بحرین، کویت اور دوحہ میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوگئی

امریکی جنگی طیاروں کی مسلسل چھٹے روز بھی ایران کے مختلف شہروں پر فضائی حملے، 7 افراد ہلاک
Updated Jul 17, 15:58

خلیجِ عدن میں مسلح افراد نے کیمیکل ٹینکر پر قبضہ کر لیا، بحری سلامتی پر نئے خدشات

عدن: خلیجِ عدن میں یمن کے جنوبی ساحل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک کیمیکل ٹینکر پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بحری سلامتی کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جمعہ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے "اسانا" نامی کیمیکل ٹینکر پر سوار ہو کر جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹینکر اس وقت یمن کے جنوبی ساحل کے قریب خلیجِ عدن سے گزر رہا تھا۔ جہاز کی ملکیت یا اس پر لہرانے والے قومی پرچم کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے نظام کے مطابق کیمیکل ٹینکر صومالیہ کے شہر بوساسو کی بندرگاہ کی جانب روانہ تھا، جب اس پر قبضے کا واقعہ پیش آیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے، ان کا مقصد کیا تھا یا جہاز کے عملے کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔ کسی گروہ نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق خلیجِ عدن عالمی تجارتی جہاز رانی کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں ماضی میں قزاقی، مسلح حملوں اور تجارتی جہازوں پر قبضے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحری راستوں کی سکیورٹی پہلے ہی عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

Updated Jul 17, 15:21

ایران کے کویت میں متعدد مقامات پر حملے، بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی تصدیق

کویت سٹی: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں متعدد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ کویتی حکومت نے ایک بجلی اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کے دوران امریکی فوج اور اسرائیل کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی میں ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم لانچرز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ امریکا کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

دوسری جانب کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے تصدیق کی کہ ایک حملے میں بجلی گھر اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی اور بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس متاثر ہوئے۔

وزارت کے مطابق امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا ہے، جبکہ ماہرین نقصان کا جائزہ لینے اور پلانٹ کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کویتی حکام نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 90 فیصد پینے کا پانی سمندری پانی کو صاف کر کے حاصل کیا جاتا ہے اس لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عوامی زندگی اور پانی کی فراہمی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

تاحال کویتی حکومت نے ایرانی دعوے میں بیان کیے گئے دیگر فوجی اہداف کی تباہی کی تصدیق نہیں کی، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی توثیق سامنے نہیں آئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خلیجی خطے میں اہم فوجی اور بنیادی تنصیبات پر حملوں کے دعوے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

Updated Jul 17, 13:10

برطانیہ میں ایرانی انٹیلیجنس کیلئے جاسوسی کے الزام پر بڑا ایکشن، 39 سالہ شخص گرفتار

لندن: برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے ایک 39 سالہ شخص پر ایران کی انٹیلیجنس سروس کی مبینہ معاونت کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق واحد عابری نامی ملزم، جو لیورپول کا رہائشی ہے، کو بدھ کے روز برمنگھم کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

لندن کی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں جا چکا ہے، اس لیے تحقیقات کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات کے دوران عوام، کسی مخصوص کمیونٹی یا کسی فرد کے لیے براہِ راست خطرے کے شواہد سامنے نہیں آئے، اس لیے شہریوں کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے اور اسے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوگی۔

برطانوی حکام نے اس مرحلے پر الزام کی نوعیت یا ملزم کی مبینہ سرگرمیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ اور ایران کے تعلقات مختلف سفارتی اور سکیورٹی معاملات کے باعث مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

Updated Jul 17, 12:34

آبنائے ہرمز کا بحران عالمی توانائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی

پیرس/جنیوا: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاطح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو عالمی توانائی کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطح بیرول نے کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی سلامتی آج بھی دنیا کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں موجودہ صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پوری دنیا کو تشویش ہونی چاہیے، کیونکہ عالمی توانائی کی منڈی پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑتا ہے۔

آئی ای اے سربراہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران میں مسلسل چھٹے روز بھی مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق بندر عباس، اہواز اور ایران شہر سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکا نے ایک ایسے جہاز پر بھی کارروائی کا دعویٰ کیا جس پر ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندی توڑنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے اتحادی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے، جبکہ قطر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی مکمل پاسداری نہیں کی، اسی لیے صورتحال معمول پر نہیں آ سکتی۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی خودمختاری کے دائرے میں آتی ہے اور امریکا سمیت کسی بیرونی ملک کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ حالیہ امریکی حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر معاہدے کی شرائط توڑیں، جس کے بعد امریکا نے فوجی کارروائی کی۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوتی رہی تو نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

Updated Jul 17, 12:02

امریکی حملوں میں 38 افراد جاں بحق، 400 سے زائد زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت

تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ 22 جون سے امریکا کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب تک ملک بھر میں کم از کم 38 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 38 ایرانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں 22 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق متاثرین میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے 9 بچے زخمی ہوئے، جبکہ ایک کم عمر بچہ حملوں میں جان سے گیا۔

ایرانی حکام نے امریکی حملوں کو شہری آبادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے ان اعداد و شمار یا دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی ابھی تک نہیں ہو سکی۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

Updated Jul 17, 11:39

پاسداران انقلاب کا عمان میں جدید ترین امریکی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عمان میں موجود امریکی طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار سسٹمز اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مربوط میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے عمان میں نصب امریکی فضائی نگرانی کے ریڈار اور بحری نگرانی کے ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بحرین کے علاقے جفیر میں موجود امریکی فوجی مراکز پر بھی کارروائی کی گئی۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے امریکا کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

تاہم امریکی حکام نے اب تک ان حملوں کی تصدیق نہیں کی، جبکہ عمانی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے ایران کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج نے بھی آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے ساحلی ریڈار سسٹمز، میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور پاسدارانِ انقلاب کے مختلف فوجی اڈوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور عالمی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران کے عمان اور بحرین سے متعلق دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ موجودہ تنازع کو آبنائے ہرمز سے آگے خلیجی خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانے والی ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، جس کے علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Updated Jul 17, 11:03

ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹا نکلا؟ ایران نے امریکی خاتون قیدی کی رہائی کی خبر مسترد کر دی

تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کر دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے ایک امریکی خاتون قیدی کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کر دیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی کے مطابق ایران کی عدلیہ کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی قیدی کو نہ رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قیدی کے تبادلے کا کوئی معاملہ پیش آیا ہے۔

عدلیہ کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔ بیان کے مطابق متعلقہ اداروں کی تحقیقات میں ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ملا جو ٹرمپ کی جانب سے بیان کی گئی تفصیلات یا کسی امریکی قیدی کی رہائی سے مطابقت رکھتا ہو۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں 2024 میں گرفتار کی گئی ایک امریکی خاتون کو ایران نے رہا کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکا ایران کے اس اقدام کو خیرسگالی کا اظہار سمجھتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے۔

تاہم ایرانی عدلیہ کے ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ کسی امریکی شہری کو ایرانی جیلوں سے رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ عمل میں آیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث مختلف دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

Updated Jul 17, 10:48

ایران نے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کیلئے تیار رہنے کا کہہ دیا، رائٹرز

ایران نے مبینہ طور پر یمن کی حوثی ملیشیا سے کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے حوثیوں سے رابطہ کیا اور کہا ہے کہ اگر امریکا ایرانی پاور انفراسٹرکچر پر حملہ کرتا ہے تو بحیرہ احمر کے تیل کے راستے باب المندب کو بند کرنے کیلئے تیار رہیں۔

3 ذرائع جس میں دو سینئر ایرانی ذرائع اور معاملے سے واقف ایک علاقائی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ باب المندب کو بند کرنے کے حوالے سے ایران کی قیادت میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے، اور یہ پیغام حوثی اتحادیوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں کو حال ہی میں تہران کی درخواست سے آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ یہ کیسے پہنچایا گیا یا یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کو ایرانی پاور انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی کے بعد تھا۔

Updated Jul 17, 10:42

جے ڈی وینس نے ایران مذاکرات سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر ایران سے متعلق مذاکرات کے دوران مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایسی خبریں اور دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے قابلِ اعتماد ارکان ہیں اور ان پر اندرونی معلومات سے مالی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کرنا بالکل مضحکہ خیز ہے۔

امریکی نائب صدر کا یہ ردعمل ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی اس پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے متعلق مذاکرات میں شامل بعض امریکی عہدیداروں نے اپنی ذمہ داریوں سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

جے ڈی وینس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں اور یہ محض بے بنیاد الزامات ہیں۔

تاحال جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی جانب سے اس معاملے پر کوئی علیحدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ متعلقہ الزامات کے حق میں بھی کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے باعث مختلف نوعیت کے دعوے اور افواہیں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں سے کئی کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔

Updated Jul 17, 10:05

بحرین، کویت اور دوحہ میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوگئی

تہران / واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ امریکی حملوں کے مسلسل چھٹے روز ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایران کے مختلف فوجی اہداف پر نئی فضائی کارروائیاں کرنے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور ڈرونز نے ایران کے متعدد فوجی مقامات پر جدید ہتھیاروں سے حملے کیے۔ امریکی بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں قشم جزیرہ، بندر عباس اور ساحلی علاقوں میں واقع فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک تنصیبات اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، کویت اور دیگر خلیجی علاقوں میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکوں جیسی آوازیں سنی گئیں، جبکہ قطری وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ ایک بچے کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے، جس کی وجہ مبینہ طور پر دھماکے سے اڑنے والے ٹکڑے تھے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے مختلف علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں بندر خمیر کے پل، ایک ریلوے اسٹیشن اور ایران شہر ایئرپورٹ شامل ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر خمیر میں پلوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم سات افراد جاں بحق ہوئے۔

ادھر آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر بحری آمدورفت شدید متاثر ہو گئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے بحری راستوں پر اپنی پابندیاں بحال کر دی ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے تو بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب میں بھی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں امریکی مفادات یا بین الاقوامی جہاز رانی پر حملوں کو برداشت نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارتی راستہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکا فضائی حملوں کے ذریعے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم نہیں کر سکتا کیونکہ ایران اپنی سرزمین کے مختلف حصوں سے اس اہم آبی گزرگاہ تک رسائی اور دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی سپلائی پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔

Updated Jul 17, 07:12

جوابی کارروائی میں ایران کا بحرین اور کویت میں امریکی اہداف پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

امریکی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے سخیر فوجی اڈے پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر روسی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کویت میں بھی ایرانی ڈرون حملوں کے دوران امریکی میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

دوسری جانب کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے نے کویت کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حملوں کے دوران ملک کی متعدد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

Updated Jul 17, 06:52

امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی حملے، مختلف شہروں میں دھماکوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے مسلسل چھٹے روز بھی ایران کے مختلف علاقوں پر نئی فضائی کارروائیاں کیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تازہ حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید محدود کرنا اور اس کے فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر بندر خمیر میں واقع اہم پل کو رات گئے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں پل کو شدید نقصان پہنچا جبکہ بعد ازاں ایرانی خبر رساں اداروں نے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہونے کی اطلاع دی ہے۔

حکام کے مطابق 9 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کرکے علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے میں کیہوارستان پل اور بندر عباس کے ایک رہائشی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر عباس کے قریب ایک پہاڑی پر نصب مواصلاتی ٹاور بھی امریکی حملے کی زد میں آیا جس کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

امریکی حکام نے انفرادی اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم سینٹکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے جاری رہیں گی جبکہ ایرانی حکام نے حملوں کے نتائج اور نقصانات کا مزید جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

Updated Jul 17, 01:44

امریکی فوج کا ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے جبکہ ایرانی میڈیا نے حملوں میں 7 افراد کے زخمی ہونے کی رپورٹ دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیت مزید کمزور کرنے کے لیے امریکی وقت کے مطابق دو بجے نئے حملے شروع کردیے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل پانچویں رات کو حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیت مزید کمزور کردی جائے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایران کے علاقے بندر عباس میں 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، بجلی منقطع ہوگئی اور 7 افراد کے زخمی ہوئے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ امریکی حملے میں شہر کے پہاڑی پر کمیونیکیشنز ٹاور کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے کی بجلی منقطع ہوگئی۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایرانشہر ایئرپورٹ پر میزائل حملے شروع کردیے ہیں

ایرانی میڈیا نے بتایا کہ بندر خمیر ریجن میں پل پر حملہ کیا گیا ہے، یہ پل بندرعباس اور لر کو ملانے والا واحد ذریعہ تھا۔

Updated Jul 16, 22:16

مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، توجہ دفاع پر ہے، ایران کا دو ٹوک اعلان

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کو کوئی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے گزشتہ ماہ دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی جاری ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی توجہ اس وقت اپنی حدود میں امریکا کے حملوں کے خلاف دفاع اور جواب دینے پر مرکوز ہے۔ 

امریکا کی جانب سے ایران کو حملوں کے ذریعے مذاکرات پر مجبور کرنے کے دعوؤں پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور دفاع پر توجہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایران 17 جون کو امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے شرائط پر مزید پابند تصور نہیں کرتا کیونکہ امریکا معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت باہمی وعدوں کا مجموعہ ہے اور دوسرے فریق کی جانب سے خلاف ورزی کے بعد ہم بھی اپنے وعدے پورے کرنے کے پابند نہیں رہیں گے، یہ ایک اصولی بات ہے اور یہی راستہ آگے بھی اپنایا جائے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مخالف فریق برے ارادوں کے ساتھ مصروف ہے اور مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے پہلے دن سے ہی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے اندر ہر کوئی امریکا اور اس کے جابرانہ مطالبات کے خلاف کھڑے ہونے کی پالیسی کی حمایت کر رہا ہے، ہماری مسلح افواج کسی بھی جارح پسند کو پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی، اگر کوئی حملہ ہوا تو وہ اس کا جواب دیں گی۔

خیال رہے کہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار کا ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر امریکی حملے جاری ہیں اور جس کے بارے میں امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی آبنائے ہرمز میں حملوں کی صلاحیت کمزور کردی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کی ذمہ داری ان کے پاس ہے جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحرہ گزرگاہ ہے اور یہ 14 نکاتی مفاہمتی یاد داشت کی پانچویں شق اور اس پر واشنگٹن اور تہران پر اتفاق کیا تھا۔

Updated Jul 16, 21:09

امریکا کا جنوبی ایران میں بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب حملہ، اسپتال عارضی طور پر بند

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا نے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں قائم بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب بدترین حملہ کیا، جس کے بعد اسپتال خالی کرکے خدمات عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسپتال خالی کرنے کی تصاویر کے ساتھ جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے اہواز میں بچوں کے کینسر کے علاج کے مرکز شاہد بقائی اسپتال کے قریب حملہ کیا، جس کے بعد اسپتال کو خالی کرادیا گیا ہے۔

امریکی حملے کو بربریت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بربریت ہے، جو اسرائیل کی جانب سے طبی مراکز پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کی یاد دلاتا ہے، جس کے نتیجے میں اسپتال میں داخل بچے انتہائی کرب اور ذہنی اضطراب کا شکار ہوئے اور کیموتھراپی کے 211 مریضوں کو ہنگامی بنیاد پر اسپتال سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ معصوم ترین انسانوں کے خلاف بزدلانہ اور جنگی جرم ہے جو کینسر جیسے موذی مرض سے اپنی زندگی کی جنگ بہادری سے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہر وقت انسانی حقوق کا راگ الاپتے ہیں وہ اب اسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنائے جانے پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکے ہیں۔

ترجمان نے امریکی حملے کی مذمت کی اور طبی مراکز پر حملوں کی مذمت نہ کرنے پر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی تنقید کی۔ 

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اہواز کے شہریوں نے بتایا کہ شہر میں رات گئے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں امریکی جنوب مشرقی شہر کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا، جس میں قریبی اسپتال بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہد بقائی اسپتال کے احاطے میں کئی پروجیکٹائلز آکر گرے، جس کے بعد طبی عملے، مریضوں کے اہل خانہ نے خوف زدہ مریضوں کو وہاں سے نکالا اور دوسرے اسپتال منتقل کرنے لگے۔

اہواز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے بیان میں کہا کہ اسپتال سے منسلک مقامات پر دھماکوں کے بعد اسپتال میں خدمات عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ شہر پر دشمن کے حملے اور اسپتال سے ملحق علاقوں میں دھماکوں کے پیش نظر مریضوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے خدمات بند کردی گئی ہیں۔

ایران کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ امریکی حالیہ جارحیت کی لہر کے دوران زخمیوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی ہے اور اب تک 35 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں سے ایرانی صوبوں ہرمزگان، سیستان اور بلوچستان اور خوزستان میں نقصان پہنچا ہے اور 72 زخمی اسپتالوں میں داخل ہیں۔

Updated Jul 16, 15:15

ایران کا غیر متوقع قدم، امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی کو خیرسگالی کا اشارہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل پانچویں رات بھی جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک امریکی شہری، جسے ان کے بقول 2024 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں غلط طور پر حراست میں لیا گیا تھا اب ایران سے بحفاظت باہر آ چکا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ متعلقہ امریکی شہری محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس کی صحت بھی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس اقدام کو ایران کی جانب سے ایک مثبت اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور آبنائے ہرمز، خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی شہری کی رہائی ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تنازع کے باعث مستقبل کی صورتحال کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Updated Jul 16, 14:40

آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات، بھارت نے اپنے بحری عملے کی تعیناتی پر پابندی لگا دی

نئی دہلی: آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بھارت نے اپنے بحری عملے کی حفاظت کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے شپنگ کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ حکم تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھارتی شہریوں کو تعینات نہ کریں۔

بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم تمام جہاز مالکان، شپ مینیجمنٹ کمپنیوں اور آر پی ایس ایل کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔

بھارتی حکام نے بحری کمپنیوں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور قریبی سمندری علاقوں میں غیر معمولی احتیاط برتیں اور سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔

اعلامیے کے مطابق تمام بحری آپریٹرز کو بین الاقوامی آئی ایس پی ایس کوڈ پر سختی سے عمل کرنے، تازہ ترین سکیورٹی ایڈوائزریز پر نظر رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی فوری اطلاع آئی ایف سی-آئی او آر اور ڈی جی کمیونیکیشن سینٹر کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید حفاظتی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے مسائل اور تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی شپنگ انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں اور بحری عملے کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں۔

Updated Jul 16, 13:18

پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

تہران: ایران نے کہا ہے کہ اس کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔

دوسری جانب محمد اکرمینیا نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی تمام صلاحیتیں ابھی تک استعمال نہیں کی گئیں، اور اگر دشمن نے مزید حملے کیے تو ایران کا ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے ان بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس سمجھی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران ایک جانب اپنے پڑوسی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

Updated Jul 16, 12:57

57 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا

واشنگٹن: ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق امریکا میں ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے پر عوام کی بڑی تعداد حکومت سے اختلاف رکھتی ہے۔ سروے میں شامل 57 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔

سروے کے نتائج کے مطابق صرف 27 فیصد امریکیوں نے حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا، جبکہ باقی افراد نے یا تو مخالفت کی یا اس حوالے سے کوئی واضح رائے نہیں دی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع جلد ختم نہیں ہوگا۔ سروے میں 46 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ مزید ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کے طویل ہونے کے خدشات اور اس کے ممکنہ معاشی و سیاسی اثرات امریکی عوام میں تشویش پیدا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے سروے مستقبل میں امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی، جنگی حکمت عملی اور عوامی حمایت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

Updated Jul 16, 12:28

بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر نشانہ بنے گا، ایران کی امریکا کو دوٹوک دھمکی

ایران نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو خطے کے دیگر ممالک کا انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو پورے خطے کا انفراسٹرکچر ایرانی مسلح افواج کی فولادی ضربوں تلے آ جائے گا۔

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا تازہ انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، توانائی کا انفراسٹرکچر اور عالمی تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی برادری کی نظریں مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے علاقائی سلامتی، عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Updated Jul 16, 12:05

ایرانی حملہ ناکام، اردن کے فضائی دفاع نے آٹھ میزائل مار گرانے کا اعلان کر دیا

عمان: اردن کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے، جو اردن کی فضائی حدود یا اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔

اردن کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاعی یونٹس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام میزائلوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے باعث کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اردنی حکام کے مطابق فوج اور فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے تازہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔

تاحال دونوں ممالک کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث اردن، خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز کے گرد سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے علاقائی سلامتی اور عالمی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Updated Jul 16, 10:43

ایران کے کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنی جاری عسکری کارروائی ’نصر 2‘ کے آٹھویں مرحلے کے دوران کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے زیر استعمال سی-ریم ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے کسی آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کی، اور کویتی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج کے مطابق یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

تاحال امریکا، کویت یا اردن کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں بھی کوئی آزادانہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی، خلیجی سلامتی اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Updated Jul 16, 10:28

امریکا کی ایران پر حملوں کی نئی لہر مکمل، بندر عباس سمیت اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور مرحلے کے حملے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ایران کی متعدد اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے مراکز، ساحلی نگرانی کی تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف پر حملے کیے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملوں کے دوران ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بندر عباس ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کے باعث اسے ایران کی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کی ایک اہم عسکری تنصیب تصور کیا جاتا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید محدود کرنا اور آبنائے ہرمز کے اطراف فوجی سرگرمیوں کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس امریکی دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کی بھی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بندر عباس اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل اور سفارتی حل اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔

Updated Jul 16, 09:56

ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا، قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ

لندن: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں تازہ حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 0.4 فیصد اضافے کے بعد 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 80.02 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری آمدورفت سے متعلق خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات مزید محدود ہوئیں یا آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی کی منڈی، ایندھن کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Updated Jul 16, 07:09

ایران نے امریکی نائب صدر کو مذاکرات سے مالی فائدہ اٹھانے والوں کے نام بتا دیے، امریکی ویب سائٹ

ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے پس پردہ رابطوں سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کو نجی سطح پر آگاہ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مذاکراتی عمل سے ذاتی مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے امریکی نائب صدر کو بتایا کہ وٹکوف اور کشنر کی موجودگی کسی پائیدار معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے کیونکہ ان کی توجہ سفارتی پیش رفت کے بجائے ممکنہ مالی فوائد پر مرکوز ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس سے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی حکام نے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر کی موجودگی پر اپنے تحفظات ضرور ظاہر کیے تھے۔

امریکی ویب سائٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مبینہ طور پر خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی مالی ہیرا پھیری سے حاصل ہونے والی رقم کی مالیت جون تک تقریباً 9 ارب ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا تھا کہ مذاکرات سے متعلق حساس معلومات مسلسل اسرائیلی وزیراعظم اور اسرائیلی انٹیلی جنس قیادت تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ مذاکرات کے آغاز سے ہی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر تقریباً روزانہ اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے سربراہ سے رابطے میں رہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بھی ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے صدر ٹرمپ کے لیے ایک تحریری دستاویز بھجوائی تھی جس میں ان کے قریبی ساتھیوں پر مالی منڈیوں میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کا مؤقف تھا کہ عمان اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اسٹیو وٹکوف نے ایرانی مؤقف، خصوصاً یورینیم کی افزودگی سے متعلق معاملات، درست انداز میں امریکی صدر تک نہیں پہنچائے جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ اسی بنیاد پر تہران نے مذاکراتی ٹیم کو وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

Updated Jul 16, 06:07

کوہ کلنگ کی ایرانی ایٹمی تنصیبات امریکا کیلیے بڑا چیلنج

جنوبی ایران میں واقع کوہ کلنگ (Pickaxe Mountain)کے نیچے موجود زیر تعمیر ایرانی ایٹمی تنصیبات امریکا تباہ کرنا چاہتا ہے.

امریکی خفیہ اداروں کے مطابق وہاں نہ صرف یورینیم افزودہ کرتی جدید سینٹری فیوج مشینیں نصب ہیں بلکہ مبینہ طور پر ’’60 فیصد‘‘افزودہ چار سو کلو یورینیم بھی محفوظ ہو سکتی ہے۔

تنصیبات کو ’’قلعے‘‘سے تشبیہ دی جاتی۔ایرانی یہ یورینیم بذریعہ مشینیں صرف ایک دو ہفتے میں ’’90 فیصد‘‘افزودہ کر کے ایٹم بم بنانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

5275 فٹ بلند کوہ کلنگ پہاڑی سلسلے، زاگرس کا حصہ ہے۔ ایٹمی تنصیبات پہاڑ کے اندر کم ازکم 328 فٹ کی گہرائی میں واقع ہیں۔

چونکہ امریکی بنکر بسٹر بم 200 فٹ تک مار رکھتے ہیں لہذا انھیں نشانہ بنانا امریکہ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔

خیال ہے ایران نے مختلف طریقوں سے اپنی یہ ایٹمی تنصیبات مضبوط بنا رکھی ہیں کہ امریکی یا اسرائیلی بم انھیں کم نقصان پہنچا سکیں۔

یہ وسیع و عریض ہالوں پر مشتمل ہیں جہاں تک پہنچنے کی خاطر چار سرنگیں بنائی گئی ہیں۔اور اگر وہاں افزودہ یورینیم کا بیشتر حصّہ ذخیرہ ہوا تو اِن تنصیبات کی حفاظت کرنا ایران کے لیے زندگی یا موت کا سوال و امتحان بن جائے گا۔

Updated Jul 16, 05:07

ٹرمپ نے ایران میں امریکی زمینی فوج اتارنے کے آپشن پر غور شروع کر دیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مزید آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر امریکی زمینی فوج اتارنے کا امکان بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی روز کے دوران ہونے والی اعلیٰ سطح کی بریفنگز میں صدر ٹرمپ کو سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ زمینی فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر بھی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی زیر صدارت سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف فوجی دباؤ بڑھانے سے متعلق متعدد تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق زیر غور آپشنز میں شدید فضائی حملے جوہری سرگرمیوں سے منسلک قلعہ بند تنصیبات پر بمباری جزیرہ خارگ اور دیگر اہم مقامات پر قبضے کی کارروائیاں جبکہ جوہری پروگرام سے منسلک ٹنل کمپلیکس کو بھی ممکنہ ہدف بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔

مزید یہ کہ ایرانی توانائی مراکز پر حملوں کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کی جانب جانے والے ایک ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا۔

سینٹ کام کے مطابق تجارتی جہاز نے متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا اور امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی جس پر امریکی طیارے نے جہاز کے دھوئیں کے اسٹیک کو میزائل سے نشانہ بنایا۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائی کے بعد مذکورہ جہاز ایران کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

Updated Jul 16, 00:22

ایرانی وزیر خارجہ غیر اعلانیہ اور غیر متوقع دورے پر قطر پہنچ گئے

آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورت حال اور امریکا ایران کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اچانک قطر پہنچ گئے جو امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا اہم ثالث بھی ہے۔ْ

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے دوحہ پہنچ کر سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت کا پیغام پہنچایا۔

ایرانی وزیر خارجہ اس دورے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔

جس میں امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد نہ کرنے اور مسلسل خلاف ورزی پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے اور ایرانی سپریم لیڈر کا اہم پیغام بھی پہنچائیں گے۔ 

یاد رہے کہ شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اتوار کے روز انتقال کر گئے تھے جس کے بعد قطر میں 4 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس دوران سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا جبکہ متعدد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے تعزیتی پیغامات بھیجے۔

شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو جدید قطر کی تعمیر اور ترقی کا معمار سمجھا جاتا ہے جن کی قیادت میں قطر نے توانائی، معیشت، سفارت کاری، تعلیم اور عالمی سطح پر اپنا نمایاں مقام بنایا۔

2013 میں انہوں نے اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے سپرد کر دیا تھا تاہم ملکی اور علاقائی معاملات میں ان کا کردار طویل عرصے تک اہم رہا۔

Updated Jul 16, 00:21

ایران نے کس ’چالاکی‘ سے عرب ممالک میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں کا پتا چلایا؟ رپورٹ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ سائبر محاذ تک بھی پھیل چکی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے استعمال نے نئی جدت پیدا کردی۔

فنانشل ٹائمز، نیویارک ٹائمز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایران کے سائبر سیل نے خلیجی ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں اور فوجی کنٹریکٹرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے موبائل فون نیٹ ورکس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں خلیجی ممالک کے ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس میں غیرمعمولی سرگرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس خفیہ اور پُراسرار سرگرمی کا مقصد رومنگ پر موجود مخصوص موبائل فونز کی موجودہ لوکیشن معلوم کرنا بتایا گیا ہے جس کے لیے SS-7 ٹیلی کمیونی کیشن پروٹوکول استعمال کیا گیا۔

SS-7 کیا ہے اور کیسے استعمال ہوتا ہے؟

اس مقصد کے لیے ایس ایس 7 یعنی Signaling System No. 7 دنیا بھر میں موبائل آپریٹرز کے درمیان کالز، پیغامات اور رومنگ سروسز کو مربوط رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تاہم ماہرین کئی برسوں سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ اس میں موجود سیکیورٹی خامیاں ہیکرز یا ریاستی اداروں کو مخصوص موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔

موبائل سرویلنس مانیٹر کے بانی اور سائبر سیکیورٹی محقق گیری ملر کا کہنا ہے کہ  مختلف خلیجی ٹیلی کام نیٹ ورکس کو بڑی تعداد میں SS-7 پنگز موصول ہوئیں جن کا مقصد مخصوص امریکی موبائل نمبرز کی موجودہ لوکیشن معلوم کرنا تھا۔

ان کے بقول دستیاب ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک منظم اور مربوط مہم تھی جس میں عام صارفین کے بجائے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوجیوں کی لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بحرین، کویت، قطر، عراق اور دیگر خلیجی ممالک میں ہزاروں امریکی فوجی اور کنٹریکٹرز تعینات ہیں۔

مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا خیال ہے کہ ایران یا اس سے وابستہ عناصر نے مقامی موبائل کمپنیوں کے رومنگ معاہدوں اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اہلکاروں کی نقل و حرکت معلوم کرنے کی کوشش کی۔

گیری ملر کا کہنا ہے کہ بعض ٹریکنگ سرگرمیوں کا تعلق ایک ایرانی موبائل آپریٹر سے جوڑا جاتا ہے جس سے ایک مخصوص "ڈیجیٹل فنگر پرنٹ" سامنے آیا جو دیگر مشتبہ سائبر کارروائیوں سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران SS-7 اور خطے کے موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے امریکی اہلکاروں کی نگرانی نہ کر رہا ہو تو یہ حیران کن بات ہوگی کیونکہ اس کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے۔

سائبر جنگ کا نیا محاذ

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) سے وابستہ سائبر ماہرین نے بتایا کہ فوجی اہداف کی نشاندہی کے لیے موبائل نیٹ ورک سگنلز کا استعمال ایران کی سائبر جنگی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فوجی کی درست لوکیشن حاصل ہو جائے تو اسے ڈرون، میزائل یا دیگر حملوں کے لیے ہدف بنانا آسان ہو جاتا ہے اسی لیے جدید جنگوں میں موبائل فون بھی ایک اہم سیکیورٹی خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔

امریکی حکام کا ردعمل

امریکی سینٹرل کمانڈ نے رواں سال اپریل میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے متعدد انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں مخالف ممالک کی جانب سے امریکی فوجیوں کی نگرانی کے لیے تجارتی لوکیشن ڈیٹا اور موبائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔

اشتہاری ڈیٹا بھی خطرہ بن گیا

رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والے ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز بھی کسی مخصوص ڈیوائس یا صارف کی نقل و حرکت جاننے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی قانون ساز پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ دشمن ممالک ان تجارتی ڈیٹا بیسز سے فائدہ اٹھا کر امریکی فوجیوں اور حساس سرکاری اہلکاروں کی نگرانی کرسکتے ہیں۔

ایران کا مؤقف

رپورٹس میں ایران کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں مغربی ممالک کی جانب سے اپنے خلاف لگائے گئے متعدد سائبر حملوں اور نگرانی کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی سائبر کشیدگی

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب صرف میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر جنگ، الیکٹرانک نگرانی اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس بھی اس تصادم کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

ایسے حالات میں موبائل فونز، ٹیلی کام نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل ڈیٹا مستقبل کی جنگوں میں اہم ہتھیار اور کمزوری، دونوں کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

Updated Jul 16, 00:19

امریکی حملوں میں 35 افراد شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوئے؛ ایران کی تصدیق

امریکا نے ایران پر فوجی تنصیبات اور ریلوے پُل پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ اب تک ہونے والے امریکی حملوں میں کم از کم 35 افراد شہید اور 300 زخمی ہوچکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر جانی نقصان ملک کے جنوبی صوبوں میں ہوا ہے جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی کارروائیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔

ترجمان وزارتِ صحت نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے اور مختلف اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔

ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی حملوں کا زیادہ تر رخ خلیج فارس سے ملحق جنوبی صوبوں کی جانب رہا جہاں فوجی تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے قریبی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور زیادہ تر معصوم شہری نشانہ بنے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں فوجی اہداف تک محدود تھیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملوں میں ایران کے ساحلی دفاع، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کیا جاسکے۔

ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ 

Updated Jul 16, 00:18

ایران میں رجیم چینج ؛ ٹرمپ نے بڑا اعتراف کرلیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر انھیں یقین تھا کہ حکومت کی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے تاہم بعد میں اپنا مؤقف تبدیل کرلیا۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے آغاز میں انھیں واقعی لگتا تھا کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو سکتی ہے؟

اس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ ہاں، مجھے ایسا ہی لگتا تھا۔ اگر عوام کے پاس ہتھیار ہوتے تو ممکنہ طور پر صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

صدر ٹرمپ کے بقول انھیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ حکومت 52 ہزار یا اس سے بھی کم لوگوں کو مارنے پر آمادہ ہوگی۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان اس تقریر کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انھوں نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے موقع پر کی تھی۔

اُس خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ بمباری کے فوری بعد وہ ریاستی اداروں پر قبضہ کرکے حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔

تاہم اس کے کچھ ہی دن بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنا لہجہ تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں حکومت مخالف عناصر کے پاس ہتھیار نہیں، اس لیے وہ حکومتی فورسز کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے جنگ کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا کر عملی طور پر حکومت کی تبدیلی حاصل کرلی اگرچہ ایران کا حکومتی نظام بدستور برقرار ہے۔

ادھر اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کے تحت سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا۔

ٹرمپ نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں موجود کرد جنگجوؤں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے جو مبینہ طور پر اسرائیل نے ایرانی حکومتی فورسز کے خلاف سرحد پار کارروائیوں کے لیے فراہم کیے تھے۔

 

Updated Jul 16, 00:17

امریکی ناکہ بندی کے باعث 2 ایرانی آئل ٹینکرز کراچی کی جانب گامزن

امریکا کی جانب سے ایران پر بحری پابندیوں اور ناکہ بندی سخت کیے جانے کے بعد دو ایرانی خام تیل بردار جہازوں نے اچانک اپنا رخ پاکستان کی جانب کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے میری ٹائم ڈیٹا کے مطابق ان دو آئل ٹینکرز کے نام رانی (Rani) اور امیل (Amil) ہیں جن میں مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل ہے۔

ان آئل ٹینکرز کو جب امریکی فورسز نے ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے روک دیا تو اپنی منزل تبدیل کرکے یہ جہاز کراچی کی جانب روانہ ہوگئے جہاں ممکنہ طور پر لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔

تاہم اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ یہ دونوں ٹینکرز اپنا خام تیل پاکستان میں اتاریں کیونکہ ایران سے براہِ راست تیل کی خریداری پاکستان کو امریکی پابندیوں کی زد میں لا سکتی ہے۔

ماہرین کے بقول زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ جہاز پاکستانی سمندری حدود کے قریب محفوظ مقام پر انتظار کریں اپنی اگلی منزل کا تعین کریں یا سمندر میں ہی دوسرے ٹینکروں کو تیل منتقل کردیں جو عالمی شپنگ میں ایک معروف طریقہ کار ہے۔

بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کو بطور منزل ظاہر کرنے کا مقصد امریکی بحری نگرانی سے بچنا بھی ہوسکتا ہے۔

بعض اوقات تیل بردار جہاز اپنی اصل منزل ظاہر کرنے کے بجائے قریبی بندرگاہ کا نام درج کرتے ہیں تاکہ سفر کے دوران اپنی نقل و حرکت محدود حد تک پوشیدہ رکھ سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ٹینکر پاکستان کے ساحل کے قریب رہتے ہوئے حالات معمول پر آنے یا نئی ہدایات کا انتظار کریں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ایرانی ٹینکر کراچی کے قریب دیکھے گئے ہوں۔ ماضی میں بھی جب امریکا نے ایران پر سخت بحری پابندیاں عائد کی تھیں تو ایران سے وابستہ متعدد خالی اور بھرے ہوئے ٹینکر کراچی کے ساحل سے دور بین الاقوامی سمندری حدود میں لنگر انداز رہے تھے۔

اس دوران بعض جہاز مناسب وقت کا انتظار کرتے تھے جبکہ کچھ بحری جہازوں کے درمیان سمندر میں ہی تیل کی منتقلی بھی کی جاتی رہی تاکہ پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال پاکستان نے ان ٹینکروں کے کراچی آنے یا انھیں کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

Updated Jul 15, 15:00

عمان کے ساحل کے قریب حملے کا شکار جہاز سے لاپتا بھارتی انجینئر کی لاش مل گئی

مسقط: عمان کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے ایک تجارتی جہاز سے لاپتا ہونے والے بھارتی میرین انجینئر کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ بھارتی سمندری کارکنوں کی یونین نے اس افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 30 سالہ ہیرمب کرمارکر بھارت کے شہر پونے سے تعلق رکھتے تھے اور قبرص کے پرچم بردار تجارتی جہاز جی ایف ایس گلیکسی پر بطور میرین انجینئر خدمات انجام دے رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد ہیرمب کرمارکر لاپتا ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں۔

فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا کے عہدیدار منوج یادو نے بتایا کہ انہیں منگل کی شام جہاز چلانے والی کمپنی کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ عمانی کوسٹ گارڈ نے ہیرمب کرمارکر کی لاش برآمد کر لی ہے۔

تاحال حملے کی مکمل نوعیت، ذمہ دار عناصر اور واقعے کی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس پر عالمی بحری صنعت بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔

Updated Jul 15, 13:20

امریکی بحری ناکہ بندی پر ایران کا خطے کے تمام برآمدی راستوں کو بند کرنے کی دھمکی

ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی توانائی برآمدات کو روکا گیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے استعمال ہونے والے دیگر تیل اور گیس کے برآمدی راستے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی تیل اور گیس کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رہیں تو خطے میں توانائی کی ترسیل کے دیگر راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔

تسنیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تیل اور گیس کی برآمدات یا سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔ یہ بیان امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے 15 جولائی سے ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کے خلاف بحری پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں کو ہدف بنا رہی ہیں۔

یہ اقدام اس عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کیا گیا ہے جس کے دوران کچھ عرصے کے لیے پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد واشنگٹن نے دوبارہ سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان کی برآمدات کو روکا گیا تو وہ خطے میں توانائی کی سپلائی کے دوسرے راستوں پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ایران ماضی میں بھی ایسی صورتحال میں علاقائی سطح پر کشیدگی بڑھانے اور آبنائے ہرمز کی اہمیت کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Updated Jul 15, 12:54

امریکی میزائل حملوں میں 7 ایرانی فوجی ہلاک، ایران کا سخت ردعمل: ’جواب ضرور دیا جائے گا‘

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنوب مشرقی ایران میں ایک فوجی اڈے پر کیے گئے میزائل حملوں میں کم از کم 7 ایرانی فوجی ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حملہ سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے ایرانشہر کے قریب واقع بمپور گیریژن پر کیا گیا، جہاں امریکی میزائلوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 13 امریکی میزائل فوجی بیرکوں پر داغے گئے، جن کے نتیجے میں 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔

فوج کے مطابق حملے میں فوجی مہمان خانہ، گارڈ پوسٹس اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کا فیصلہ کن جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا اور اس کارروائی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران جنوبی ایران پر امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن طریقے سے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی ایران ملک کا دھڑکتا ہوا دل ہے اور حکومت وہاں کے شہریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔

امریکی حکام کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی کے باعث خطے میں مزید تصادم کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Updated Jul 15, 11:59

امریکا کا ایران پر بڑا معاشی حملہ، 50 سے زائد افراد، کمپنیوں اور جہازوں پر نئی پابندیاں

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات اور شپنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی شپنگ اور تیل کی تجارت سے وابستہ ایک ایسے نیٹ ورک پر لگائی گئی ہیں جسے امریکا نے پابندیوں سے بچنے اور ایرانی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایرانی تیل کے معروف کاروباری شخصیت محمد حسین شمخانی سے منسلک ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک میں قائم کمپنیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس نیٹ ورک میں ایرانی اور غیر ملکی شہری، کمپنیاں اور مختلف ادارے شامل ہیں، جو مبینہ طور پر آف شور شیل کمپنیوں کے ذریعے پابندیوں کے باوجود تیل اور دیگر اشیا کی تجارت کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منتقل کرتے ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایران کی تیل برآمدات جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ایرانی حکومت ان وسائل سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

امریکی حکام نے کہا کہ امریکا ایران کو اس کی پالیسیوں پر جوابدہ بنانے کے لیے اپنے پاس موجود تمام قانونی اور معاشی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے ان تازہ پابندیوں پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں تہران امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے اور ان کے باوجود اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور توانائی کی عالمی منڈی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

Updated Jul 15, 11:25

امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا، چین

نیویارک: اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے ایران پر امریکی حملوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

چینی سفیر نے یہ بیان اقوام متحدہ میں ہونے والی ایک نشست کے دوران دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی فوجی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہی ہیں اور عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کے نمائندے مائیک والٹز نے الزام عائد کیا کہ چین ایران اور یمن تک سامان کی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔

چینی سفیر سن لی نے امریکی الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنی برآمدات پر سخت نگرانی رکھتا ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں نئے تنازعات اور بدامنی پیدا کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

چینی سفیر کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اختلافات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔ چین مسلسل مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف فوجی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Updated Jul 15, 10:36

جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس، اراکین کا خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ

تہران: امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد ارکان نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ختم کرنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 290 رکنی پارلیمنٹ میں سے 180 ارکان نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ موجودہ مفاہمتی یادداشت کو ختم کر کے نئی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ارکان کا مؤقف تھا کہ حالیہ واقعات کے بعد ایران کو اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرنا چاہیے۔

یہ اجلاس تقریباً چار ماہ بعد منعقد ہوا، جس میں پارلیمانی قواعد و ضوابط میں بھی اہم ترامیم منظور کی گئیں۔ نئی ترامیم کے تحت مستقبل میں ہنگامی حالات یا غیر معمولی صورتحال کے دوران پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس منعقد کیے جا سکیں گے۔

اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک مینجمنٹ سے متعلق ایک نیا بل بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے متعلق انتظامی اور سکیورٹی معاملات کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا۔

پارلیمنٹ میں موجود متعدد ارکان نے سید علی خامنہ ای کی شہادت کے انتقام کا مطالبہ کرتے ہوئے سرخ پرچم بھی اٹھائے، جسے ایران میں انتقام اور مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ارکان نے ایک خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جو مستقبل کی سفارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کا یہ اجلاس حالیہ جنگ کے بعد ایران کی داخلی سیاسی سمت اور آئندہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں سامنے آنے والے مطالبات آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Updated Jul 15, 10:05

امریکا کے ایران پر حملوں کی چوتھی لہر، سات گھنٹے تک بمباری، درجنوں فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 جولائی کی رات ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر اپنی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔

امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہی، جس کا اختتام امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 10 بجے ہوا۔ اس دوران لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔

بیان کے مطابق حملوں کا مرکز آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے۔ امریکی افواج نے ایرانی میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

امریکا نے اسی روز شام 4 بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام فورسز مکمل طور پر چوکس، جنگی کارروائی کے لیے تیار اور صدرِ امریکا کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔

Updated Jul 15, 09:31

امریکا ایران تصادم شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ

کویت سٹی/منامہ/واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی خطے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے اور ایران پر مسلسل چوتھے روز فضائی حملوں کے بعد خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ہونے والی عارضی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں میزائل، ڈرون اور ساحلی دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کے باعث آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی ڈرونز اور دیگر فضائی اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایک کویتی بحری جہاز حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں چند اہلکار زخمی ہوئے، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بحرین میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں ممکنہ فضائی خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرن بجا دیے گئے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ ہفتے فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور اہم پلوں کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس تازہ فوجی تصادم نے آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی جاری ہیں۔

Updated Jul 15, 08:09

صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی صدر کا ردعمل سامنے آ گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سخت بیانات کے بعد ایران نے بھی واضح اور سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سرزمین کے ہر حصے کا دفاع پوری قوت سے کیا جائے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی سے خطاب میں کہا کہ ایران کو دباؤ یا دھمکیوں سے جھکایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر جنگی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ایران کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو اپنے نتائج پر نظر ڈالنی چاہیے۔

ان کے بقول ایرانی قوم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گی۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ مخالف فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگی راستہ اختیار کر چکا ہے اس لیے اب اس یادداشت کی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کی پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹجک ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ہے جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Updated Jul 15, 06:54

معاہدہ کرو ورنہ اگلا ہدف بجلی گھر اور پل ہوں گے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے معاہدے کی راہ اختیار نہ کی تو آئندہ ہفتے ایران کے اہم توانائی مراکز اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔

ان کے بقول امریکا نے منگل کے روز ایران کے ساتھ رابطہ کیا اور اسے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا موقع دیا، تاہم اگر پیش رفت نہ ہوئی تو حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے ہی کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے اور اب اس کے پاس زیادہ مزاحمت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

دوسری جانب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس کے معاملے پر بھی اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک یا فریق آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک ٹول ٹیکس ادا کرنے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

Updated Jul 15, 01:00

امریکا ایرن جنگ؛ پیٹرول کی قیمتوں کو پر لگ گئے؛ مہنگائی کا نیا سیلاب آئے گا

جنگ بندی کے بعد سے تیزی سے کم ہوتی پیٹرول کی قیمتیں پھر سے اڑان بھرنے لگیں جب امریکا نے ایران پر مسلسل تین روز سے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

عالمی خبر ساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا تھا جس میں آج مزید 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس طرح آج برینٹ کروڈ آئل کی قیمت دن بھر 87.49 ڈالر فی بیرل تک ٹریڈ کرتا رہا جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان حملے اگر اسی طرح جاری رہے تو برینٹ خام تیل 90 ڈالر یا اس سے بھی اوپر جاسکتا ہے جبکہ ماہرین 100 ڈالر فی بیرل کے امکان کو بھی مسترد نہیں کر رہے۔

خام تیل کے مہنگا ہونے سے دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس صورتحال سے امریکا، یورپ اور ایشیا کے مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

امریکا کے ایران پر فضائی حملے آج تیسرے روز بھی جاری رہے جس کے جواب میں ایران نے بھی اردون، مصر، کویت سور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا۔

Updated Jul 15, 00:59

امریکا اور اسرائیل کی دھمکی کے بعد ایران کے 2 جزیرے اور ایک شہر دھماکوں سے لرز اُٹھا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور ایران کی آبنائے ہرمز میں واقع اہم جزیرے قشم پر بھی دھماکے کی آواز سنی گئی۔

امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر حملوں کی دھمکی کے بعد تین مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

دھماکے کی نوعیت اور اسباب فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکے تاہم گورنر کے دفتر نے بتایا ہے کہ دھماکا امریکی گولہ گرنے کے باعث ہوا۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جہاں ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب کی اہم تنصیبات موجود ہیں۔

ادھر ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جزیرہ کیش پر بھی پانی اور بجلی کی ایک تنصیب کے قریب ایک گولہ پھٹ گیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق کیش واٹر اینڈ پاور انجینئرنگ کمپنی نے کہا ہے کہ امریکی حملے کے دوران ایک گولہ (پروجیکٹائل) تنصیب کے قریب آ کر پھٹ گیا۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بھی دعویٰ کیا کہ صوبہ خوزستان کے شہر اندیمشک میں دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔

تاحال میڈیا رپورٹس میں ان دھماکوں کی وجہ یا نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

قبل ازیں امریکی افواج نے ایران کے مغربی سرحدی علاقوں ماہ شہر اور آبادان پر تازہ حملے کیے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا کہ عراق اور کویت کی سرحد کے قریب واقع صوبہ خوزستان کے بندرگاہی شہر ماہشہر اور آبادان کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہا کہ آبادان میں مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین آئل ریفائنری واقع ہے۔

دوسری جانب فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 25 منٹ پر آبادان پر حملہ کیا گیا جبکہ 1 بج کر 30 منٹ پر ماہشہر کو نشانہ بنایا گیا۔

 

Updated Jul 15, 00:58

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر فیس کا فیصلہ واپس لے لیا؛ سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ بتادیا

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر اپنے 20 فیصد امریکی سیکیورٹی فیس کی جگہ سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں کو ترجیح دینے کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت اور تعمیری مذاکرات کے بعد انھوں نے آبنائے ہرمز پر فیس کا فیصلہ واپس لے لیا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے اب آبنائے ہرمز میں سے گزرنے والے کارگو بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس فیس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے نئے معاہدے کیے جائیں گے جن سے امریکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

صدر ٹرمپ نے فیس کا فیصلہ واپس لینے کے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جگہ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور عالمی توانائی کی سپلائی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراق کے وزیراعظم سے ملاقات سے چند لمحے قبل سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی۔

ان کا مؤقف تھا کہ امریکا عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے بھاری وسائل استعمال کرتا ہے اس لیے اس کے اخراجات میں شراکت ہونی چاہیے۔

تاہم صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسے شدید قانونی اور سفارتی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی واضح کرچکے تھے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی ملک وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر یکطرفہ ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔

مارکو روبیو نے مزید کہا تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کسی بھی ریاست کو وہاں ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسی طرح نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ امریکی حکومت کا اصولی مؤقف یہی ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں ہر قسم کی ٹول فیس سے آزاد ہونی چاہئیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ بھی ماضی میں کئی بار کہہ چکے تھے کہ امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی اور آزاد رہے اور وہاں کسی قسم کی ٹول فیس نہ ہو۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی اخراجات عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ انڈسٹری اور سپلائی چین پر براہ راست اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

Updated Jul 15, 00:57

اسرائیل پر حملہ کیا تو ایران کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے؛ نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اسرائیل پر حملہ کیا تو اس بار جواب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور فیصلہ کن ہوگا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں منعقدہ نیگیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے ایرانی قیادت کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنانے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ میں ایرانی قیادت کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر آپ نے ہم پر حملہ کیا تو یہ نہ سمجھیں کہ ہم اس پر خاموش رہیں گے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں، وہ دن گزر چکے جب کوئی ہم پر حملہ کرے اور ہم جواب میں کوئی فیصلہ کن وار نہ کریں۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اب اسرائیل جو جوابی حملہ کرے گا وہ پہلے جیسا نہیں ہوگا بلکہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور اور تباہ کن حملہ ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر جاری کشمکش ایک بار پھر جنگی صورتحال میں تبدیل ہوگئی۔ دونوں اس اہم آبی گزرگاہ کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔

جنگ بندی کے بعد پھر سے جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے پر آبنائے ہرمز میں ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔

جواب میں امریکا نے ایران میں ملٹری اہداف اور ایک اہم تجارتی ریلوے پل کو بھی نشانہ بنایا تھا جو ایران کو قازقستان اور روس سے ملاتا ہے۔

ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے جاری رہیں گے تاہم ان کی تکنیکی ٹیم مذاکرات بھی کرتی رہے گی۔

Updated Jul 15, 00:56

اسرائیل کا مغربی کنارے میں 34 نئی آبادیاں بسانے کا فیصلہ؛ 1.3 ارب شیکل کی منظوری

اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی یہودی آبادیاں قائم کرنے کے لیے 1.3 ارب شیکل تقریباً 434 ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری دیدی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کی ریلیجس صہیونزم پارٹی کے سربراہ بیزلیل اسموٹریچ نے کیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کابینہ نے 34 نئی آبادیاں قائم کرنے کے لیے 1.3 ارب شیکل کے فنڈز کی منظوری دے دی۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان نئی بستیوں کے قیام کے بعد ان کی چار سالہ مدت میں منظور ہونے والی نئی یہودی آبادیوں کی مجموعی تعداد 103 ہوجائے گی۔

اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک نے ایک بار پھر اسرائیلی آبادکاری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

بیزلیل اسموٹریچ نے مزید بتایا کہ نئی آبادیوں کو مرکزی شاہراہوں سے منسلک کرنے کے لیے سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر مزید 1.075 ارب شیکل خرچ کیے جائیں گے۔

انھوں نے اس فیصلے کو اسرائیل اور آبادکاروں کے لیے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا۔ 

خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کئی دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا سب سے اہم مسئلہ رہی ہے۔

اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف، یورپی یونین، فلسطینی قیادت اور دنیا کے بیشتر ممالک مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین اور چوتھے جنیوا کنونشن کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان بستیوں کو قانونی اور اپنی سیکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل ختم ہوگا اور مستقبل میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید کمزور ہو جائیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خبردار کرچکی ہیں کہ آبادکاری کے مسلسل پھیلاؤ کے باعث فلسطینی آبادی کو زمینوں، زرعی وسائل اور نقل و حرکت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور بیزلیل اسموٹریچ اور ان کی جماعت آبادکاروں کی حمایت مضبوط بنانے کے لیے آبادکاری کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

یورپی وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں بھی مقبوضہ علاقوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر تجارتی پابندی یا دیگر اقدامات زیر بحث آئے تاہم رکن ممالک کے درمیان اس حوالے سے ابھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

Updated Jul 15, 00:55

بحرین؛ ایران کیلیے جاسوسی کے الزام میں 3 ملزمان کو عمر قید

بحرین کی عدالت نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے لیے جاسوسی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 3 افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملزمان پر پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے رکھنے، حساس معلومات فراہم کرنے، دشمن عناصر کی معاونت کرنے اور بحرین کے قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ملزمان دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں معاونت کے بھی ذمہ دار تھے اور ان ملزمان نے ایسے اقدامات کیے جن سے بحرین کے قومی مفادات کو نقصان پہنچا اور ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے بعد ملک میں ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک نیٹ ورکس کے خلاف سیکیورٹی اداروں نے نگرانی اور کارروائیاں مزید تیز کی ہیں۔ جس کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

یاد رہے کہ بحرین کئی برسوں سے ایران پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت، مسلح گروہوں کی حمایت اور جاسوسی نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے تاہم ایران نے ہمیشہ ان الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے۔

Updated Jul 15, 00:54

آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلیے 200 سے زائد غیر ملکی جہازوں نے اجازت حاصل کی؛ ایران

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 200 سے زائد غیر ملکی تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے اس کی نئی قائم کردہ اتھارٹی سے رابطہ کیا اور ٹرانزٹ کی اجازت حاصل کی۔

ایرانی حکام کے مطابق پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے تین ہفتوں میں 200 سے زائد غیر ملکی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے اتھارٹی سے رابطہ کیا۔

اتھارٹی کا مزید کہنا ہے کہ بیشتر جہازوں کو نہ صرف گزرنے کی اجازت دی گئی بلکہ انھیں انشورنس کوریج بھی فراہم کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول

یاد رہے کہ ایران نے رواں سال پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی قائم کی تھی جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا اور اس آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کے دعوے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ایران کا مؤقف رہا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں تھی بلکہ صرف انھی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی تھی جو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرتے تھے۔

تازہ ترین صورتحال

حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد خلیج میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تاہم بین الاقوامی شپنگ ذرائع نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں محدود پیمانے پر بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

متعدد تجارتی جہاز ایرانی حکام سے رابطے کے بعد محتاط انداز میں اس راستے کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ کئی بڑی شپنگ کمپنیاں اب بھی متبادل راستوں یا سفر مؤخر کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی اور امریکا بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔

عالمی معیشت پر اثرات

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے، توانائی کے بحران اور سپلائی چین میں خلل کا باعث بن سکتی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہوئی تو نہ صرف خلیجی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔

Updated Jul 15, 00:54

کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات اور جہاز کو نشانہ بنایا؛ ایران

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوج کے اسلحہ ذخیرہ گاہوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ہینگرز اور کویت میں امریکی ڈرونز کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی جارحیت کا جواب اور سزا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا۔ اگر حملے دہرائے گئے تو اس سے بھی زیادہ حیران کن جواب دیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے گا اس وقت تک خطے سے تیل اور گیس کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگا۔

قبل ازیں ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام، ایندھن کے ذخائر، پیٹریاٹ دفاعی نظام، کنٹرول ٹاور، گولہ بارود کے گودام اور ایک امریکی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیج میں موجود ایک امریکی بحری جہاز پر بھی کروز میزائل داغے گئے۔ یہ کارروائی امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔

ایرانی فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو ایران بھی جوابی حملے جاری رکھے گا۔

دوسری جانب کویت کا کہنا ہے کہ اپنی فضائی حدود میں دشمن کے فضائی حملوں کو دفاعی فضائی نظام نے سراغ لگاکر تباہ کردیا۔

بعد ازاں ملک کے ایک امریکی فوجی اڈے کے قریب دھماکے کی آوازیں بھی سنی گئیں تاہم کویتی حکومت نے نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔