ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکا کا ڈرون بھی مار گرایا؛ ٹرمپ شدید برہم؛ نئی دھمکی دیدی
ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی آئل ٹینکر ’سیڈر‘ کو آبنائے ہرمز میں روک دیا گیا۔
فارس کے مطابق سعودی ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزر رہا تھا کہ اسے اچانک روک دیا گیا جبکہ جہاز کی جانب سے خودکار شناختی نظام بھی اچانک فعال کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل تک تیل لے جانے کی گنجائش ہے۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی ایک آئل ٹینکر اور فوجی فورسز سے متعلق واقعے کی اطلاع موصول ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم فارس نے یہ واضح نہیں کیا کہ برطانوی تصدیق کا واقعہ اسی سعودی ٹینکر سے متعلق ہے یا نہیں۔
ایران کی نئی دفاعی ٹیکنالوجی؛ آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون ایم کیو 9 کو مار گرایا

ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں امریکا کا MQ-9 ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ دعویٰ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی پر جاری پاسداران انقلاب کے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاع نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو ایک نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔
خیال رہے کہ MQ-9 ریپر امریکی فوج کا ایک جدید مسلح ڈرون ہے جسے نگرانی، انٹیلی جنس اور بعض صورتوں میں حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی دعوے کے مطابق ڈرون کو ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا جب خطے میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
اس سے قبل اتوار کی رات ایران نے اردن میں موجود دو فضائی اڈوں اور متحدہ عرب امارات میں ایک ایسے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اردن پر یہ حملے آبنائے ہرمز میں لارک جزیرے پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
ایرانی مؤقف ہے کہ امریکا کی عسکری کارروائی کے ردعمل میں اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اردن میں امریکی اہلکاروں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کا جواب دے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی بڑی مقدار ترسیل کی جاتی ہے اور اس آبی گزرگاہ کی بندش سے توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ایران کے جوابی حملوں پر امریکی صدر بھڑک اُٹھے؛ ناکام اور مردہ ملک قرار دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت ملک کے معاملات چلانے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ذاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی تازہ پوسٹ میں کیا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جنگ میں ایران کے پاس اب نہ بحریہ ہے اور نہ فضائیہ باقی بچی ہے جبکہ ان کی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس مناسب کرنسی تک موجود نہیں ہے اور حکومت اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں ادا نہیں کر پا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچنے کا بھی دعویٰ کیا تاہم اس دعوے کے لیے انہوں نے کوئی اعداد و شمار یا حوالہ پیش نہیں کیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے اور ملک کی درست نمائندگی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب ایران سے متعلق میڈیا رپورٹس میں ٹرمپ کے مہنگائی اور ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا تازہ بنان اس تناظر میں سامنے آیا ہے جب امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر عسکری کارروائی کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج نے الزام عائد کیا کہ ایرانی فورسز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کر رہی تھیں جسے امریکا نے تجارتی جہاز رانی کے لیے فوری خطرہ قرار دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی میں متعدد ایرانی فوجی اور شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جس کا امریکا سے بدلہ لیا جائے گا۔
تھوڑی دیر میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر امریکی فوج کے نقصان کے دعویٰ کیا ہے۔
تاہم اردن نے ایران کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے آنے والے 8 میزائل روک لیے۔
واضح رہے کہ امریکا کے لارک جزیرے پر حملے اور پھر ایران کے جوابی حملے کے بعد سے خطے میں حالات دوبارہ کشیدہ ہوگئے اور پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ہوگیا۔
جی 20 اجلاس؛ امریکا کا بڑا معاشی پلان، ایران اور چین بھی نشانے پر

امریکی شہر اشیویل میں جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا دو روزہ اجلاس شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اجلاس میں عالمی معاشی نمو، بڑھتے ہوئے قرضوں، تجارتی عدم توازن، توانائی کے بحران اور ایران پر اقتصادی دباؤ سمیت اہم معاملات زیرِ بحث ہیں۔
اجلاس کے افتتاحی خطاب میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے عالمی معیشت کو تیز رفتار ترقی کی جانب لے جانے پر زور دیا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ عالمی معیشت گزشتہ کئی برس سے اپنی ممکنہ رفتار سے کم ترقی کر رہی ہے اور بڑھتے ہوئے قرضوں سے نکلنے کا راستہ معاشی نمو میں اضافہ ہے۔
ان کے بقول دنیا میں عالمی مالیاتی بحران اور کورونا وبا کے بعد قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ چکا ہے۔ عالمی قرضہ رواں سال تقریباً 353 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔
اجلاس میں امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بھی عالمی معیشت میں سرمایہ کاری کے نئے اضافے کی نشاندہی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہورہا ہے جس سے ماضی میں موجود عالمی بچت کے اضافی رجحان میں تبدیلی آرہی ہے۔
چین کیساتھ تجارتی تعلقات کی شرائط کا ازسرنو جائزے کا مطالبہ
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ عالمی تجارتی عدم توازن پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جی 20 ممالک پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی شرائط کا ازسرنو جائزہ لیں اور ضرورت پڑنے پر اضافی تجارتی رکاوٹوں پر غور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح چین اپنی معیشت کو صرف برآمدات کے بجائے اندرونی کھپت پر زیادہ انحصار کی طرف لے جائے گا کیوں کہ اس وقت چین کا تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر کا تجارتی سرپلس عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا عدم توازن پیدا کررہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صنعتی سبسڈیز اور کمزور داخلی طلب جیسے عوامل کو بھی عالمی سطح پر زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے۔
ایران پر اقتصادی دباؤ بھی
امریکا اس جی 20 اجلاس کے ذریعے اتحادی ممالک کو ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات میں شامل کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔ وزیر خزانہ نے ایران کے خلاف مزید پابندیوں، ایرانی بینکوں پر کارروائی اور ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ کرنے کے اقدامات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کی مہم کو مزید سخت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جائے گا تاہم اس حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس؛ اس بار بھی طالبان حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دو روزہ سربراہ اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت رکن ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔
ایس ای او کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے کو افغانستان کی سکیورٹی، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، تجارت اور توانائی کے مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اجلاس کے پہلے روز سربراہان کی آمد اور مختلف دوطرفہ و کثیرالجہتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مرکزی اجلاس یکم ستمبر کو ہوگا۔
روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پیوٹن کی بھارتی، ایرانی اور ترک قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں
اجلاس میں علاقائی سلامتی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے معاملات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھی سکیورٹی، رابطوں اور معاشی مواقع کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز ہے۔
طالبان ایک بار پھر اجلاس سے باہر
اجلاس میں افغانستان کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے تاہم طالبان حکومت کو اس بار بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ افغانستان کو 2012 سے ایس سی او میں مبصر کا درجہ حاصل ہے لیکن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ تنظیم کے کسی سالانہ سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
رکن ممالک خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک ملک میں داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ ایس سی او وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی افغانستان کی صورتحال زیر بحث آئی تھی۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو اپنے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج قرار دیا تھا جبکہ ایران نے دہشت گردی سے پاک اور مستحکم افغانستان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
پاکستانی وفد وزیراعظم کی قیادت میں آمد
وزیراعظم شہباز شریف بھی بشکیک پہنچ چکے ہیں جو اجلاس کے دوران علاقائی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اجلاس کے اختتام پر کرغزستان سے ایس سی او کی آئندہ سال کی گردشی سربراہی پاکستان کو منتقل ہوجائے گی۔ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد اپنی صدارت کے دوران اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں، باہمی تجارت اور عوامی روابط کو آگے بڑھانے پر توجہ دے گا۔ پاکستان اس وقت ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے (SCO-RATS) کی بھی سربراہی کررہا ہے۔
25 سال مکمل، نئی سمت پر توجہ
بشکیک اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے۔ تنظیم 2001 میں قائم ہوئی تھی اور اب اس کے 10 مستقل ارکان ہیں، جن میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر رہنماؤں کی جانب سے بشکیک اعلامیے کی منظوری متوقع ہے جس میں تنظیم کے مستقبل، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور باہمی رابطوں سے متعلق ترجیحات کا اظہار کیا جائے گا۔
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ترک صدر رجب طیب اردوان بھی شریک ہیں۔ ترکیہ ایس سی او کا مکمل رکن نہیں بلکہ مکالماتی شراکت دار ہے۔
امریکی قید میں نیویارک جیل سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی تصاویر نے ہلچل مچادی

صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے نیویارک جیل سے اپنی نئی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق نکولس مادورو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر خاکستری رنگ کے ٹریک سوٹ میں اپنی دو تصاویر شیئر کی ہیں۔
ان تصاویر میں نکولس مادورو انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رہے ہیں جب کہ ان کا وزن پہلے کی نسبت کافی کم دکھائی دے رہا ہے۔
اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ میں یہ تصاویر اپنے تمام نواسے نواسیوں، پوتے پوتیوں، بچوں اور ان تمام اچھے لوگوں کے لیے ایک چھوٹے سے تحفے کے طور پر بھیج رہا ہوں جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔
وینزویلا کے جبراً معزول اور گرفتار کرکے نیویارک جیل میں اسیری کاٹنے والے نکولس مادورو نے کہا کہ میں چاہتا ہوں، آپ جان لیں کہ ہم آپ کی محبت سے بھرے دل کے ساتھ مضبوط کھڑے ہیں۔
اگرچہ یہ تصاویر اتوار کو شیئر کی گئیں لیکن ان پر موجود ٹائم اسٹیمپ ظاہر کرتا ہے کہ یہ 25 جون کو لی گئی تھیں یعنی وینزویلا میں آنے والے اس شدید زلزلے کے اگلے ہی دن جس میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ان تصاویر کے سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین شدید حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی تحویل میں موجود ایک قیدی کو سوشل میڈیا استعمال کرنے اور تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت کیسے مل سکتی ہے؟
یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک مبینہ بڑے تیل کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
وینزویلا مادورو پر الزامات اور پس منظر
وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو رواں سال جنوری میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران ان کے محفوظ ترین صدارتی محل سے رات گئے اہلیہ کے ہمراہ بیڈ روم سے گھسیٹتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔
امریکا نے ویزنویلا صدر نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کی سازش کرنے اور امریکا میں کوکین اسمگل کرنے کے سنگین الزامات عائد کر رکھے ہیں۔ جس کی سماعت نیویارک عدالت میں جاری ہے۔
جہاں وفاقی استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کشتیوں اور مال بردار جہازوں کے ذریعے منشیات امریکا منتقل کرنے والے کارٹلز اور گینگز کی قیادت کی۔
دوسری جانب، نکولس مادورو نے عدالت میں پہلی پیشی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے اور خود کو وینزویلا کا آئینی صدر قرار دیا ہے۔
اگر امریکی عدالت میں یہ جرم ثابت ہو گیا تو نکولس مادورو کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کا باضابطہ ٹرائل 1 جون 2027 کو شروع ہونے والا ہے۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو کو صدر ٹرمپ کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے جلسوں میں ٹرمپ کی نقل بھی اتارا کرتے تھے اور اسی عمل نے امریکی صدر کے غصے کو جنم دیا تھا۔
ایران میں مظاہروں کے دوران دکان جلنے کی ویڈیو بنانے والی خاتون کو سزائے موت

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک دکان میں لگنے والی آگ کی تصاویر اور ویڈیو بنانے والی 43 سالہ خاتون لیلیٰ ابوالحسنی کو سزائے موت سنا دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو بچوں کی ماں لیلیٰ ابوالحسنی کو 8 جنوری کو ایران کے وسطی صوبے اصفہان سے گرفتار کیا گیا تھا جن پر دکان کو آگ لگانے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
ایرانی حکام نے لیلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وہ گروسری اسٹور کو آگ لگانے میں ملوث تھیں تاہم ان کے خلاف پیش کیے گئے مبینہ شواہد، عدالتی کارروائی کی مکمل تفصیلات اور ان کے دفاع سے متعلق معلومات تاحال عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
گرفتاری کے بعد لیلیٰ کو اصفہان کی دولت آباد جیل میں رکھا گیا۔ خاتون نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک اوفوغ کوروش سپر مارکیٹ میں لگنے والی آگ کی تصاویر بنائی تھیں۔
ایرانی عدالت نے ان کے خلاف محاربہ کے الزام میں کارروائی کی، جسے عموماً ’’اللہ سے جنگ‘‘ یا ریاست کے خلاف دشمنی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ جس میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اصفہان کی انقلابی عدالت کی شاخ 5 کے جج وحید ہمت نژاد نے لیلیٰ کو پھانسی کی سزا سنائی۔
لیلیٰ ابوالحسنی کا کیس ایران میں جنوری کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایرانی پناہ گزین نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ لیلیٰ کو دراصل مظاہروں کے دوران ہونے والے واقعات کی دستاویز بنانے پر نشانہ بنایا گیا۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ جلتی ہوئی دکان کی تصاویر عالمی سطح پر ایران میں ہونے والے واقعات کی جانب توجہ مبذول کرا سکتی تھیں جس کی وجہ سے حکام نے خاتون کے خلاف سخت کارروائی کی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران میں 19 مارچ کے بعد قومی سلامتی سے متعلق الزامات میں 56 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے جن میں 27 مقدمات کا تعلق جنوری میں ہونے والے مظاہروں سے تھا۔
ترک کے مطابق 100 سے زائد دیگر افراد ایسے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت حقِ زندگی اور انسانی وقار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
لیلیٰ ابوالحسنی کی سزا پر حتمی فیصلہ ایران کی سپریم کورٹ میں اپیل کے نتیجے میں ہوگا۔ عدالت کی جانب سے اپیل پر فیصلہ اور مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا نیتن یاہو پر امریکا کو جنگ میں دھکیلنے کا الزام، ’سانپ‘ قرار دے دیا

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھوکا دے کر دھکیلا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں مبینہ طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔
عراقچی کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی میڈیا پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کی موجودگی کے ذریعے امریکی رائے عامہ اور انتظامیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کی طرف مائل کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو ایک طرف امریکی صدر کی قیادت کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی مؤقف کے مطابق وہ امریکی پالیسی پر اپنے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسی تناظر میں نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیا اور ان پر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کا الزام عائد کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی جاری ہے اور اسرائیل بھی اس تنازع میں اہم فریق ہے۔ تہران مسلسل امریکا اور اسرائیل پر خطے میں فوجی کارروائیوں اور کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
In Hebrew, Netanyahu openly crows that he suckered the U.S. Administration into a war on Iran on behalf of Israel.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 31, 2026
Netanyahu explicitly laughs about how he "influenced" America through 1,000 hours of airtime on U.S. networks.
In English, he praises POTUS' leadership.
Serpent. https://t.co/O2hXExS91M
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی جانب سے عراقچی کے تازہ بیان پر فوری ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔ نیتن یاہو اور امریکی حکومت ایران کے معاملے پر اپنے اقدامات کو قومی اور سکیورٹی مفادات کے تناظر میں بیان کرتے رہے ہیں۔
جنگ نہیں چاہتے لیکن جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، ایرانی صدر کا بڑا بیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم کسی بھی جارحیت کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا اور حملے کی صورت میں فیصلہ کن جواب دے گا۔
انادولو ایجنسی کے مطابق مسعود پزشکیان نے یہ بیان امریکی حملے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں دیا۔ وہ ایک بین الاقوامی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان روانہ ہونے سے قبل گفتگو کررہے تھے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس کے خلاف مزید حملہ کیا گیا تو ملک جارحیت کرنے والوں کو سخت اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ایرانی صدر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بدامنی اور عدم استحکام کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور اس کے اثرات تمام ممالک کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ایرانی صدر کا بیان امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرہ لارک پر حالیہ حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
مسعود پزشکیان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف جنگ کو مزید پھیلانے سے گریز کا عندیہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کسی بھی نئے حملے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کا موقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیو جاری

تہران: ایرانی حکام نے ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر میزائلوں اور ڈرونز کو لانچ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کنگ حسین اور الازرق کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق جاری کی گئی ویڈیو میں متعدد میزائلوں اور ڈرونز کے لانچ ہونے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں، تاہم فوری طور پر آزاد ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی کارروائی کب اور کہاں کی گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرے لارک پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ تہران نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ لارک جزیرے پر امریکی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ اردن میں بعض فوجی اڈوں پر امریکی فوجی اور فضائی اثاثے موجود رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان مقامات کو خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج کا مقصد بظاہر یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایران نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ تاہم حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان اور امریکی تنصیبات پر اس کے اثرات سے متعلق مزید آزادانہ معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
Iranian authorities released footage showing what is purported to be missiles and drones launching. They were being launched in what Tehran said was an operation targeting the King Hussein and Al-Azraq US air bases in Jordan https://t.co/e1guVdjnhW pic.twitter.com/fdEwqKIGPm
— Reuters (@Reuters) August 31, 2026
دوسری جانب خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی مزید اہم ہوگئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث اردن سمیت دیگر خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
تازہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جبکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے امریکی ایئر بیس پر ایرانی ڈرون حملے کی تردید کردی

دبئی: متحدہ عرب امارات نے ان خبروں کی تردید کردی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے المنہاد ایئربیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اماراتی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ المنہاد ایئربیس پر میزائل حملے سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے المنہاد ایئربیس کو درجنوں حملہ آور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے مطابق اس کارروائی میں اس مقام کو ہدف بنایا گیا جہاں امریکی فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے ایرانی سمت سے آنے والے ایک ڈرون کو اپنی علاقائی حدود کے اوپر روک لیا ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ملک کی مسلح افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اماراتی فضائی حدود کی مسلسل نگرانی اور مشتبہ اہداف کی ٹریکنگ بھی جاری ہے۔
Ministry of Defence Denies Reports of Attack on Al Menhad Air Base
— وزارة الدفاع |MOD UAE (@modgovae) August 31, 2026
The Ministry of Defence has denied media reports claiming that Al Menhad Air Base was targeted by missiles, confirming that such reports are false.
The Ministry affirmed that the Armed Forces remain on a high… pic.twitter.com/qVdCiYbNq2
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تنازع شدت اختیار کرچکا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے باعث خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
المنہاد ایئربیس متحدہ عرب امارات میں واقع ایک اہم فوجی اڈہ ہے جہاں امریکی فوجی سرگرمیوں کی موجودگی بھی رہی ہے۔ تاہم تازہ ایرانی دعوے کے بارے میں اماراتی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ میزائل حملے کی اطلاعات درست نہیں۔
اماراتی حکام نے عوام پر بھی زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی صورتحال سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری اور معتبر ذرائع پر انحصار کریں اور افواہوں یا گمراہ کن خبروں سے گریز کریں۔
ایرانی میزائل حملوں نے امریکا کو مشکل میں ڈال دیا، پیٹریاٹ ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ

واشنگٹن: ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملوں کے باعث امریکا کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اوپن سورس انٹیلی جنس آسنٹ پر مبنی اندازوں کے مطابق ایک ہی رات اردن کے اوپر ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکا نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی رات میں 96 سے 128 تک انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ ایک انٹرسیپٹر کی ممکنہ قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اس ایک رات کی دفاعی کارروائی کی مجموعی لاگت تقریباً 38 کروڑ سے 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر یہ اندازے درست ہیں تو ایران کے ایک بڑے میزائل حملے کو روکنے کی امریکی کوشش خاصی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے لیے تشویش کا اہم پہلو یہ ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایک نئے انٹرسیپٹر کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اوپن سورس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ذخیرے میں اب تقریباً 900 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے اور امریکی حکام کی جانب سے موجودہ ذخیرے کی درست تعداد عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتی۔
پیٹریاٹ کی ایک مکمل بیٹری میں تقریباً 72 سے 96 انٹرسیپٹرز موجود ہوسکتے ہیں۔ اگر ایک سے زیادہ بیٹریاں اور اضافی ری لوڈز بھی شامل کیے جائیں تو کسی بڑے حملے کے دوران سینکڑوں انٹرسیپٹرز دستیاب ہوسکتے ہیں، لیکن مسلسل استعمال سے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
امریکی سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد امریکا کے پاس ایک ہزار سے کم پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے تھے۔
دفاعی صنعت کے لیے ایک اور مسئلہ ان میزائلوں کی محدود پیداواری رفتار ہے۔ انٹرسیپٹرز کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ پیداواری صلاحیت کو بتدریج بڑھا کر 2030 تک تقریباً 2 ہزار یونٹس سالانہ تک پہنچانے کی توقع کی جارہی ہے۔
اگر ایران اسی سطح پر مسلسل بیلسٹک میزائل حملے جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن کو مشکل فیصلوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکا کو ایک طرف مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کے دفاع کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا ہوں گے، جبکہ دوسری جانب پیٹریاٹ ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔
ایسی صورتحال میں امریکا کے لیے ایک ممکنہ راستہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی یا بعض دفاعی ترجیحات میں کمی کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ امریکی فوجی حکمت عملی اور مشرق وسطیٰ میں موجود اتحادیوں کی سکیورٹی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ایران سے آنے والے ڈرون کی نشاندہی، سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ

دبئی: متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اماراتی فضائیہ نے ملکی سمندری حدود کے قریب ایران سے آنے والے ایک ڈرون سے نمٹنے کی کارروائی کی ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ڈرون متحدہ عرب امارات کی علاقائی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا، جس کا فضائیہ نے بروقت سراغ لگایا اور کارروائی کی۔
وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال ہیں اور ملک کی فضائی حدود کی چوبیس گھنٹے نگرانی اور مشتبہ اہداف کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
وزارت دفاع نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری اور معتبر ذرائع پر اعتماد کریں۔ حکام نے افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات سے بچنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔
خطے میں ڈرون اور میزائل سرگرمیوں کے باعث متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی اپنی فضائی اور دفاعی نگرانی بڑھا دی ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں ڈرون کے ممکنہ ہدف یا کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آبنائے ہرمز میں سپر ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ

تہران: آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک سپر ٹینکر دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے کے نتیجے میں مکمل طور پر رک گیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کی، جس کے دوران وہ دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسداران انقلاب نے متاثرہ جہاز کی شناخت یا اس پر موجود عملے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ واقعے میں عملے کے کسی فرد کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع ہے یا نہیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ان کے سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے دیگر بحری جہازوں کو بھی اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور سکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہاں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ متاثرہ ٹینکر اور اس کے عملے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایران کا متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ

تہران: ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج نے اس کارروائی میں اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی فوج نے بتایا کہ المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا گیا، تاہم فوری طور پر اس کارروائی میں ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی فوج کے مطابق یہ حملہ جزیرہ لارک پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کیا گیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اسی کارروائی کا ردعمل ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران خطے میں امریکی فوجی اڈے پہلے بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی دھمکیوں اور کارروائیوں کا مرکز رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں موجود المنہاد ایئر بیس بھی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی دعوے کے بعد متحدہ عرب امارات میں سکیورٹی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ تاہم حملے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ امریکا خطے میں اپنی افواج اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کی امریکا کے نئے حملوں کی شدید مذمت، اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو دفاعی حق قرار دے دیا

تہران: ایران نے اپنے جزیرے لارک پر امریکا کے تازہ فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی فورسز کی کارروائی کو جائز دفاع قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے جزیرہ لارک پر کی جانے والی فوجی کارروائی کی ’سخت مذمت‘ کرتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے کے جواب میں ایرانی فورسز نے اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کے تحت کارروائی کی۔ تہران کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکا نے ایران کے جزیرہ لارک پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کی۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسے اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات کا حق حاصل ہے۔ تہران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے حملوں کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کرتا رہے گا۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے خطرے کو روکنا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنا تھا۔
تازہ واقعات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر اہم ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں اپنی جوابی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
امریکا نے آبنائے ہرمز پر حملے کو ’جارحیت‘ قرار دینے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا

واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کے خلاف کارروائی کو ’جارحیت‘ قرار دینے کے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بالکل غلط قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کے خلاف محدود اور درست کارروائی کی۔
سینٹکام کے مطابق ایرانی فورسز کی سرگرمی آبنائے ہرمز میں موجود شہری بحری جہازوں اور عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے فوری خطرہ بن رہی تھی، اس لیے امریکی فوج نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی۔
امریکی کمانڈ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے اس دعوے کو بالکل غلط قرار دیا کہ امریکی کارروائی ایک جارحانہ اقدام تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی کارروائی کا مقصد شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کی آزادانہ آمدورفت کا تحفظ تھا۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کسی بھی کوشش سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ خطرہ ایرانی فورسز کی جانب سے پیدا کیا گیا تھا اور امریکی فوج نے کارروائی کرکے اس خطرے کو ختم کیا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔
🚫CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026
✅FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto
دوسری جانب ایران مسلسل آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے اور امریکی فوجی اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان متضاد بیانات کے باعث اس اہم سمندری راستے کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکی اور ایرانی مؤقف میں یہ تازہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ صورتحال میں مزید بگاڑ کی صورت میں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ایران جنگ نے امریکا کو تھکا دیا؟ اعلیٰ فوجی قیادت نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا انتباہ دے دیا

واشنگٹن: امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت نے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری بڑے فوجی آپریشن کو مزید طویل کرنے سے امریکی فوج کی مجموعی جنگی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ انتباہ ایک خفیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے اعلیٰ حکام سمیت مختلف خطوں میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے فور اسٹار کمانڈرز نے جنگ کی طویل تعیناتی پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خدشات 14 اگست کو جاری ہونے والی خفیہ سیکرٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک میں بھی ظاہر کیے گئے۔ یہ دستاویز امریکی فوجی وسائل، جنگی جہازوں، طیاروں، اہلکاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی دستیابی اور تعیناتی سے متعلق اہم معلومات پر مشتمل ہوتی ہے۔
خفیہ دستاویز میں مشرق وسطیٰ میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو ستمبر تک جبکہ کچھ اہلکاروں کو 2027 تک خطے میں موجود رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ فوجی قیادت کو خدشہ ہے کہ اتنی طویل تعیناتی سے دنیا کے دوسرے خطوں میں امریکی فوج کی معمول کی سرگرمیاں اور دفاعی تیاری متاثر ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی کمانڈ، پیسیفک کمانڈ اور سدرن کمانڈ کے سربراہان سمیت امریکی بحریہ کے ایک سینئر ایڈمرل نے فوجیوں کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے پر تکنیکی طور پر ’’عدم اتفاق‘‘ ظاہر کیا ہے۔ تاہم فوجی نظام کے تحت وہ سیکرٹری دفاع کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔
علاقائی کمانڈرز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایران جنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کے بحری جہاز، طیارے اور دیگر جنگی وسائل مختلف علاقوں سے مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔ اس کے باعث معمول کے فوجی مشنز، تربیتی سرگرمیوں اور دیگر دفاعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت محدود ہورہی ہے۔
خاص طور پر امریکی بحریہ پر جنگ کے باعث شدید دباؤ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ طویل عرصے تک جنگی تعیناتی سے نہ صرف فوجی اہلکاروں پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ جہازوں، طیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی دیکھ بھال اور دوبارہ تیاری کے لیے بھی اضافی وقت درکار ہوتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق آرمی اور ایئر فورس کی قیادت نے تعیناتی میں توسیع کے فیصلے سے اصولی طور پر اتفاق کیا، تاہم انہوں نے بھی خبردار کیا کہ طویل مدت تک فورسز کو ایک ہی تنازع میں مصروف رکھنے سے امریکی عسکری صلاحیت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
امریکی عسکری قیادت کے مجموعی مؤقف کے مطابق تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران جنگ اب طویل اور وسائل پر بھاری پڑنے والی جنگ بن چکی ہے۔ اس صورتحال میں امریکا کے لیے ایک ہی وقت میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور دنیا کے دیگر خطوں میں اپنے دفاعی مفادات کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے بھی ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے، جو ایران جنگ کو اپنے لیے سازگار شرائط پر ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری جانب ایران بھی امریکی فوجی دباؤ، عوامی ردعمل اور جنگ کے نتیجے میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کو اہم عوامل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
امریکا ایران میں پھر ٹکراؤ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی

لندن: امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے لارک پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے دوران عالمی توانائی کی منڈی ایک بار پھر شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے کے بعد 89.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 92 سینٹ یا 1.10 فیصد اضافے کے بعد 84.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کتنے عرصے تک برقرار رہے گی، اس بارے میں حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے اور کشیدگی چند دن یا کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکا نے حالیہ کارروائی میں ایران کے جزیرے لارک کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایرانی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کارروائی کو روکنا تھا، جبکہ امریکی حکام نے جزیرے پر دو راکٹ لانچرز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی اہلکار اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں ایران نے لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فورسز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اردن نے بھی اپنی فضائی حدود میں آنے والے متعدد میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔
بیرونی طاقتوں پر منحصر سیکیورٹی انتہائی کمزور ہوتی ہے، قالیباف کا خطے کے ممالک کو پیغام

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے کے ممالک کو زور دیتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا نتیجہ اپنے دشمنوں کی شکست کی صورت میں سامنے آیا ہے اور علاقے کی سیکیورٹی کا انحصار بیرونی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت پر ہو تو وہ انتہائی کمزور ہوتی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مختلف نسلی اور مذہبی گروپس کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی سرزمین ہے اور سنی-شیعہ اتحاد محض ایک علامتی نعرہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایران میں سنی-شیعہ اتحاد محض ایک رسمی نعرہ نہیں بلکہ قومی طاقت کی بنیاد میں سے ایک اور ملک کی سلامتی و ترقی کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔
باقر قالیباف نے اپنے پیغام میں کہا کہ دشمن کی جانب سے مسلط کی گئی پہلی، دوسری اور تیسری جنگ کے دوران مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے درمیان یک جہتی کا مظاہرہ کیا گیا اور تمام برادریاں ایران کے لیے بیرونی دشمنوں کے خلاف متحد رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو اس وقت ایک تاریخی موڈ کا سامنا ہے، حالیہ برسوں کے دوران خطے میں ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلماں اقوام اور حکومتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ بیرونی طاقتیں اور اسلام کے دشمن نہ تو خطے کو پائیدار سیکیورٹی فراہم کرسکتے ہیں اور نہ ہی حقیقی معنوں میں ایسی سیکیورٹی قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے باہر کی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت کی بنیاد پر قائم ہونے والی سیکیورٹی کمزور اور دوسروں پر منحصر ہوتی ہے تاہم مسلم اقوام کی مرضی اور خطے کے ممالک کے درمیان برادرانہ تعاون کی بنیاد پر تشکیل پانے والی سیکیورٹی مستحکم، باوقار اور پائیدار ہوسکتی ہے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اس بیداری کے آثار نئے علاقائی اتحاد، تعاون اور انتظامات کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں، نئے علاقائی اتحاد اور انتظامات ایک ایسے نئے دور کے آغاز کی نوید دے سکتے ہیں، جس میں مسلم ہمسایہ ممالک بیرونی طاقتوں کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کریں اور تھکا دینے والی باہمی دشمنیوں کے بجائے تعاون اور بھائی چارے کا راستہ اختیار کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خاص طور پر حالیہ پیش رفت کے تناظر میں مسلم اتحاد کا نتیجہ دشمن کو شکست کا مزہ چکھانے اور طاقت وروں کے مؤقف اور عزائم کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بھرپور کامیابیاں کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
باقر قالیباف نے امید ظاہر کی کہ مسلم دنیا اپنی مشترکہ شناخت کی جانب مزید مضبوطی کے ساتھ واپس آئے گی اور مسلم اقوام کے درمیان بھائی چارے کے پہلے سے زیادہ مضبوط رشتے قائم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ خطہ اسلامی اتحاد، خودمختاری، سلامتی اور وقار کے ایک نئے دور کی صبح دیکھے گا، جس میں مسلمان اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے اور کوئی بھی بیرونی طاقت ان کے درمیان اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔
ایرانی عوام کے اتحاد نے امریکا اسرائیل کے منصوبے ناکام بنادیے، حزب اللہ سربراہ کا بڑا دعویٰ

بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ایرانی عوام کے اتحاد اور مختلف طبقات کی مضبوط مزاحمت کے باعث اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
پریس ٹی وی کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے ہفتہ وحدت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایران کے عوامی اتحاد اور ثابت قدمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مزاحمت اور ثابت قدمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
حزب اللہ سربراہ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف تین جنگی مراحل میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔ ان کے مطابق ایرانی قوم کے اتحاد اور مزاحمت نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں جون 2025 اور فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے جولائی میں ایران پر ہونے والے امریکی حملوں کو بھی اس سلسلے کا ایک حصہ قرار دیا۔
حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب تک لوگ اپنے حقوق، وطن اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہتے ہیں، دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ مشکلات، قربانیوں اور جانی نقصانات کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے سے دشمن کی منصوبہ بندی اور عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات کی مزاحمت اور یکجہتی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے باوجود عوامی اتحاد برقرار رہا۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے اثرات اب بھی خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نمایاں ہیں۔ حزب اللہ کی جانب سے ایران کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور امریکا و اسرائیل کی کارروائیوں پر تنقید سے خطے میں جاری سیاسی اور فوجی کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔
ایرانی تیل خریدنے پر چین کے خلاف ایکشن؟ امریکا نے بڑا قدم فی الحال روک لیا

واشنگٹن: امریکا ایرانی خام تیل خریدنے والے چینی خریداروں اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے سے فی الحال گریز کرنا چاہتا ہے۔
سابق امریکی قومی سلامتی عہدیدار مارک فائفلے کا کہنا ہے کہ واشنگٹن امید کررہا ہے کہ اسے چین کے خلاف ثانوی پابندیوں کا راستہ اختیار نہ کرنا پڑے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارک فائفلے نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور محکمہ خزانہ ممکنہ پابندیوں کو فی الحال ایک ایسے آپشن کے طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں جسے ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے۔
ان کے مطابق چین اور امریکا کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں، اس لیے بیجنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر اقتصادی اقدامات کرنا سفارتی طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔
فائفلے نے کہا کہ واشنگٹن کی موجودہ کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ چین کو ایرانی تیل خریدنے کے بجائے دیگر ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
سابق امریکی عہدیدار کے مطابق چینی ریفائنریاں پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی خام تیل کو نسبتاً کم قیمت پر خریدتی رہی ہیں۔ ان کے بقول اس رعایتی تیل سے چینی ریفائنریوں کو عالمی سطح پر اپنے حریفوں کے مقابلے میں معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
مارک فائفلے نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کے معاملے میں امریکا کی مدد کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی اور ممکنہ طور پر تہران کو خاموشی سے تعاون بھی فراہم کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین طویل المدتی حکمت عملی پر عمل کررہا ہے اور اسے اس بات پر اعتراض نہیں کہ امریکا ایران جنگ جیسے ایک اور بین الاقوامی تنازع میں طویل عرصے تک مصروف رہے۔
امریکا کی جانب سے چین پر ثانوی پابندیاں عائد کیے جانے کی صورت میں دونوں بڑی عالمی معیشتوں کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی اور سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایرانی تیل کی خریداری کا معاملہ اس وقت خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے جب واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا چینی کمپنیوں یا مالیاتی اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل کی تجارت اور امریکا چین تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
امریکا کا ایران کے لارک جزیرے پر حملہ، 2 راکٹ لانچرز تباہ

امریکی فورسز نے ایران کے لارک جزیرے پر پاسدارانِ انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو کئی ہفتوں بعد ایران میں امریکا کی پہلی معلوم فضائی کارروائی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں پہنچانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے اسی دوران امریکی فورسز نے کارروائی کی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکا کو جوابی کارروائی اور سزا کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملہ ڈرونز کے ذریعے کیا گیا جس میں 2 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
لارک جزیرہ ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں واقع ہے جو عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے دعویٰ کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی تمام بحری بارودی سرنگیں تباہ یا ہٹا دی گئی ہیں جبکہ ایران نے اس دعوے کو محض پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
امریکا کے لارک آئی لینڈ حملے کا بدلہ، ایران نے اردن میں 2 امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے

تہران: ایران نے امریکا کی جانب سے لارک آئی لینڈ پر حملے کے بعد اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حالیہ ہفتوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی جھڑپوں کی نئی کڑی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ’جارح کو سزا‘ کے نام سے کی جانے والی کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات، تکنیکی اور مرمتی ڈھانچے اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نقصان پہنچا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا۔ اردنی حکام کے مطابق حملوں میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکا کی جانب سے جنوبی ایران کے لارک آئی لینڈ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
امریکی فوج نے تاہم لارک آئی لینڈ پر کارروائی کو جارحیت قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے محدود اور درست کارروائی کی۔
🚫CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026
✅FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی میں لارک آئی لینڈ پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی بحری آمدورفت کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیش نظر کی گئی۔
تازہ حملوں سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایران مسلسل آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور اس کی بندش کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ میں بحری آمدورفت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ فوجی کارروائیوں سے خطے میں مزید کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں نے امریکا کو مشکل میں ڈال دیا، برطانوی اخبار

ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ جاری رہنے والی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری واضح کردی ہے۔
اخبار کے مطابق امریکا گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے خلیجی ممالک میں پھیلے بڑے فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے تاہم حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکی تنصیبات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے یہ حقیقت نمایاں کردی کہ ایرانی ساحلوں کے قریب موجود بڑے امریکی اڈے جدید میزائل اور ڈرون خطرات کے مقابلے میں کس حد تک غیر محفوظ ہیں۔
ایرانی حملوں کے دباؤ کے باعث امریکا نے اپنی کچھ افواج اور جنگی طیاروں کو اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتاً محفوظ اور دور دراز مقامات پر منتقل کیا جبکہ بعض امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی کارروائیاں کیں۔
اب واشنگٹن کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا خطے میں متاثرہ فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔
تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی مجموعی لاگت کے تخمینے میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے باوجود ایران بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو اسی حساب سے ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔
اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق ایران مستقبل میں ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے جو اردن اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی و اتحادی اہداف تک پہنچ سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی فوجی تیاری کا رخ تبدیل کرے گا تاہم امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم تیل کے بدلے سکیورٹی کا انتظام بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال میں بعض خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی طاقتوں سے بھی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ نے خطے کے امریکی اتحادیوں کے سامنے بھی ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ بحران کی صورت میں واشنگٹن کی جانب سے ان کے دفاع کا عزم آخر کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔
ایران کا جنوبی صوبہ فارس میں گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت کا اعلان

ایران نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی صوبہ فارس میں گیس کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 5.7 ٹریلین مکعب فٹ ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزیر پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں بتایا کہ جنوبی صوبے فارس میں دریافت ہونے والے نئے ذخائر میں مجموعی طور پر7.5 ٹریلین مکعب فٹ سے زائد گیس موجود ہے اور اس میں سے قابل بازیافت گیس کی مقدار جنوبی پارس گیس فیلڈ کے پہلے مرحلے میں تقریباً 15 سال کی پیداوار کے برابر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ذخائر دریافت ہونے والی گیس فیلڈ تخت اے میں اسویٹ نیچرل گیس موجود ہے، جس میں سلفر مرکبات کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے اور توقع ہےکہ اس فیلڈ کی ترقی اور آپریشن کے اخراجات کم ہوں گے۔
محسن پاک نژاد نے کہا کہ اس دریافت میں گیس کنڈینسیٹ کی بھی بڑی مقدار شامل ہے جو ایک قیمتی ہائیڈرو کاربن مائع ہے اور قدرتی گیس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔
ایرانی وزیر پیٹرولیم کے مطابق گیس اور گیس کنڈینسیٹ کے ذخائر کی مالیت سیکڑوں ارب ڈالر ہے اور ان دونوں وسائل کے مجموعی ذخائر ملک کے لیے دولت کا ایک نیا ذریعہ ثابت ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس گیس فیلڈ کی ترقی کے لیے جتنی جلد ممکن ہو کام آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نئے ذخائر سے گیس کی پیداوار شروع کی جا سکے، جس کے بعد یہاں سے صنعتی صارفین اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والے شعبوں کو فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی صوبے میں ذخائر کی دریافت ایران کو قدرتی گیس کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کر سکتی ہے، ایسے وقت میں جب ملک مقامی پیداوار میں اضافے اور صنعت اور توانائی کے شعبے کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کا 2018 جب امریکا نے توانائی کے شعبے پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کیں تو اپنے تیل اور گیس کے ذخائر کی توسیع کے لیے مقامی سرمایہ کاری اور ملکی ماہرین پر انحصار ہے۔
ٹرمپ کا ایران پر معاشی پابندیوں کا اعلان جنگ میں شکست کا اعتراف ہے، پاسداران انقلاب

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیوں کا اعلان جنگ کے میدان میں فوجی شکست کا اعتراف ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کہتے ہیں کہ انہوں نے اقتصادی جنگ کا حکم دیا ہے اور ایران پر سخت ترین اقتصادی مہم شروع کی ہے جو دشمن کی فوجی میدان میں ذلت آمیز شکست کا بالواسطہ اعتراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا فوجی محاذ پر کامیاب ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی لیکن ایران کے خلاف اس طرح کا دباؤ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ دشمن گزشتہ47 برس سے اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور معیشت کے تمام بڑے شعبوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ہم بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کے لیے ہمارے پاس مختلف منصوبہ بندی موجود ہے، دشمن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں سے ایک اقتصادی اقدامات اور اقتصادی جنگ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی جنگ کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس منصوبے موجود ہیں اور ہم دیگر ممالک کے ساتھ باآسانی اقتصادی تعلقات قائم کر سکتے ہیں، اقتصادی صورت حال کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے، پابندیوں کے باوجود تہران دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کوششوں کے نتائج مستقبل قریب میں سامنے آجائیں گے۔
ترجمان پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے جون 2025 کی 40 روزہ جنگ اور فروری کے آخر میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران دشمن کو شدید نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لیں، 40 روزہ مسلط کردہ جنگ شروع ہونے سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دشمن کے کم از کم 30 سے 40 جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جبکہ دشمن اب خلیج فارس سے400 کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل تعینات کیے تھے تاہم بالآخر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی پابندیاں و ناکہ بندی ایران کا کچھ نہ بگاڑ سکی, تہران نے اربوں ڈالرز کمالیے

ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے باوجود ایران نے اربوں ڈالر کمائے ہیں.
محسن رضائی نے ایران کے نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو نظرانداز کرتے ہوئے لاکھوں بیرل تیل فروخت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک یا دو ماہ میں ہم نے 70 ملین بیرل تیل فروخت کیا۔ اب ہر روز ہم امریکی بحری جہازوں کو تیل بیچتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا کہ دوسرے ممالک کو ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ" میں شامل نہیں ہونا چاہئے.
انہوں نے کہا کہ یقینا ہم پہلے بات چیت کرتے ہیں . ہم ایک میٹنگ کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں جاؤ اور امریکہ سے اپنی صفیں الگ کرو. اگر وہ عمل نہیں کرتے تو ہم حملہ کریں گے۔ ہم دشمن ملک کے مفادات پر ضرب لگاتے ہیں۔
ایران میں امریکا اور اسرائیل کی مدد کے الزام میں شخص کو پھانسی دے دی گئی

تہران: ایران نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی مدد کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق مجید عدینہ نامی شخص کو مظاہروں کے دوران چین سا رکھنے اور حکومت مخالف سرگرمیوں میں مبینہ کردار پر گرفتار کیا گیا تھا۔
عدلیہ نے الزام عائد کیا کہ مجید عدینہ نے ملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران دشمن گروہوں کے حق میں عملی کارروائی کی۔ اس کے علاوہ اس پر جان بوجھ کر آتش زنی، ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف جرائم کی نیت سے اجتماع اور سازش کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق کیس میں موجود متعدد دستاویزات، شواہد اور ملزم کے بیانات کی بنیاد پر کرج کی انقلابی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے اس کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق مجید عدینہ کو امریکا اور اسرائیل سے منسلک مخالف گروہوں کے لیے کام کرنے کا بھی الزام تھا۔ تاہم خبر میں ان الزامات کے حوالے سے آزاد ذرائع یا ملزم کے وکیل کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے بعد حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں بھی احتجاجی مقدمات میں سزائے موت پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
ایران مکمل جنگ میں ہے، معیشت کے سنگین مسائل پر حکومت شرمندہ ہے: صدر پیزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کو درپیش موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذ پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
ٹیلی ویژن خطاب میں پیزشکیان نے کہا کہ ’ہم مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ میں ہیں‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کی معیشت میں موجود نمایاں مسائل پر حکومت کو شرمندگی ہے۔
ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ آسانی سے یہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران پر ’سب سے تباہ کن‘ یا ’بدترین‘ پابندیاں عائد کرے گا۔
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اس غیر مساوی جنگ کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے اور عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بیان میں معاشی مشکلات اور جنگ کے اثرات پر خاص توجہ دکھائی دی۔
حالیہ دنوں میں ایران پر امریکی معاشی دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور جنگ کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
دوسری جانب پیزشکیان نے حالیہ دنوں میں جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کرنا بہتر ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
چینی تعاون کے بغیر امریکا کیلئے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب ہونا مشکل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کے لیے بیجنگ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین نے 2025 میں ایران کے ساتھ تقریباً 41.2 ارب ڈالر کی تجارت کی، جبکہ اسی سال چین نے ایران سے تقریباً 31.2 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا۔ چینی خریدار ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا بعض اوقات تقریباً 90 فیصد تک حصہ لیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے تیل کے بڑے خریدار چین کی چھوٹی نجی ریفائنریاں ہیں، جنہیں عام طور پر "ٹی پاٹس" کہا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے نسبتاً کم منسلک ہونے کی وجہ سے روایتی امریکی پابندیوں سے زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے تاجروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے، لیکن اگر چین ایرانی تیل خریدتا اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو ایران کے پاس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ موجود رہے گا۔
دوسری جانب چین کے پاس بھی امریکا پر معاشی دباؤ ڈالنے کے ذرائع موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ امریکا کو درکار اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو متاثر کرسکتا ہے۔ چین نے گزشتہ سال امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے اپنے معاشی اثر و رسوخ کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔
تجزیے کے مطابق یہی صورتحال واشنگٹن کے لیے ایک مشکل پیدا کرتی ہے: امریکا ایران پر مزید پابندیاں عائد تو کرسکتا ہے، لیکن چین کے تعاون کے بغیر ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کرنا مشکل ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث امریکا نے بحرالکاہل سے بعض فوجی اثاثے منتقل کیے ہیں۔ چینی مبصرین ان اقدامات کو ایشیا میں امریکی فوجی پوزیشن کے لیے ممکنہ کمزوری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر نیویارک ٹائمز کے تجزیے کا کہنا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ چین واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرتا ہے یا تہران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔
ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر بڑا سائبر حملہ، 4 روز تک بند رہا

لندن: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت سے منسلک ہیکرز نے گزشتہ ماہ برطانیہ کے ایک پاور پلانٹ پر سائبر حملہ کیا، جس کے بعد یہ تنصیب تقریباً 4 روز تک بند رہی۔
رپورٹ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے قبل ایرانی ریاست سے وابستہ کسی ہیکنگ گروپ نے برطانیہ میں کسی پاور پلانٹ کو مکمل طور پر بند کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔
برطانوی سکیورٹی حکام نے متاثرہ پاور پلانٹ کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ پلانٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے عملے نے مسلسل کام کیا۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ تنصیب نسبتاً چھوٹی تھی اور اس کی بندش سے برطانیہ کے مجموعی بجلی پیداوار اور ترسیلی نظام پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔
ماہرین کے مطابق ممکنہ حملے کا مقصد برطانیہ کے حساس صنعتی نظاموں تک رسائی حاصل کرنے اور اہم تنصیبات کو عارضی طور پر بند کرنے کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہوسکتا ہے۔ اس واقعے کی آزادانہ تفصیلات اور حملہ آوروں کی شناخت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی اقدامات نے دنیا میں جوہری ہتھیار کی خواہش کو بڑھا دیا ہے، محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات نے دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو مزید بڑھا دیا ہے.
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات نے دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے نے بعض ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر کسی ملک کے پاس جوہری صلاحیت نہ ہو تو وہ بیرونی فوجی حملوں سے خود کو محفوظ رکھنے میں زیادہ کمزور ہوسکتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران کا جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں شامل ہونا بھی اسے امریکی حملے سے نہیں بچا سکا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے "جوہری سلامتی" کے بجائے "جوہری عدم تحفظ" پیدا کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے رجحان کو تقویت دے سکتی ہے۔
سعودیہ اور پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیل کے یہودی آبادکاری منصوبے کیخلاف احتجاج

سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور دیگر عرب و مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس علاقے ای ون میں اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں ای ون منصوبے کی مکمل مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل سے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا منصوبہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی علاقائی یکجہتی کو نقصان پہنچائے گا خصوصاً مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان رابطہ متاثر ہوگا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس منصوبے سے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان خطرے میں پڑ جائے گا۔
سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے کہا کہ اس نئی آبادکاری کا منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین اور اسرائیل کے لیے جامع امن کوششوں کو بھی براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے ظاہر کیے گئے عزم سے متصادم ہے۔
عرب اور مسلم ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی دیگر غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں اور فلسطینیوں و ان کی املاک کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی بھی مذمت کی۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جائیں جبکہ ان سرگرمیوں کی مالی معاونت یا دیگر طریقوں سے مدد کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
خیال رہے کہ ای ون علاقے میں اسرائیلی آبادکاری کے مجموعی منصوبے میں تقریباً 12 مربع کلومیٹر رقبے پر 3 ہزار 400 رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اسرائیل نے اس وسیع منصوبے کی منظوری گزشتہ سال دی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس وقت خبردار کیا تھا کہ ای ون میں آبادکاری کا منصوبہ ایک مربوط فلسطینی ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں 1,234 گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری ہونے پر یورپی ممالک، فلسطینی حکام اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزارت تعمیرات اور ہاؤسنگ نے رواں ہفتے ای ون علاقے میں 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا جس کے تحت 1,234 گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔
تمہاری امی خوش نہیں ہوں گی؛ ٹرمپ کا احتجاج کرنے والے نوجوان پر طنز؛ویڈیو وائرل

امریکی صدر کی انتخابی ریلی میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا تو سیکیورٹی اہلکار اسے باہر لے گئے لیکن ٹرمپ کے طنزیہ جملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر مرٹل بیچ میں ٹرمپ سینیٹ کی امیدوار ڈارلین گراہم کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
اسی دوران مجمع میں شامل ایک شخص نے کھڑے ہو کر صدر کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جس پر پولیس اور کنونشن سینٹر کے عملے نے فوری طور پر احتجاجی شخص کو پکڑ لیا اور اسے ہال سے باہر لے جانے کی کوشش کی۔
احتجاج کرنے والے شخص نے سیاہ رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر بچوں کے جنسی استحصال کے مرتکب افراد کے خلاف انتہائی سخت نعرہ درج تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر روک کر کچھ لمحوں کے لیے احتجاجی شخص کی جانب دیکھا بھی تھا مگر انھوں نے عملے کو روکنے کے بجائے احتجاج کرنے والے شخص پر پھبتی کسی۔
صدر ٹرمپ نے مائیک پر کہا کہ کوئی بات نہیں، وہ اپنی ماں کے پاس گھر جا رہا ہے۔ پھر انھوں نے مزید کہا کہ ان کی ماں ڈانٹیں گی کیونکہ وہ ہمیں ووٹ دے رہی ہیں۔
ایران نے عراق کے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیدی

ایران نے عراق کی مسلسل سفارتی درخواستوں کے بعد متعدد عراقی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خصوصی اجازت دے دی ہے.
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقی تیل بردار جہازوں کو خصوصی اجازت دینے کا معاملہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورۂ عراق کے دوران بغداد کی اہم درخواستوں میں شامل تھا۔
عراقی صدر نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے حالیہ دنوں میں عراقی تیل لے جانے والے بعض بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں سہولت فراہم کی جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔ بحری ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جبکہ علاقے میں بحری جہازوں کو حملوں کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عراق ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جنگ سے قبل عراق تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کرتا تھا تاہم آبی گزرگاہ کے بند ہونے کے بعد برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
اسرائیل قابض ہے، گولان کی پہاڑیاں شام کی سرزمین ہیں؛ امریکی سفیر

امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بارک نے کہا ہے کہ اسرائیل کا شام کی گولان کی پہاڑیوں پر کنٹرول قبضہ ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی نظام کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
قطری خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹام بارک نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کی ملکیت ہیں۔
امریکی ایلچی نے کہا کہ اسرائیل اب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے گولان پر قابض ہے، جبکہ عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ گولان شام کا حصہ ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کیا ہے؟
گولان کی پہاڑیوں سے متعلق 1981 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اہم قرارداد نمبر 497 منظور ہوئی تھی جس میں اسرائیل کی جانب سے گولان پر اپنے قوانین، عدالتی اختیار اور انتظامی نظام نافذ کرنے کے فیصلے کو ’’باطل اور کالعدم‘‘ قرار دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں شام کلی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور اپنی ملکیت کا متنازع اعلان کیا تھا اور 1981 میں اپنا قانون اور انتظامی نظام بھی نافذ کر دیا۔
تاحال اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی اکثریت نے اسرائیل کی گولان کی پہاڑیوں پر ملکیت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
رواں سال اپریل میں شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں گولان کی پہاڑیوں کو بدستور مقبوضہ شامی علاقہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔
انھوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 497 پر عمل درآمد اور اسرائیلی افواج کی 4 جون 1967 کی جنگ سے قبل والی حد تک واپسی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ٹرمپ کی ویزا پالیسی منسوخ؛ امریکی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کو بڑا ریلیف دیدیا

امریکی عدالت نے ٹرمپ کی 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی معطل کرنے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیویارک کی ڈسٹرکٹ جج نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے نافذ کی گئی یہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو حاصل قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔
امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جنوری میں نافذ ہونے والی ویزا پالیسی وفاقی امیگریشن قانون سے متصادم تھی اس لیے اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
جج نے قرار دیا کہ محض انتظامی فیصلے کے ذریعے امیگرنٹ ویزا کارروائی کو اس وسیع پیمانے پر روکنے کے لیے قانونی اختیار موجود نہیں تھا اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی وفاقی امیگریشن قوانین کے دائرہ کار سے باہر چلی گئی تھی۔
امریکی عدالتی کے اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی امیگرنٹ ویزا کارروائی پر عائد وسیع پابندی ختم ہوگئی۔
تاحال صدر ٹرمپ یا امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تاہم امریکی صدر اپنے ایگزیکیٹیو آرڈر کو تنسیخ کے عدالتی فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔
پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل تھا
امریکی عدالت کے فیصلے سے متاثر ہونے والی پالیسی میں پاکستان سمیت 75 ممالک شامل تھے۔ فہرست میں بنگلا دیش، ایران اور روس کے شہری بھی شامل تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں ان ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی کارروائی روک دی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف تھا کہ ان ممالک سے آنے والے بعض تارکین وطن مستقبل میں امریکا میں عوامی بوجھ بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کے خلاف تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے نتیجے میں نیویارک کی ڈسٹرکٹ عدالت نے معاملے کی سماعت کی۔
غزہ سے اُڑ کر آنے والی 4 پتنگوں نے اسرائیلی فوج کی دوڑیں لگوادیں؛ دلچسپ ویڈیو وائرل

غزہ سے اڑائی جانے والی چار پتنگیں اسرائیلی سرحدی علاقے نہال عوز میں جا اتریں جس پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسرائیلی فوج کو طلب کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان پتنگوں کو جاسوس یا پھر دہشت گردی میں استعمال ہونے کے ڈر سے جانچ پڑتال کے لیے تحویل میں لیا گیا۔
فوج نے چاروں پتنگوں کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ ان پر کوئی مشتبہ مواد یا چیز موجود نہیں تھی۔ اس سے کسی بھی مرحلے پر عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
اس واقعے نے اسرائیل میں ماضی کی یادیں ضرور تازہ کر دیں جب 2018 میں فلسطینی مظاہرین نے سرحدی علاقوں کی جانب آتش گیر مواد والی پتنگیں اور غبارے بھیجے تھے۔
ان پتنگوں اور غباروں نے اسرائیلی سرحدی علاقوں میں اتر کر بڑے پیمانے پر آگ لگا دی تھی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
מתגברים העפיפונים מעזה. 3 נמצאו בעוטף בפחות מיממה, סה"כ כשמונה עפיפונים בכמה שבועות pic.twitter.com/JKaIWJCz4W
— אסף פוזיילוב (@pozailov1) August 22, 2026
جس کے بعد اسرائیلی فوج سرحدی علاقوں میں کافی محتاط ہوگئی تھی اور غزہ سے اُڑ کر آنے والے پرندوں تک پر نظر رکھی جا رہی تھی۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو بھی حماس کے جانبازوں نے پیراشوٹ کے ذریعے سرحد عبور کر اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس ناقابل یقین طریقہ جنگ کے بارے میں صیہونی ریاست زرا بھی اندازہ نہیں لگا پائی تھی۔
ایرانی فوج کا عسکری پالیسی کو دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل کرنے کا اعلان

ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا عسکری نظریہ حالیہ جنگوں کیوجہ سے اب دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل ہو رہا ہے۔
بریگیڈیئر ایرانی فوج کے ترجمان جنرل محمد اکرمنیہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ تبدیلی بتدریج 12 روزہ اور 40 دن کی جنگوں کے دوران ہوئی۔
اکرمنیہ نے کہا کہ ہمارے ملک کا فوجی نظریہ ماضی میں دفاعی تھا لیکن آہستہ آہستہ ان جنگوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ فوجی نظریہ ایک دفاعی انداز سے جارحانہ انداز کی طرف بڑھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی حملوں کے تیز اور وسیع ردعمل کے ساتھ ساتھ قبل از وقت کارروائیوں میں بھی جھلکتی ہے۔ اکرمنیہ نے کہا کہ اس کے ثبوت کے طور پر فوج نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ایرانی علاقے میں زمینی دراندازی کی صورت میں امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر انعامات کی پیشکش کی گئی ہے۔
ٹرمپ کی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو دھمکیاں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی سخت اقتصادی نتائج کی دھمکی دی ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کو معاشی سہارا فراہم کرے گا، اسے بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کی مطابق ٹرمپ کی دھمکی کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں مسلسل چھٹے روز بڑھیں، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ میں 6 فیصد سے زیادہ اور امریکی خام تیل میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
اس کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ نئی امریکی پابندیاں ایران کی تیل برآمدات کو مزید محدود کر سکتی ہیں۔ ایران پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں چین سب سے نمایاں ہے۔ رائٹرز کے مطابق چین نے 2025 میں ایران سے تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا تھا، اس لیے نئی امریکی پابندیاں بیجنگ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
ترکی، عراق، عمان، پاکستان اور بھارت بھی ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کی مکمل تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے انہیں ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیوں میں شمار کیا ہے۔
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرسکتا ہے، امریکی سینیٹر

امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور جاری کشیدگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان امریکی سینیٹر کوری بوکر کی جانب سے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر چکا ہے۔
پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں سے سفارتی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
رواں سال پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے علاقائی سطح پر مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھی ہے، خصوصاً سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ نئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں۔
حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں بعض حلقے پاکستان کو صرف ایک سکیورٹی پارٹنر نہیں بلکہ علاقائی ثالث اور امن کے لیے ممکنہ سفارتی پل کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
ایران صحیح معاہدے کے لیے تیار نہیں، آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے؛ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اختلافات کے باوجود امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران ابھی صحیح معاہدے کے لیے تیار نہیں۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز سے جنوبی کیرولائنا کے شہر مرٹل بیچ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس پیسہ، بحریہ اور فضائیہ نہیں جبکہ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر رہا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں افراطِ زر 350 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے جس میں آبنائے ہرمز اور اس سے متصل زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔
ترکیہ نے نیتن یاہو کی گرفتاری کیلیے انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کردی

ترکیہ نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے پر قبضہ اور رضاکاروں کی گرفتاری کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ایک اسرائیلی عہدیدار افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کردی۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیرِ انصاف اکین گورلیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ استنبول کی 11ویں ہائی کریمنل کورٹ نے 14 جولائی کو نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزارتِ داخلہ سے ان دونوں افراد کی بین الاقوامی سطح پر تلاش کا عمل شروع کرنے کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکا۔
اگر انٹرپول ترکیہ کی درخواست کو اپنے ضوابط کے مطابق منظور کرتا ہے تو ریڈ نوٹس عالمی سطح پر نیتن یاہو کی نقل و حرکت اور بعض ممالک کے ساتھ ان کے ممکنہ سفری معاملات کو قانونی پیچیدگیوں سے دوچار کرسکتا ہے۔
ترک حکام نے بتایا کہ یہ مقدمہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے گلوبل فریڈم فلوٹیلا کے خلاف بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی مبینہ مسلح کارروائی اور گرفتاری سے متعلق ہے۔ مقدمے میں مجموعی طور پر 35 افراد نامزد ہیں۔
ترکیہ کا مؤقف رہا ہے کہ امدادی مشن میں شامل شہریوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا، ان کے خلاف طاقت استعمال کی گئی اور انہیں حراست میں لیا گیا۔
ترک استغاثہ نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حکام کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سنگین الزامات
ترک عدالت میں نیتن یاہو اور دیگر ملزمان کے خلاف جن الزامات پر کارروائی کی جارہی ہے ان میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سمیت متعدد سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ انصاف نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں ہونے والے جرائم کو نظرانداز نہیں ہونے دے گا اور ذمہ دار افراد کو استثنیٰ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انٹرپول ریڈ نوٹس کیا ہوتا ہے؟
انٹرپول کا کوئی بھی رکن ملک کسی بھی مطلوب فرد کا سراغ لگانے اور عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست کرسکتا ہے تاہم حتمی طور پر گرفتاری کا فیصلہ متعلقہ ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 14 جولائی کو استنبول کی عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست دینے کا عبوری فیصلہ کیا تھا۔ عدالت کا مقصد نیتن یاہو کو مقدمے کی کارروائی کے لیے عدالت کے سامنے لانا تھا۔
گلوبل فلوٹیلا کیا تھا؟
گلوبل سومود فلوٹیلا ایک بین الاقوامی شہری اور انسانی امدادی مہم ہے جس میں مختلف ملکوں کے کارکن، طبی ماہرین اور رضاکار غزہ تک سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
مئی 2026 میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب جانے والے فلوٹیلا کے 54 بحری جہازوں اور 39 ممالک کے 426 شرکا کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے سے روک دیا تھا۔
اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ وہ غزہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دے گا جبکہ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انسانی امداد پہنچانا اور غزہ کی صورت حال کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔
امریکا سے جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کا وقت آگیا؛ ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ اب امریکا کے ساتھ جاری جنگ کو پھرپور طاقت اور وقار کے ساتھ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے یہ بات ڈاکٹروں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہی۔
ایرانی صدر کے بقول امریکا کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے کا مناسب وقت آگیا ہے کیونکہ ایران اس وقت پوری طاقت اور شاندار وقار کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے اور امریکا پر ایران میں اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر نے جون میں امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں ایران کی جانب سے کسی قسم کی دستبرداری یا ہتھیار ڈالنے کی شرط شامل نہیں تھی۔
واضح رہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت 60 روز کے اندر وسیع تر معاہدے کی بنیاد بننے والی تھی تاہم دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے اور یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ معاہدہ 17 اگست کو مؤثر طور پر ختم ہوگیا۔
دھمکیاں پُرانی، چہرے نئے لیکن ناکامی مقدر؛ ایران کا ٹرمپ پر طنزیہ وار

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کا دلچسپ انداز میں جواب دیتے ہوئے امریکا کی پرانی پالیسیوں کو ناکام قرار دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا تھا کہ ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا اور چین سمیت دیگر ممالک کو امریکا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
جس پر ایرانی وزیر خارجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں یاد دلایا کہ 2012 میں بھی امریکا نے ایران کے خلاف پابندیوں کو تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں قرار دیا تھا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کے سامنے طنزیہ انداز میں صرف ایک لفظ ’’ناکام‘‘ لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے آٹھ سال قبل شروع کی گئی امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کا حوالہ دیا اور اسے بھی ناکام قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تقریباً پانچ ماہ قبل امریکا کی جانب سے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا اور وہ ناکام ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب امریکا نے ایک اور تازہ دھمکی دی ہے یعنی وہی بکواس، بس دھمکانے والے نئے ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی حکمت عملی میں الفاظ اور چہرے تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کی کوشش نئی نہیں۔
برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے اسرائیلی فوج کے متنازع فیصلے کو شرمناک قرار دیدیا

غزہ میں ورلڈ سینٹرل کیچن کے 7 امدادی کارکنوں کی شہادت پر اسرائیل کی جانب سے فوجداری تحقیقات آگے نہ بڑھانے کے فیصلے پر برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ دو سال سے زائد عرصے سے اسرائیل پر اس واقعے کی فوری اور مکمل تحقیقات پر زور دیتے آئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے ہمارا یہ مطالبہ بھی رہا ہے کہ اسرائیل تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داروں کو جلد از جلد احتساب کو یقینی بنایا جائے تاہم اسرائیلی فوج کا تحقیقات ختم کرنے کا اعلان انتہائی مایوس کن اور قابلِ مذمت ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کا عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کرنا مزید افسوسناک عمل ہے۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ یکم اپریل 2024 کو پیش آیا تھا جب اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے میں ورلڈ سینٹرل کیچن کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 3 برطانوی، ایک امریکی نژاد کینیڈین، ایک پولش، ایک آسٹریلوی اور ایک فلسطینی شامل تھے۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ سینٹرل کیچن کی گاڑیوں کا ہمیں اندازہ نہیں ہوسکا اور فوجی افسران کو شُبہ تھا کہ گاڑیوں میں حماس کا ایک مسلح رکن موجود ہے تاہم یہ غلط ثابت ہوا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ورلڈ سینٹرل کیچن نے قافلے کی حفاظت اور لوٹ مار سے بچاؤ کے لیے ایک مسلح سیکیورٹی ٹیم رکھی تھی جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ہمیں اس کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ تحقیقات میں آپریشنل اور فیصلہ سازی کی خامیاں سامنے آئیں لیکن دستیاب شواہد اور اس وقت کے مجموعی حالات کو دیکھتے ہوئے کمانڈروں کے فیصلے فوجداری کارروائی کی حد تک نہیں پہنچتے اس لیے فوجداری تحقیقات آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ورلڈ سینٹرل کیچن کا شدید ردعمل
امریکی امدادی تنظیم ورلڈ سینٹرل کیچن نے بھی اسرائیلی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مکمل سچائی سے متصادم اور انتہائی توہین آمیز قرار دیا۔
تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے کیونکہ اس کے بقول اسرائیلی فوج اپنے ہی اقدامات کی قابلِ اعتماد تحقیقات نہیں کرسکتی۔
آسٹریلیا نے بھی اسرائیل کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کو جنگ زدہ علاقوں میں تحفظ فراہم کرنا عالمی انسانی قانون کا بنیادی تقاضا ہے اور ایسے واقعات میں مؤثر احتساب ضروری ہے۔
دشمن کے کسی بھی حملے کا جواب ’کچل دینے والا اور تباہ کن‘ ہوگا، سربراہ ایرانی افواج

تہران: ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے دشمن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی خطرے یا غلط اندازے کی صورت میں ایران انتہائی سخت جواب دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق علی عبداللہی نے ایران کے یومِ دفاعی صنعت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ دشمن کی جانب سے روایتی یا جدید نوعیت کے کسی بھی خطرے کا جواب ’کچل دینے والا اور تباہ کن‘ ہوگا۔
ایرانی عسکری سربراہ نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کے نتائج مخالفین کے لیے پشیمان کن ہوں گے۔
ایران پر معاشی پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، چین کا امریکا کو دوٹوک جواب

بیجنگ: چین نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور دباؤ کو مسئلے کا حل قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کے حل میں مدد نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو ذمہ دارانہ اقدامات کرتے ہوئے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تنازع حل کرنا چاہیے۔
چین کا یہ بیان امریکا کی جانب سے مختلف ممالک، بشمول چین، پر زور دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہوں۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید کم ہوگئی، صرف 7 جہاز گزر سکے

سنگاپور: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں مزید کمی ہوگئی ہے اور جمعرات کو صرف 7 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے۔
شپ ٹریکنگ کمپنی کلیپر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ایک روز قبل کے مقابلے میں نصف ہے۔ جمعرات کو 4 جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے جبکہ 3 جہاز باہر نکلے۔
رپورٹ کے مطابق ان جہازوں میں کوئی بڑا خام تیل بردار ٹینکر یا ایل این جی ٹینکر شامل نہیں تھا۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث خطے میں بحری جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
