سرینگر پولیس کیمپ پرحملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیںبھارتی وزیر داخلہ

سری نگر میں حملہ آوروں نے جن ہتھیاروں کا استعمال کیا وہ پاکستان سے لائے گئے تھے، سشیل کمار شندے

حملہ آوروں کے قبضے سے چوٹ پر لگانے کا ایک مرحم بھی برآمد ہوا اوراس پرکراچی کی کمپنی کا پتہ درج ہے،بھارتی وزیر داخلہ فوٹو: رائٹرز/ فائل

KARACHI:
بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے سری نگر میں سینٹرل ریزرو پولیس کیمپ پر ہوئے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے ۔

لوک سبھا میں حملے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے سشیل کمار شندے نے کہا کہ حملہ آور فدائین معلوم ہوتے ہیں اور ان کا تعلق سرحد پار سے ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سری نگر میں حملہ آوروں نے جن ہتھیاروں کا استعمال کیا وہ پاکستان سے لائے گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ حملے کی جگہ سے 2 اے کے رائفلز، 5 میگزینز، 2 پستول اور 4 دستی بم برآمد کئے گئے، اس کے علاوہ کچھ ڈائریاں بھی قبضے میں لی گئیں جن پر فون نمبرز درج تھے۔


سشیل کمارشندے نے کہا کہ حملہ آوراپنے ساتھ جو اشیا لائے تھے وہ پاکستان میں ہی تیار کی گئی تھیں،مرنے والے حملہ آوروں کے قبضے سے چوٹ پر لگانے کا ایک مرحم بھی برآمد ہوا اوراس پرکراچی کی کمپنی کا پتہ درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کیمپ پر 50 اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود دہشت گرد قریبی واقع پولیس پبلک اسکول کی خاردار تاروں میں ایک حصہ کھلا ہونے کے باعث اندر گھسنے میں کامیاب ہوگئے۔

سری نگر کے پولیس کیمپ پر ہوئے حملے کی ذمہ داری حزب المجاہدین کی جانب سے قبول کئے جانے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے حکام کی تصدیق کا انتظار ہے۔ سری نگر میں پولیس کیمپ پر گزشتہ روز کئے گئے حملے میں 5 بھارتی پولیس اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی کے سلسلے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story