ایران نے امریکا کے امن منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا
اس تاخیر کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی صورتحال ہے، ایرانی میڈیا
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جنگ بندی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل سردار محبی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی عسکری اور آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج ایرانی مسلح افواج پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں اور ان کی تیاری مزید مضبوط ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے ایک اہم سبق یہ ملا ہے کہ ایرانی افواج نے دشمن کے بارے میں اپنی آپریشنل معلومات اور حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنایا ہے۔
ترجمان کے مطابق اگر دشمن دوبارہ فوجی محاذ پر آیا تو اس بار کارروائی کا انداز، میدانِ جنگ کا جغرافیہ اور استعمال ہونے والے ہتھیار مختلف ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران نے امریکا کے امن منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا

ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے پر تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس تاخیر کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان “عدم اعتماد” کی صورتحال ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایک فریم ورک معاہدہ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد جاری کشیدگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے حساس معاملے کو حل کرنا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر سے وابستہ ایک نامعلوم ذریعے نے بتایا کہ تہران میں اس مجوزہ معاہدے کے حتمی متن پر مشاورت جاری ہے اور فیصلہ محتاط انداز میں کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی میں امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور مذاکرات کے دوران کارروائیوں کے تجربات کی وجہ سے اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، اسی لیے اس بار کسی بھی معاہدے سے پہلے ٹھوس اور عملی فوائد کی ضمانت درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور وہ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے واضح اور قابلِ عمل نتائج سامنے آئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائےگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، 9 افراد شہید

اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں مزید 9 افراد شہید ہوگئے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے نبطیہ کے قریب توپ خانے سے گولہ باری کی جبکہ شقین اور کفر طیبنیت کے دیہات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسی علاقے میں اسرائیلی ڈرونز کے ذریعے تین علیحدہ حملے بھی کیے گئے۔ علاوہ ازیں تبنین کے قریب بھی فضائی حملے کی اطلاع ملی ہے۔
ایک علیحدہ واقعے میں نبطیہ خردالی روڈ پر ڈرون حملے کے دوران ایک دانتوں کے ڈاکٹر کو ان کے دو بچوں سمیت نشانہ بنایا گیا۔
نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ خاندان صیدا سے گھر واپس جا رہا تھا جب ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر اور انکے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی شہید ہو گئے۔
جنوبی لبنان کے علاقے صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 6 افراد شہید ہوگئے جبکہ 3 زخمیوں کو زندہ بچا لیا گیا۔
حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جبکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ مارچ سے اب تک اسرائیل کے حملوں میں لبنان میں 3,433 افراد شہید اور 10,395 زخمی ہو چکے ہیں۔
لبنان پر حملے جاری رکھنے کے اعلان پر ٹرمپ طیش میں آگئے، نیتن یاہو کو پاگل اور ناشکرا قرار دے دیا

امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان لبنان کی صورتحال پر ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں غیر معمولی کشیدگی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر شدید برہمی اور سخت الفاظ کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کے لبنان میں حملے جاری رکھنے کے بیان پر سخت اعتراض کیا اور انہیں انتہائی جذباتی انداز میں پاگل اور ناشکرا جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بات چیت کے دوران ماحول کئی بار انتہائی تلخ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق اس سخت ردعمل کا پس منظر لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کی جانب سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی نئی سفارتی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گفتگو کے دوران اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو رہا ہے جبکہ ہدف بندی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے سخت لہجے میں یہاں تک کہا کہ اس طرزِ عمل کے باعث اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی دوران گفتگو میں کئی بار جذباتی جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو گفتگو کے دوران نسبتاً محتاط انداز میں جواب دیتے رہے اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
ادھر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث امریکی قیادت کی جانب سے لبنان میں ممکنہ جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں جبکہ ٹرمپ پہلے ہی لبنان میں کارروائی روکنے سے متعلق ایک الگ مؤقف بھی سامنے لا چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے ٹرمپ کے بیان کو ہوا میں اڑا دیا، لبنان میں حملے جاری رکھنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی اور فوجی کارروائیاں روکنے کے دعوے کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کر دیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو بیروت میں موجود ان اہداف کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی سرگرمیاں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھیں گی اور اس حوالے سے اسرائیل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ لبنان کی جانب فوجی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور روانہ کیے گئے دستوں کو واپس بلانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق حاصل ہونے والی مفاہمت کے تحت دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کریں گے تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان نے خطے میں جنگ بندی کے مستقبل اور صورتحال کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران کیساتھ جنگ بندی مذاکرات تیزی سے جاری ہیں؛ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے تو ایران کے مذاکرات معطل کرنے کے عندیہ پر ایسا ظاہر کیا تھا کہ انھیں اس کی پروا نہیں ہے تاہم اب وہ اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن لینے پرمجبور ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی تازہ سوشل میڈیا پوسٹ نے گھمسان جنگ کے بیچ جنگ بندی کے دیئے جلا دیے ہیں اور یہ بیان نوید بن کر سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس مختصر لیکن نہایت بروقت بیان نے دنیا کو ایک نئے ہیجان اور اضطراب سے بچالیا ہے جو کہ خود امریکی صدر نے کچھ دیر قبل پیدا کردیا تھا۔
جب امریکی صدر نے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے پر کہا تھا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ویسے بھی اب مذاکراتی عمل بہت بورنگ ہوگیا ہے۔
تاہم اس سخت بیان کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے انھیں حزب اللہ پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ حزب اللہ سے بات اعلیٰ سطح کے ذرائع سے بات ہوئی اور انھوں نے بھی اسرائیل پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم اور حزب اللہ سے رابطوں کی پوسٹ کے بعد صدر نے یہ تازہ پوسٹ بھی کی جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے تیزی سے جاری رہنے کا اعلان کیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی دھمکی پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے حزب اللہ پر حملے رکوائے جس پر ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہوگئے۔
ایرانی دھمکی کام کرگئی؛ ٹرمپ کا نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ؛ حزب اللہ پر حملے روک دیئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں سے روک دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حزب اللہ کے نمائندوں سے رابطوں کے بعد لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ بہت نتیجہ خیز گفتگو ہوئی جس کے بعد یہ طے پایا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بیروت جانے والے اپنے تمام فوجیوں کو واپس آنے کا حکم دیدیا ہے اور مزید کوئی فوجی وہاں نہیں جائے گا۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بات چیت کی جس میں حزب اللہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ بھی حملے روک دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود اسرائیلی حکومت یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ چند گھنٹے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ میں حملوں کا حکم دیا تھا جو حزب اللہ کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور شمالی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جس کے جواب میں ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات معطل کرنے کا اشارہ دیا تھا۔
ایران بات چیت نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے، ویسے بھی مذاکرات بہت بورنگ ہوگئے ہیں؛ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات کو معطل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس پر کوئی ’’ایشو‘‘ نہیں ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی ہے تاہم اگر وہ بات چیت روکنا چاہتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
این بی سی سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے مذاکرات معطل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم فوراً وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی خاص پروا نہیں۔ اگر مذاکرات ختم ہو گئے ہیں تو ہو گئے، اور اگر جاری ہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ایران نے مذاکرات پر بہت وقت لے لیا۔ اب یہ عمل بہت طویل ہو گیا تھا اور سچ یہ ہے کہ یہ مذاکرات اب خاصے اکتا دینے والے بن چکے تھے۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے جاری بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی بھی ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے وسیع تر جنگ بندی فریم ورک کا حصہ تھی، لیکن اسرائیلی حملوں کے باعث اس کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور لبنان سے اسرائیلی افواج واپس نہیں جاتیں، اس وقت تک امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوتی ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
یہ سفارتی بحران اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی افواج کو بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ میں حملوں کا حکم دیا جو حزب اللہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے منصوبوں پر امریکا کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی تھی۔
اسرائیل کے لبنان پر حملے؛ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات معطل کردیئے

اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے خلاف ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات پر بات چیت سے انکار کردیا۔
اس بات کا دعویٰ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’’تسنیم‘‘ نے ایرانی مذاکراتی ٹیم اور ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان بھی ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کی بنیادی شرائط میں شامل تھا۔
تاہم اسرائیل مسلسل لبنان میں حزب اللہ پر حملے کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور آج ہی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی فورسز کو لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسی بنا پر ایرانی مذاکراتی ٹیم نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور مسودات کے تبادلے کو معطل کر دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جنگ کا فوری خاتمہ اور لبنان سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ناگزیر ہے۔
ایران میڈیا رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب تک ان مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
تاحال ایرانی حکومت یا قیادت کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات معطل کرنے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے تاہم ایرانی وزرا کے سخت بیانات اس جانب اشارہ ضرور دیتے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی جنگ اور ایران کی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکا کی عدم پاسداری کا ثبوت ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر لاگو ہوتی ہے اور لبنان میں خلاف ورزی کو پورے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ لبنان میں اسرائیلی حملے اور امریکا کے متضاد مؤقف سفارتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی پیش رفت کے لیے ضروری ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا اپنی فوج کو بیروت میں حزب اللہ پر حملے تیز تر کرنے کا حکم

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی فورسز کو لبنان کے دارالحکومت میں تابڑ توڑ حملوں کا حکم دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ملکی فوج کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں موجود حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے کرے اور بیروت میں اس کے دہشت گردی کے مراکز محفوظ رہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہماری افواج لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے یہ عسکری تنظیم پسپا ہو رہی ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی گزشتہ 26 برس کی سب سے گہری پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
اسرائیل نے ان حملوں پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ حزب اللہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے اور اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے جنگ بندی کی روح کے منافی ہیں اور خطے کو مزید وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ادھر لبنانی حکومت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ سے جاری لڑائی میں 3ہزار 330 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے بھی کہا ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں کارروائی کے دوران اسی عرصے میں اس کے درجنوں فوجی اور چند شہری بھی حزب اللہ کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق اپریل کو ہوا تھا اور پھر اس میں توسیع بھی کی گئی جو اب تک جاری ہے۔
امریکا سے جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہے؛ بیروت پر حملے خلاف ورزی تصور ہوں گے؛ ایران

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہوتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فوری توجہ کے لیے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی بلا شبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔
For immediate attention:
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 1, 2026
The ceasefire between Iran and the US is unequivocally a ceasefire on all fronts, including in Lebanon.
Its violation on one front is a violation of the ceasefire on all fronts.
The US and Israel are responsible for the consequences of any violation.
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں جبکہ ایران اور لبنان اسرائیلی کارروائیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں حزب اللہ کی حمایت سے گریز نہیں کرے گا اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی ممکنہ ایران۔امریکا معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
دوسری جانب بعض امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی لازمی طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی جس کے باعث معاہدے کی تشریح پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
ایران امریکا مذاکرات معطل؟ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اپنی افواج کو لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے حکم پر ایران کے ممکنہ سخت ردعمل کا اثر تیل کی عالمی منڈیوں پر پڑا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی جانب سے یہ اطلاع سامنے آنے کے بعد کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔
تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 95 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔
اسی طرح امریکی خام تیل بھی 93 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا جب کہ بعض اوقات ٹریڈنگ کے دوران برینٹ 97 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 94 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر گیا ہے جس سے عالمی منڈی بے یقینی کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے فوج کو لبنان کے دارالحکومت میں واقع حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا حکم دیا ہے جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سب توجہ فرمائیں کہ ایران کے ساتھ امریکا کے جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شریک ہے اور بیروت پر حملے سیزفائر کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
عراقی ساحل کے نزدیک مال بردار جہاز پر ڈرون حملہ؛ زور دار دھماکے سے فضا گونج اُٹھی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیجی پانیوں میں ایک کارگو جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کا نشانہ بن گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں شدید دھماکا ہوا۔
بحری امور پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر حملہ عراق کی بندرگاہ اُم قصر سے تقریباً 40 ناٹیکل میل (65 کلومیٹر) جنوب مشرق میں ہوا۔
برطانوی ادارے (UKMTO) کے مطابق نامعلوم شے جہاز کے دائیں حصے (اسٹار بورڈ سائیڈ) سے ٹکرائی جس کے بعد بڑا دھماکا ہوا۔ فوری طور پر کسی ماحولیاتی آلودگی یا تیل کے اخراج کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عراقی سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے زور دار دھماکا ہوا اور جہاز میں آگ بھڑک اٹھی تاہم اس پر قابو پا لیا گیا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاحال کسی گروہ یا ملک نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
UKMTO WARNING 063-26
— UKMTO Operations Centre (@UK_MTO) June 1, 2026
Click here to view the full warning⤵️https://t.co/RyUM9BRf69#MaritimeSecurity #MarSec pic.twitter.com/tZtykTLbyN
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں برس خلیج، آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں کو متعدد بار نامعلوم پروجیکٹائلز، دھماکوں اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مئی میں قطر کے قریب ایک بلک کیریئر کو نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا تھا جبکہ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں کئی کارگو اور آئل ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
بعض واقعات میں آگ لگنے، جہازوں کو نقصان پہنچنے اور عملے کے انخلا تک کی نوبت آئی تھی۔ خلیج میں جہاز رانی کے خلاف ایسے واقعات عالمی توانائی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں کیونکہ دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار انہی بحری راستوں سے گزرتی ہے۔
ایرانی حملوں کے بعد کویت کا سخت ردعمل، اپنی سلامتی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا اعلان

کویت نے اپنے خلاف مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سنگین، خطرناک اور بار بار ہونے والی جارحیت قرار دیا ہے۔
کویتی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حملے ملک کی سلامتی اور استحکام پر براہِ راست حملہ ہیں۔
بیان کے مطابق یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
کویت کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے نہ صرف ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی جانب سے یہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور ان کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
کویتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ریاست کو اپنی خودمختاری، سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
کویت نے ایرانی حملوں کی تمام تر ذمہ داری تہران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مبینہ جارحانہ کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے مناسب فیصلے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایران کے سیرک جزیرے پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
حالیہ پیش رفت کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ علاقائی اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکا جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ایرانی چیف مذاکرات کار کا بڑا الزام

تہران: ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا جاری رہنا اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکا جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا نہ صرف ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھانے سے بھی نہیں روک رہا۔
قالیباف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں صہیونی حکومت کے جنگی جرائم میں اضافہ، امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی عدم پاسداری کا واضح ثبوت ہیں۔
ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور بالآخر اس کے نتائج سامنے آتے ہیں، وقت آنے پر تمام معاملات واضح ہو جائیں گے۔
قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا، اسرائیل اور لبنان سے متعلق صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ بیانات خطے میں سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر سکتے ہیں۔
ایران نے حق دفاع پر یورپی یونین کے اعتراض کو ’منافقانہ‘ قرار دے دیا

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں جو غیرقانونی حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے زور دیا کہ یورپی یونین کو ان ممالک پر تنقید بند کرنی چاہیے جو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے فوجی اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا، جو کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوں، حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کے فقدان اور لبنان کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بدلتی ہوئی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں لبنان میں جنگ بندی انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں جنگ بندی، امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے کا لازمی اور بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔
کویتی فوج کا ’دشمن ڈرون حملوں‘ کو ناکام بنانے کا دعویٰ

کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے پیر کی صبح دشمن کے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اے ایف پی رپورٹس کے مطابق کویتی فوج نے اپنے فضائی دفاع نظام کے ذریعے ’دشمن میزائل اور ڈرون حملوں‘ کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کویتی فوج نے کہا کہ فضائی حملے کے سائرن پورے ملک میں گونج رہے تھے۔
تتصدى حالياً الدفاعات الجوية الكويتية لهجمات صاروخية وطائرات مسيرة معادية.
— KUWAIT ARMY - الجيش الكويتي (@KuwaitArmyGHQ) June 1, 2026
تنوه رئاسة الأركان العامة للجيش أن أصوات الانفجارات إن سمعت فهي نتيجة اعتراض منظومات الدفاع الجوي للهجمات المعادية.
يرجى من الجميع التقيد بتعليمات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة.… pic.twitter.com/TkNLV2Yj4E
کویت آرمی نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فوج کا جنرل اسٹاف یہ مشورہ دینا چاہتا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کے دشمنانہ حملوں کو روکنے کا نتیجہ تھیں۔
امریکی اڈے پر حملہ، اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، پاسدارانِ انقلاب

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فضائی اڈے پر جوابی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے جزیرے سِرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملہ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اس اڈے کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا جہاں سے امریکی افواج نے مواصلاتی سہولت کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ حملہ امریکی حملے کی اطلاع کے چند گھنٹے بعد کیا گیا اور پہلے سے طے شدہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے گوروک اور قشیم جزیرہ میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ہیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
’ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا‘، ٹرمپ نے سی این این کی رپورٹ کو ’فیک‘ قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی مضبوط اور تفصیلی شرائط شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے تاہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکا کے ساتھ گفت و شنید اور پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دے سکتے ہیں اور جب تک واضح نتیجہ نہیں ملتا ہم مذاکرات کے حوالے سے حتمی بات نہیں کرسکتے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ قیاس آرائی ہے اور جب تک واضح نہ ہو اس وقت تک ہمیں یہ باتیں سنجیدہ نہیں لینی چاہیے۔
ایران کا ایک اور امریکی فوجی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایئرڈیفنس یونٹ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکی فوجی ڈرون ایم کیو-ون مار گرایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ واقعے اتوار کو اس وقت پیش آیا جب امریکی فوجی ایم کیوون ڈرون ایران کی بحری بحری سرحد کے اوپر فضائی حدود میں داخل ہوا۔
بیان میں بتایا گیا کہ پاسداران انقلاب کے جدید ایئرڈیفنس میزائل سسٹم نے فوری طور پر بغیر پائلٹ طیارے کی نشان دہی کی اور نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہوگیا۔
پاسداران انقلاب کے ایئر ڈیفنس کمانڈ نے خبردار کیا کہ ایران کی فضائی حدود اور بحری سرحد مکمل طور پر نگرانی اور کنٹرول میں ہے اور ملک کی خودمختاری کی کسی قسم کی خلاف ورزی پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز بھی امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، اس سے قبل 26 مئی کو بھی خلیج فارس میں امریکی ڈرون ایم کیو-9 تباہ کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایرانی فضائی حدود سے فرار ہوگئے۔
ٹھوس نتائج کے بغیر امریکا سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی، قالیباف کا دوٹوک اعلان

تہران: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے ٹھوس اور عملی نتائج سامنے نہ آجائیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بات پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اس اجلاس میں انہوں نے دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد حلف بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو مخالف فریق کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں پیش رفت کا واحد معیار ’حقیقی اور قابلِ تصدیق نتائج‘ ہوں گے۔
قالیباف کے مطابق ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر ممکن معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر رکھتا ہے، اور جب تک ان حقوق کی ضمانت نہیں ملتی، تہران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اس لیے ایران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے کا حصہ بنے گا جب اس کے عملی نتائج واضح ہوں۔
ایران کا دشمنوں کو سخت انتباہ، کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دیا جائے گا

تہران: ایران کی مسلح افواج کے ایک سینئر کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور طاقتور انداز میں دیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے نائب کمانڈر برائے رابطہ امور ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کی سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج ہر قسم کی دشمنانہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ملک کے دفاع کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے۔
ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی قوت اور عسکری تیاری دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ایرانی فوجی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں اور ایران مسلسل اپنے دفاعی عزم کا اظہار کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ واپس بھیج دیا، اہم شقوں میں بڑی تبدیلی مانگ لی

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزیوس سے گفتگو کرنے والے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتے ہیں۔
عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر اور ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار سے متعلق مزید وضاحت چاہتے ہیں۔
امریکی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان نکات کو حتمی معاہدے میں زیادہ واضح انداز میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔
امریکی عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق بعض شقوں کی زبان میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معاہدے کی شرائط زیادہ مضبوط اور قابلِ عمل ہونی چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ تہران ان پر تقریباً تین دن کے اندر اپنا جواب دے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق متنازع نکات پر اتفاق کر لیتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت میں طے پا سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات اب بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ خریدنے کی یقین دہانی کرا دی، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ تنازع کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ کسی بھی سمجھوتے کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
🚨 JUST IN: President Trump reveals IRAN HAS AGREED to NO NUCLEAR WEAPONS
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) May 31, 2026
The terms: "We will not develop or in any way purchase a nuclear weapon."
"WE'RE GETTING WHAT WE WANT."
"I'm in NO HURRY...gasoline prices will tumble down, but if I'm in a hurry, I won't make a good… pic.twitter.com/6OKCRahEjn
ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر ایرانی مؤقف صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے تک محدود تھا تاہم امریکی اعتراض کے بعد اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری نوعیت کا عسکری ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے۔
"We’ve actually left their military alone — people would be surprised to hear that."
— Fox News (@FoxNews) May 31, 2026
President Trump says Iran's military hasn't been hit as aggressively because it's "somewhat moderate" compared to other elements of the regime.
He argues that wiping out "everybody" could cause… pic.twitter.com/gG84lDSrlD
امریکی صدر نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری قیادت اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا لیکن ایرانی فوج کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے گریز کیا گیا۔
ان کے بقول بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکا-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، امریکی صارفین پر 60 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اقتصادی اثرات سے امریکا بھر کے گھریلو اخراجات میں بدترین اضافہ ہوگیا ہے اور اس جنگ نے صارفین پر تقریباً 60 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
موڈی اینالٹکس کے ڈیٹا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز (28 فروری) سے امریکی صارفین کے ایندھن کے اضافی اخراجات اوسطاً 447.19 ڈالر ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت اور فضائی کرایوں میں اضافے کے باعث یہ اضافہ گزشتہ تین ماہ کے دوران امریکی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 60 ارب ڈالر کا بوجھ ڈال چکا ہے۔
ماہر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو امریکی صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
موڈی کے چیف اکنامسٹ مارک زینڈی نے کہا کہ جب تک جنگ ختم نہیں ہوتی، مالی دباؤ کا شکار صارفین کے پاس اپنے اخراجات میں محتاط رویہ اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، جو پہلے سے کمزور معیشت کے لیے مزید خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو جنگ کا ایک سال مکمل ہونے تک اوسط امریکی گھرانہ تقریباً دو ہزار ڈالر اضافی اخراجات کا سامنا کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار اس تنازع کے وسیع اقتصادی نتائج کو نمایاں کررہے ہیں، جس کی وجہ سے توانائی کی مارکیٹ میں خلل پڑا اور صارفین کے لیے لاگت میں مشرق وسطیٰ کی جنگ سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
قطر کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے مستقل ٹول کی مخالفت، عارضی فیس کی حمایت

قطر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے مستقل بنیاد پر ٹول وصول کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا تاہم بارودی سرنگوں کی صفائی کرتے ہوئے گزرگاہ کی بحالی کے لیے عارضی طور پر فیس وصولی کو قابل گفت شنید قرار دے دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں شانگری-لا سیکیورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ قطر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مستقل ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجاویز کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قدام سے دنیا بھر کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا لہٰذا قطر اور اس کے خلیجی شراکت دار آبنائے ہرمز میں طویل المدتی ٹول یا کسی قسم کی فیس کے نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔
قطر کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ اگر بارودی سرنگوں کی صفائی یا سمندری تجارتی راستے کی بحالی کے لیے کسی عارضی فیس پر گفت و شنید کے لیے تیار ہوں گے۔
امریکا کا آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی توڑنے والے جہاز پر میزائل حملہ

امریکی فوج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی توڑتے ہوئے ایران جانے والے بحری جہاز کو ہیلفائر میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فورسزن نے ایران کی بندرگاہ کی طرف جانے کی کوشش کرنے والے گیمبیا کے جہاز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
یان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے خلیج عمان پر بین الاقوامی پانیوں پر ایرانی بندرگاہ کی طرف جاتے ہوئے ایم/وی لیان اسٹار کی نشان دہی کی اور 20 سے زائد وارننگز جاری کیں اور آگاہ کیا کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی طیارے نے عملے کی جانب سے تنبیہ پر عمل نہ کرنے کے بعد جہاز کے انجن روم پر ہیلفائر میزائل داغ کر بحری جہاز کو ناکارہ بنایا اور جہاز ایران نہیں جا پایا۔
سینٹ کام نے مزید بتایا کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز پر پوری طاقت کے ساتھ ناکہ بندی کے نفاذ کے لیے 5 کمرشل جہاز ناکارہ بنائے اور 116 کی سمت تبدیل کردی ہے۔
آبنائے ہرمز پر پاسداران انقلاب کا کنٹرول ہے، کسی قسم کی مداخلت پر نشانہ بنایا جائے گا، ایران

ایران کی فوج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول بدستور پاسداران انقلاب کی بحریہ کے پاس رہے گا اور خبردار کیا کہ اسٹریٹجک بحری راستے میں کسی قسم کی مداخلت کا جواب دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز نے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام مسلح افواج نے پوری طاقت کے ساتھ سنبھالا ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام بحری جہاز، کمرشل جہاز اور تیل کے ٹینکرز مخصوص راستوں سے گزرنے کے پابند ہیں اور انہیں پاسداران انقلاب سے جامع اجازت درکا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیےتمام جہازوں کے لیے وضع کیے گئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ان قواعد کی کسی قسم کی خلاف ورزی پر ان کے بحفاظت گرنے کے حوالے سے سنگین خطرات ہوں گے۔
ایران کی فوجی کمان نے خطے میں فعال غیرملکی بحری فورسز کو بھی سخت وارننگ جاری کردی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کی غرض سے فوجی جہازوں کی کوئی کارروائی یا جہازوں کی آمد ورفت پر خلل ڈالنے کی کوشش کی صورت میں ایرانی مسلح افواج کی جانب سے نشانہ بنایا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاسداران انقلاب نے رواں ہفتے امریکی ٹینکر کو واپس جانے پر مجبور کیا تھا جہاں ایران کی پابندیوں کے باوجود امریکی ٹینکر اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کرکے غیرقانونی طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریبی علاقے جزیرہ قشم میں امریکا کا جدید آربٹر ڈرون مار گرایا۔
ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایئرڈیفنس فورس نے ہفتے کو امریکا-صہیونی جارح دشمن کا ڈرون کا سراغ لگایا گیا اور اس کے بعد گرایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جوائنٹ ایئرڈیفنس ہیڈکوارٹرز کے مشترکہ نیٹ ورک کے تحت فعال ایرانی فوج کے ایئر ڈیفنس نے بغیرپائلٹ کے طیارے کو مار گرایا۔
یاد رہے کہ 26 مئی کو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے ایئرڈیفنس یونٹ نے خلیج فارس کی فضا میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو نشانہ بنایا تھا اور خبرادار کیا تھا کہ امریکی کی جانب سے جارحیت کے ذریعے جنگ بندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی کا جواب بھی بدترین دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا تھا کہ امریکی دہشت گرد فوج نے خطے میں کشیدگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئےخلیج فارس کے خطے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم خفیہ نگرانی کے ذریعے پاسداران انقالب کے ایئرڈیفنس نے ایم کیو-9 ڈرون کی نشان دہی کی اور مار گرایا۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایرانی فضائی حدود سے فرار ہوگئے
معاہدہ نہ ہوا تو ہم ایران پر حملے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہیں، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو امریکا دوبارہ حملے کرنے کیلئے تیار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر نے سنگاپور میں دفاعی رہنماؤں، فوجیوں اور سفارت کاروں کے لیے ایشیا کے سب سے بڑے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ حملے شروع کریں گے اور ہماری صلاحیت اور اہلیت اب کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اسلحے کے ذخیرے پوری دنیا سے کہیں زیادہ ہیں، اس لیے ہم [دوبارہ حملے کرنے کیلئے] بہت اچھی جگہ پر ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازعات میں مصروف ہونے کے باوجود ایشیا پیسیفک خطے سے منہ نہیں موڑا ہے۔
بات چیت ابھی جاری ہے، تاحال امریکا کیساتھ معاہدہ طے نہیں پایا؛ ایران

ایران نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات بدستور جاری ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ابھی مکمل طور پر طے نہیں پائی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں، بات چیت جاری ہے لیکن ابھی کئی معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل اور اس میں جہاز رانی کے انتظام کا انحصار ایران اور عمان پر ہوگا کیونکہ ان دونوں کے پاس آبنائے ہرمز کو چلانے کا مشترکہ منصوبہ موجود ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، جبکہ جوہری معاملات فی الحال مذاکرات کا مرکزی موضوع نہیں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اپنے مشیروں کے ساتھ اجلاس کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔
انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا پابندی کے عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو امریکا بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔ وہاں موجود جہاز اور عملہ اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرلیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کی صورت میں ایران کو اس بات کا بھی یقین دلانا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
امریکا سے معاہدہ مذاکراتی میز پر نہیں بلکہ میزائل قوت سے حاصل کیا؛ ایرانی اسپیکر

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور جاری مذاکرات میں کامیابی کو میزائل طاقت کے مرہون منت قرار دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے مزید کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی رعایت مذاکراتی میز پر نہیں بلکہ اپنی عسکری طاقت، خاص طور پر میزائل صلاحیت کے ذریعے حاصل کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو مخالف فریق کی زبانی یقین دہانیوں یا تحریری ضمانتوں پر اعتماد نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین ہے۔
محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ جب تک دوسرا فریق (امریکا) ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا، ہماری طرف سے بھی کوئی اقدام نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں فاتح وہی ہوگا جو اگلے ہی دن جنگ کے لیے تیار ہوگا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک سیاسی سمجھ بوجھ پیدا ہوچکی ہے جس میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم ایرانی حکام مسلسل امریکی بیانات کی بعض تفصیلات کی تردید کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے خوشخبری سنا دی؛ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی ختم؛ ایران کیساتھ کئی نکات پر اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور بحری راستے کی بحالی کے حوالے سے ایران کے ساتھ اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے۔ وہاں پھنسے جہازوں اور ان کے عملے کو اب اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرنی چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو بدلے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بلا تعطل روانی یقینی بنائی جائے گی اور وہاں کسی بھی قسم کا ٹول یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی متعدد بحری بارودی سرنگیں امریکی مائن سوئپرز پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔
انہوں نے امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز میں کارروائی کو عظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔
اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 11 ماہ قبل امریکی B-2 بمبار طیاروں کے حملے میں زیرِ زمین پہاڑوں کے نیچے موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ دب گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، چین، ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تعاون سے اس نیوکلیئر ڈسٹ کو زمین سے نکال کر مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تاحکمِ ثانی کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا تاہم ایران کے ساتھ کم اہمیت کے حامل دیگر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وہ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔
ایران امن معاہدے کے مسودے میں 300 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی تجویز بھی شامل

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امن معاہدے کے مسودے میں 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر اسے جنگی نقصانات کے ازالے کے طور پر پیش کیا تھا۔
تاہم امریکی فریق اس منصوبے کو “بین الاقوامی سرمایہ کاری فنڈ” کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس تجویز کا مقصد “ہرجانے” کی اصطلاح سے گریز کرنا ہے۔
اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے تہران میں رئیل اسٹیٹ منصوبوں اور سرمایہ کاری فنڈ کی تجویز دی۔
علاوہ ازیں ایران نے جنگی نقصانات کا تخمینہ 300 ارب سے ایک کھرب ڈالر تک لگایا ہے۔
ایران جوہری پروگرام سے متعلق نکات پر اتفاق کرچکا ہے، عرب میڈیا

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نکات پر اتفاق ہوچکا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کئی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
میڈٰیا رپورٹس کے مطابق ایران نے جوہری تنصیبات کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی نگرانی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
مزید برآں ایران افزودہ یورینیم چین منتقل کرنا چاہتا ہے اور شرط یہ ہے کہ اسے امریکا کے حوالے نہ کیا جائے۔
اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان امریکا میں اہم مذاکرات آج متوقع

اسرائیل کی جنوبی لبنان میں جاری کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان آج امریکا میں اہم سکیورٹی مذاکرات متوقع ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی حکام واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سرپرستی میں ملاقات کریں گے۔ یہ حالیہ جنگ بندی میں توسیع کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی براہ راست سکیورٹی بات چیت ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ اسرائیل اور لبنان نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں مزید اندر تک پیش قدمی کر رہی ہے جبکہ سرحدی علاقوں کے تمام رہائشیوں کو شمال کی جانب منتقل ہونے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
لبنان کے معروف عربی اخبار ’النہار‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ پیش گوئی کرنا آسان نہیں کہ امریکی سرپرستی میں ہونے والے براہ راست لبنانی اسرائیلی فوجی مذاکرات کیا نتائج سامنے لائیں گے۔
دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور لبنانی ریاست کی پورے ملک پر عملداری ناگزیر ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان مذاکرات کو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔
ایران اور امریکا معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جسے سرمایہ کاروں نے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 93.7 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی گر کر 88.9 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
اسی طرح مربن آئل کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 93.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر متفق ہو چکے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس مفاہمتی یادداشت کی حتمی منظوری نہیں دی۔
ویب سائٹ کے مطابق اگر اس معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ ایران امریکا کشیدگی کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت تصور کی جائے گی۔ تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت کئی اہم معاملات پر مزید تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت معمول پر آجاتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں مزید استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں انتہائی سکیورٹی میں ادا کردی گئی، برطانوی اخبار کا دعوی

لندن: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید رہنما اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں انتہائی سخت سکیورٹی کے حصار میں ادا کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نماز جنازہ جمعرات کے روز محدود پیمانے پر منعقد کی گئی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای کے اہل خانہ، قریبی رفقا اور چند اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ تقریب کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
تاہم اس خبر کی تاحال کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ ایرانی حکومت یا سرکاری میڈیا کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہل خانہ سمیت شہید ہوگئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کی عسکری قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا اور کئی اعلیٰ فوجی حکام اور مشیران مارے گئے تھے، جن میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اس خبر نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ایران میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تہران اور واشنگٹن ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی چند اہم نکات پر مذاکرات جاری ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال مجوزہ معاہدے کی منظوری دینے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید پیش رفت کے بعد ہی صدر ٹرمپ معاہدے کی توثیق کی پوزیشن میں ہوں گے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق امریکا اس پوزیشن میں ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مزید پیچھے دھکیل سکے، تاہم اس مقصد کیلئے تفصیلی مذاکرات اور واضح شرائط ضروری ہیں۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کب دستخط کریں گے۔
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کیلئے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت پر متفق ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سکیورٹی معاملات پر حتمی معاہدے کیلئے مزید سخت مذاکرات درکار ہوں گے۔
ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
ٹرمپ نے ایران معاہدے کا خفیہ مسودہ اسرائیل سمیت اتحادی ممالک کو بھیج دیا، برطانوی میڈیا کا دعویٰ

برطانوی اخبار گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا مسودہ اسرائیل سمیت اپنے اتحادی ممالک کو بھیج دیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے، امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے جیسی اہم شقیں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں تجویز دی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے تاکہ عالمی تجارتی اور تیل بردار بحری راستے دوبارہ معمول پر آسکیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق معاہدے کے تحت ایران کو اس کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اثاثے مختلف پابندیوں کے باعث بیرون ملک منجمد کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران آبنائے ہرمز، جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور علاقائی کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے۔
گارڈین کے مطابق چین نے بھی اس مجوزہ معاہدے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کی جائے تاکہ اسے عالمی قانونی حیثیت حاصل ہوسکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے خدوخال پر امریکا اپنے اتحادی ممالک خصوصاً اسرائیل اور خلیجی ریاستوں سے مشاورت کر رہا ہے، جبکہ حتمی منظوری اور دستخط کے مراحل ابھی باقی ہیں۔
تاحال امریکا یا ایران کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دشمن ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے انتشار پھیلانا چاہتا ہے، سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کے تمام شعبہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کو قوم میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن میدان میں شکست کی تلافی اور ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 مئی 1980 کو معرض وجود میں آنے والی ایرانی پارلیمنٹ کے نئے سیشن کے افتتاح پر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے تحریری بیان میں کہا کہ جنگ مسلط کرنے، معاشی دباؤ، پروپیگنڈے اور محاصرے کے بعد دشمن کے اندھے منصوبے کا مقصد فوجی میدان میں ہونے والی شکست کی تلافی اورقوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے اختلاف اور سماجی انتشار پھیلانا ہے۔
عیدالاضحیٰ اور پارلیمان کے نئے سیشن کے آغاز پر مبارک دیتے ہوئے انہوں نے ایرانی عوام، اراکین اسمبلی اور خصوصاً ملک کی سربلندی کی راہ میں بہترین کوششوں پر باقر قالیباف کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے حالیہ حملوں سے متعلق کہا کہ ایرانی عوام نے وفاداری، امید اور ثابت قدمی پر باطنی کردار اور عمل دوستوں اور دشمنوں دونوں پر ثابت کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد اور غیرمتزلزل یگانگت تقویٰ کے اجزا میں شامل ہیں جو اسلامی ایران کے پرچم تلے اس قوم کو عطا کی گئی ہے اور یہ بدترین دشمن کے خلاف فتح کے انتہائی اہم عناصر میں میں سے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن ملکی بقا کو نقصان پہنچانے کے لیے قوم میں تقسیم اورسماجی انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، جن کے دل اسلام، انقلاب اور ایران کی آزادی کے لیے دھڑکتے ہیں وہ اپنی صفوں میں اتحاد رکھیں، قوم کے تمام رہنما خاص طور پر دانش ور طبقہ اور سیاسی حلقے بشمول اراکین اسمبلی قوم میں وحدت اور اتحاد برقرارر کھنے کے لیے پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اختلاف کو تنازع اور تقسیم میں تبدیل نہ کیا جائے اور زبان اورعمل دونوں طریقوں سے قومی اتحاد کو مـضبوط رکھا جائے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ دور کے بدترین جارح کے خلاف ثابت قدم رہنے اور تاریخ کو درست راہ پر گامزن کرنے والی بے مثال قوم کی نمائندگی کرنا انتہائی بھاری ذمہ داری ہے۔
ایران کا کویت پر بیلسٹک میزائل حملہ، امریکا کا اسے ناکام بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا جسے ناکام بنادیا گیا، امریکا نے حملے کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی بھی قرار دے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکی سینٹ کام سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے کویت پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا تاہم کویتی فورسز نے اسے بروقت تباہ کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب اس وقت کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ایرانی فورسز نے 5 ڈرونز سے حملہ کیا جو آبنائے ہرمز کے قریب اور اندر واضح طور پر خطرہ تھا۔
امریکی سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی فورسز نے تمام ڈرون ناکارہ بنادیے اور بندر عباس میں ایرانی بری فورسز کے جانب سے لانچ کیا گیا چھٹا ڈرون بھی روک دیا۔
امریکی سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی فورسز اور خطے کے شراکت دار بدستور چوکس ہیں اور ایران کی جارحیت کے خلاف اپنے فورسز اور مفادات کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی عمان کو دھمکی پر ایران بھڑک اٹھا، بڑا بیان سامنے آگیا

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو دی گئی مبینہ دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے عمان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران، عمان کے خلاف امریکی حکام کی دھمکی آمیز زبان کی سخت مذمت کرتا ہے اور خطے کے ممالک کی خودمختاری کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر عمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمان نے سب کی طرح رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا سخت کارروائی کرسکتا ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران عمان کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور خطے میں دباؤ اور دھمکیوں کی سیاست کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران کے شہر بندر عباس کے بعض علاقوں پر حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
بقائی کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے امن، استحکام اور بحری راستوں کے تحفظ کیلئے علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ خلیجی خطے میں نئی سفارتی اور عسکری بے چینی پیدا کرسکتا ہے۔
ایران پر نئے امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجہ ایران پر نئے امریکی حملے اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں نئی کارروائیوں کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی، جس کے باعث تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زیادہ تر مندی دیکھی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں ایک کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا جبکہ 4 ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں موجود 4 بحری جہازوں پر فائرنگ کی، جبکہ کویت نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ان تازہ کشیدگیوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 95.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.7 فیصد اضافے کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کیلئے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے۔
ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.5 فیصد سے زائد گرگیا جبکہ جنوبی کوریا، شنگھائی اور دیگر مارکیٹس میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے باعث مرکزی بینک شرح سود بڑھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے متضاد بیانات سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کررہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
پاکستان کی درخواست پر ایران کیخلاف کارروائی روکی، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی تھی جبکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اب بھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوسکا۔
امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے اور امریکا ابھی تک مجوزہ معاہدے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی معاہدہ مکمل طور پر طے نہیں پایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ وہی کچھ کرسکتا تھا جو اس نے وینزویلا کے ساتھ کیا، تاہم پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی گئی۔ انہوں نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخصیات ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب زیادہ آپشنز موجود نہیں، یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کام مکمل کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم ترک کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی دینے پر بات نہیں ہورہی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو روس یا چین کے حوالے کیے جانے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق رویہ اختیار کرے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ عالمی بحری راستہ سب کے لیے کھلا رہے گا اور کوئی ایک ملک اس پر کنٹرول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی اور کشتیوں کی نقل و حرکت بحال کردی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق دعویٰ کیا کہ اس تنازع میں امریکا کی صرف 13 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ افغانستان، عراق اور دیگر جنگوں میں ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار پر بھی عالمی سطح پر توجہ دی جارہی ہے۔
ایران پر نئے امریکی حملے، ایران کا جوابی وار، کویت، لبنان اور خلیج میں ہائی الرٹ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے جبکہ خطے میں جنگ کے دائرہ وسیع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات پر نئے حملے کیے ہیں دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے جنوبی شہر بندر عباس کے قریب ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی امریکی فوجیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو لاحق خطرات کے پیش نظر کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر امریکی جارحیت جاری رہی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دوسری جانب کویت کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ’دشمن‘ میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنایا۔ کویتی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملے کہاں سے کیے گئے تھے، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تمام شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دریائے زہرانی کے جنوب میں تمام علاقوں کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے لوگوں کو شمال کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں نے جنوبی لبنان کی صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل حملوں اور زمینی کارروائیوں سے انسانی بحران سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔
دریں اثنا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی، جبکہ ایرانی حکام مذاکرات کے حوالے سے محتاط بیانات دے رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز، لبنان اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
افزودہ یورینیم پر امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران کا دوٹوک مؤقف

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے علی باقری نے کہا کہ ’’یہ معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹس کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا مستقبل ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ 60 فیصد افزودگی ابھی ہتھیاروں کے معیار یعنی 90 فیصد سے کم ہے، تاہم اس سطح کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار افزودگی تک پہنچنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
حالیہ صورتحال میں اصل محاذ اب معاشی جنگ ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اصل جنگ کا میدان معیشت بن چکا ہے اور ملک کو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اقتصادی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر پزشکیان نے تہران چیمبر آف کامرس کے اراکین سے ملاقات کے دوران نجی شعبے کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جتنا نجی شعبہ مضبوط، متحرک اور فعال ہوگا، اتنی ہی ایران کی معاشی بنیاد مستحکم ہوگی اور بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی طاقت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب ان کی توجہ ایران کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے پر مرکوز ہے۔
صدر پزشکیان کے مطابق دشمن اب ایران کی معاشی مزاحمت کو کمزور کرنے اور عوام کے روزگار و معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
