ تک محدود ہے۔
آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل، ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور ایران کے خلاف جاری جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ تاہم، ان کے بیان کے مطابق جنگ کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی ریاست ایریزونا کے شہر بُل ہیڈ سٹی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام اور فضائی دفاعی صلاحیتوں سے محروم ہوچکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کی پہلی سطح ختم ہوچکی ہے، اس کے بعد منتخب کیے گئے دوسرے درجے کے رہنما بھی مارے گئے، جبکہ تیسری سطح کے رہنماؤں میں سے بھی نصف ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض افراد نے ان سے مزید حملے نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور انہوں نے اس وعدے پر عمل کیا۔
امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ فوجی حملوں کے نتیجے میں تہران کے ساتھ مذاکرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے دعووں کے باوجود سفارتی عمل کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی پیٹرول مہنگا ہونے کا اندازہ تھا، تاہم قیمتوں میں اضافے کی شدت ان کی توقع سے زیادہ رہی۔
ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ جنگ ختم ہوتے ہی پیٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آجائیں گی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس خطے میں کشیدگی اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کی فوجی صلاحیتوں اور جنگ جلد ختم ہونے سے متعلق یہ بیانات امریکی صدر کے دعوے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
مطالبات کی منظوری تک امریکا سے جنگ جاری رہے گی، ایران کا دوٹوک اعلان

ایران نے امریکا کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم وہ نہ غیرمعینہ مدت تک جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ایران کا مقصد ایسا پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کرسکے۔
ان کے مطابق تہران مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کا حصول چاہتا ہے لیکن اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر لڑائی ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق قالیباف نے امریکا کے دباؤ اور مقررہ ڈیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلتیں گزر چکی ہیں جن میں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں لیکن ان اقدامات کے باوجود ایرانی نظام بدستور کام کر رہا ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر بھی طنز کیا اور ان کی معاشی پیش گوئیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فزکس کا نوبیل انعام دینے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے نتائج سے متعلق بیسنٹ کی پیش گوئیوں نے وقت کے تصور کو ہی بے معنی بنا دیا ہے۔
ایرانی قیادت کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف مستقبل کے لیے دفاعی ضمانتیں حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے دباؤ کے سامنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ایسے میں جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کے مطالبات اور ممکنہ سمجھوتے پر ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے امریکی جنگی جہازوں کو ڈبو دیں گے، ایرانی بحریہ کی دھمکی

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آئے تو انہیں ڈبو دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے معاملے میں امریکا کو براہِ راست چیلنج بھی کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ریئر ایڈمرل علی عظمایی نے منگل کو ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فورسز امریکی جنگی جہازوں کی آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب آمد کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔
علی عظمایی نے کہا کہ ایرانی فورسز اس ممکنہ مقابلے کے لیے الٹی گنتی کر رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی جنگی جہاز اس آبی گزرگاہ کے قریب آنے کی ہمت نہیں کر رہے، کیونکہ وہاں انہیں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ایرانی کمانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ 13 ارب ڈالر مالیت کا ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 کلومیٹر دور چلا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
علی عظمایی نے امریکا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، تو اسے عملی طور پر وہاں آکر دیکھنا چاہیے کہ کنٹرول کس کے پاس ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
ایرانی بحریہ کی تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم ایرانی کمانڈر کے بیان میں کسی مخصوص امریکی جہاز پر حملے کے وقت یا منصوبے کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
’انتظار کریں، ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں‘، امریکی صدر ٹرمپ کی تہران کو فوجی کارروائی کی نئی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا دیکھے گی کہ امریکا ایران کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست الاسکا کے شہر وسیلا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے سخت بیان دیا۔ وہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں مہم چلا رہے تھے۔
ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ انتظار کریں اور دیکھیں کہ امریکا ایران کے خلاف کیا اقدامات کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، امریکا ایران کے معاملے پر اب بہت حد تک فیصلہ کرچکا ہے جبکہ ایرانی حکام بھی انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
🇺🇸 US President Donald Trump warns of further action against Iran during campaign rally in Alaska
— Anadolu English (@anadoluagency) October 14, 2026
💢 ‘Wait till you see what we do to Iran. We’re going to do a number,’ Trump says, amid reports of discussions with Israel over possible new strikes https://t.co/AsTwuKF81J… pic.twitter.com/i6xc13g2SC
ٹرمپ کے بیان میں ایران کے خلاف کسی نئی کارروائی کی نوعیت، وقت یا ممکنہ اہداف کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم ان کے سخت الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکی دباؤ برقرار ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی عالمی سپلائی کو لاحق خطرات کے باعث سرمایہ کاروں اور تاجروں کی توجہ خطے کی صورتحال پر مرکوز ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کی صبح کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی قیمت 89 سینٹ، یعنی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 106.58 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 80 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد بڑھ کر 94.94 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اس سے ایک روز قبل منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا رجحان ملے جلے انداز میں رہا تھا۔ کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 0.4 فیصد بڑھ گئی تھی۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے اثرات
رپورٹ کے مطابق تیل کے تاجروں کی توجہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی کے باعث سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں پر مرکوز ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی ترسیل اور عالمی منڈی میں دستیابی متاثر ہونے کے خدشات قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودی وزارت توانائی کے مطابق حوثی گروپ نے شہر ظہران میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ لگ گئی۔
روسی ڈیزل کی ممکنہ سپلائی بھی زیرِ غور
تاجروں کی نظر روس سے ڈیزل کی ممکنہ اضافی دستیابی پر بھی ہے۔ اگر روسی ڈیزل کی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے عالمی توانائی منڈی میں رسد اور قیمتوں کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال، تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور متبادل سپلائی کے امکانات آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے رجحان پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
حوثیوں کی چینی پرزوں سے جدید بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش، سعودی عرب اور اسرائیل نشانے پر آسکتے ہیں

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حوثی جنگجو چین سے فراہم کردہ پرزوں کی مدد سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل بنانے کی کوشش کررہے ہیں، جس سے خطے میں ان کی فوجی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلحے کی ترسیل اور تنازعات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا جائزہ لینے والے ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ حوثیوں نے ایک چینی سپلائر سے ایسے مختلف پرزے حاصل کیے جو ایران کے جدید اور طاقتور میزائلوں میں سے ایک، ’’خیبر شکن‘‘، کی طرز پر میزائل تیار کرنے میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
خیبر شکن ایران کا درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والا بیلسٹک میزائل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے مجوزہ میزائل کی رینج تقریباً 1,200 میل، یعنی لگ بھگ 1,930 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حوثی گروپ اس فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا تو سعودی عرب کا پورا علاقہ اور اسرائیل بھی اس کی ممکنہ رینج میں آسکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی فوجی صلاحیت اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات بڑھنے کا امکان ہے۔
اس رپورٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ حوثی گروپ جدید میزائل کی تیاری کے لیے بیرونی پرزے استعمال کرتے ہوئے اپنی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کی تیاری کس مرحلے میں ہے یا اس کا کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے یا نہیں۔
Houthi militants are attempting to produce their own advanced medium-range ballistic missiles using Chinese-delivered parts, a new report shows. The missile would have a range up to about 1,200 miles, putting all of Saudi Arabia and Israel within reach. https://t.co/GO6MIyMOZi
— The Wall Street Journal (@WSJ) October 14, 2026
تاحال اس رپورٹ میں چین کی حکومت کی جانب سے ان پرزوں کی فراہمی میں کسی سرکاری کردار کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں چینی سپلائر کا ذکر کیا گیا ہے، جسے چین کی حکومت کی براہ راست معاونت کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔
امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث اکتوبر میں ایران کی خام تیل برآمدات صفر رہنے کا دعویٰ

رائٹرز کے مطابق ایران کی سمندری راستوں سے خام تیل کی برآمدات ستمبر کے دوسرے ہفتے میں رک گئیں اور 5 اکتوبر تک بحال نہ ہوسکیں، آبنائے ہرمز کے مغرب میں 4 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل ٹینکروں میں پھنس گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ستمبر کے آغاز میں ایران کی خام تیل کی سمندری برآمدات کا 14 روزہ اوسط تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ تھا، تاہم ستمبر کے دوسرے ہفتے میں یہ بہاؤ صفر ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے برعکس ایران کے علاوہ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل ستمبر میں جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے تجاوز کرگئی، جس میں سعودی عرب کی برآمدات کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔
ورٹیکسا کے مطابق سمندر میں موجود ٹینکروں میں ایرانی خام تیل کا ذخیرہ کم ہوکر 8 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گیا ہے۔ اس میں سے تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے مغرب میں امریکی ناکہ بندی کے باعث پھنسا ہوا ہے۔
ورٹیکسا کی ڈائریکٹر برائے میری ٹائم رسک اینڈ انٹیلی جنس کلیئر جنگمین نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی نے ایرانی خام تیل کی خلیج سے بیرون ملک ترسیل کو جسمانی طور پر روک دیا ہے، جو ان کے بقول برسوں کی پابندیوں سے بھی حاصل نہیں ہوسکا تھا۔
Iranian seaborne crude exports have effectively halted. Russia now dominates high-risk crude supply, leaning ever harder on China.
— Vortexa (@Vortexa) October 13, 2026
Download the report: https://t.co/16qhdrcuzr#Vortexa #Sanctions pic.twitter.com/kUGGr6turP
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کو بھی اب ایرانی تیل کی پہلے جیسی فوری ضرورت نہیں رہی، کیونکہ روسی خام تیل نے اس کی طلب کا بڑا حصہ پورا کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ناکہ بندی ایرانی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی محدود کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، تاہم برآمدات کی طویل بندش کے معاشی اثرات اور آئندہ تیل کی ترسیل کی صورتحال کا انحصار ناکہ بندی کے تسلسل اور خطے میں پیش رفت پر ہوگا۔
فیئر فورڈ ایئربیس سازش کا الزام، ایران نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے بڑا مطالبہ کردیا

تہران: ایران نے برطانیہ میں واقع فیئر فورڈ ایئربیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش سے متعلق الزامات پر برطانوی سفیر کو طلب کرلیا ہے۔
تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ یہ اقدام برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے اس بیان کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فیئر فورڈ ایئربیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کا ایران میں مربوط ہونا ’’انتہائی ممکن‘‘ ہے۔
یہ ایئربیس امریکی بمبار طیاروں کے استعمال میں رہی ہے، جنہوں نے ایران پر حملے کیے تھے۔ تاہم تہران نے اس مبینہ سازش سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مغربی یورپ سے متعلق امور کے ڈائریکٹر جنرل نے برطانوی سفیر سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت ایران کے خلاف الزامات کی حمایت میں دستاویزات اور شواہد جلد از جلد فراہم کرے۔
ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے مبینہ واقعے سے متعلق شواہد فراہم نہ کیے تو اسلامی جمہوریہ ایران دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے گا۔
فی الحال برطانوی حکومت کی جانب سے ایرانی مطالبے کے جواب یا شواہد فراہم کرنے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس معاملے نے تہران اور لندن کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔
سعودی عرب کا ریاض اور جنوبی علاقوں میں 3 کروز میزائل اور 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

حوثیوں کے حملوں کے دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض اور ملک کے جنوبی حصوں میں آنے والے تین کروز میزائل اور دو ڈرون روک کر تباہ کردیے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ریاض اور جنوبی علاقوں میں تین کروز میزائل تباہ کیے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ انہی علاقوں میں دو ڈرونز کو بھی روک کر تباہ کردیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
تاحال میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے واقعات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ حوثیوں کی جانب سے بھی اس مخصوص واقعے پر فوری ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔
سعودی عرب کے شہر الظہران پر حوثیوں کا میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا

سعودی عرب کی جانب حوثی ملیشیا کا میزائل حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے الظہران کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے شہر ظہران کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل داغا گیا، تاہم سعودی عرب کی جانب بڑھتے ہوئے میزائل کو راستے میں ہی روک کر تباہ کردیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا جس کے باعث حملے کی کوشش ناکام ہوگئی۔
تاحال واقعے میں کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ میزائل حملے سے متعلق مزید تفصیلات اور سرکاری حکام کی جانب سے اضافی معلومات کا انتظار ہے۔
سعودی شہر الظہران میں تیل کمپنی کی عمارت پر حوثی باغیوں کا حملہ، 4 افراد زخمی

سعودی عرب میں حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں کی کوشش ناکام بنانے کے دوران ریاض میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 15 مکانات کو معمولی نقصان پہنچا، دوسری جانب مشرقی شہر الظہران میں تیل کمپنی کی عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ لگ گئی۔
سعودی خبر ایجنسی کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے سعودی شہر الظہران کی جانب داغا گیا حوثی ملیشیا کا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردیا۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق الظہران میں تیل کمپنی کی ایک عمارت کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا جہاں محدود پیمانے پر آگ لگی، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ریاض میں دو میزائل فضا میں تباہ کیے گئے، جن کا ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 15 مکانات کو معمولی نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تاہم ملبہ گرنے کے باعث رہائشی املاک متاثر ہوئیں۔ تاحال حملوں سے ہونے والے مجموعی نقصان اور دیگر تفصیلات سے متعلق مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا حد سے آگے نکل گیا، ٹرمپ کا اہم اعتراف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں امریکا شاید حد سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔
ان کے مطابق، واشنگٹن کو ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے جن کے ساتھ جنگ کے خاتمے یا مذاکرات کے لیے بات چیت کی جا سکے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کسی ممکنہ پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔
ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد امریکا کو مذاکرات کے لیے مناسب ایرانی حکام کی شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
دستیاب رپورٹ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں کہ کن عہدیداروں سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے یا امریکی کارروائیوں کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔
President Trump has suggested the US may have gone too far in targeting Iran’s leadership, saying Washington is struggling to identify officials with whom it can negotiate.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 13, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/zjeCMhpJCd pic.twitter.com/3Sv2yruNPW
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کو جنگی حکمتِ عملی اور مذاکراتی امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس سے کسی نئی پالیسی یا جنگ کے خاتمے کے فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
حوثی حملوں کی او آئی سی کی شدید مذمت، سعودی حکومت کی بھرپور حمایت کا اعلان

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنانا مملکت کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے ایسے اقدامات کا تسلسل خطرناک اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے۔
سیکریٹری جنرل کے مطابق یہ کارروائیاں یمن میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے لیے جاری علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حملے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
حسین ابراہیم طہٰ نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیاں یمن کے بحران کے جامع اور مستقل سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں جس کے لیے عالمی برادری کوششیں کررہی ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم مملکت کی جانب سے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ، شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ خطے کو مزید کشیدگی اور بدامنی سے بچانے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیں اور امن عمل سے سنجیدہ وابستگی کا مظاہرہ کریں۔
حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ایئرپورٹ اور ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے حوثیوں کے تازہ دعووں کی تاحال تصدیق نہیں کی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے شام کے وقت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل داغا، جبکہ یمن کی سرحد کے قریب واقع خمیس مشیط ایئر بیس کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے دونوں کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا۔
دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے راستے میں ہی تباہ کردیا گیا۔
اتحادی فوج کے مطابق خمیس مشیط کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک لیے گئے جبکہ ریاض کی جانب آنے والے ایک میزائل کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
حکام نے اس سے قبل خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا تھا تاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی۔
حوثیوں کے حملوں میں کامیابی کے دعووں اور سعودی اتحاد کی جانب سے میزائل تباہ کرنے کے اعلانات کے درمیان صورت حال کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سعودی حکام کی جانب سے تازہ دعووں پر باضابطہ ردعمل سامنے آنے کے بعد ہی حملوں کے اصل نتائج اور ممکنہ نقصانات سے متعلق صورت حال واضح ہوسکے گی۔
سعودی عرب 83 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کے باوجود حوثی حملوں کو روکنے میں ناکام کیوں؟

سعودی عرب کے 83 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے مملکت کے فضائی دفاع کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے 2025 میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 6.5 فیصد دفاع پر خرچ کیا جس کے باعث وہ دنیا میں فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پاس امریکی ایف-15 طیارے، یورپی ٹائفون لڑاکا طیارے اور پیٹریاٹ و تھاڈ میزائل دفاعی نظام موجود ہیں تاہم جدید ہتھیاروں کی بڑی تعداد بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ وہ مختلف رفتار کے میزائلوں اور ڈرونز کو بیک وقت استعمال کرکے فضائی دفاعی نظام کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے بعض ہتھیار اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت بھی دکھا چکے ہیں۔
کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سیکیورٹی تجزیہ کار تھامس جونیو نے بتایا کہ سعودی عرب کا تقریباً 22 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا رقبہ ہر اہم مقام کا مسلسل دفاع مشکل بنا دیتا ہے۔ ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، فوجی اڈوں اور مقدس شہروں کو بیک وقت محفوظ رکھنا آسان نہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل حملوں سے دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ حوثیوں کو ہر حملے میں کامیابی حاصل کرنا ضروری نہیں؛ کسی اہم تنصیب کو نشانہ بنانا بھی معاشی نقصان اور خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
ریاض کے ہوائی اڈے اور دیگر اہم تنصیبات پر حملوں سے سعودی عرب کے سیاحتی و کاروباری مرکز بننے کے منصوبے، وژن 2030، کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرتی جنگ نے مملکت کے لیے حوثیوں کے خلاف تنازع سے نکلنے کی کوشش مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا البتہ حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اکثر حملوں کو ناکام بنایا ہے اور یہ حملے معمولی نوعیت ہیں جن سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کی اور اب سعودی عرب میں آئل تنصیبات اور ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنارہے ہیں جس میں پائلٹ سمیت 12 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یمن میں فوجی مداخلت کی تو امریکا کو دردناک انجام سہنا پڑے گا؛ ترجمان حوثی

یمن کے حوثیوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی مداخلت کی گئی تو اُسے خطے میں اپنے مفادات پر حملوں کی صورت میں سخت جواب مل سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ بات حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رہنما محمد البخیتی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یمن کے خلاف کسی کارروائی میں امریکا کی شمولیت تنازع کو مزید ہوا دے کر جنگ کی وسعت کو پھیلا سکتی ہے۔
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رہنما نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والوں کو بھی خبردار کیا اور ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا کہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد اور دمام کے شاہ فہد ہوائی اڈوں سمیت آرامکو سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ حملوں کے باعث فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا محدود کی ہیں۔ امریکی حکام نے بھی اپنے اہلکاروں کے ہوائی اڈوں کے استعمال پر پابندیاں سخت کی ہیں۔
ادھر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ حملوں کی نوعیت غیر معمولی ہے اور ان کے جواب میں بھی اسی مناسبت سے اقدامات ہونے چاہییں۔ ان کے بقول توانائی کے عالمی تحفظ کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے خلیجی ممالک پر مشترکہ دفاع مضبوط بنانے پر زور دیا، جبکہ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے شہر تعز کے گرد بھی سعودی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حوثیوں نے اہم راستوں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تاہم جھڑپوں میں ہلاکتوں اور زمینی صورت حال کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی صدر کی مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے ملاقات کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ رہبرِ معظم مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے طویل ملاقات میں ملک کے انتظامی مسائل اور حکومتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی صدر پزیشکیان نے یہ بات جامعات کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔
مسعود پزیشکیان نے مزید بتایا کہ ایران کا صدر منتخب ہونے کے بعد گزشتہ سات ماہ میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔
ایرانی صدر نے ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وسائل یا صلاحیتوں کی کمی بنیادی مسئلہ نہیں بلکہ اہل افراد کے انتخاب، بہتر انتظام اور کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
صدر مسعود پزیشکیان نے بعض سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے انتظامی طریقۂ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سرکاری کمپنیوں میں جاری معاملات کو درست معنوں میں انتظام نہیں کہا جاسکتا جس سے نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔
انھوں نے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بعض اوقات کسی موزوں امیدوار کو ذمہ داری سونپنا چاہتی ہے لیکن بعد میں عدلیہ یا دیگر اداروں کے اعتراضات کے باعث تقرری کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے لیکن وہ تاحال کسی بھی مقام پر منظرعام پر نہیں آئے نہ ہی کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام آیا ہے۔ ان کے بیانات سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
سعودی عرب؛ حوثی حملوں سے تباہی کی ویڈیوز بنانے پر امریکی شہری گرفتار

سعودی عرب میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بات کی تصدیق امریکی سفارت خانے نے کی اور اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حملوں سے متعلق مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے مزید بتایا کہ امریکی شہریوں کو حالیہ واقعات کی تصاویر بنانے پر حراست میں لیا گیا ہے تاہم سفارت خانے نے گرفتار افراد کی تعداد نہیں بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ انہیں رہا کیا گیا ہے یا نہیں۔
امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے اور سعودی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ریاض میں مقیم بعض غیر ملکی باشندوں نے بھی بتایا کہ ان کے جاننے والوں کو حالیہ واقعات کی ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ سعودی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں، ان کے ملبے اور متاثرہ مقامات کی فلم بندی، تصاویر بنانے یا معلومات شائع کرنے پر قانونی ذمہ داری عائد ہوسکتی ہے۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب اہم ترین ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مسلمان مسافر کیوں ہے؟ اسرائیل نے ایتھوپیا کے کارگو طیارے کو واپس جانے پر مجبور کردیا

ایتھوپین ایئرلائنز کی ایک کارگو پرواز کو فضا سے ہی واپس مڑنا پڑا جب اسرائیل نے طیارے میں انڈونیشی شخص کی موجودگی کے باعث لینڈنگ کی اجازت نہیں دی۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ کارگو طیارہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے اسرائیل کی فضا میں پہنچا تھا لیکن رن وے پر اترنے کی اجازت دینے کے بجائے واپس بھیج دیا گیا۔
اسرائیلی حکام نے اس کی باضابطہ طور پر کوئی وجہ تو نہیں بتائی لیکن عبرانی ذرائع ابلاغ کی متعدد رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے طیارے کو اس لیے اترنے کی اجازت نہیں دی کہ اس کے عملے میں انڈونیشیا کا ایک شہری شامل تھا۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق پرواز میں موجود عملے کی فہرست اسرائیلی حکام کو طیارے کے اڑان بھرنے کے بعد بھیجی گئی تھی۔ اسرائیل اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔
جب اسرائیل کو فہرست کے ذریعے کارگو طیارے میں موجود عملے میں ایک انڈونیشی شہری کی موجودگی کا پتا چلا تو طیارے کو واپس جانے کا کہا گیا۔
تاحال اسرائیل اور ایتھوپیا کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا جب کہ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس عملے کے رکن کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے پرواز کو واپس بھیجا گیا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل آنے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کے عمانی معاون پائلٹ نے جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی جسے عملے اور مسافروں نے ناکام بنایا تھا۔
عمان کے ساتھ بھی اسرائیل کے سفاتی تعلقات نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود عمانی پائلٹ پرواز میں شامل تھا۔ اس واقعے کے بعد سے اسرائیل نے پروازوں کے عملے کی سیکیورٹی جانچ پڑتال پر توجہ بڑھا دی ہے۔
آبنائے ہرمز میں چور راستے سے پیٹرول کی اسمگلنگ میں امریکا اور امارات ملوث ہیں؛ ایران

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اور متحدہ عرب امارات کی فوج آبنائے ہرمز میں تیل اسمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ کے دوران ایرانی فورسز ہر رات تیل کی اسمگلنگ میں ملوث اوسطاً 5 بحری جہازوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔
ان کے بقول یہ کارروائیاں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی نگرانی میں کی جا رہی ہیں اور یہ جہاز آبنائے ہرمز میں سمندری چٹانوں کو دھماکے سے اُڑا کر بنائے چور راستوں سے تیل اسمگلنگ میں ملوث تھے۔
محسن رضائی نے مزید الزام لگایا کہ تیل کی اسمگلنگ کی ان کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے اہلکاروں کو بھی استعمال کیا گیا اور انھیں مبینہ اسمگلنگ آپریشنز میں معاونت کے لیے تعینات کیا گیا۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی ایہ لزام لگایا کہ امریکی صدر نے عمان کے ساحلی پانیوں میں بعض اسمگلروں کے ساتھ مل کر تیل کی غیر قانونی ترسیل کی کارروائیاں کی ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سیکیورٹی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کو متاثر کرسکتی ہے۔
ایک ہلاک اور 24 زخمی؛ طالبعلم نے حزب اللہ کا پھینکا گولہ اٹھالیا جو پھٹ گیا؛ اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج نے شمالی علاقے میں اسکول کے بچوں کے مطالعاتی دورے کے دوران ہونے والے دھماکے کا سراغ لگا لیا جس میں ایک بچہ ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نےبتایا کہ یہ واقعہ لبنان کی سرحد کے قریب رامیم رج کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں بچے اور اساتذہ قدرتی مناظر دیکھنے کے لیے پیدل سفر کررہے تھے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دھماکا حزب اللہ کے راکٹ کا کلسٹر بم ہوسکتا ہے،جو پہلے سے علاقے میں موجود تھا لیکن کسی وجہ کے باعث پھٹ نہ سکا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جیسے ہی اسکول کے کم سن طالبعلم نے یہ گولہ اُٹھایا وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ کلسٹر بم ہونے کی وجہ سے اس میں موجود چھوٹے چھوٹے بم پھٹنے لگے۔
اسرائیلی فوج کے بقول واقعے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ 24 افراد زخمی ہوگئے جن میں بچے اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور فوجی ماہرین علاقے میں موجود غیر پھٹے گولہ بارود کی تلاش اور صفائی کررہے ہیں۔
اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈینی لیوی نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا کہ پولیس کے بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے بھی ابتدائی طور پر دھماکے میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کو حزب اللہ کے راکٹ کا ذیلی بم قرار دیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ بچوں کے مطالعاتی دورے کی متعلقہ حکام سے منظوری لی گئی تھی۔ پولیس کمانڈر نے دھماکے میں ایک بچے کی ہلاکت اور 24 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس سربراہ نے کہا کہ علاقے میں مزید غیر پھٹا گولہ بارود موجود ہونے کے خدشے کے پیش نظر وہ چند روز کے لیے یہاں پیدل سیر و تفریح اور مطالعاتی دوروں پر پابندی لگانے کا حکم دیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک راستے کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دے دیا جاتا۔
زوردار دھماکے میں اسرائیلی اسکول کا ایک طالبعلم ہلاک اور 24 زخمی

اسرائیل کے شمالی علاقے میں لبنان کی سرحد کے قریب دھماکے کے نتیجے میں اسکول کے تقریباً 24 طلبا زخمی ہوگئے جن میں سے ایک نے دم توڑ دیا جب کہ بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ پیر کو اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی ہائی اسکول کے طلبا کا ایک گروپ لبنان کی سرحد کے قریب پہاڑی علاقے میں پیدل سفر کررہا تھا۔
دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ ادارے حرکت میں آگئے۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ واقعے کے مقام پر فوجی اہلکاروں اور ہیلی کاپٹروں کو روانہ کیا گیا تاکہ زخمیوں کی مدد اور ضروری کارروائیاں انجام دی جاسکیں۔ تاہم فوری طور پر دھماکے کی حتمی وجہ اور گولہ بارود کی نوعیت کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
اسرائیلی پولیس نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کی وجہ غیر پھٹا ہوا گولہ بارود ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد حتمی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کررہی ہے جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی جواب میں سرحد پار راکٹ حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
سرحدی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث غیر پھٹے گولہ بارود کا خطرہ شہریوں اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
حوثی حملے؛ ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند؛ سعودیہ کیلیے متعدد عالمی پروازیں معطل

حوثیوں کے حملے کے بعد ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 17 اکتوبر تک کے لیے بند کردیا گیا ہے جب کہ متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے بھی پروازیں معطل کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض، دمام اور جدہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کردی ہیں۔
ایئرلائنز نے متاثرہ مسافروں کو سفر سے پہلے اپنی پروازوں کی تازہ صورت حال معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ دوبارہ بکنگ اور متبادل سفری انتظامات کے بارے میں معلومات مل سکے۔
بحرین کی ایئرلائن گلف ایئر نے 12 سے 17 اکتوبر کی درمیانی شب تک ریاض آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی سے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں۔
امارات ایئرلائن نے بھی دبئی سے ریاض، دمام اور جدہ کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کی ہیں، جبکہ مدینہ کے لیے بعض پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ فلائی دبئی نے ریاض اور دمام کے لیے 12 اور 13 اکتوبر کی متعدد پروازیں منسوخ کی ہیں۔
جرمنی کے لفتھانزا گروپ نے ریاض کے لیے پروازیں 16 اکتوبر تک منسوخ کردی ہیں، جبکہ ایئر فرانس اور کے ایل ایم نے سعودی دارالحکومت کے لیے پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے۔
بھارتی ایئرلائن انڈیگو نے ریاض اور دمام کے لیے پروازیں 15 اکتوبر تک منسوخ کی ہیں، جبکہ ایئر انڈیا ایکسپریس نے دمام اور جدہ کے لیے 12 اکتوبر کی پروازیں منسوخ کیں اور ریاض کا آپریشن 15 اکتوبر تک معطل رکھا ہے۔
اکاسا ایئر نے ریاض اور جدہ کے لیے 13 اکتوبر تک پروازیں روک دی ہیں۔ فلپائن ایئرلائنز نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 29 نومبر تک بڑھا دی ہے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح گزشتہ پیر کو ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ایک اور حملے میں پائلٹ جاں بحق جبکہ 11 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
حوثیوں کے سعودیہ پر حملے؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر

حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملوں اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو بڑھتے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 24 سینٹ اضافے کے بعد 106.19 ڈالر فی بیرل ہوگئی جو 29 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
امریکا کا عالمی معیار کا خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی ایک ڈالر 11 سینٹ، یعنی 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 92.96 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی جس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ بڑے اضافے کی وجہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ آبنائے ہرمز مکمل بند اور باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی ہے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح گزشتہ پیر کو ریاض کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ایک اور حملے میں پائلٹ جاں بحق جبکہ 11 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر رواں ماہ بڑھتے حملے بھی عالمی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ ان واقعات سے ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں ہونے والی بحالی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی نئی برآمدات اور روس یوکرین توانائی جنگ بندی کی پیش رفت کو سراہنے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔
تیل کی عالمی طلب کو دھچکا؛ اوپیک نے تخمینہ 14 لاکھ یومیہ بیرل سے 4 لاکھ بیرل کردیا

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے 2026 کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ نمایاں طور پر کم کرکے یومیہ 4 لاکھ بیرل کردیا ہے جبکہ سال کے آغاز میں یہ اندازہ 14 لاکھ بیرل یومیہ لگایا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے بتایا کہ تیل کی طلب میں اضافے کی رفتار توقعات سے کم رہنے کے باعث تنظیم نے اپنے تخمینے پر نظرثانی کی ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سال میں طلب میں جو اضافہ مؤخر ہوگا اس کے 2027 میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ اگلے سال مؤخر شدہ طلب پوری ہونے سے تیل کی کھپت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ان کے بقول اس کا مطلب ہے کہ موجودہ سال میں تیل کی جتنی اضافی طلب متوقع تھی اس کا کچھ حصہ آئندہ سال منتقل ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی طلب کے تخمینے میں کمی توانائی کی منڈیوں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی اور پیداوار سے متعلق فیصلوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
طلب میں اضافے کی رفتار کم رہنے سے قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم قیمتوں کا انحصار رسد، جغرافیائی سیاسی صورت حال اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں پر بھی ہوتا ہے۔
اوپیک کی نئی پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات عالمی منڈی کی توجہ کا مرکز ہیں۔
تنظیم کی جانب سے 2027 میں طلب بڑھنے کی توقع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ سال کی سست روی کو مستقل رجحان نہیں سمجھا جا رہا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جبکہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں بھی آئل تنصیبات پر حملوں سے تیل کی ترسیل پہلے ہی قلت کا شکار ہے۔
خلیجی ممالک نے جان لیا ہوگا کہ امریکی سیکیورٹی چھتری کسی کام کی نہیں؛ ایران

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی بالادستی کی بحالی کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ امریکا کی نام نہاد سیکیورٹی کی چھتری کتنی مؤثر ہے۔
انھوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں امریکی سیکیورٹی نظام کی افادیت پر علاقائی ممالک کے سامنے سوالات اٹھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا کہ وہ اس تجربے سے سبق سیکھیں۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم پر انحصار کرکے خود کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
ایرانی افواج کے ترجمان ابو الفضل شکارچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا خطے میں اپنی سلامتی بھی یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا چہ جائیکہ وہ دوسرے ممالک کو تحفظ فراہم کرسکے۔
ان کے بقول امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار جاری رکھنے کا مطلب غلط اندازوں اور فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا ہے۔ ایران ان مغربی ایشیا میں امریکا اور اسرائیل کے زیرِاثر علاقائی نظام کی بحالی کی اجازت نہیں دے گا۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے مارچ سے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جہاں سے دنیا کو تیل و گیس کی 20 فیصد سے زائد مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ پیٹرول کی قلت بڑھ گئی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بناتا آیا ہے اور اب یمن کے حوثیوں نے بھی سعودی عرب میں تنصیبات اور ایئرپورٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
یمن کے حوثیوں نے باب المندب میں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا ہے جس سے خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار اور ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ متعدد خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کے نام پر امریکی فوجی اڈّے قائم ہیں جو ان ممالک کے تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہیں تاہم ایران اور حوثیوں کے حملوں کو روکنے میں خاطر خواہ کامیاب نظر نہیں آتے ہیں۔
امریکی جواب کا جائزہ جاری ہے، ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جواب دیا جائے گا، ایران

ایران نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تجویز پر امریکا کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جواب دیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تہران کو امریکی جواب موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جائزہ مکمل ہونے پر ایران اپنا ردعمل ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اور متعلقہ فریقوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے، تاہم انہوں نے اس رابطے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ایرانی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر سفارتی رابطے ابھی جاری ہیں، تاہم تہران کے حتمی جواب اور مذاکرات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی صورت حال پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جنگ دوبارہ چھڑی تو خلیج میں امریکی ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی مراکز تباہ کردیں گے، ایران کی نئی دھمکی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو خلیجی خطے میں امریکا سے منسلک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات اور مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
الجزیرہ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے دھمکی دی ہے کہ جنگ دوبارہ چھڑنے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی تنصیبات پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
محسن رضائی کے مطابق امریکا نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور آبنائے ہرمز کے اطراف انتہائی مہنگے اثاثے قائم کر رکھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تاحال ان مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی مراکز کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا، تاہم جنگ شروع ہونے کی صورت میں ان سمیت متعدد دیگر مقامات کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار کی اس دھمکی سے خلیجی خطے میں امریکا سے وابستہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کی تنصیبات کو ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم، یہ بیان مستقبل میں ممکنہ کارروائی سے متعلق انتباہ ہے اور کسی حملے کی تصدیق نہیں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل مہنگا ہوگیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ، یعنی 0.73 فیصد اضافے کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 59 سینٹ، یعنی 0.64 فیصد بڑھ کر 92 ڈالر 44 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک دوسرے ٹینکر پر میزائل حملے کی اطلاع دی گئی۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ پاسداران کے مطابق یہ جہاز غیر مجاز سمندری راستوں سے گزر رہے تھے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایسے جہاز جو اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے، انہیں مخالف تصور کیا جاسکتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اور سبب سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت کو قرار دیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی سخت، ایران جانے والے 135 تجارتی جہاز واپس موڑ دیے گئے

امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد مزید سخت کردیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران 135 بحری جہازوں کو واپس موڑا گیا، جبکہ چار تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی عرصے میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 10 آئل ٹینکروں کو بھی تباہ کیا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق تازہ کارروائی اتوار، 11 اکتوبر کو خلیجِ عمان میں کی گئی، جہاں امریکی لڑاکا طیارے نے پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے تجارتی جہاز ایم وی اوشن مولیکا، جسے اریکا سن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے پچھلے حصے پر انتہائی درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود استعمال کیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے سے جہاز کا انجن اور آگے بڑھنے کا نظام ناکارہ ہوگیا، تاہم عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔
سینٹ کام کے مطابق جہاز کے عملے نے متعدد مرتبہ دی گئی امریکی وارننگز کو نظر انداز کیا اور بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز اس سے قبل ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں ناکارہ بنائے گئے چاروں تجارتی جہازوں اور تباہ کیے گئے 10 آئل ٹینکروں کی الگ الگ تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں ڈیڈلاک، قطر کے ذریعے مذاکرات کے باوجود پیش رفت نہ ہوسکی

تہران: ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق اپنی سات شرائط پر امریکا کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اب ماضی کی صورت حال پر واپس نہیں آسکتے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کی سات شرائط میں سے بعض کو قبول کیا ہے، تاہم واشنگٹن کا مجموعی جواب تہران کے لیے ناکافی ہے۔
محسن رضائی نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا نے ایران کی کن شرائط کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے پر اختلاف برقرار
ایرانی عہدیدار نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں ناکام رہا ہے اور اب واشنگٹن اس آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل کے لیے، ان کے بقول، اسمگلنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
رضائی نے امریکی فوجی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اس سے زیادہ ذلت آمیز صورت حال سے کبھی دوچار نہیں ہوئی۔
ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں، جبکہ امریکی مؤقف کی تفصیلات بھی اس میں شامل نہیں ہیں۔
ایران کی سات شرائط کیا ہیں؟
رپورٹ کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سات شرائط پر مشتمل تجویز پیش کی تھی۔ تہران نے پیشکش کی تھی کہ اگر امریکا اس کے مطالبات تسلیم کرلے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور وہاں بحری آمدورفت معمول پر لانے کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث اس گزرگاہ سے بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
قطر کے ذریعے امریکا کا جواب ایران تک پہنچا
محسن رضائی کے مطابق امریکا نے ایران کی تجویز کا جواب قطر کے ذریعے پہنچایا۔ قطر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور بالواسطہ سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
امریکا کی جانب سے بعض شرائط قبول کیے جانے کے باوجود ایران کا جواب کو ناکافی قرار دینا ظاہر کرتا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان ابھی مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرائط اور بحری آمدورفت کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اہم ترین معاملات میں شامل ہیں۔ فی الحال دستیاب رپورٹ کے مطابق کسی حتمی معاہدے یا فوری پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ریاض ایئرپورٹ پر پھر حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو روز میں دوسری بار حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار کو ایئرپورٹ کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
سعودی اتحادی افواج کے مطابق ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر پروجیکٹائل گرنے سے آگ لگ گئی، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی امدادی ٹیمیں مصروف رہیں۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں ہونے والے نقصان اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی سلامتی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حوثی باغیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے چار کارروائیاں کی گئیں۔
حوثیوں کے مطابق ریاض اور دمام کے ایئرپورٹس سمیت سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام نے اتوار کی شام دمام ایئرپورٹ پر حملے کی بھی تصدیق کی۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہفتے کے روز ہونے والے مہلک حملے کے بعد بند تھا۔
اطلاعات کے مطابق ہفتے کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بھارتی سفارت خانے نے بھی تصدیق کی کہ ہفتے کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری اتوار کو دم توڑ گیا۔
یمن کے حوثی باغیوں نے مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس سے بھی بدتر ہونا باقی ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے تازہ حملے کے مکمل نقصانات اور دیگر تفصیلات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

صنعا: یمن کے حوثی گروپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے فضائی اور بحری کمپنیوں، ماہرین، عملے، کارکنوں اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
یحییٰ سریع کے مطابق سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود حوثی فورسز کے ممکنہ حملوں کے دائرے میں ہیں اور ان کے بقول یہ علاقے فوجی کارروائیوں کا میدان بن چکے ہیں۔
حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اس وارننگ سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کرنے پر زور دیا۔
یہ دھمکی ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
القوات المسلحة اليمنية تجدد تحذيرها لكل الشركات الملاحية الجوية والخبراء والموظفين والعاملين والمسافرين من استخدام المطارات والأجواء السعودية لأنها معرضة للاستهداف ومسرحا للعمليات من قبل قواتنا باستثناء مطاري مكة المكرمة والمدينة المنورة.
— العميد/ يحيى سريع (@Yah_Saree) October 11, 2026
وتهيب بالجميع لأخذ تحذيراتنا على محمل…
حوثیوں کی اس وارننگ سے سعودی عرب میں فضائی سفر اور شہری ہوابازی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم بیان میں سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے کسی نئے حملے کی تاریخ یا تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں سے ماحولیاتی تباہی کا خطرہ ہے، عباس عراقچی نے خبردار کردیا

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل، ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے سنگین ماحولیاتی خطرات پیدا ہورہے ہیں، جن کے اثرات فضا، زمین، پانی اور غذائی زنجیر تک پہنچ سکتے ہیں۔
اتوار کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کے قریب تیل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں خطرناک مادے خارج ہوئے ہیں، جو ہوا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس آلودگی کے اثرات خوراک کے نظام تک پہنچنے کا خدشہ بھی ہے، جس سے انسانی صحت اور ماحول کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ کے دوران ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیات کو جنگ کا خاموش متاثرہ فریق سمجھنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
عباس عراقچی نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی آزادانہ دستاویز بندی اور اس کی مکمل جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے اور متاثرہ علاقوں کے لیے معاوضے کا انتظام کیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان میں تیل اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تاہم ان اثرات کی اصل شدت اور آلودگی کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لیے آزادانہ سائنسی تحقیقات ضروری ہوں گی۔
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی قطر، کینیڈا اور بھارت کی شدید مذمت

قطر، کینیڈا اور بھارت نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
تینوں ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کی ہے۔
قطر کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی
قطر کی وزارت خارجہ نے ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی، شہریوں اور فضائی آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق قطر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سعودی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی سلامتی قطر کی سلامتی اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ قطر نے حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے حملوں کی مذمت
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں، بالخصوص ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور انہیں ’قابلِ نفرت‘ قرار دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ شہری تنصیبات پر حملوں کو کسی بھی سیاسی یا فوجی مقصد کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انہوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی مکمل صحت یابی کی دعا کی۔ کینیڈین وزیراعظم کے مطابق ان کا ملک ان حملوں کو ’تشدد کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں‘ سمجھتا ہے اور ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
بھارت نے بھی حملوں کو ناقابل قبول قرار دے دیا
بھارت کی وزارت خارجہ نے ریاض ایئرپورٹ پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 10 اکتوبر سمیت گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے حملوں میں جانی نقصان، افراد کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق حملوں میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ تاہم یہ اعداد و شمار بھارتی بیان میں پیش کیے گئے ہیں۔
بھارت نے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کو مکمل طور پر ناقابل جواز قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور امید کرتا ہے کہ خطے میں جلد امن و استحکام بحال ہوگا۔
قطر، کینیڈا اور بھارت کے ان بیانات سے سعودی عرب کے ساتھ ان ممالک کی سفارتی حمایت نمایاں ہوئی ہے، جبکہ شہری تنصیبات پر حملوں اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش، امریکی فوج نے تجارتی جہاز ناکارہ بنا دیا

واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں ایک تجارتی مال بردار جہاز کو کارروائی کے دوران ناکارہ بنا دیا، کیونکہ جہاز کے عملے نے مبینہ طور پر انتباہات نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے مال بردار جہاز ایم وی اوشن مولیکا کو امریکی لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔ اس جہاز کو ’’اریکا سن‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود استعمال کیا، جس سے جہاز کا نظامِ حرکت مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی حکام کے مطابق جہاز ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد علاقائی پانیوں سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم عملے نے بار بار دی جانے والی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔
رائٹرز فوری طور پر جہاز چلانے والی کمپنی سے رابطہ کرکے امریکی دعوے پر اس کا مؤقف حاصل نہیں کرسکا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں، سمندری جہازرانی کے لیے جاری کیے جانے والے انتباہی پیغامات پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر امریکی بحری افواج سے رابطہ کریں۔
U.S. Forces Disable Cargo Vessel Attempting to Violate Blockade
— U.S. Central Command (@CENTCOM) October 11, 2026
TAMPA, Fla. — U.S. Central Command (CENTCOM) forces disabled a commercial cargo vessel in the Gulf of Oman, Oct. 10, after the ship’s crew ignored repeated warnings and attempted to run the ongoing naval blockade… pic.twitter.com/qBKcU6gWqR
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف بحری پابندیوں اور خطے میں بحری آمدورفت کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم، جہاز کو ناکارہ بنانے سے متعلق تفصیلات فی الحال امریکی فوج کے بیان پر مبنی ہیں اور واقعے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سعودی عرب پر حملے فوری بند کیے جائیں، امریکی وزیر خارجہ کا دوٹوک مطالبہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارکو روبیو نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کو قابلِ مذمت قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ حملے معصوم شہریوں کی زندگیوں کو نظرانداز کرنے کا واضح ثبوت ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت حملے معصوم شہریوں کی زندگیوں کے لیے کھلی بے اعتنائی ظاہر کرتے ہیں۔ انہیں اب بند ہونا چاہیے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے ہلاک ہونے والے امریکی شہری کی شناخت، حملے کے مقام اور واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
The United States strongly condemns the recent attacks on the Kingdom of Saudi Arabia by the terrorist Houthis, including today’s strike on King Khalid International Airport in Riyadh that took numerous innocent lives, including an American citizen.
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) October 10, 2026
These reprehensible attacks…
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی حکومت نے ان حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی، اسرائیلی اپوزیشن رہنما

اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ اور سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی سنگین اسٹریٹیجک غلطی تھی۔
گولان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ خامنہ ای کو ہٹانے سے اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ اس کے برعکس ایران میں زیادہ سخت گیر اور پرتشدد عناصر مضبوط ہوئے۔
ان کے مطابق ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے عمر رسیدہ رہنما کی موجودگی بعض اوقات مخالف ملک کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ایسے اہداف مقرر کیے گئے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔
ان کے بقول ایران کی حکومت گرانے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کی مجموعی اسٹریٹیجک پوزیشن پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی۔
گولان کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کے قتل کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت ملنے سے ایران میں مزید سخت گیر حلقوں کا اثر بڑھا، جسے وہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈّے ایرانی انٹیلی جنس کے نشانے پر ہیں؛ رپورٹ

ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے جرمنی میں امریکی فوجی اڈوں کو ممکنہ خفیہ حملوں کے لیے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد امریکا اور جرمنی کے سکیورٹی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
جرمن کاروباری ہفت روزہ ویرٹ شافٹس ووخے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ممکنہ اہداف میں جرمنی کے رامشٹائن اور شپانگڈاہلیم فضائی اڈے شامل ہیں۔
رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس کے متعدد نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً تین ہفتے قبل امریکی اور جرمن حکام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خدشات کا مرکز ایسے فوجی اڈے ہیں جو ایران سے جاری جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی آپریشنز اور رسد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم ممکنہ حملوں کی نوعیت، منصوبہ بندی یا کسی مخصوص کارروائی کے وقت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جرمنی میں واقع رامشٹائن فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کی یورپ اور افریقہ سے متعلق کمانڈ کے علاوہ نیٹو کی اتحادی فضائی کمان کا اہم مرکز ہے۔
یہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی آپریشنز، رابطہ کاری اور فوجی رسد کے امور میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
دوسری جانب شپانگڈاہلیم فضائی اڈہ بھی امریکی اور نیٹو فضائی کارروائیوں کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے اور یہاں امریکی لڑاکا طیارے تعینات کیے جاتے رہے ہیں۔
ان دونوں اڈوں کی اہمیت کے باعث انہیں ممکنہ خطرات کے جائزوں میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے حملوں کی تیاری کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور جرمن یا امریکی حکام کا باضابطہ مؤقف دستیاب معلومات میں شامل نہیں ہے۔
یہودی آبادکاروں کا فلسطینی باپ بیٹے پر حملہ؛ گاڑی بھی چھین لی؛ ویڈیو وائرل

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی باپ بیٹے پر حملے اور گاڑی چھیننے کے شبے میں 15 سالہ اسرائیلی آبادکار کو گرفتار کرلیا گیا۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ واقعہ رام اللہ کے قریب واقع گاؤں یبرود کے نزدیک پیش آیا تھا۔ جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں دو کاروں میں سوار کم از کم چھ یہودی آبادکاروں کو ایک اور کار کو گھیرے میں لیتے اور پھر اس پر ڈنڈوں سے حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ گاڑی سے نکل کر ایک شخص اور ایک نوجوان کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
اطلاعات کے مطابق متاثرین فلسطینی باپ بیٹا تھے جو حملے کے دوران گاڑی سے نکل کر بھاگتے دکھائی دیے۔ یہودی آبادکاروں نے ان لاٹھیاں اور ڈنڈوں سے وار کیے۔ پھر ان کی گاڑی پر قبضہ بھی کرلیا۔
حين تعجز عن حماية ابنك من المخاطر ، تفقد حق الابوة والسيطرة على ابنك !!
— ضمير فلسطين (@damirfalsteen) October 9, 2026
مشهد مخجل لاب من عين يبرود شرق رام يترك ابنه لحظة هجوم مستوطني الاحتلال على سيارته وهروبه وترك ابنه في السيارة للمستوطنين دون أدنى دفاع عنه او حمايته او حتى محاولة تخليصه منهم ؟!
مشهد مليء بسد الذرائع… pic.twitter.com/lfSUB9VmOm
اسرائیلی پولیس نے واقعے کو قوم پرستانہ محرکات پر مبنی حملہ اور گاڑی چوری کرنے کا معاملہ قرار دیا ہے۔ پولیس نے حملے میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی بھی قبضے میں لے لی جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کے سربراہ موشے پنچی نے کہا کہ پولیس علاقے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے انتہا پسند عناصر کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوجیوں کے حملے اور ان کی آشیرباد میں یہودی آبادکاروں کے فلسطینی نوجوانوں پر حملے کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس پر اقوام متحدہ اور یہاں تک کہ امریکی حکومت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلائی دبئی کا ہائی جیکر پائلٹ اسرائیل پر نائن الیون کی طرح حملہ کرنا چاہتا تھا

متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ فلائی دبئی کے عمانی معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو اغوا کرکے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاون پائلٹ نے 30 ستمبر کو پرواز کے دوران منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی تھی۔
اماراتی حکام نے بتایا کہ ملزم یہ مبینہ خودکش حملہ 11 ستمبر 2001 کے امریکا پر حملوں سے متاثر ہوکر کرنا چاہتا تھا تاہم دوسرے پائلٹ اور بعض مسافروں نے منصوبہ ناکام بنا دیا۔
اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ گرفتار معاون پائلٹ نے اس سے قبل تل ابیب کی دو پروازوں میں سفر کرکے پرواز کے راستوں اور ہوائی اڈے سے واقفیت حاصل کی تھی۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ھمام الحمامی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ اس نے خود ہی منصوبہ بنایا اور اکیلا ہی کام کر رہا تھا۔
تاہم اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزم کے بیان کے برعکس تفتیش کار اس کے ممکنہ ساتھیوں یا معاونین کے کردار کا پتا لگانے کے لیے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ملزم ماضی میں بھی مختلف ممالک کی متعدد فضائی کمپنیوں میں کام کرچکا تھا جن میں عمان ایئر اور رائل ایئر ماروک بھی شامل ہیں۔ وہ جنوری 2026 میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کے اہلکار بھی پائلٹ سے تفتیش میں حصہ لینے کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے متعلق کئی تفصیلات پہلے ہی اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں سامنے آچکی تھیں تاہم اماراتی حکام کا تازہ بیان پہلی مرتبہ اس بات کی باضابطہ تصدیق قرار دیا گیا ہے کہ مبینہ منصوبے کا ہدف اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا۔
سعودی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں جان قربان کردینے والے فرض شناس پائلٹ کی کہانی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں جاں بحق ہونے والے پائلٹ کیپٹن حمود علی الكلثمی کی خدمات کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کیپٹن حمود الکلثمی سعودی عرب کی قومی ائیرلائن ’’السعودیہ‘‘ میں بطور کمرشل پائلٹ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
وہ 8 اکتوبر 2026 بروز جمعرات کو اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹی کی انجام دہی کے لیے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود تھے جسے حوثیوں نے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق 8 اکتوبر کو ریاض کے ہوائی اڈے کو دو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلے حملے میں ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا حملہ السعودیہ کے ایک طیارے پر ہوا۔
ان واقعات میں تین سعودی شہری جاں بحق اور مختلف قومیتوں کے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے ایئرلائن کے مطابق متاثرہ طیارہ زمین پر کھڑا تھا اور اس میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کا الزام یمن کے حوثی باغیوں پر عائد کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔ حوثیوں نے بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
سعودی حکام نے حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ السعودیہ کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر پروازوں اور معمول کی کارروائیاں 8 اکتوبر کی شام چھ بجے تک بحال ہوگئی تھیں۔
ایئرلائن نے اپنے تعزیتی بیان میں ان کی پیشہ ورانہ خدمات، کام سے لگن اور ساتھیوں پر چھوڑے گئے اچھے اثرات کو سراہا اور اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حمود علی الکلثمی کسی جنگ میں شریک نہیں تھے بلکہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جو شہریوں کو بحفاظت ان کی منزل پر پہنچانا تھا۔
ان کی نمازِ جنازہ ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو عصر کے فوراً بعد جدہ کی مسجد القریقری میں ادا کی جائے گی۔ سوگوار خاندان سے تعزیت کے لیے اتوار 11 اکتوبر 2026 کو جدہ کے الخالدیہ محلے میں واقع سعودی ائیرلائنز کلب میں انتظامات کیے گئے ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز سے باہر بھی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے باہر بھی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی جارحیت پسندوں کے دھوکے میں آنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ سمندری چٹانوں کو دھماکے سے اُڑا کر بنائے گئے غیر مجاز بحری راستہ اختیار کرنے والے کسی بھی جہاز کا پورے خطے میں تعاقب کیا جائے گا اور اسے یقینی طور پر سزا دی جائے گی۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں جہاز کی شناخت، حملے سے ہونے والے نقصان اور عملے کی ممکنہ صورتِ حال سے متعلق تفصیلات نہیں دی گئیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے تاہم اس آبی گزرگاہ کو ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مارچ سے بند کر رکھا ہے۔
پاسداران انقلاب کا ’چور راستے‘ سے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہاز پر حملہ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں مبینہ غیر مجاز راستے سے گزرنے والے ایل پی جی بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جہاز کی شناخت این وی سن شائن کے نام سے کی جو نات ویت نامی کمپنی کی ملکیت ہے۔
ایرانی بیان کے مطابق جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔
حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور نظامِ حرکت میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور ایل پی جی بردار جہاز مزید سفر جاری نہیں رکھ سکا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی بحریہ آبنائے ہرمز کا انتظام اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اور خطے میں مخالف فوجوں کی موجودگی برداشت نہیں کرے گی۔
ایران نے امریکا پر بحری تجارت میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تاہم حملے اور نقصان سے متعلق تفصیلات ایرانی فوج کے دعوے پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے علاقے الجزیرہ سے تقریباً 13 سمندری میل مغرب میں ایک جہاز نامعلوم ہتھیار کا نشانہ بنا۔
حملے سے جہاز میں آگ لگ گئی تاہم بعد میں آگ بجھا دی گئی۔ عملے کی سلامتی اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔
سمندری امور سے متعلق ویب سائٹ سی ٹریڈ میری ٹائم نے رپورٹ کیا کہ اس واقعے میں پاناما کے پرچم تلے چلنے والا خام تیل بردار جہاز جیم نمبر 2 بھی زیرِ بحث آیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ امارات کے قریب حملے کا واقعہ اور ایران کے بیان میں مذکور ایل پی جی بردار جہاز پر حملہ ایک ہی واقعہ ہیں یا الگ الگ واقعات ہیں۔
نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ خفا؛ فاتح خاتون جج کو امریکی دشمن قرار دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کا نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد انعام جیتنے والی جنوبی افریقی قانون دان ناوی پلے کو امریکا اور اسرائیل کا دشمن قرار دینے والی تنقید دوبارہ شیئر کردی۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں نوبیل کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ناوی پلے کو انعام دے کر کمیٹی نے خود کو بدنام کیا اور امن انعام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ناوی پلے پر الزام عائد کیا کہ عالمی فوجداری عدالت کی مذکورہ جج نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر مبنی تحقیقات کی حمایت کی، حماس کو فائدہ پہنچایا اور امریکا و اسرائیل مخالف رویہ اختیار کیا۔
پوسٹ میں صدر ٹرمپ کے اقدامات، خصوصاً ابراہیم معاہدوں، یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں اور روس یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو امن انعام کے زیادہ موزوں مستحق اقدامات قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ نوبیل کمیٹی نے آج امن انعام کے لیے افریقی خاتون جج ناوی پلے کے نام کا اعلان کیا ہے جو عالمی فوجداری عدالت میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انھیں یہ انعام امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے کوششوں پر دیا گیا۔
ناوی پلے کو نوبیل انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ خاتون جج نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے احتساب کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
85 سالہ ناوی پلے بھارتی تامل نسل سے تعلق رکھنے والی جنوبی افریقی قانون دان ہیں۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔
یاد رہے کہ اپنی وکالت کے ابتدائی دور میں ناوی پلے نے بطور وکیل نیلسن منڈیلا اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے دیگر کارکنوں کی وکالت بھی کی۔
واضح رہے کہ نوبیل کے امن انعام کی مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے جو 10 دسمبر کو اوسلو میں پیش کیا جائے گا جب کہ آج صرف اعلان کیا گیا ہے۔
