آبنائے ہرمز پر نقل و حمل کی آزادی دائمی جنگ بندی سے مشروط قرار
بیان کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مخالف فریقوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے، ماہرین
آبنائے ہرمز پر نقل و حمل کی آزادی دائمی جنگ بندی سے مشروط قرار

ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ محفوظ ماحول کی عدم موجودگی میں اس اسٹریٹجک راستے پر معمول کی نقل و حرکت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مخالف فریقوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔
ایران سے ڈیل کا عمل اچھی طرح جاری ہے، مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری ہے اور مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے۔
ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی مواد واپس لایا جائے گا اور امریکا ایرانی نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ مجوزہ معاہدے کے تحت کسی قسم کا مالی تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست شخصیات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پاکستانی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سعودی عرب، قطر کویت، یو اے ای اور بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بھرپور تعاون کیا اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
یورینیئم ہمیں اپنی سرزمین جتنا مقدس ہے، کہیں منتقل نہیں ہوگا؛ ایران کا ٹرمپ کو جواب

ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افروزدہ یورینیئم کی امریکا منتقلی پر آمادہ ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ایران اپنے جوہری اثاثوں پر مکمل خودمختاری رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ہمارے ساتھ مل کر اپنے افزودہ یورینیئم یعنی nuclear dust کو نکال کر امریکا منتقل کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک اس معاملے پر تعاون کریں گے اور یہ عمل جلد شروع ہو سکتا ہے۔
تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان بیانات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران کسی بھی موقع پر نہ تو امریکا کو یورینیئم دینے کا کوئی معاہدہ ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر بحث لائی گئی ہے۔
ایرانی حکام نے بھی آبنائے ہرمز کو لبنان اور اسرائیل جنگ بندی کے تناظر میں کھولنے کو محدود پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔
ایران کا افزودہ یورینیئم امریکا لایا جائے گا، اس پر ملکر کام کریں گے؛ ٹرمپ کا دعویٰ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے گا جس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا منظم مرحلے لیکن آہستہ رفتار سے آگے بڑھے گا۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مل کر ان کے ملک میں پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے۔ پھر اسے امریکا لے آئیں گے۔
امریکی صدر نے اس عمل کو نیوکلیئر ڈسٹ سے بھی تعبیر کیا اور کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائی حملوں کے بعد بچی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اس کارروائی کی بنیادی وجہ تھی۔
خیال رہے کہ ایران کے پاس اس وقت 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 90 فیصد تک مزید افزودہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بنانے کے قابل ہوسکتی ہے۔
تاہم ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کی بھی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 20 ارب ڈالر کے نقد معاہدے پر غور ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر غلط ہے کسی قسم کا پیسہ منتقل نہیں ہو رہا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کیلیے نئی شرائط رکھ دیں

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کردیا جس پر صدر ٹرمپ نے شکریہ بھی ادا کیا تاہم پاسداران انقلاب نے نئی شرائط وضع کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے یہ شرائط اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پیش کی جس میں بحری جہازوں کی ملکیت رکھنے والوں کے لیے ہدایات بھی ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ہدایت کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو ان سے اجازت لینا ہوگی جس کے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں صرف سویلین تجارتی جہازوں کو مخصوص راستوں سے گزرنے کی اجازت ہوگی البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کوئی بھی فوجی جہاز اگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات لبنان میں جنگ بندی کے بعد میدان جنگ میں خاموشی کے معاہدے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
قبل ازیں ایرانی حکومت نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی فورسز سے اجازت لینا ہوگی اور صرف ایران کے پہلے سے متعین کردہ آبی راستے پر سفر کرنا ہوگا۔
بھارت کی ڈالر کے بجائے ایران سے تیل چینی کرنسی یوآن میں خریداری؛ رائٹرز کا دعویٰ

بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے بجائے ادائیگیاں اب چینی کرنسی یوآن میں کی جا رہی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے امریکی پابندیوں کے تحت دی گئی عارضی رعایت کے دوران ایرانی تیل خریدا۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے لیے بھارتی آئل ریفائنریز نے ادائیگیاں ممبئی میں قائم ICICI Bank کے ذریعے چینی یوآن میں شروع کر دی ہے۔
رائٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے گزشتہ ماہ روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 روزہ عارضی رعایت دی تھی جس کا مقصد جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر طویل عرصے سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کے نظام میں مشکلات کے باعث کئی خریدار ممالک ایرانی تیل سے گریز کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس نئی ادائیگی اسکیم کے ذریعے ان رکاوٹوں کو جزوی طور پر کم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر مالیت کے قریب 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خریدا جو گزشتہ 7 سال بعد بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی پہلی باضابطہ خریداری قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی نجی ریفائنری ریلائنس ریفائنری کے لیے ایرانی تیل لے جانے والے چار جہازوں کو بھی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریفائنریز کی جانب سے ادائیگیوں کے لیے ICICI بینک استعمال کیا جا رہا ہے جو اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے چینی یوآن میں رقوم ایرانی فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر رہا ہے۔
تاہم ان فروخت کنندگان کی حتمی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
لبنان اور ایران سے جنگ بندی؛ اسرائیل میں شہری پابندیاں ختم؛ معمولات زندگی بحال

اسرائیل نے لبنان سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں عائد ہنگامی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہونا شروع ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب پورے ملک میں مکمل سماجی اور معاشی سرگرمیوں کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے، دفاتر اور عوامی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں گی۔
تاہم شمالی اسرائیل کے سرحدی یا “فرنٹ لائن” علاقوں میں عارضی طور پر احتیاطی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں جہاں اجتماعات کی حد ایک ہزار افراد تک مقرر کی گئی ہے اور یہ پابندی بھی ہفتے کی شام تک ختم کر دی جائے گی۔
یاد رہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے راکٹوں اور ڈرون حملوں کے خطرات کے باعث اسرائیل نے سخت پابندیاں نافذ کر رکھی تھیں۔
ان اقدامات کے تحت اسکول بند، عوامی اجتماعات محدود اور متعدد شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔
اگرچہ جنگ کے دوران بعض علاقوں میں مرحلہ وار نرمی کی گئی تاہم 28 فروری سے شروع ہونے والی موجودہ جنگ کے بعد سے پہلی بار مکمل سطح پر پابندیاں ختم کی گئی ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ابتدائی مراحل میں داخل ہوگئے؛ خبر ایجنسی کا دعویٰ

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک ابتدائی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں تاہم دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے بجائے پہلے مذاکرات کے لیے ایک بنیادی فریم ورک (خاکہ) طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بات عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایران میں موجود ایک باخبر ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کھلنا اچھی بات ہے لیکن اس پیش رفت کو کسی بڑے بریک تھرو کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک طویل سفارتی عمل کا محض آغاز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مذاکرات میں چند اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے، جن میں خاص طور پر یورینیم کی افزودگی، افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
خیال رہے کہ یہ وہی اہم نکات ہیں جن پر ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں اور اب بھی دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔
ایرانی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے تقریباً 10 شرائط پیش کی ہیں۔ جن میں صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ بالخصوص لبنان سمیت خطے کی مجموعی صورتحال بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذکرات اس ویک اینڈ پر پاکستان میں ہوسکتے ہیں اور اگر کوئی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو وہ دستخطی مہم میں شرکت کرنے اسلام آباد جا سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے خوش آئند پیشرفت قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور جہازوں کی آمدورفت کے لیے تیار ہے۔
اپنی اس ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو آبنائے ایران لکھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ طنزاً ایسا کہا ہے یا غلطی سے ایسا ہوگیا ہے۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے تیار ہے لیکن ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی اُس وقت جاری رہے گی جب تک ہمارے ایران کے ساتھ معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو جاتے۔
البتہ امریکی صدر اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ یہ عمل جلد مکمل ہونے کا امکان ہے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔
بعد ازاں اپنی تازہ ترین پوسٹ میں آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔
ایران کا تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کیلیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کیا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (کوآرڈی نیٹڈ) روٹ کے ذریعے گزر سکیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا اختتام 22 اپریل کو ہوگا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس تاریخ کے بعد ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کردیتا ہے یا اس سے قبل کوئی حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے یہ انتہائی اہم قدم کن شرائط کی بنیاد پر اُٹھایا ہے اور اس کے لیے کیا معاملات طے پائے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔
ایران نے مان لیا، اب کبھی آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا؛ نیٹو کاغذی شیر ہیں؛ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد سلسلہ وار بیانات جاری کیے ہیں جن میں نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔
اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے B-2 بمبار طیاروں کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تمام “جوہری ملبہ” (Nuclear Dust) امریکہ خود حاصل کرے گا اور اس کے بدلے کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے ایک اور پوسٹ میں واضح کیا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ علیحدہ طور پر کام کرے گا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب طریقے سے ہینڈل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے روک دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ایک تازہ پوسٹ میں نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ختم ہونے کے بعد نیٹو کے ایک عہدیدار نے مجھے کال کی اور مدد کی پیشکش کی۔
امریکی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے نیٹو کی اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر صرف تیل لے جانے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو آئیں، ورنہ دور رہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی اس پوسٹ میں نیٹو کو کاغذی شیر بھی قرار دیا جیسا کہ وہ ایران جنگ کی ابتدا سے نیٹو کی جانب سے تعاون اور مدد نہ کرنے پر کہتے آئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی مدد اور بہادری کو سراہا۔ تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس مدد سے کیا مراد کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران اپنی سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں امریکا کی مدد سے ہٹایا ہے جس سے بحری راستے محفوظ ہو رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران نے یہ بات مان لی ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کبھی بند نہیں کی جائے گی اور اسے دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جائے گا۔ امریکا بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔
اپنے بیانات کے اختتام پر ٹرمپ نے آج کے دن کو دنیا کے لیے عظیم اور شاندار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان؛ تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاکس ایکسچینج میں تیزی

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی اور امریکا اور ایران کے درمیان متوقع سیز فائر کی خبروں کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی اور ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس کی ملی جلی صورتحال سامنے آئی ہے۔
گزشتہ روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94–95 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 90–93 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔
آج ایشیائی منڈیوں میں بھی تیل کی قیمتوں میں مزید نرمی دیکھی گئی جہاں برینٹ تقریباً 98 ڈالر اور WTI 93 ڈالر کے قریب رہا۔
قیمتوں میں کمی اس خبر کے بعد دیکھنے میں آئی کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔
اب سے کچھ دیر قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کے لیے دوہفتے کی جنگ بندی کے بقیہ دنوں تک آبنائے ہرمز کھولنے کا بڑا اعلان کردیا۔
جس کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 11 فیصد کمی کے بعد 88.70 ڈالر فی بیرل تک گر گیا جبکہ امریکی خام تیل (WTI) بھی 11 فیصد کمی کے ساتھ 81.20 ڈالر پر آ گیا۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھنے میں آئی جہاں امریکی اسٹاک فیوچرز میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اسی طرح ڈاؤ جونز فیوچرز میں 560 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ S&P 500 اور نیسڈیک فیوچرز بھی اوپر گئے۔
برطانیہ اور فرانس آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری مشن کی قیادت کریں گے

برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری مشن کی قیادت کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد عالمی تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان فرانس کے دورے کے دوران برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔
فرانسیسی صدر سے مالقات کے بعد برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن ممالک پہلے ہی اس مشن میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں اور مزید ممالک کو بھی شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک جس کثیرالملکی سیکیورٹی مشن کی قیادت کریں گے وہ مکمل طور پر پُرامن اور دفاعی نوعیت کا ہوگا۔ جس کا بنیادی مقصد تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنانا، بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ممکنہ بارودی سرنگوں (مائنز) کی صفائی کے اقدامات میں معاونت کرنا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے جس میں کسی بھی رکاوٹ یا خطرے کی صورت میں عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے اس لیے اس راستے کی حفاظت ناگزیر ہے۔
خیال رہے کہ آج ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا ہے جسے صدر ٹرمپ نے اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
ایران کا تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کیلیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کیا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (کوآرڈی نیٹڈ) روٹ کے ذریعے گزر سکیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا اختتام 22 اپریل کو ہوگا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس تاریخ کے بعد ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کردیتا ہے یا اس سے قبل کوئی حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے یہ انتہائی اہم قدم کن شرائط کی بنیاد پر اُٹھایا ہے اور اس کے لیے کیا معاملات طے پائے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔
امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے والا پہلا جہاز بن گیا

خلیج فارس میں جاری کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستان کے جھنڈے والی ایک آئل ٹینکر نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق ’شالیمار‘ نامی افری میکس آئل ٹینکر 13 اپریل کو امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل لے کر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔
یہ ٹینکر 16 اپریل کی رات خلیج فارس سے روانہ ہوا اور ایران کے جزیرے لارک کے جنوب سے گزرتا ہوا خلیج عمان میں داخل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل موجود ہے جو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ سے لوڈ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر اس وقت کراچی کی جانب رواں دواں ہے، تاہم یہ مکمل طور پر بھرا ہوا نہیں بلکہ تقریباً نصف لوڈ کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹینکر کی کامیاب روانگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں جہاز مالکان کو خلیج فارس سے تیل یا دیگر سامان لے جانے کے لیے ایران اور امریکا دونوں سے اجازت لینا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’شالیمار‘ نے اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث اسے واپس لوٹنا پڑا تھا۔
بعد ازاں جہاز نے دوبارہ کوشش کی، اس بار داس آئی لینڈ سے خام تیل لوڈ کرنے کے بعد وہ کامیابی سے اس حساس سمندری راستے سے گزر گیا۔ موجودہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنان اسرائیل جنگ بندی، بیروت میں جشن اور فائرنگ، تہران میں نعرے گونج اٹھے

لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی بیروت میں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی، جہاں جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ شہریوں نے اس موقع پر امن کی بحالی کی امید کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی اس پیش رفت پر ردعمل سامنے آیا، جہاں فضا حزب اللہ کے حق میں نعروں سے گونج اٹھی۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
إطلاق نار في الضاحية الجنوبية لبيروت ابتهاجًا بدخول وقف إطلاق النار حيز التنفيذ في لبنان، pic.twitter.com/UB7lrAGhfK
— إيران بالعربية (@iraninarabic_ir) April 16, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ جنگ بندی وقتی ہے، تاہم اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آسکتی ہے اور مستقبل میں مستقل امن کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں فریق اس معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔
ایران کی جانب سے لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم، امریکا کے ساتھ اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار

ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے تاہم امریکا کے ساتھ اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر نے ایک پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا پر عدم اعتماد اور ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود ایران نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس میں سب سے بڑی ترجیح قومی مفاد ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ایران کی جانب سے نرم رویے اور مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دیتے ہیں۔
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی اہم معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ خاص طور پر جوہری پروگرام، یورینیم کے ذخائر، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔
اس کے علاوہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کے تعلقات بھی ایسے نکات ہیں جن پر دونوں ممالک کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے مسلسل اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
مبصرین کے مطابق اگرچہ ایران کی جانب سے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی فہرست طویل ہے، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔
امریکا نے ایران جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا

امریکا نے ایران جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد اسلحہ، گولہ بارود اور ممکنہ ایٹمی مواد کی ترسیل کو روکنا بتایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ایران تک حساس اور ممنوعہ مواد کی فراہمی کو روکا جا سکے۔
اس حوالے سے امریکی بحریہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایران جانے والے جہازوں کی مکمل تلاشی لی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر ہتھیار، ویپن سسٹمز، گولہ بارود، ایٹمی مواد یا دیگر حساس اشیاء موجود نہ ہوں۔
اس کے علاوہ خام یا صاف تیل، لوہا، اسٹیل اور ایلومینیم جیسے مواد کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ایڈوائزری کے مطابق یہ تلاشی کسی مخصوص مقام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کھلے سمندر میں کہیں بھی لی جا سکتی ہے، جس سے عالمی بحری تجارت پر بھی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کے اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور سمندری آزادی کے حوالے سے نئی بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ میں ایندھن کا بحران، صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول باقی

یورپ میں ایندھن کے بحران کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں رپورٹس کے مطابق خطے کے پاس صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول باقی رہ گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں پروازیں منسوخ ہونے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کئی ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے سب سے پہلے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اس بحران کے اثرات یورپ اور امریکا تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
فاتح بیرول نے مزید کہا کہ اگر یورپ نے مشرق وسطیٰ سے آنے والی اپنی کم از کم نصف درآمدات کے متبادل ذرائع فوری طور پر حاصل نہ کیے تو جون تک ایندھن کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک دنیا بھر کو جیٹ فیول فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جبکہ جنوبی کوریا، بھارت اور چین کی ریفائنریز بھی بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ کو موسم گرما کے دوران بڑھتی ہوئی سفری طلب کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر متبادل توانائی ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، ورنہ بڑے پیمانے پر فلائٹس کی منسوخی کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر خلیجی سپلائی جلد بحال بھی ہو جائے، تب بھی قلت کا خطرہ برقرار رہے گا۔
اگر آبنائے ہرمز نہ کھلا تو دنیا بھوک سے دوچار ہوگی؟ اقوام متحدہ نے خطرہ ظاہر کردیا

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر ایک بڑے غذائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک میں شدت سے محسوس کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، سری لنکا، سوڈان، کینیا، برازیل اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں نئی فصلوں کی کاشت کا وقت آ چکا ہے، لیکن کھاد اور توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث زرعی سرگرمیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 35 فیصد تیل، 20 فیصد قدرتی گیس اور 20 سے 30 فیصد کھاد گزرتی ہے۔ اس راستے کی بندش کے باعث ان اشیاء کی ترسیل رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کی قلت کا سامنا ہوگا۔
میکسیمو ٹوریرو کے مطابق کھاد کی کمی سے نہ صرف فصلوں کی کاشت متاثر ہوگی بلکہ پیداوار بھی کم ہو جائے گی، جس سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چند دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل بھی جائے، تب بھی تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی کو معمول پر آنے میں کم از کم تین ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ مکمل بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری حل نکالے تاکہ ممکنہ غذائی بحران کو روکا جا سکے۔
فیلڈ مارشل کی ایرانی صدر سے اہم ملاقات

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل نے خاتم الانبیا مرکز کا دورہ کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین لوگ ہیں؛ امریکی صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے ایران جنگ بندی معاہدے پر کردار کو سراہا۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اب تقریباً ختم ہوچکی ہے اور مجھے اس کا پورا یقین ہے۔
انھوں نے جنگ کے اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا اور اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو خطے کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اس نہج پر پہنچ جائے جہاں دیگر ممالک کو ایران کے سامنے جھکنا پڑے اور اس پر خلیجی ممالک میرے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے سپہ سالار سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین لوگ ہیں۔ پاکستان نے ایران سے متعلق معاملات میں ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت ایران کے قریب ہے اور معاملات حل کرانے کی کوشش بھی کررہی ہے جو بآور ثابت ہوں گی۔
امریکی صدر نے پاکستانی عوام کے امن کے لیے جذبے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا؛ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے شروع ہوگی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ان کی براہِ راست بات چیت کے بعد ممکن ہوئی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ جنگ بندی کے لیے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے بھی رابطہ کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے 10 دن کی باقاعدہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی 34 سال بعد پہلی بار واشنگٹن میں ملاقات بھی ہوئی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو بھی شریک تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔
امریکی صدر نے لبنان کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے لیے مدعو بھی کیا ہے اور کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ جلد حاصل ہو سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھائیں۔
امریکا’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی کو ترک کرکے معاہدے کی پاسداری کرے؛ ایران

ایران نے ایک بار پھر امریکا کو اسرائیل کا آلہ کار بننے سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل فرسٹ کی پالیسی اپنانے کے بجائے معاہدے کی پاسداری کرے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی ’’سب سے پہلے اسرائیل‘‘ کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے مطالبہ کیا امریکا ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ کی پالیسی کو ترک کرکے اپنے طے شدہ سفارتی وعدوں کی پاسداری کرے جن سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔
انھوں نے پراکسی کے الزام پر کہا کہ ایران کا مشرق وسطیٰ کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلق موجود ہے اور دونوں کا جنگ بندی پر مؤقف بھی یکساں ہے۔
بعد ازاں محمد باقر قالیباف نے لبنانی پارلیمنٹ کی اسپیکر سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی خود ایران کی جنگ بندی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد بھی ایران نے دشمن ممالک کو مستقل جنگ بندی پر مجبور کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی جاری ہے جس میں امریکا حملے بند جب کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔
امریکا سے معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ دردناک حملے کرینگے؛اسرائیل کی ایران کو دھمکی

مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر آج ہنگامہ خیز دن دیکھا گیا جس میں امریکی دفاع اور اسرائیلی وزیر دفاع نے الگ الگ مقام پر میڈیا سے گفتگو کی لیکن دونوں میں ایران کو یکساں انداز میں دھمکیاں دی گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع نے ایران کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا تو اسرائیل اُس پر پہلے سے زیادہ تکلیف دہ حملے کرے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ ایران اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بہتر مستقبل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے یا تنہائی اور تباہی کے کھائی میں جا گرے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ اگر ایران نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت نہ دکھائی تو اسرائیل ایسے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جنہیں اب تک نہیں چھیڑا گیا۔
ان کے بقول ایران بہت جلد دیکھ لے گا کہ جن اہداف کو ہم نے ابھی تک نشانہ نہیں بنایا وہ پہلے حملوں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوں گے۔
اب سے کچھ دیر قبل واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کے پاس سنہری موقع ہے وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرے اور جنگ بندی معاہدہ قبول کرلے ورنہ امریکی افواج دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے۔
دنیا چند آمر اور ظالم رہنماؤں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہو رہی ہے؛ پوپ لیو

کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر دنیا میں امن کے آفاقی پیغام کو اجاگر کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پوپ لیو نے کسی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ جنگ کے سوداگر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تباہی چند لمحوں میں ہو جاتی ہے لیکن تعمیرِ نو میں پوری زندگیاں لگ جاتی ہیں۔
انھوں نے جنگ کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ دنیا چند آمرانہ رہنماؤں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔ جنگ میں اربوں ڈالرز پھونک دینے والے ظالم ہیں۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ دنیا میں جنگوں اور تباہی پر بے تحاشا وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم اور بحالی جیسے بنیادی شعبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے مذہب کے غلط استعمال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کچھ عناصر اپنے سیاسی، معاشی اور عسکری مفادات کے لیے مذہب اور خدا کے نام کو استعمال کرتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ اگرچہ دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہے لیکن یہی دنیا بے شمار ہمدرد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے لوگوں کی بدولت قائم بھی ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگوں کی بجائے انسانی اخوت، پائیدار ترقی اور امن کو اپنی ترجیح بنائیں۔
یاد رہے کہ پوپ لیو نے اس قبل ایران جنگ پر تنقید کی تھی جس پر صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوپ لیو کو خارجہ پالیسی کا کچھ پتا نہیں ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کی صحت کے بارے میں بڑا انکشاف

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیٹاگون میں جنگ کی صوت حال پر پریس بریفنگ میں کئی اہم امور پر گفتگو کی اور متعدد حقائق سامنے رکھے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پریس بریفنگ میں ایک بار پھر خبردار کیا کہ جنگ بندی پر ایران نے دانشمندانہ فیصلہ نہیں لیا تو امریکی فوج دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
پریس بریفنگ کے بعد امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ ایک صحافی نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق بھی سوال کیا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جس کے چند روز بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای عہدہ سنبھالنے کے بعد تاحال منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی ویڈیو بیان آیا ہے۔ اب تک کے ان کے سارے بیانات سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے گئے ہیں۔
جس سے ان کی زندگی سے متعلق افواہیں گرم ہیں جب کہ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مجتبٰی خامنہ ای اُسی حملے میں زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے ہیں۔
امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگستھ نے آج کی پریس بریفنگ میں اس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں لیکن شدید زخمی ہیں۔
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ کے پیر پر چوٹ آئی ہے اور انھیں نہایت محفوظ اور حساس مقام پر طبی امداد دی جا رہی ہے تاہم ایران کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ایران سمجھداری دکھائے، غلط فیصلہ کیا تو ہم دوبارہ جنگ کیلیے تیار ہیں؛ امریکا

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہمارے مذاکرات کاروں کے بقول ایران کے پاس ایک خوشحال مستقبل کے انتخاب کا سنہری موقع ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جنگ بندی معاہدے پر غلط فیصلہ کیا تو امریکی افواج دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے مزید کہ امریکا جانتا ہے کہ ایران کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہا ہے۔ وہ بمباری کرنے والے لانچرز کو دبا رہا ہے۔ ہم اس کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایران کو یہ کہنا پسند ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کنٹرول کرتا ہے مگر اس کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے جو ایسا کرسکے البتہ امریکا کے پاس بحریہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی بحریہ کی امریکی ناکہ بندی جب تک ہم ضروری سمجھیں گے، جاری رہے گی اور ایران کے پاس اسے توڑنے کے لیے مؤثر بحری طاقت بھی نہیں ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی افواج کسی بھی وقت دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے والی بحری آمدورفت پر ہمیں کنٹرول حاصل ہے۔
حزب اللہ کا اسرائیل میں 39 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

حزب اللہ نے 24 گھنٹوں میں اسرائیل پر 39 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے دوران اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔
شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کی جانب سے تقریباً 39 راکٹ داغے گئے۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل میں 39 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
تاہم اسرائیل نے جواب کارروائی کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں 350 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے کے رہائشیوں سے انخلا کی اپیل کردی گئی ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین کے اندر آٹھ سے 10 کلومیٹر پر مبنی ایک سیکیورٹی بفر زون بنانے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ اقدام اسرائیلیوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ہے۔
ایران حکومت کا حقوق تسلیم کئے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار

ایرانی حکومت نے حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمارے حقوق مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے.
مسحن رضائی نے کہا کہ امریکی مسلسل جنگ سے خوف زدہ ہیں جبکہ ہم ایک طویل جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ ملکی قیادت کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں تاہم ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع پر آمادہ نہیں ہونا چاہیے۔
مذاکرات کے بعد بھی ایران، امریکا کے درمیان بات چیت جاری ہے، اسماعیل بقائی

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے بعد:
رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ پسِ پردہ سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔
پس پردہ پیغامات کے تبادلوں کا مقصد کشیدگی کم کرنے، ممکنہ معاہدوں کی راہ ہموار کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف ممالک سے رابطے میں ہے جبکہ پاکستان امریکی ایران جنگ بندی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ایران کی خودمختاری، سلامتی کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے، چین

چین کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
وانگ یی نے کہا کہ چین پر ممالک کی خودمختاری میں مداخلت کے خلاف مؤقف پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے سفارتی حل اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔
چین کی جانب سے دیے گئے اس بیان کا مقصد کشیدگی کم کرنا، ممکنہ تصادم کو روکنا
عالمی برادری کو تحمل کی تلقین کرنا ہے۔
ایران حکومت کا حقوق تسلیم کئے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار

ایرانی حکومت نے حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمارے حقوق مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے.
مسحن رضائی نے کہا کہ امریکی مسلسل جنگ سے خوف زدہ ہیں جبکہ ہم ایک طویل جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ ملکی قیادت کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں تاہم ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع پر آمادہ نہیں ہونا چاہیے۔
جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق ابھی کچھ نہیں سوچ رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا مجھے واقعی لگتا ہے کہ آپ آنے والے دو دنوں میں کچھ حیرت انگیز دیکھیں گے۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازع یا تو بات چیت کے ذریعے یا فوجی کارروائی کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے جس سے ایران کی صلاحیتیں ختم ہو جائیں گی۔
جنگ بندی میں لبنان کے خلاف حملے بند کرنا ہوں گے، باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ لبنان سمیت جاری جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔
انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جامع جنگ بندی کی کامیابی بنیادی طور پر حزب اللہ کی مستقل جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ ایک اہم تنظیم ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور اس کے زیرِ اثر محورِ مزاحمت جس میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں ہر حال میں متحد اور ایک ہی روح کے حامل ہیں چاہے میدان جنگ ہو یا معاہدہ امن۔
انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فرسٹ کی پالیسی سے پیچھے ہٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں حقیقی اور مستحکم امن ممکن ہو سکے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی؛ ایرانی وزیر خارجہ

پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کے اعلیٰ سطح کے دورے پر تہران پہنچے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایران اور امریکا جنگ بندی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہمسائیہ برادر مسلم ملک کے یہ اقدامات پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
Delighted to welcome Field Marshal Munir to Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 15, 2026
Expressed gratitude for Pakistan's gracious hosting of dialogue, emphasizing that it reflects our deep and great bilateral relationship. Our commitment to promoting peace and stability in the region remains strong—and shared. pic.twitter.com/e74lm6hL8r
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے اور یہ عزم مشترکہ ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزیر خزانہ عباس عراقچی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ ایئرپورٹ پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرتپاک استقبال کرتے اور ان سے گلے ملتے نظر آئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مجھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے بہت خوشی ہوئی ہے۔
عباس عراقچی کے بقول میں نے مذاکرات کی بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے گہرے اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرتپاک استقبال؛ مذاکرات جاری

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
📸 Arrival of Pakistan’s Army Chief, General Asim Munir, in Tehran, welcomed by Foreign Minister @araghchi. pic.twitter.com/HWwvhAV0Nx
— Government of the Islamic Republic of Iran (@Iran_GOV) April 15, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔
بعد ازاں ایران وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں بتایا کہ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مذاکرات شروع ہوگئے۔
پاکستان واحد ثالث ہے، مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہوگا؛ ترجمان وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اسلام آباد میں ہی ہوں گے کیوں کہ پاکستان اس معاملے میں واحد ثالث ہے۔
ان خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اب سے کُچھ دیر قبل ایک پُرہجوم میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔
جب ان سے ایران سے جنگ بندی کے بارے میں سوال کیا گیا تو ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ رپورٹس درست نہیں ہیں کہ امریکا نے اس میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ البتہ یہ درست ہے کہ ہم ان مذاکرات میں بدستور اور بھرپور طریقے سے مشغول ہیں۔ اب تک کی بات چیت تعمیری اور حوصلہ افزا ہے۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری نے ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے مقام سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں ایک نہایت بہترین ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اور اس وقت بھی پاکستان ہی ایران کے ساتھ امریکا کے مذاکراتی عمل میں واحد ثالث ہے باوجود اس کہ دنیا کے کئی ممالک نے بھی ثالث بننے کی پیشکش کی ہے لیکن صدر سمجھتے ہیں کہ اس رابطے کو آسان رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھنا اہم ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنا ایران کے بہترین مفاد میں ہے اور یہ مطالبات امریکی صدر بالکل واضح انداز میں بتا چکے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے فریقین کے درمیان دوبدومذاکرات سے متعلق سوال پر کہا کہ ان امور پر بات ہو رہی ہے لیکن جب تک باضابطہ اعلان نہ ہو کچھ بھی حتمی نہیں ہوگا۔
امریکا ناکہ بندی ختم کرے ورنہ کسی بھی سمندری راستے سے جہاز کو گزرنے نہیں دیں گے؛ ایران

امریکا نے ایران کی جانب جانے والے بحری راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے تاکہ وہاں سے کسی بھی جہاز کی آمدورفت ممکن نہ ہوسکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران امریکی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فی الفور بحری راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو خطے کی تمام اہم بحری گذرگاہوں کو بند کرکے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیں گے۔
ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو روکے گا تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔
انھوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایسی صورت میں ایرانی مسلح افواج خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور بحیرۂ احمر میں سے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پیر کے روز شروع کی تھی اور امریکی فوج کے بقول کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ خلیج عمان میں 6 تجارتی جہازوں کو واپس لوٹنا پڑا۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکا امن مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا لیکن چند نکات ابھی حل طلب ہیں۔ جس کے لیے دوسرا دور اسی ہفتے متوقع ہے۔
ترکیہ کے اسکول پر فائرنگ میں استاد اور 8 طلبا جاں بحق؛ 20 زخمی

ترکیہ کے جنوبی صوبے کہرامان ماراش کے مڈل اسکول میں ایک طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور تقریباً 20 زخمی ہوگئے۔
صوبے کے گورنر مکرّم اونلوئر نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک استاد اور 3 طلبا شامل ہیں۔ جن کی شناخت بعد میں ظاہر کی جائے گی۔
فائرنگ میں زخمی ہونے والوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور خود اسی اسکول کا طالب علم تھا جو اپنے والد کی پستول کو بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہوا اور دو کلاس رومز میں اندھا دھند فائرنگ کی۔
اسکول میں ہلاکت خیز دہشت پہلانے کے بعد طالب علم نے بھی خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صوبہ شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم نے اپنے پرانے اسکول میں فائرنگ کرکے 16 افراد کو زخمی کیا اور پھر خود کو بھی ہلاک کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ ترکیہ میں اسکول پر فائرنگ کے واقعات انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں تاہم حالیہ دو حملوں سے سماج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
امریکی بحریہ کا کروڑوں ڈالر مالیت کا جدید جاسوس ڈرون خلیج فارس میں گر کر تباہ

امریکی بحریہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کا جدید MQ-4C Triton جاسوس ڈرون 9 اپریل کو مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نیول سیفٹی کمانڈ نے جاسوس ڈرون کے تباہ ہونے کے واقعے کو “کلاس اے حادثہ” قرار دیا جو عام طور پر 2 ملین ڈالرز سے زائد نقصان یا انتہائی سنگین نوعیت کے حادثات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ڈرون خلیج فارس کے اوپر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنی معمول کی نگرانی کی پرواز پر تھا جب اس نے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز پر اپنی موجودگی کھو دی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ڈرون نے اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا تھا اور چند ہی لمحوں میں 10 ہزار فٹ سے بھی نیچے آگیا تھا۔
اس وقت جاسوس ڈرون کی پرواز کا رخ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب تھا اور آخری اطلاعات میں یہ اٹلی میں موجود نیول ایئر اسٹیشن سیگونیلا کی طرف واپس جا رہا تھا۔
مزید یہ کہ اس نے ہنگامی صورتحال ظاہر کرنے والا کوڈ 7700 بھی نشر کیا تھا جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اس نے 7400 کوڈ بھی بھیجا جو کنٹرولرز سے رابطہ منقطع ہونے کی علامت ہے۔
ڈرون کی اہمیت اور خدشات
MQ-4C Triton امریکی بحریہ کا انتہائی جدید طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے جو 50 ہزار فٹ بلندی پر طویل عرصے تک پرواز کر سکتا ہے۔
یہ جدید AESA ریڈار سے لیس ہے اور الیکٹرانک اور انفراریڈ نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کے باعث یہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں کی نگرانی پر مامور تھا۔
More photos of the shot down RQ-4A landing gear, and the fuselage composite material (likely carbon fabric).https://t.co/bx0lh74dMF pic.twitter.com/p7wWDEkDLQ
— Mehdi H. (@mhmiranusa) June 20, 2022
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈرون کی قیمت 23 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد ہے۔
امریکی بحریہ اور سینٹ کام نے ابھی تک حادثے کی اصل وجہ ظاہر نہیں کی۔ نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا یہ تکنیکی خرابی تھی، انسانی غلطی، یا کسی بیرونی مداخلت کا نتیجہ تھا۔
علاوہ ازیں ایران سمیت اب تک کسی بھی ملک یا گروپ نے اس ڈرون کو مار گرائے جانے کا نہ دعویٰ کیا اور نہ کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔
ماہرین اس کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر ڈرون کا ملبہ کسی مخالف ملک کے ہاتھ لگتا ہے تو اس میں موجود ریڈار سسٹمز، الیکٹرانک سرویلنس آلات اور انٹیلیجنس کلیکشن سسٹمز مستقبل میں حساس معلومات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی ہے اور امریکی افواج خطے میں بحری نگرانی اور سیکیورٹی آپریشنز میں مصروف ہیں۔
ایران مالی طور پر کمزور ہوچکا ہے، جنگ کی سکت نہیں رہی؛ امریکی حکام کا دعویٰ

امریکی مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے جو جنگ کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی حکام نے بتایا کہ تمام فریقین کے ساتھ بات چیت جاری ہیں اور جنگ بندی معاہدہ اب بہت قریب ہے۔
ایک اور امریکی حکومتی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ایرانی حکومت کے کچھ لوگ بھی تیار ہیں مگر اصل چیلنج اعلیٰ قیادت کو راضی کرنا ہے۔
امریکی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حکام اگر جنگ بندی معاہدے پر راضی ہوئے تو اس کی وجہ ان بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ہے جس سے ایران کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کے بقول ایران کے پاس اب پیسہ نہیں رہا ہے اور وہ مالی طور پر نہایت کمزور ہوچکا ہے اور یہ بات ایرانی حکومت کو بھی معلوم ہے۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر تیل پیدا نہ ہوسکا تو ایران کی صورتحال وینزویلا سے بھی بدتر ہوسکتی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ فریم ورک معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے گی تاکہ مزید مذاکرات جاری رہ سکیں۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک جنگ بندی میں توسیع پر باقاعدہ اتفاق نہیں ہوا۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت جاری ہے۔
دباؤ کے باوجود ایران جنگ میں شامل نہیں اور نہ آئندہ ہوں گے؛ برطانیہ کا ٹرمپ کو جواب

برطانیہ نے ہر دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ایران جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے پارلیمنٹ سے خطاب میں ایران جنگ پر حکومتی پالیسی پیش کی۔
انھوں نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پارلیمان میں مزید کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور اس جنگ میں حصہ نہ بننے کی حکومتی پالیسی کو تبدیل کرانے کے لیے مجھ ہر کافی دباؤ ڈالا گیا۔
برطانوی وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں کسی دباؤ کے آگے سر نہیں جھکاؤ گا اور نہ میں اپنا فیصلہ تبدیل کروں گا۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس جنگ میں شامل ہونا ہمارے قومی مفاد میں نہیں اس لیے ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا مؤقف کیا ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب میں یہ تو نہیں بتایا کہ یہ دباؤ کس نوعیت کا تھا اور کس کی جانب سے تھا تاہم یہ اشارہ دیا کہ اس دباؤ میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں عندیہ دیا تھا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کی شرائط تبدیل کی جا سکتی ہیں۔
ناکہ بندی کے 48 گھنٹوں کے دوران ایران سے منسلک 9 جہازوں کو روکا؛ امریکی فوج

امریکی فوج کی جانب سے ایران جانے والے بحری راستوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو 48 گھنٹے مکمل ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں میں 9 جہازوں کو روک دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام جہازوں نے امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یا تو واپس ایرانی بندرگاہوں کا رخ کر لیا یا ساحلی علاقوں کی طرف مڑ گئے۔
امریکی فوجی حکام کا مزید کہنا ہے کہ کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی نگرانی اور رکاوٹ کو توڑ کر حدود سے آگے نہیں جا سکا اور ناکہ بندی توڑنے سے متعلق خبریں لاعلمی کی بنیاد پر ہیں۔
خیال رہے کہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ڈیٹا کے مطابق منگل کے روز کم از کم تین جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نکل کر آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور گزشتہ روز ایسے جہازوں کی تعداد 5 سے زائد تھی۔
تاہم ڈیٹا کے مطابق بھی ان میں سے کچھ بعد میں واپس مڑ گئے تھے تاہم یہ ثابت ہوا تھا کہ امریکی ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز عبور کر گئے تھے۔
لبنان نے 8 اپریل کے سفاکانہ اسرائیلی حملوں پر سلامتی کونسل میں شکایت درج کرا دی

لبنان نے جنگ بندی معاہدے پر جاری مذاکرات کے دوران اسرائیل کے 8 اپریل کو ملک بھر میں کیے گئے فضائی حملوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایت درج کرا دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان لبنانی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے 8 اپریل کو 100 سے زائد فضائی حملے کیے جن میں دارالحکومت بیروت سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے گنجان آباد رہائشی علاقوں پر مصروف اوقات میں کیے گئے اور شہریوں کو کسی قسم کی پیشگی وارننگ بھی نہیں دی گئی تھی۔
لبنانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور شہری آبادی کو براہِ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔
لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 303 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 30 بچے اور 71 خواتین شامل ہیں، جبکہ 1,150 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
لبنان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
ٹرمپ کی چین پر 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی اب بھی برقرار ہے؟ وائٹ ہاؤس کا مؤقف آگیا

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرلین لیویٹ کی میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 50 فیصد ٹیرف لگانے سے متعلق اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ چینی صدر شی جنپنگ نے امریکی صدر کے خط کے جواب میں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین اس جنگ میں ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے انکشاف کیا کہ امریکا نے دو چینی بینکوں کو باضابطہ خطوط بھیجے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کے بینک میں کسی اکاؤنٹ میں ایرانی رقم موجود ہونے کے شواہد ملے تو امریکا بینکوں پر پابندیاں عائد کردے گا۔
تاہم امریکی وزیر خزانہ نے نہ تو ان بینکوں کے نام ظاہر کیے اور نہ ہی مالیت کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی ہم منصب شی جنپنگ نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین اس جنگ میں ایران کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔
تاہم چین کی جانب سے صدر ٹرمپ اور پھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے ان بیانات کی تردید یا تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
ایران سے تیل خریدنے والے خبردار رہیں؛ امریکا نے سخت پابندیوں کی دھمکی دیدی

امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ کی پالیسی جاری ہے اور اب اسے مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کیا۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی تیل خریدنے یا اپنے بینکوں میں ایرانی رقوم رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات اُٹھائیں گے۔
امریکی وزیر خزانہ نے نے بتایا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اب آپریشن اکنامک فیری شروع کیا ہے۔ جس کا مقصد ایرانی حکومت کی مالی وسائل تک کی رسائی روکنا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس اکنامک آپریشن میں خاص طور پر پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی قیادت کے مزید اثاثے منجمد کیے جائیں گے اوت ایرانی قیادت سے منسلک افراد کے مالی وسائل بھی نشانہ بنیں گے۔
علاوہ ازیں امریکی محکمہ خزانہ نے انسداد دہشت گردی کے تحت ایران سے وابستہ 3 شخصیات اور 17 اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
ایران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پُرتپاک استقبال؛ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہمراہ ہے

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات بھیجنے اور وصولی کا سلسلہ جاری ہے، امید ہے اگلے بدھ کو اسلام ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکا سے مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوچکا، ایرانی وفد کی پاکستان سے وطن واپسی کے بعد امریکا سے پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا، قوی امکان ہے کہ پاکستان بدھ کو ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے تاحال پیغامات کے تبادلے کا تبادلہ اتوار سے جاری ہے، ہمیں پاکستانی ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، امریکا سے جنگ میں ایران کو پہنچے نقصانات کے ازالے پر بھی بات ہوئی، جنگے کے خاتمے پر بات ہوئی ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی مذاکرات ہوئے۔
ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتا، ایران اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے ، ایران کو خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں۔
ایک اور صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے اب جو مذاکرات ہوں گے وہ جنگ بندی کے لیے ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمارا موقف واضح ہے ، ایران کا محاصرہ نہیں کیا جاسکتا، امریکا کا یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، خامنہ ای کا قتل امریکا کے ریکارڈ پر ایک بدنما داغ ہے۔
دشمن ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پاسداران انقلاب

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی فوجی قیادت نے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اور سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق ملک کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں نئے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی کمانڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایسے تیل بردار جہاز یا بحری جہاز جو ایران کے "دشمن ممالک" سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے نئے نظام اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس میں ٹول ٹیکس اور ٹرانزٹ چارجز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہوگی، تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے خطے میں ناکہ بندی اور دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث سمندری ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو نہ صرف سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے بلکہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ "سب کے لیے سیکیورٹی یا کسی کے لیے نہیں" کا اصول آبنائے ہرمز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
