’امریکا کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘ جنگی جہاز ڈوبنے پر ایران کا شدید ردعمل ۔ لمحہ بہ لمحہ صورتحال
ایرانی سیاسی و عسکری قیادت کے بڑے نقصان کے بعد تہران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے جاری
ایران میں خامنہ ای کے بیٹے قابل قبول نہیں؛ اپنی پسند کی حکومت بنانا چاہتا ہوں؛ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں میرا ذاتی طور پر شامل ہونا ضروری ہے تاکہ ایسا رہنما سامنے آئے جو ملک میں امن اور استحکام لائے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے لیے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو ایسا رہنما چاہیے جو کشیدگی کے بجائے ہم آہنگی اور امن کی طرف ملک کو لے جائے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کی تقرری میں اسی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں وینزویلا کی سیاست میں کردار ادا کیا تھا۔ اگر ایران میں سخت گیر قیادت سامنے آئی تو مستقبل میں ایک بار پھر کشیدگی اور جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے مذہبی و سیاسی حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور سب سے مضبوط نام مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔
واضح رہے کہ مجتبی خامنہ ای شہرت ایک مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کے طور پر بھی ہے۔
خلیجی اور یورپی ممالک کا ہنگامی اجلاس؛ میزائل حملوں پر ایران کو واضح پیغام

ایران کے میزائل اور ڈرونز حملوں پر خلیجی اور یورپی مُمالک کا ایک ہنگامی اجلاس وڈیو لنک کے ذریعے ہوا تھا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ہنگامی اجلاس میں خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کے ممالک پر ایران کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزرائے خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی اور انھیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو اپنی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
اعلامیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا چاہیے۔
رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو خطے اور یورپ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے باز آنا چاہیے اور اپنے عوام کے خلاف تشدد کو بھی روکنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
عراق؛ بارود سے بھری کشتی کا تیل بردار جہاز پر خودکش حملہ؛ خوفناک دھماکا

خلیج کے پانیوں میں ایک سنگین بحری واقعے میں بارودی مواد سے بھری ایک چھوٹی کشتی عراقی ساحل کے قریب لنگر انداز تیل بردار جہاز سے ٹکرا گئی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ عراقی سمندری حدود میں پیش آیا جہاں بہاماس کے جھنڈے والا خام تیل بردار ٹینکر سونانگول نامیبی لنگر انداز تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی استعمال کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق چھوٹی کشتی تیز رفتاری سے ٹینکر کی جانب بڑھی اور اس سے ٹکرانے کے فوراً بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔
دھماکے کے نتیجے میں جہاز کے ایک حصے کو نقصان پہنچا جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عملے کے ارکان محفوظ رہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بارود بھری کشتی کس مقصد کے لیے آئل ٹینکر سے ٹکرائی گئی اور کس نے ایسا کیا۔ کسی گروپ تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشتی ایرانی ساختہ یا ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے استعمال کی گئی ہوسکتی ہے تاہم ابھی تک باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بحری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اوسط قیمت 3.25 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ تقریباً 11 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قیمت ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 27 سینٹ زیادہ ہے۔ جس کی وجہ ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ہے۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ایران جنگ کے بعد سے عالمی تیل کی منڈی شدید بے یقینی کا شکار ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی اوسط پیٹرول قیمت میں ایک ہی دن میں11 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا جو چار برس میں سب سے بڑا روزانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں 3.25 سے 3.50 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں تیزی اس لیے بھی آئی ہے کیونکہ عالمی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں خصوصاً اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔
اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کا اثر فوری طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ

امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے وار پاورز قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو پابند کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بادشاہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو انہیں کانگریس میں آ کر اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما ایران جنگ اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خدشے کو بنیاد بنا کر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ کے لیے بھی ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو مکمل فنڈنگ اور عملہ فراہم کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کو جنگ سے پہلے کانگریس کی اجازت لینا بے حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی قرارداد پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ کے باعث مسترد ہو گئی تھی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے حق اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
اسی دوران امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو مزید فوجیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں جن کی شناخت چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزن اور میجر جیفری اوبرائن کے طور پر کی گئی ہے۔
امریکہ میں سیاسی محاذ پر ایک اور پیش رفت میں ریپبلکن سینیٹر نے اچانک اپنی تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں جو رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔
ایران کا جوابی حملہ؛ خلیجِ فارس میں امریکی ٹینکر کو تباہ کردیا

ایران نے امریکا سے اپنے جنگی بحری جہاز کو تباہ حملہ کر کے غرق کرنے کا بدلہ لے لیا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ملکی بحریہ کے جنگی دستوں نے آج خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کو خلیج فارس کے شمال میں ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس امریکی ٹینکر میں لگنے والی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ انھیں آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے جو خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔
تاہم بی بی سی اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
برطانیہ کی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن نے اس سے قبل کہا تھا کہ جمعرات کی صبح کویت کے ساحل کے قریب خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق ’لنگر انداز ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ انھوں نے جہاز کے بائیں جانب ایک زور دار دھماکا سنا جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی وہاں سے دور جاتی ہوئی نظر آئی۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پانی میں کارگو ٹینک سے تیل بہہ رہا ہے جس سے ماحول پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نشانہ بنائے گئے جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے تاہم آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں اور عملہ محفوظ اور خیریت سے ہے۔
تاحال امریکا کی جانب سے اس واقعے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایران کی جانب سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
امارات نے ایران کے 6 بیلسٹک میزائل اور 125 ڈرون مار گرائے؛ ملبہ لگنے سے 6 پاکستانی زخمی

متھدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل اور 125 ڈرون تباہ کر دیے۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ملک کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکنا ہیں۔ ایران کے 7 میں سے 6 بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اندر گرنے والے میزائل سے بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسی طرح ایران کے 131 ڈرونز میں سے 125 کو کامیابی سے مار گرایا گیا جبکہ چھ ڈرون یو اے ای کی حدود میں آ کر گرے۔
دوسری جانب دارالحکومت ابوظہبی کی انتظامیہ نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ڈرون تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ دو مختلف مقامات پر گرا جس میں 6 پاکستانی شہری زخمی ہوگئے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز کا ملبہ لگنے سے زخمی ہونے والوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انھیں معمولی اور درمیانی نوعیت کے زخم آئے ہیں۔
یو اے ای حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شہید ہوگئے۔
جس کے بعد سے ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈّوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جس میں اب تک 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش؛ حملوں کا خدشہ؛ قطر کا گیس برآمدات معطل کرنے کا اعلان

قطر نے گیس برآمدات پر فورس میجر نافذ کر دیا جس کے باعث عالمی منڈی میں قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیجی ریاست قطر نے قدرتی گیس کی برآمدات معطل کردی ہیں جس کے باعث عالمی گیس مارکیٹ میں کئی ہفتوں تک قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے اس ہفتے گیس کی پیداوار روک دی ہے جب کہ معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کرتا ہے اور اس کی عالمی منڈیوں تک تمام تر سپلائی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے ہوتی ہے۔
ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔
قطر کی گیس زیادہ تر یورپ اور ایشیا کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بڑے خریداروں میں پاکستان، جنوبی کوریا، بھارت، جاپان اور چین شامل ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث اب ان ممالک میں ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیداوار رکنے کے بعد بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے علاقوں میں ایل این جی کارگو کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔
جس کے باعث یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتیں اور ایل این جی فریٹ ریٹس کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ایران میں کرد عسکریت پسند گروہ کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، ترکی

ترکیہ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی کرد عسکریت پسند گروہ (PJAK) کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی ممکنہ کارروائیاں ایران کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں مشاورت ہوئی ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکا سے اس بارے میں مشورہ کیا کہ وہ ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کس طرح کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل بعض امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ہزاروں افراد سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم ایرانی خبر ایجنسی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے داخل ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
ایران کے ڈرون آذربائیجان میں جا گرے، دو شہری زخمی، ایئرپورٹ کو نقصان، سفیر طلب

آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے داغے گئے کئی ڈرونز آذربائیجان کی سرزمین پر گر گئے ہیں۔
ان میں سے ایک ڈرون نخجوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل عمارت سے ٹکرا گیا جبکہ دوسرا ڈرون شکارآباد گاؤں کے اسکول کے قریب گر کر اتر گیا۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’ہم ان ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین سے کیے گئے اور جن سے ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور دو شہری زخمی ہوئے۔‘
وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کی وضاحت کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کرے۔
وزارت خارجہ نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا اور کہا کہ آذربائیجان حق رکھتا ہے کہ مناسب ردعمل دے۔
یوکرین کی خلیجی ممالک کو ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاع میں مدد کی پیشکش

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین خلیجی ممالک میں اپنے ماہرین کو تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ دو دنوں میں متحدہ عرب امارات، قطر، اردن اور بحرین کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔
انہوں نے اپنے وزرا اور فوجی کمانڈروں کے ساتھ مشورے کے بعد خلیجی ممالک کی مدد کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں یوکرین کی حفاظت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ یوکرین زندگیوں کے تحفظ اور خطے میں حالات کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایران پر حملوں کے بعد اسرائیل کی معیشت کو ایک ہفتے میں 3 ارب ڈالر کا نقصان

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جاری جنگ کے اثرات اسرائیل کی معیشت پر بھی واضح ہونے لگے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے ہفتے میں اسرائیلی معیشت کو تقریباً 9 ارب شیکل (تقریباً 3 ارب ڈالر) سے زیادہ کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ اگر پابندیاں کم رہیں تب بھی معیشت کو فی ہفتہ تقریباً 4.3 ارب شیکل نقصان ہوسکتا ہے۔
جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں اسکول بند ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور زیادہ تر ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں۔
حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔
کیا امریکا ایران جنگ میں بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہا ہے؟ انڈیا کی بڑی وضاحت سامنے آگئی

انڈین حکومت نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ کے مطابق یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد اور جعلی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایک امریکی چینل پر نشر ہونے والی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھارت کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، تاہم یہ خبر درست نہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق اس طرح کی غیر مصدقہ اور من گھڑت معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جن سے عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے لوگوں کو ایسی خبروں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ دعویٰ سابق امریکی فوجی افسر اور سابق وزیر دفاع کے مشیر ڈوگلس میک گریگور نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران کے حملوں کے بعد اپنے اڈوں کے نقصان کی وجہ سے بھارت اور اس کی بحری تنصیبات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
اس بیان کے بعد بھارت میں سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کی ترجمان نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ کیا وزیر اعظم مودی کی حکومت امریکا اور اسرائیل کو ایسی جنگ میں بھارتی بحری اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جس میں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبریں محض افواہیں ہیں۔
اسرائیل کے ایران پر نئے حملے، قم اور اصفہان نشانے پر، مرکزی ایئرپورٹ بھی دوبارہ کھل گیا

اسرائیل نے ایران کے دو اہم شہروں قم اور اصفہان پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ رات قم شہر میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا جو اسرائیل پر حملے کے لیے تیار تھا۔
فوجی بیان کے مطابق اصفہان میں بھی ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ممکنہ میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے آغاز کے بعد بند ہونے والا اسرائیل کا مرکزی ہوائی اڈہ بن گوریون پانچ روز بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایتھنز سے آنے والی پہلی پرواز نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، جس کے ذریعے بیرون ملک پھنسے اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس لایا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی حدود کو مرحلہ وار جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کی منظوری دی گئی ہے۔
’کوئی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا‘ سینیٹ میں سابق امریکی میرین کو پولیس نے باہر نکال دیا

واشنگٹن: امریکا میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران احتجاج کرنے والے سابق فوجی کو زبردستی ہال سے باہر نکال دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی میرین برائن میک گینس سماعت کے دوران صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ وہ آئندہ انتخابات میں گرین پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کی نشست کے امیدوار بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برائن میکگینس اجلاس کے دوران نعرے لگا رہے تھے کہ ’کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا‘، جس پر سکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے اور انہیں زبردستی کمرہ اجلاس سے باہر لے گئے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مونٹانا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم شیھے، جو خود بھی سابق امریکی فوجی ہیں، اس موقع پر پولیس کی مدد کرتے ہوئے برائن میکگینس کو ہال سے باہر لے جانے میں معاونت کر رہے تھے۔
Senator Sheehy joined Capitol Police in lifting up and ejecting anti war protestor Brian McGinnis from a SASC subcommittee hearing. McGinnis is a Green Party candidate running for Senate in N.C. An antiwar activist filmed the video below: pic.twitter.com/0dVA0ORWXQ
— Alan He (@alanhe) March 4, 2026
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے معاملے پر امریکہ میں سیاسی اور عوامی سطح پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایران کی جانب سے ترکی پر میزائل داغنے کی سخت تردید
ایران نے ترکی پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دوست ملک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اس کی سرزمین پر کسی بھی میزائل داغنے کی تردید کرتا ہے۔
گذشتہ روز ترکی نے دعویٰ کیا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے اس کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا اور اس ےسے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے کی بات بھول جائیں، شہزادہ ترکی الفیصل

سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے 7 دورے کر کے ٹرمپ کو جنگ پر قائل کیا، ایران جنگ نیتن یاہو کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی پر ٹرمپ کا حیران ہونا باعثِ حیرت ہے جبکہ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکا جاتا رہا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا ایران امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، امریکا بھی نہیں بچ سکے گا جبکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے کی بات بھول جائیں۔
قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ ایران نے نہیں کیا، برطانیہ کی تصدیق
برطانیہ نے تصدیق کی ہے کہ قبرص میں برطانوی ایئر بیس ایکروٹری پر 2 مارچ کی شب ہونے والا ڈرون حملہ ایران کی جانب سے نہیں کیا گیا.
واضح رہے کہ پہلے یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ قبرض کی برطانوی ایئر بیس پر ایران نے ڈرون حملہ کیا ہے۔
کیا امریکا ایران میں زمینی جنگ شروع کرے گا؟ وائٹ ہاؤس کا بڑا اعلان سامنے آگیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ فی الحال ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اس وقت امریکا ایران میں زمینی فوج اتارنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے اور امریکی عوام اس صورتحال سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو یقین ہے کہ ایران کے معاملے پر انہیں امریکی عوام کی حمایت حاصل ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران میں حالیہ فوجی کارروائی کے بعد امریکا کے آئندہ کردار کے بارے میں صدر ٹرمپ اپنے مشیروں سے مشاورت کر رہے ہیں۔
کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے اور وہاں گزرنے والے آئل ٹینکرز کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریاض کے قریب خطرہ ٹل گیا، سعودی عرب نے تین کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کر دیا

ریاض: سعودی عربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے تین کروز میزائل مار گرا کر تباہ کر دیے ہیں۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق جمعرات کی علی الصبح جاری بیان میں کہا گیا کہ تین کروز میزائلوں کو الخرج شہر کے باہر فضا میں نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کیے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ترجمان نے بتایا کہ روبیو نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد سعودی ردعمل پر شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور ایران کی جانب سے علاقائی استحکام کو لاحق خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یورپ کیلئے خطرے کی گھنٹی، پیوٹن نے گیس سپلائی روکنے کا اشارہ دے دیا

ماسکو: روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد روس یورپ کو گیس کی سپلائی روکنے کے امکان پر غور کرسکتا ہے۔
روسی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین روسی گیس اور ایل این جی پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے باعث توانائی کے شعبے میں نئی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
پیوٹن کے مطابق اگر روسی گیس اور تیل پر مزید پابندیاں لگائی گئیں تو ماسکو کے لیے دیگر عالمی منڈیوں کی طرف رخ کرنا زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ کی جانب سے روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کے بعد روس اپنی توانائی کی برآمدات بڑھانے کے لیے چین سمیت دیگر ایشیائی منڈیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس یورپ کو گیس کی فراہمی محدود کرتا ہے تو اس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
جنگی جہاز ڈوبنے پر ایران کا شدید ردعمل ’امریکا کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا ہے کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز IRIS Dena کو ڈبو کر سمندر میں سنگین ظلم کیا ہے اور اس کے نتائج امریکہ کو بھگتنا پڑیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ امریکی کارروائی ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فریگیٹ ڈینا اس وقت انڈین بحریہ کی مہمان تھی اور اس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، تاہم امریکی حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیا گیا۔
The U.S. has perpetrated an atrocity at sea, 2,000 miles away from Iran's shores.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 5, 2026
Frigate Dena, a guest of India's Navy carrying almost 130 sailors, was struck in international waters without warning.
Mark my words: The U.S. will come to bitterly regret precedent it has set. pic.twitter.com/cxYiI9BLUk
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے سمندر میں ایک خطرناک مثال قائم کی ہے اور ان کے بقول امریکا کو اس اقدام پر سخت پچھتاوا ہوگا۔
کویت حملہ: پینٹاگون نے ہلاک ہونے والے مزید دو امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کویت میں ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے مزید دو امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اتوار کے روز کویت میں ایک امریکی فوجی تنصیب پر ایران کے ڈرون حملے میں مجموعی طور پر چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
فوج کے مطابق پانچویں ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت میجر جیفری اوبرائن کے نام سے ہوئی ہے، جو 2012 میں امریکی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ وہ امریکی ریاست آئیووا کے علاقے ڈیلاس کاؤنٹی کے رہائشی تھے اور 2019 میں ان کی تعیناتی کویت میں کی گئی تھی۔
دوسری جانب پینٹاگون نے بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے چھٹے فوجی 54 سالہ روبڑٹ مرزان تھے جن کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تھا۔ ان کی تصویر ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔
اس سے قبل امریکی فوج نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہلاک ہونے والے چار فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی تھی۔
مشرق وسطیٰ بحران: چین نے بڑا قدم اٹھا لیا، ثالثی کیلئے خصوصی نمائندہ بھیجنے کا اعلان

بیجنگ: چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اعلان کیا ہے کہ چین ثالثی کی کوششوں کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ خطے میں بھیجے گا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ ای نے ٹیلی فون پر سعودی عربیہ اور امارات کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے تحمل اور تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ توانائی کی تنصیبات اور دیگر غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔
وانگ ای نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے، اس لیے چین اس معاملے پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
چینی وزیر خارجہ کے مطابق بیجنگ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں گزرنے دیں گے، ایران کی دھمکی

تہران: ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک سکتے ہیں اور ’ایک بوند تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے‘۔
پاسداران انقلاب کے مطابق اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے خطے میں مزید دباؤ بڑھایا تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے سمیت سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ ان کی بڑی طاقت ظاہر نہیں کی گئی۔
ادھر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ امریکا جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا، ایرانی پاسداران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج کر دیا ہے۔
اسی دوران کویت کی ایک بندرگاہ کے قریب دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے سمندر میں تیل رسنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
امریکی سینیٹ سے ٹرمپ کو فری ہینڈ مل گیا، فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد

امریکا کی سینیٹ نے ایک اہم وار پاورز قرارداد کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر جاری فوجی کارروائیاں روکنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کے اختیارات محدود کرنا تھا۔
یہ قرارداد 47–53 کے فرق سے مسترد ہو گئی، جس سے صدر ٹرمپ کو مزید ایران پر کارروائیوں جاری رکھنے کا قانونی میدان مل گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق قرار داد کی سربراہی سینٹر ٹم کین نے کی تھی اور اس کی 26 دیگر سینیٹرز نے بھی حمایت دی تھی، لیکن ری پبلکن ارکان نے اکثریت کے ساتھ قرارداد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
سینیٹر رینڈ پاؤل واحد ری پبلکن تھے جنہوں نے حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس میں سے سینیٹر جون فیٹرمین نے مخالفت کی۔
سینٹ سیشن میں سینیٹرز کے درمیان شدید بحث جاری رہی، جہاں ڈیموکریٹس نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کو جنگی فیصلوں پر کنٹرول رکھنا ضروری ہے اور صدر کو ایک شخصی جنگ شروع کرنے سے نہیں روکا جا سکا۔
سینیٹر ایڈم شف نے کہا کہ یہ قرارداد صرف جنگ کو روکنے کے بارے میں نہیں بلکہ صدر کے غیر محدود اختیارات کا توازن برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔
جبکہ ری پبلکن ارکان نے صدر کی فوجی کارروائیوں کو قومی سلامتی کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
بحرین، ایران کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر مزید گرفتاریاں

بحرین میں ایران کے حملوں سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے اور مبینہ طور پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے پر مزید چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق اب تک 8 افراد کو سوشل میڈیا پر ایرانی حمایت یافتہ مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی اشاعت عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور شہریوں و رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے، جو ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکام نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
یہ گرفتاریاں اس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں حکام ایسے مواد کو ایرانی جارحیت کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کی پوسٹس قوم سے غداری کے مترادف ہیں۔
واضح رہے کہ بحرین میں سنی حکومت قائم ہے جبکہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعض حلقے شیعہ اکثریتی ملک ایران کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
حملہ نہ کرتے تو 2 ہفتوں میں ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ حملہ نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آجاتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی امریکی افواج کو مضبوط بنانے پر کام کیا اور آج انہیں اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر ہے۔
ان کے بقول ایران کے خلاف کارروائی میں طاقت کا بہترین مظاہرہ کیا گیا اور ایرانی میزائلوں و لانچرز کو تباہ کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین نیوکلیئر ڈیل کی تھی جسے انہوں نے چار سال قبل ختم کر دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں نے ایران کو جوہری پروگرام میں کافی پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب امریکہ ایران میں مستحکم پوزیشن میں ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہا، تاہم امریکی کارروائی نے اس سلسلے کو روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاگل لوگوں کے پاس ایٹم بم ہونا دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں عوام کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور امریکہ کو وہاں سے تیل کی فراہمی بھی جاری ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور جنگ میں امریکہ کو برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔
ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے؛ اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا دعویٰ انھوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔
لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپین حکومت اب بھی اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ پالیسی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
جس پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ اسپین کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا اس کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس کے نتیجے میں کسی قسم کی جوابی کارروائی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
خود مختاری کا احترام لیکن امریکا کو جواب دینا ضروری تھا؛ ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگی صورت حال پر ہمسایہ خلیجی ممالک کے نام ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں نے ایران کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہاں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام صرف علاقائی ریاستوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اہم ترین دفاعی شخصیات کو شہید کردیا تھا۔
جس کے جاب میں ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈّے اور مفادات تھے۔
ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں پر ایرانی حملے میں 4 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں۔
تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی صدر کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
امریکا نے ایران پر حملے سے قبل 13 معدنیات کیلیے کان کن کمپنی سے رابطہ کیا تھا؛ رائٹرز

ایران پر حملے سے محض ایک روز قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے کان کنی کی کمپنیوں سے تعاون طلب کیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کے نمائندے نے وہ دستاویز دیکھیں جن میں یہ اہم معلومات درج تھیں۔
رائٹرز کے بقول ان دستاویز میں 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے مانگا گیا تعاون جنگی اور دفاعی ضروریات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔
پینٹاگون نے دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم سے وابستہ کمپنیوں، جامعات اور دیگر اداروں سے کہا کہ وہ 20 مارچ تک ایسے منصوبوں کی تجاویز جمع کرائیں۔
جن کے ذریعے نکل، گریفائٹ، ریئر ارتھ عناصر اور دیگر اہم معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ یا ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، جدید اسلحہ، مواصلاتی نظام اور دیگر دفاعی مصنوعات کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ درخواست ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایک روز قبل جاری کی گئی۔
رائٹرز کے بقول وائٹ ہاؤس سمیت دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم اور پینٹاگون نے فوری طور پر اس خبر پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ ان معدنیات کے بارے میں رائے کی طلبی کے اگلے روز ہی اسرائیل نے ایران میں ایک زیر زمین بنکر پر بمباری کی تھی۔
جہاں ایران کے سپریم لیڈر ایک اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اس حملے میں آیت اللہ سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شہید ہوگئے تھے۔
ٹرمپ کے قتل کی سازش کرنے والے ایران کی اہم شخصیت کو ہلاک کردیا؛ امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ایران کی ایک اہم شخصیت کو ہلاک کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بڑا انکشاف کیا۔
انھوں نے بتایا کہ امریکی کارروائی میں ایران کے اُس یونٹ کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا جن پر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام تھا۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بقول امریکا اپنی سیاسی قیادت کو لاحق خطرات کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔
تاہم انھوں نے اُس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اس فوجی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات ظاہر کی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی حکام پہلے بھی ایران پر سابق اور موجودہ امریکی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
سنہ 2024 میں امریکا میں ایک افغان شہری اور ایک ایرانی نژاد شخص کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق 51 سالہ فرہاد شکیری پر الزام تھا کہ اسے پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک اہلکار نے ٹرمپ کی نگرانی اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سازش ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے قبل ہی بے نقاب کی گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کر کے منصوبے کو ناکام بنایا۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور ماضی میں بھی ایسے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے؛ اسرائیل کی نئی دھمکی

فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک اور دھمکی دیدی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے جانشینوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی شخص ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی نئی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہیں۔
ان کے بقول اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ امریکا کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کی عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اقدامات کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیل نے ایک ایک زیر زمین بنکر کو فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔
حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شریک تھی۔
اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای، اہلیہ، خاندان کے دیگر افراد اور اجلاس میں شامل تمام شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل ابھی ہونا ہے جس کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں آیت اللہ کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
امریکا نے ایران کے جنگی جہاز کو تباہ کردیا، ویڈیو جاری؛ جنگ کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ میں ایران جنگ سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر دفاع نے پینٹاگون میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے بحر ہند میں تیرتے ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا۔
امریکی وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔
امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کی تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں لیکن سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے جس میں تقریباً 180 افراد سوار تھے۔
سری لنکا کے سیکرٹری برائے وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 30 سے زائد افراد کو بحفاطت بھی نکالا گیا جب کہ بقیہ کی تلاش کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔
تاحال ایران کی جانب سے اپنے بحری جہاز سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی امریکا نے تصدیق کی آیا یہ وہی جہاز ہے جس کو غرق کرنے کا دعویٰ امریکی وزیر دفاع نے کیا۔
یاد رہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والے ایرانی بحری جہاز کے غرق ہونے کی کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز وہی ہے جسے امریکی دفاع نے نام لیے بغیر غرق کا دعویٰ لیا ہے۔
سری لنکا میں ممکنہ امریکی حملے میں سمندر برد ہونے والے ایران کے جنگی بحری جہاز کی تفصیلات درج زیل ہیں۔
حادثے کا شکار بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔
اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول؛ ہلاکتوں کی تعداد ہزار سے متجاوز

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی رات سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 1045 ہوگئی جب کہ شدید زخمیوں کی تعداد بھی درجن سے زائد ہے۔
جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خانوں پر حملے جاری ہیں جن میں 4 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی و امریکی حملوں میں اس کے 787 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔
ایرانی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ
: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایران کی آبدوزیں اور 17 بحری جہاز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 500 بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پیڈز اور جوہری ہتھیاروں کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مقاصد کے حصول تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران پر حملے کیلیے فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی؛ یورپی یونین کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
اس گفتگو سے متعلق انتونیو کوسٹا نے بتایا کہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
یورپی کونسل کے صدر کے بقول یورپی بلاک بین الاقوامی قانون اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے اصولوں کے ساتھ اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا نے ایران پر حملوں کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں سے لاجسٹک اور عسکری تعاون طلب کیا تھا تاہم اسپین نے اپنی سرزمین اور فوجی اڈوں کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔
جس پر صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو اس کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرسکتے ہیں۔
اینٹی شپ میزائل سے لیس ایران کا جنگی بحری جہاز سری لنکا میں ڈوب گیا؛ 140 افراد لاپتا

سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ڈوبنے کے بعد بحرِ ہند میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی وزارتِ دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے جکہ جنگی بحری جہاز پر تقریباً 180 سوار تھے جن میں 140 تاحال لاپتا ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 30 افراد کو ریسکیو آپریشن کے دوران سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا لیکن زخمی ہونے کے باعث قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
زخمیوں میں بعض کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کا شکار بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔
اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مشق میں شرکت کے لیے آیا تھا؟
بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین ایک بار پھر ملتوی؛ وجہ سامنے آگئی

اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی آج ادا کی جانے والی نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوری کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج یعنی 4 مارچ کو ہونا تھی لیکن اب یہ ملتوی کردی گئی۔
آج نماز جنازہ کے بعد تہران کے امام خمینی نماز ہال میں تین روزہ الوداعی تقریب کی تیاری بھی کرلی گئی تھی جس میں عوام کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی تدفین مشہد میں کی جانا تھی مگر اب تدفین کا دن اور وقت ابھی تک طے نہیں کیا گیا۔
لیکن اب اس تقریب کو ملتوی بھی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آخری رسومات کا حتمی شیڈول مقام اور انتظامات کے طے نہ ہونے کی وجہ سے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
نماز جنازہ کے اجتماع کے مقام، تاریخ اور دیگر تفصیلات فی الحال بتائی نہیں گئیں تاہم اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نماز جنازہ کے اجتماع کو ملتوی کرنے کا فیصلہ دیگر صوبوں کے شہریوں کی جانب سے آنے والی آرا کی روشنی میں کیا گیا۔
دور دراز کے علاقوں سے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے اب بھی متعدد قافلے راستے میں ہیں اور محدود سفری سہولیات کے باعث انھیں پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہے۔
جس کے باعث رہبر اعلیٰ کے نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ایران کیخلاف جنگ غیرقانونی اور جھوٹ پر مبنی ہے، امریکی سینیٹرز کی ٹرمپ پر سخت تنقید

واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔
سینیٹر وارن کا کہنا تھا کہ خفیہ بریفنگ کے بعد انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے اور اسی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ فکرمند ہیں۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا مؤقف اپنایا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔
سینیٹر وارن نے کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کو کسی فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر بلومینٹل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہے تھے جو امریکا نے اسے دیے، نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا، ٹرمپ نے اس کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔
ایرانی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایران کی آبدوزیں اور 17 بحری جہاز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 500 بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پیڈز اور جوہری ہتھیاروں کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مقاصد کے حصول تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
کویت میں ایرانی ڈرون حملہ، امریکا نے 4 ہلاک فوجیوں کی شناخت جاری کر دی

واشنگٹن / کویت: امریکا نے کویت میں ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے 6 اہلکاروں میں سے 4 کی شناخت اور تصاویر جاری کر دی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق اتوار کے روز کویت کے علاقے پورٹ شابہ میں قائم امریکی فوجی تنصیب پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہوئے۔
پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق آئیووا کے امریکی آرمی ریزرو یونٹ سے تھا۔ ان کی شناخت نوح تیجنز، نکول امور، کوڈی خورک اور ڈکلن کے ناموں سے ظاہر کی گئی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں میں اب تک 160 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
سکیورٹی الرٹ، امریکا نے پاکستان سے غیر ضروری سفارتی عملہ واپس بلا لیا

اسلام آباد: امریکا نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ضروری عملے کو بھی پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور ضروری سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
امریکی سفارتخانے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات موجود ہیں، جس کے باعث یہ احتیاطی اقدام اٹھایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں، تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

میڈرڈ / واشنگٹن: اسپین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشنز کے لیے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسپین میں جا کر ان کا فوجی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔
اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
اسپین کے وزیر خارجہ حوزے مینول البیرس نے واضح کیا کہ ملک کے فوجی اڈے جو امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جاتے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔
اس فیصلے کے بعد امریکا نے جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 طیارے، جن میں ایندھن بردار ٹینکر بھی شامل تھے، منتقل کر دیے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسپین نے برا رویہ اختیار کیا ہے اور انہوں نے اپنے وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام لین دین ختم کر دیا جائے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا کو اسپین کے ساتھ تجارت میں 4.8 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل تھا۔
یو اے ای میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستانی سفارتخانے کی سروسز معطل

ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے تمام بالمشافہ قونصلر سروسز ’تاحکمِ ثانی‘ معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سفارتخانے کی جانب سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ کمیونٹی کے افراد اور سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
بیان میں یو اے ای منسٹری کی ایڈوائزری کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں نجی شعبے کو ریموٹ ورک اپنانے اور کھلے مقامات پر غیر ضروری موجودگی سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
— Pakistan Embassy UAE (@PakinUAE_) March 4, 2026
سفارتخانے نے ہنگامی صورتحال میں رابطے کے لیے درج ذیل نمبرز جاری کیے ہیں:
لینڈ لائن: +971 2 4447800
موبائل: +971 50 121 0260
واٹس ایپ: +971 50 124 8934
سفارتخانے نے کہا ہے کہ سروسز کی بحالی سے متعلق معلومات بروقت سرکاری ذرائع سے فراہم کی جائیں گی۔ پاکستانی شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور مستند اعلانات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ہماری فضائی حدود ایران پر حملے کیلئے استعمال نہیں ہوں گی، امارات کا دو ٹوک اعلان

ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران پر کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امارات اپنی فضائی حدود کسی تیسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے فراہم نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے کے لیے خطرہ ہے، تاہم فوجی حل مسئلے کا حل نہیں اور بڑھتی کشیدگی پورے خطے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کے مطابق امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایرانی حملوں کے بعد امارات نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا ہے اور سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔
دوسری جانب ابوظبی میں عسکری حکام نے کہا ہے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ ایئرفورس ترجمان کے مطابق مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
قطر کا پاسداران انقلاب کے 10 جاسوسوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

دوحہ: قطر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک دو مبینہ سلیپر سیلز کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ان سیلز سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے سات افراد کو قطر میں اہم اور فوجی تنصیبات کی جاسوسی کا ٹاسک دیا گیا تھا، جبکہ تین افراد کو تخریبی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے ایرانی فوج سے وابستگی کا اعتراف کیا اور جاسوسی و تخریب کاری کے مشن کی تصدیق کی۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے حساس مقامات کے نقشے، رابطے کے آلات اور جدید ٹیکنالوجی کا سامان بھی برآمد ہوا ہے۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے خلیجی ممالک پر متعدد جوابی حملے کیے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ہفتے سے اب تک قطر کی فضائی حدود کی جانب تین کروز میزائل، 101 بیلسٹک میزائل اور 39 ڈرون داغے گئے، جنہیں فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر کو ان حملوں سے قبل آگاہ نہیں کیا گیا اور یہ بلا جواز حملے تھے۔ ان کے مطابق حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی۔
مشرقی وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، ایران کا 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے جوابی حملوں کے ابتدائی دو روز کے دوران امریکی جانی نقصانات سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جو امریکا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے بالکل مختلف ہیں۔
آئی آر جی سی کے ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی کے پہلے دو دنوں میں 650 تک امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں اب تک 6امریکی سروس ممبرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 18 اور اہلکار شدید زخمی ہیں، جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
فیصلہ کن جہادی اور حربی برتری حاصل ہے، چند روز میں دشمن بھاگ جائے ہوگا؛ ایران

ایران نے کہا ہے کہ وہ اب بھی پُرعزم ہیں اور فیصلہ کن برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جس کا اندازہ چند روز میں دشمن کو بھی ہوجائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی جہادی عزم، حربی صلاحیت اور اسلحہ جاتی طاقت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ مخالف فریق کو آئندہ چند دنوں میں تعطل اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارت دفاع کے ترجمان سردار طلائی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عسکری صلاحیت اور دفاعی حکمت عملی اسے فیصلہ کن برتری فراہم کر رہی ہے۔ جس کے باعث آنے والے چند دنوں میں دشمن کو جنگ روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جارحانہ دفاعی حکمت عملی قومی اور اسلامی شناخت، تہذیبی پس منظر اور عوامی اتحاد پر مبنی ہے اور یہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع نے کہا کہ ملک کا دفاعی ڈھانچہ صرف کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ ایک منظم اور ادارہ جاتی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایران کا سیاسی و عسکری نظام آئینی اداروں، مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب اور منتخب و غیر منتخب مراکزِ اقتدار کے باہمی توازن پر قائم ہے جس کی وجہ سے قیادت کے مارے جانے یا تبدیلی کے باوجود نظام کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھیں گے اور ملک کے سیاسی و عسکری نظام کے تسلسل میں کوئی خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔
ایران کے پاس نہ نیوی بچی نہ ایئر فورس اور نہ ہی ریڈار ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب نہ تو بحریہ، نہ فضائیہ اور نہ ہی ریڈار بچے ہیں بلکہ ان کے میزائل لانچرز بھی تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار امریکی صدر ٹرمپ نے اخبار پولیٹیکو کو انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اسلحے کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے دفاعی کمپنیوں کو ہنگامی حکم کے تحت ہتھیار بنانے کا حکم دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی حکومت کے زندہ بچ جانے والے کچھ رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نئے لوگ بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ ایرانی سپریم لیڈر کا عہدہ چاہتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ بہت اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت کے کسی فرد کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں کہا کہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ اس کا امکان موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات نہ بھولیں کہ 49 سینئر ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ ان کی نیوی، ایئر فورس اور ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے اسرائیل کو زبردستی ایران پر حملے کے لیے آگے کیا کیوں کہ میرے خیال میں وہ پاگل (ایران ) پہلے حملہ کرنے والے تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے عرب ممالک پر حملوں پر کہا کہ ایران اب اُن خلیجی ممالک پر بھی حملے کررہا ہے جو غیر جانبدار تھے۔ اب وہ تمام ممالک ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر ابہام؛ فرانس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے یورپ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ملک کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس، جرمنی اور نیٹو نے بھی ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنے اپنے مؤقف واضح کر دیے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑا اپنی خودمختار دفاعی پالیسی کے تحت جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔
خیال رہے کہ فرانس یورپی یونین کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ پورے یورپ کی سیکیورٹی پالیسی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحران کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب جرمنی نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کا اس تنازع میں عسکری شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور برلن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
نیٹو اتحاد نے بھی ایران سے متعلق کسی ممکنہ جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا ہے۔
اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اس وقت خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم کسی مشترکہ فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
