امریکا اور اسرائیلی حملوں پر ایران کی جوابی کارروائیاں: خطے کی تازہ صورتحال
ایرانی سیاسی و عسکری قیادت کے بڑے نقصان کے بعد تہران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے جاری
فیصلہ کن جہادی اور حربی برتری حاصل ہے، چند روز میں دشمن بھاگ جائے ہوگا؛ ایران

ایران نے کہا ہے کہ وہ اب بھی پُرعزم ہیں اور فیصلہ کن برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جس کا اندازہ چند روز میں دشمن کو بھی ہوجائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی جہادی عزم، حربی صلاحیت اور اسلحہ جاتی طاقت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ مخالف فریق کو آئندہ چند دنوں میں تعطل اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزارت دفاع کے ترجمان سردار طلائی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عسکری صلاحیت اور دفاعی حکمت عملی اسے فیصلہ کن برتری فراہم کر رہی ہے۔ جس کے باعث آنے والے چند دنوں میں دشمن کو جنگ روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جارحانہ دفاعی حکمت عملی قومی اور اسلامی شناخت، تہذیبی پس منظر اور عوامی اتحاد پر مبنی ہے اور یہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع نے کہا کہ ملک کا دفاعی ڈھانچہ صرف کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں بلکہ ایک منظم اور ادارہ جاتی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایران کا سیاسی و عسکری نظام آئینی اداروں، مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب اور منتخب و غیر منتخب مراکزِ اقتدار کے باہمی توازن پر قائم ہے جس کی وجہ سے قیادت کے مارے جانے یا تبدیلی کے باوجود نظام کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھیں گے اور ملک کے سیاسی و عسکری نظام کے تسلسل میں کوئی خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔
ایران کے پاس نہ نیوی بچی نہ ایئر فورس اور نہ ہی ریڈار ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب نہ تو بحریہ، نہ فضائیہ اور نہ ہی ریڈار بچے ہیں بلکہ ان کے میزائل لانچرز بھی تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار امریکی صدر ٹرمپ نے اخبار پولیٹیکو کو انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اسلحے کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے دفاعی کمپنیوں کو ہنگامی حکم کے تحت ہتھیار بنانے کا حکم دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی حکومت کے زندہ بچ جانے والے کچھ رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نئے لوگ بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ ایرانی سپریم لیڈر کا عہدہ چاہتے ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ بہت اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت کے کسی فرد کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں کہا کہ ابھی دیر نہیں ہوئی۔ اس کا امکان موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات نہ بھولیں کہ 49 سینئر ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ ان کی نیوی، ایئر فورس اور ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے اسرائیل کو زبردستی ایران پر حملے کے لیے آگے کیا کیوں کہ میرے خیال میں وہ پاگل (ایران ) پہلے حملہ کرنے والے تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے عرب ممالک پر حملوں پر کہا کہ ایران اب اُن خلیجی ممالک پر بھی حملے کررہا ہے جو غیر جانبدار تھے۔ اب وہ تمام ممالک ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر ابہام؛ فرانس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے یورپ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ملک کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس، جرمنی اور نیٹو نے بھی ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنے اپنے مؤقف واضح کر دیے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑا اپنی خودمختار دفاعی پالیسی کے تحت جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔
خیال رہے کہ فرانس یورپی یونین کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ پورے یورپ کی سیکیورٹی پالیسی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحران کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب جرمنی نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کا اس تنازع میں عسکری شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور برلن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
نیٹو اتحاد نے بھی ایران سے متعلق کسی ممکنہ جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا ہے۔
اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اس وقت خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم کسی مشترکہ فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حزب اللہ کا اسرائیل پر ابتک کا سب سے بڑا میزائل حملہ؛ امریکی شہریوں کا انخلا تیز

حزب اللہ نے لبنان سے اب تک کا طویل فاصلے تک کے مار کرنے والے راکٹوں سے اسرائیلی دارالحکومت سمیت وسطی اور شمالی علاقوں پر حملہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے راکٹس آسمان پر اُڑتے جیسے ہی اسرائیل کے قریب پہنچے صیہونی ریاست میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور افراتفری مچ گئی۔
اسرائیلی شہری دیوانہ وار اپنی محفوظ پناہ گاہوں ’’زیر زمین بنکرز‘‘ کی جانب بھاگے اور اندر داخل ہوگئے تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں۔
یہ اب تک کا حزب اللہ کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل حملہ تھا جس میں ممکنہ طور پر بھاری نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی دارالحکومت میں پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے اور تازہ حملوں سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ایمبولینسوں اور ریسکیو اداروں کی ٹیموں کو دارالحکومت کے مختلف مقامات کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب امریکا نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل سے امریکی شہریوں کے انخلا کا کام مزید تیز کردیا گیا جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 500 امریکی شہریوں سے براہ راست رابطے میں ہے تاکہ انھیں بحفاظت واپس بلایا جاسکے۔
محکمہ خارجہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اب تک سیکڑوں امریکی شہری اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل 130 امریکی شہریوں کو اسرائیل سے نکالا جب کہ آج تقریباً ایک سو شہری روانہ ہونے والے ہیں۔
امریکی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدد کے لیے دیے گئے ہنگامی نمبر پر رابطہ کریں اور اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں رجسٹر ہوں تاکہ تازہ معلومات حاصل کر سکیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ روز خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود امریکیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
جس میں کہا گیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو کمرشل پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے کسی بھی محفوظ ملک کی جانب روانہ ہو جائیں اگرچہ خطے کی بیشتر فضائی حدود جزوی طور پر بند ہیں۔
عالمی عوامی امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈیلن جانسن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے فوجی طیاروں اور چارٹرڈ پروازوں کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق حکام بیرون ملک موجود تقریباً تین ہزار امریکیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
ایرانی میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ ٹرمپ کا حیران کن جواب

ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔
امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ رضا پہلوی 1971 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان دنوں امریکا و برطانیہ میں لابنگ میں بھی مصروف ہیں۔
قبل ازیں وہ ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت بھی کرچکے ہیں اور ایران میں اقتدار ملنے کی صورت میں بادشاہت کے بجائے جمہوری طرز ہر ملک چلانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
رضا پہلوی کی والدہ اور سابق شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی نے بھی آج میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کو جس جمہوری اور عدل پر مبنی نطام کی ضرورت ہے اس کے لیے ان کے بیٹے کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے ٹرمپ کے ایران پر حملوں کو رجیم چینج کا حربہ قرار دیتے ہوئے پہلے ہی اس آپریشن سے خود کو الگ کرلیا تھا اور دیگر یورپی ممالک کا بھی یہی موقف رہا ہے۔
آیت اللہ کے بیٹے اور ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں؟

ایران میں آیت اللہ کے جانشین کے طور پر سب سے مقبول و معروف شخصیت ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آگیا۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انھیں ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایران کے آئینی طریقہ کار کے تحت رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہوتا ہے اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر ہونا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔
سعودیہ اور قطر میں بم حملوں کی منصوبہ بندی؛ موساد کے ایجنٹس گرفتار

امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور نامور کالم نگار ٹکر کارلسن نے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے ایک ہولناک انکشاف کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹکر کارلسن نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے۔
جن پر ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے تاکہ ان خلیجی ممالک میں مزید بےچینی پھیلانے اور موجودہ کشیدگی کو وسیع کیا جاسکے۔
ٹکر کارلسن نے مزید کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ خلیجی ممالک جیسے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت کو بھی اپنے مقاصد کے لیے نشانہ بنا رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے۔
اب تک سعودی عرب، قطر یا اسرائیل کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اس حوالے سے مستند رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔
خامنہ ای کے بعد ایران میں حکومت کس کی ہوگی؟ شاہ ایران کی بیوہ کا بیان آگیا

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پہلے بار شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی کا بیان سامنے آگیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق شاہِ ایران رضا پہلوی کی اہلیہ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیا ہے۔
فرح پہلوی نے کہا کہ ایک شخص کی موت چاہے وہ طاقت کے ڈھانچے میں کتنے ہی اہم کیوں نہ ہو خودکار طور پر متحرک و سرگرم نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بن سکتی۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن اس کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے آمرانہ نظام کا خاتمہ خودبخود نہیں ہوجائے گا۔
فرح پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی عوام کی صلاحیت ہوگی کہ وہ پُرامن، منظم اور قانون کی حکمرانی پر مبنی نظام قائم کر سکیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی اس عبوری نظام کے منصوبے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے ذریعے ہوا تھا اور شاہی خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا تھا۔
فرح پہلوی اپنے شوہر اور خاندان کے ہمراہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران سے جلا وطن ہو کر تاحال پیرس میں مقیم ہیں۔
ان کے بیٹے رضا پہلوی چند ماہ سے امریکا اور برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہیں۔
ایران کے نئے وزیر دفاع تقرری کے 24 گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی حملے میں شہید؛ میڈیا رپورٹ

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں ایران کے قائم مقام وزیر دفاع ماجد ابن الرضا بھی شہید ہوگئے۔
یہ دعویٰ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے سوشل میڈیا پر رپورٹ کیا۔ چند بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس نے بھی سوشل میڈیا پر اس دعوے کو پھیلایا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے نئے وزیر دفاع بھی اپنی تعیناتی کے محض 24 گھنٹوں بعد اسرائیل کے ایک حملے میں مارے گئے۔
تاہم اس حوالے سے نہ تو اسرائیل اور نہ ہی ایران نے تصدیق یا تردید کی ہے۔ تاحال کسی مستند خبر رساں ادارے نے بھی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
یاد رہے کہ ایران کے صدر نے پیر کے روز ماجد ابن الرضا، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ایک جنرل ہیں کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔
BREAKING: IRAN’S NEW DEFENSE MINISTER WIPED OUT IN UNDER 24 HOURS! 🚨💥
— INDIA EYE NOW NEWS (@india_eye_now) March 3, 2026
General Majid al-Raza (aka Majid Ebnelreza / Seyed Majid Ibn al-Reza), just appointed yesterday as acting Defense Minister after US-Israel strikes killed his predecessor Aziz Nasirzadeh…
HAS BEEN ELIMINATED…
انہیں اس وقت تعینات کیا گیا جب ان کے پیشرو سابق وزیر دفاع ناصر زادہ اسرائیل امریکا کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
ایران پر ان لگاتار حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ابوظبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہید ہوا، عراق میں 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی موجود ہیں جبکہ وزٹ ویزے پر 1450 افراد آئے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، 300 کے قریب ایرانی شہری بھی پاکستان آئے ہیں، 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذر بائیجان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں، پاکستان سمیت متعدد مالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، خلیجی ممالک کے زمینی راستے کھلے ہیں، عمان اور سعودی عرب کے سوا تمام فضائی راستے بند ہیں زمین راستے تو کھلے میں مگر ان میں سفر کرنے میں وقت بہت صرف ہوتا ہے، پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذر بائیجان حکومت کے شکر گزار ہیں، باکو سے پروازیں آپریشن ہیں جہاں سے پاکستانیوں نے انخلا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے ایران نے سب سے کم حملے سعودیہ اور عمان میں کیے ہیں۔
قبل ازیں سینیٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، ہم اعلانیہ اور بیک ڈور سفارت کاری کے ذریعے ایران کے لیے بہت متحرک ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ 28 فروری کو پاکستان نے اس صورتحال پر پہلا ری ایکشن دیا، پھر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر آگئی، وزیر اعظم شہباز شریف نے اس افسوسناک خبر پر بیان جاری کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب جون میں حملہ ہوا تھا ایران پر ہم نے تب بھی معاملات سلجھانے کی کوشش کی تھی، ایران پر حالیہ حملے کے بعد پاکستان نے بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں کئی ممالک سے پاکستان رابطہ کر چکا ہے، کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طریقے ڈپلومیسی کو مذاکرات پر لایا جائے، ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا معاملہ نکل آئے گا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ اومان کے وزیر خارجہ سے رات گئے میری بات ہوئی، ایران ہمارا ہمسایہ ملک مسلمان بھائی ملک ہے، جو معلومات یہاں دے رہا ہوں یہ ہم نے میڈیا کو بھی نہیں دیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایران کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، ہم اعلانیہ اور بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے ایران کے لئے بہت متحرک ہیں، ہماری کوششوں سے ایرانی قیادت مکمل آگاہ اور شکر گزار بھی ہے۔
اسرائیل کا ایرانی صدر کے دفتر پر بڑا حملہ؛ متضاد اطلاعات

اسرائیلی فوج نے تہران میں واقع ایرانی صدر کے کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ کردیا ہے جہاں مرکزی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کیے جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے عمارتیں موجود ہیں۔
اس حملے کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فریقین نے تشدد میں اضافے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
تاحال اسرائیل کے صدارتی دفتر پر حملے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ میں شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد ایران میں حکومتی امور ایک کونسل کے ذمے ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک کام کرتی رہے گی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟

ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟
ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر "مجلسِ خبرگان" یعنی 'اسمبلی آف ایکسپرٹس' کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی 'مرجع' کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔
ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔
یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔
اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو کوریج؛ 2 ترک صحافی گرفتار؛ ویڈیو وائرل

اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو نشریات کرنے والے دو ترک صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی این این سے تعلق رکھنے والے دونوں صحافی ایران کے تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر علاقوں پر میزائل حملوں کے بعد کی صورتحال کی کوریج کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے بقول یہ دونوں صحافی تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ’’کریا ملٹری کمپلیکس‘‘ کے باہر کیمروں کے ساتھ بہت نزدیک موجود تھے۔
یہ صحافی امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ترک زبان کے چینل سے وابستہ تھے جن میں ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین شامل ہے۔
עיתונאים של CNN טורקיה נעצרו לאחר שצילמו את בסיס הקרייה@NoamIhmels pic.twitter.com/t8a5P9yXfw
— גלצ (@GLZRadio) March 3, 2026
اسی دوران ایران کے میزائل حملوں کے بعد اس علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور خلاف ورزی پر دونوں صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
لائیو نشریات کے دوران ہی دو فوجی اہلکار آئے اور رپورٹر کا موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ دو مشتبہ افراد کیمرے کے ساتھ ایک غیر ملکی میڈیا چینل کے لیے حقیقی وقت میں ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔
جب اہلکاروں نے ان سے شناخت طلب کی تو انہوں نے پریس کارڈ پیش کیے جو مبینہ طور پر معیاد ختم ہونے کے باعث قابلِ قبول نہیں تھے جس پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ترکیہ کے صدارتی محکمۂ مواصلات کے سربراہ نے گرفتاری کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ایران بعد کس کا نمبر ہوگا؟ امریکا نے بتا دیا

وینزویلا اور پھر ایران میں فوجی آپریشن کے بعد رجیم چینج کی پالیسی کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف بھی سامنے آگیا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے سینیٹر لینڈسے گراہم نے حالیہ جنگوں کے تناظر میں بتایا کہ صدر ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف بہت واضح ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکا سے متعلق بھی سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہے ہیں اور ان کا اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔
امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اب کمیونسٹ آمریت زدہ ممالک کے دن گنے جا چکے ہیں اور امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر آپشن استعمال کرے گا۔
کیوبا کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟
1. نظریاتی اختلاف اور کمیونسٹ نظام
کیوبا 1959 کے انقلاب کے بعد سے ایک سوشلسٹ ریاست ہے۔ امریکا اور کیوبا کے تعلقات سرد جنگ کے دور سے کشیدہ رہے ہیں۔
امریکا طویل عرصے سے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغنوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان 2015 میں تعلقات کی بحالی کی کوششیں کی گئیں تاہم بعد ازاں دوبارہ پابندیاں سخت کی گئیں۔
2. وینزویلا سے قریبی تعلقات
کیوبا کے وینزویلا کی نکولس مادورو حکومت سے قریبی تعلقات ہیں اور امریکا نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک کی عدالت میں پیش کرچکا ہے۔
امریکی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کیوبا لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی حکومتوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
3. روس اور چین سے روابط
امریکی حکام کئی بار یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ کیوبا کے روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
4. داخلی امریکی سیاست
فلوریڈا سمیت بعض ریاستوں میں کیوبا نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو کیوبا کی موجودہ حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ سخت مؤقف اپنانا بعض اوقات داخلی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی یا منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے یا پیغام رسانی کے لیے دیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب لاطینی امریکی ممالک اور بعض یورپی حلقوں نے خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بھی یکطرفہ کارروائیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ، سعودی عرب کا سخت ردعمل آگیا

ریاض: سعودی عرب نے ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کو ’غدارانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس میں کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود مملکت اپنی سرزمین اور سفارتی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
امریکا کو سبق سکھانے کا اعلان کرنے والے علی لاریجانی کون ہیں؟

تہران: ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی سکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما علی لاریجانی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
67 سالہ علی لاریجانی اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔ حالیہ امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران امریکا اور صہیونی حکومت کو ایسا سبق سکھائے گا جو یاد رکھا جائے گا۔
لاریجانی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا تجربہ کار اور نسبتاً عملی سوچ رکھنے والا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات کار بھی رہ چکے ہیں اور 2008 سے 2020 تک پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر رہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کی پارلیمانی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ان کا تعلق ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد ایک معروف عالمِ دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی عدلیہ اور دیگر اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
لاریجانی نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس میں انہوں نے جرمن فلسفی کانٹ پر مقالہ لکھا۔
انہوں نے 2005 میں صدارتی انتخاب لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے، بعد ازاں 2021 اور 2024 کے انتخابات میں انہیں گارڈین کونسل نے نااہل قرار دے دیا۔ تاہم اگست 2025 میں صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوبارہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا۔
مبصرین کے مطابق موجودہ بحران میں لاریجانی ایران کی جنگی اور سفارتی حکمت عملی کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں عبوری قیادت کے اہم ستونوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
امریکا کا پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ
واشنگٹن / تہران: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے چوتھے روز بھی جاری ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
امریکی فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق قریبی خطرات کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اس سے قبل سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران میں 1,250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور 11 ایرانی جہاز تباہ کیے۔
ادھر امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیوں میں اب تک چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تمام ہلاکتیں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کویت میں ہونے والے حملوں کے دوران ہوئیں۔
U.S. forces have destroyed Islamic Revolutionary Guard Corps command and control facilities, Iranian air defense capabilities, missile and drone launch sites, and military airfields during sustained operations. We will continue to take decisive action against imminent threats… pic.twitter.com/0aHEyVHf5e
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 3, 2026
ایران کی جانب سے خطے کے مختلف مقامات پر جوابی حملے جاری ہیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
شہریوں کی اسرائیل سے انخلا میں مدد نہیں کر سکتے، امریکی سفارتخانے کا اعلان

یروشلم: اسرائیل میں قائم امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ اس وقت انخلا میں براہِ راست مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
سفارتخانے کی جانب سے جاری سکیورٹی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ جو امریکی شہری اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں، انہیں اسرائیل کی وزارتِ سیاحت کی جانب سے چلائی جانے والی شٹل بسوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جو مسافروں کو مصر کے ساتھ واقع طابا بارڈر کراسنگ تک پہنچا رہی ہیں۔
سفارتخانے نے واضح کیا کہ اگر کوئی شہری اس آپشن کے ذریعے روانگی کا فیصلہ کرتا ہے تو امریکی حکومت اس کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ معلومات صرف سہولت کے طور پر فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ بسوں میں شامل ہونے کے لیے امریکی شہریوں کو وزارتِ سیاحت کے ’انخلائی فارم‘ کے ذریعے رجسٹریشن کروانا ہوگی۔
خطے میں بڑھتی سکیورٹی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں کو متبادل راستوں سے محفوظ انخلا کی ہدایات دے رہے ہیں۔
ضرورت پڑنے پر ایران میں اپنی فوج بھی اتار سکتے ہیں؛ ٹرمپ کی نئی دھمکی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی برّی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی صدور کی طرح قطعی اعلان نہیں کرتے کہ کسی بھی صورت میں برّی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر حال میں برّی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت ہوئی تو اسے خارج از امکان بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف سب سے بڑی شدت کے فضائی حملے ابھی نہیں کیے گئے۔ اصل بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے جو جلد آئے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اب تک کی بڑی لہر ہوگی جس میں بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں ایک اجلاس میں موجود تھے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت کے افراد بھی شامل تھے۔
ایران پر حملے کے مقاصد کیا تھے؟
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آپریشن کا مقصد انھیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا، ان کے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی تباہی اور ایرانی بحریہ کو نیست و نابود کرنا تھا۔
انھوں نے تمام اہداف کے حصول تک ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایران سے دنیا کو لاحق خطرات اور عالمی امن یقینی بنانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ ملک اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج ملک ان چار امریکی فوجیوں کے لیے سوگ منا رہا ہے جو ایران کے خلاف کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان فوجیوں کی یاد میں ہم اس مشن کو زبردست اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ابتدا میں چار سے پانچ ہفتوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ’اس سے کہیں زیادہ دیر تک جانے کی صلاحیت ہے۔
عرب ممالک کی شمولیت پر حیرت
امریکی صدر نے کہا کہ اس جنگ میں ایک بڑی غیر متوقع پیش رفت یہ رہی کہ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ممالک خود جنگ میں زیادہ سرگرم ہوگئے۔
ٹرمپ کے مطابق ابتدا میں ان عرب ممالک کا کردار محدود رہنے کا امکان تھا تاہم حملوں کے بعد وہ خود اس تنازع میں شامل ہونے پر اصرار کر رہے ہیں۔
خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟
ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ملک کا اگلا رہنما کون ہوگا۔
البتہ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کی موجودہ قیادت جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اب کافی دیر ہوگی۔ انھیں یہ فیصلہ ایک ہفتے پہلے کرلینا چاہیے تھا۔
امریکا کا پاکستان میں تمام ویزہ سروسز 6 مارچ تک منسوخ کرنے کا اعلان

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ویزہ سروسز 6 مارچ تک منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں قائم سفارت خانے کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی میں موجود امریکی قونصل خانوں پر بھی لاگو ہوگا۔ اس سے یہ سروسز 2 مارچ تک معطل کی گئی تھیں تاہم اب اس میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز کراچی میں امریکی قونصل خانے پر ہنگامہ آرائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے تھے۔
اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں مظاہرین نے ایرانی سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قونصل خانوں کا گھیراؤ کیا تھا۔
اسرائیل کے ایجنڈے میں صیہونی اثر و رسوخ کو پاکستان تک لانا ہے، وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صیہونیت انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک عالم اسلام پر جو بھی تباہی آئی ہے، اس پر مسلط ہونے والی ہر جنگ میں صہیونی نظریہ اور ریاست کا بالواسطہ یا بالواسطہ ہاتھ نظر آئے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صہیونیت نے ایک صدی سے دنیا کے معاشی نظام کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ بڑی طاقتیں جوہری طاقت کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ اللہ کی مدد، ہماری مسلح افواج کی طاقت دنیا بھر میں معترف ہے کہ ہماری خودمختاری کی حفاظت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے ہمیں ایٹمی طاقت بنانے میں کردار ادا کیا، جس نے ایٹمی تجربات کیے اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے لیے ایران کی آمادگی کے باوجود، ان پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے، اور اسرائیل کے ایجنڈے میں جو صیہونیوں کی طرف سے ترتیب دیا گیا ہے، اس میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحد تک لانا شامل ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ واحد نکاتی ایجنڈا پھر پاکستان سے دشمنی، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے، ہمیں ہر طرف سے دشمنوں سے گھیرنے اور پاکستان کو ایک جاگیردار ریاست میں تبدیل کرنا ہوگا۔ تمام ڈھائی کروڑ پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے بالاتر ہوں اس سازش اور ہمارے ازلی دشمنوں کے عزائم کو سمجھیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ عالم اسلام کو اتحاد و اتفاق اور اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔ فلسطین آزاد ہو۔ ہمارا وطن قیامت تک مضبوط اور سلامت رہے۔ ہماری مٹی کے محافظ اس کے سائے میں رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
آیت اللّٰہ خامنہ ای نے شہادت سے قبل کیا کہا تھا؟ شاگرد نے بتادیا
ایکسپریس نیوز کی رمضان ٹرانسمیشن ’پیارا رمضان‘ میں ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شاگرد اور خانۂ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طالبی نیا نے شرکت کی۔
جویریہ سعود کی میزبانی میں ہونے والی ٹرانسمیشن کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای نے شہادت سے قبل کیا کہا تھا۔
لائیو پروگرام کے دوران ان کا کہنا تھا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہلخانہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے، اور جب خطرہ لاحق ہوا تو ان سے کہا گیا کہ آپ فیملی کے ہمراہ بنکر میں چلیں تو انہوں نے جانے سے انکار کردیا۔
ڈاکٹر طالبی نیا کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ اگر میری پوری قوم کے لیے اس طرح کے محفوظ مقام کا بندوبست کرسکتے ہو تو میں بنکر میں جانے کے لیے تیار ہوں، ورنہ میں کہیں نہیں جارہا۔
ڈاکٹر طالبی نیا نے شہید سپریم لیڈر سے متعلق بتایا کہ چونکہ میں ان کی شاگردی میں بھی رہا ہوں اور یہ میں اس لیے نہٰں کہہ رہا کہ میں اس وقت یہاں موجود ہوں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ انہیں پاکستان سے بہت محبت تھی اور وہ ایران کے بعد پاکستان سے محبت و احساس کرتے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مغرب یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ ہم نے اتنی سیکیورٹی کے باجود ایک بڑے رہنما کو شہید کردیا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سادہ سے گھر میں سادہ زندگی گزار رہے تھے اور اس دوران انہیں بزدلانہ طریقے سے شہید کیا گیا۔
ہمارا مشن ہے کہ ایران کی بیلسٹنگ میزائل صلاحیت کو تباہ کریں، امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی بلکہ غیر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت بھی آ گئی تو وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور “گینگ آف ایٹ” گروپ کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔
ایک اور سخت بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ ایرانی رجیم عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اور امریکہ ایک ایسے ایران سے محبت کرتا ہے جس پر موجودہ حکومت مسلط نہ ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی عوام کو امریکہ کی مدد درکار ہو تو واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔
امریکا کی ہنگامی ایڈوائزری، شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک فوراً چھوڑنے کا حکم

واشنگٹن / اوٹاوا: امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارے اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث فوری طور پر اپنے طور پر ان ممالک سے نکل جائیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کسی بھی وقت میزائل یا ڈرون حملے کا خطرہ موجود ہے۔ شہریوں کو فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ کینیڈین حکام نے کہا ہے کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستے سے سعودی عرب یا سلطنت عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی رجیم چینج کا پاگل پن نہ چھوڑا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس

ماسکو: روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق صدر دمتری میدودیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش جاری رکھی تو اس کے سنگین عالمی نتائج نکل سکتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں میدودیف نے کہا کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملے برداشت کر سکتا ہے، تاہم ان حملوں نے ایرانی قوم کو مزید متحد کر دیا ہے۔ ان کے بقول ایران اب دگنی توانائی کے ساتھ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے باعث امریکا اور اسرائیل نے اپنے شہریوں کو زیادہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ میدودیف کے مطابق یہ جنگ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔
سابق روسی صدر نے مزید کہا کہ اگر ایران میں حکومت بدلنے کی کوشش کا ’پاگل پن‘ نہ روکا گیا تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے اور کوئی بھی واقعہ اس کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔
انہوں نے یورپی رہنماؤں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جانتا ہے کہ روس کے ساتھ جوہری تنازع کی کیا قیمت ہوگی۔ ان کے مطابق اگر نیوکلیئر جنگ ہوئی تو اس کے نتائج ماضی کے ایٹمی حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔
خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا، برطانوی اخبار کا انکشاف

لندن / تہران: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق شہید ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس مہم کے تحت تہران میں نصب متعدد ٹریفک کیمروں تک رسائی حاصل کی گئی اور کئی سال تک ان کی ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل کی جاتی رہیں۔
اخبار کے مطابق پاستور اسٹریٹ پر محافظوں اور ڈرائیوروں کی نقل و حرکت مسلسل نگرانی میں رہی۔ مخصوص کیمروں کے ذریعے کمپاؤنڈ کے اندرونی معمولات اور پارکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید الگورتھمز کی مدد سے سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ زندگی، گاڑی کھڑی کرنے کی جگہوں اور آنے جانے کے راستوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور سی آئی اے کو خامنہ ای کی ملاقاتوں کے اوقات اور شرکاء سے متعلق پیشگی معلومات حاصل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت موبائل ٹاورز جزوی طور پر غیر فعال ہوگئے، جس کے باعث حفاظتی عملہ ممکنہ وارننگ سے محروم رہا۔ ان دعوؤں پر تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا کے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند

کویت سٹی / ریاض / بغداد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا نے اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔
کویت میں امریکی ایمبیسی نے اعلان کیا ہے کہ جاری علاقائی تناؤ کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔ سفارتخانے نے تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تین امریکی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے بظاہر “فرینڈلی فائر” کا واقعہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث عارضی بندش کا اعلان کیا ہے اور 6 مارچ تک تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اسی طرح امریکی ایمبیسی عراق نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بغداد میں موجود امریکی عملے کو سکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ادھر ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی نے سفارتخانے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں موجود اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔ جدہ، ریاض اور ظہران میں شیلٹر اِن پلیس ہدایات جاری کی گئی ہیں اور امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل ایک ایڈوائزری میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سے امریکی شہریوں کو فوری روانگی کی ہدایت دی تھی۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملہ، تہران اور تل ابیب میں شدید بمباری جاری

تہران / ریاض / تل ابیب: ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
اسرائیلی افواج نے تہران اور بیروت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران اور لبنان میں مجموعی اموات کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ایران نے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر میزائل روک لیے گئے، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا کے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا نے اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔
کویت میں امریکی ایمبیسی نے اعلان کیا ہے کہ جاری علاقائی تناؤ کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔ سفارتخانے نے تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تین امریکی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے بظاہر “فرینڈلی فائر” کا واقعہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث عارضی بندش کا اعلان کیا ہے اور 6 مارچ تک تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اسی طرح امریکی ایمبیسی عراق نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بغداد میں موجود امریکی عملے کو سکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔
ادھر ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی نے سفارتخانے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں موجود اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔ جدہ، ریاض اور ظہران میں شیلٹر اِن پلیس ہدایات جاری کی گئی ہیں اور امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل ایک ایڈوائزری میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سے امریکی شہریوں کو فوری روانگی کی ہدایت دی تھی۔
امریکا کی ہنگامی ایڈوائزری، شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک فوراً چھوڑنے کا حکم
امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارے اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث فوری طور پر اپنے طور پر ان ممالک سے نکل جائیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کسی بھی وقت میزائل یا ڈرون حملے کا خطرہ موجود ہے۔ شہریوں کو فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ کینیڈین حکام نے کہا ہے کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستے سے سعودی عرب یا سلطنت عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کردی
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
ان کا بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔
علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی ’خیالی تصورات‘ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔
میزائل حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، ایرانی فوج
ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو میزائلوں سے ہدف بنایا گیا، جو اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈے پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی فائرنگ سے آسمان روشن ہو گیا۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
